تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

احسان دانش: انقلابی امنگوں کا مزدور شاعر (قسط دوم) —- افضل رضویؔ

by دانش ڈیسک 10/04/2020
written by دانش ڈیسک 10/04/2020
125

دانش نے نظموں کے ساتھ ساتھ غزل میں طبع آزمائی کی لیکن جو معرکہ آرائی ان کی نظموں میں نظر آتی ہے، وہ غزل میں نہیں؛ اگرچہ ان کا تغزل دیگر شعرائے کرام سے مختلف ہے اور جس طرح اختر شیرانی کی نظمیں عورت کے گرد گھومتیں اور نسوانیت کے تراشے پیکر ہیں۔ اسی طرح احسان دانش کی نظمیں محنت کش مزدور کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں گویا ان کی نظموں کا موضوع اور مضمون مزدور ہے۔ مثلاً، ”مزدور کی عید“، ”مزدورکی دیوالی“، ”مزدوراور برسات“، ”مزدورکا مہمان“، ”مزدورکا چالان“، ”مزدوراور کالجئیٹ“، ”مزدور کی موت“، ”قرآن اورمزدور“، ”مزدورکی لاش“۔ ۔ ۔ ایسی نظمیں ہیں جو مفلوک الحال طبقہ کی زندگی کے جامع مرقعے ہیں۔

مزدور کے حالات کی منظر نگاری کرتے ہوئے نظم ”مزدور کی عید“میں کہتے ہیں:

اپنا خود دھویا ہوا اک پیرہن پہنائے ہوئے

جس کے دامن جا بجا سکڑے ہوئے سمٹے ہوئے

دھجیوں کو چشم دنیا سے چھپانے کے لیے

آستینں لوٹ رکھی ہیں بہانے کے لیے

محنت کش طبقے کی اتنی بھر پور عکاسی اردو شاعری میں اگر مفقود نہیں ہے تو کم ضرور ہے اور احسان دانش مزدور کا نبض شناس ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس کمی کو پورا کرنے میں کسی حد تک کامیاب نظر آتا ہے۔ دیکھیے ایک قلاش مزدور کی اپنے بچے کی علالت پر بے چارگی کا واقعہ نظم ”طفلِ بیمار“میں کس طرح لفظوں کے جامے میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔

گود میں ہے زرد رُو بچہ شفا کی فکر ہے
جیب میں صرف ایک آنہ ہے دوا کی فکر ہے

اک طرف پیسے کی تنگی سے ہے سینہ داغ داغ
اک طرف بجھتا ہوا بزمِ دل وجان کا چراغ

اک طرف غلطاں ہے اشکِ گرم سے میں فکرِ معاش
اک طرف بچے کے رونے سے ہے کلیجہ پاش پاش

اور پھر جاگیر دارانہ نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مجموعہ ئ کلام ”مقامات“ میں دانش پکار اٹھتے ہیں:

مجکو پروا نہیں گو صاحبِ جاگیر ہے تو

میرے اللہ کے قبضے میں ہے اب میری معاش

ہے مری روح کے معبد میں چراغانِ بہشت

ترے باطن پہ گراں ہے ترے ایمان کی لاش

مجکو احساس ملا ہے تجھے افیونِ طرب

میرا دل شعلہ شعلہ ذی روح ترا برف کی قاش

میرے آگے کوئی سلطانِ زمن ہو کہ فقیر

مجکو رہتی ہے فقط جوہر ِ ذاتی کی تلاش

احسان دانش استحصالی قوتوں کے خلاف جہاں اعلانِ جنگ کرتے ہیں وہاں وہ سعی مسلسل اور جد وجہد پر بھی کامل یقین رکھتے ہیں۔ وہ بے جا خواہشات کو پنپنے نہیں دیتے۔ وہ ہر شے نگاہِ حقیقت سے دیکھتے ہیں۔ ان کا یہ کامل اعتقاد کھل کر”مقامات“ کی نظم”عقیدہ“ میں کھل کر سامنے آتا ہے۔

کم نظر آنے لگے جس سے میری چادر کا طول

میرے ارمانوں نے اتنے پاؤں پھیلائے نہیں

میں سمجھتا ہوں کہ ہر ساعت ہے اک نیرنگِ نو

حال میں ماضی کے منظر گھوم کر آئے نہیں

ہر نفس حکمِ خدا ہے ہر قدم جہدِ حیات

اس سے آگے اور عقدے میں سلجھائے نہیں

احسان دانش معاشرے کے نچلے اور پسے ہوئے طبقے سے اٹھے تھے اس لیے وہ اس طبقے کی مجبوریوں اور مسائل سے خوب آگا ہ تھے۔ چنانچہ ان کے کلام کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے ہاں سماج کے ظالم طبقے کے خلاف جو ردِ عمل ہے اس کی کاٹ بہت گہری ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلو میں جھونہڑے دیکھ کر ”فصل ِ سلاسل“ کی نظم”ایک ہوک“ میں پکار اٹھتے ہیں۔

رقص میں تہذیب کی دیوی بصد انداز وناز

پوپلے ماضی کی ناراضی سے بالکل بے نیاز

مہرِ پراسرار، حکامِ نوی کے ہاتھ میں

آدمی کی باگ گویا آدمی کے ہاتھ میں

لیکن اب بھی دفترِ آئین سازاں کے قریب

رات کو فاقوں سے سو جاتے ہیں دکھیارے غریب

جینے کو جیتے ہیں ہیں لیکن زندگی پامال ہے

مرنے والوں کے لیے گوروکفن کا کال ہے

شور برپا ہے نیا دستورڈھالا جائے گا

ظلمتوں کو گوندھ کر سورج نکالا جائے گا

اور پھر تنبیہ کرتے ہوئے نظم کے آخر میں کہتے ہیں:

ناز ہے تم کو جو طاقت پر تو ہم بھی کم نہیں

فیصلہ دو ٹوک ہے، یا تم نہیں، یا ہم نہیں

اسی طرح تقسیم ملک کے بعد انتقالِ آبادی کے سلسلے میں نظم”جوابی اقدام“ میں ان کا ردِ عمل ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں:

جنون کا مشورہ یہ ہے، اگر غلط قدم اٹھے
تو کارواں کے ساتھ میرِ کارواں کو لوٹ لو

اور

سنو کہ کہہ رہاہے کیا سیاہیوں کا سلسلہ
بجھا کے شمع مہر وماہ آسماں کو لوٹ لو
تماہار مقصدِ نظر تمہارا حاصلِ جنوں
جو حکمراں کے پاس ہو تو حکمراں کو لوٹ لو

وہ نہ صرف ماضی کو کبھی فراموش نہیں کرتے بلکہ مستقبل کی بات بھی کرتے ہیں لیکن ہر دو باتوں میں ان کے اندر کا آتش فشاں پھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ”آتشِ خاموش“ میں ”مقصودِ کار“ کے عنوان سے اپنا مدعا بیان کرتے ہیں:

کر رہاہوں بزم میں ماضی کا ماتم اس لیے

تاکہ مستقبل کے شعلوں کو ہوا دینی پڑے

قیمتِ مزدور کردوں گا جہاں پر آشکار

زندگی کو لاکھ تشکیلِ فضا دینی پڑے

اے فلک مجھ کو مٹالیکن کہیں ایسا نہ ہو

خاک کی چٹکی کے بدلے کیمیا دینی پڑے

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ احسان دانش کے ہاں معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی نمائندگی ملتی ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ وہ جبلتاً حسن پرست تھے۔ ان کے یہاں یہ حسن پرستی قدرتی مناظر کی عکاسی میں نظر آتی ہے؛ چنانچہ حسنِ فطرت کے مرقعے اور دیہاتی زندگی کے دلفریب مناظر بھی ان کی نظموں میں جابجا دیکھے جاسکتے ہیں۔ ”دردِ زندگی“ کی ایک نظم”دیہات کی شام“ کا ایک منظر دیکھیے:

سرخ مے برسا رہاتھا شام کا رنگین شباب
جھک رہا تھا دور کھیتوں کے کنارے آفتاب

واہ رے دیہات کے سادہ تمدن کی بہار
یاں نہیں ہوتی جوانوں کی جوانی داغدار

دل یہ کہتا ہے فراق انجمن سہنے لگوں
شہر کی شورش کو چھوڑوں اوریہیں رہنے لگوں


اس نحریر کی پہلی قسط پڑھنے کے لیے:

http://daanish-pk.stackstaging.com/42904

اس نحریر کی تیسری قسط پڑھنے کے لیے:

http://daanish-pk.stackstaging.com/43095

Facebook Comments Box
Ehsan DaanishUrdu Poetاحسان دانشاردو شاعر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
 کرونا کے بعد کا پاکستان —- نعیم صادق
next post
ایک اصول حیات THE ONE RULE FOR LIFE — Mark Manson —- ترجمہ و تدوین: وحید مراد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.