تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

وبا، بارش اور بندش —- محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 03/04/2020
written by محمد حمید شاہد 03/04/2020
78

گزر چکے دو دنوں میں تو جیسے جاڑا مڑ کر پھر سے آگیا تھا اورآتے ہی یوں ہڈیوں میں رچ بس گیاتھا کہ لگا اب یہ جانے کا نہیں۔  اپریل کا مہینہ آلگا تھا، ہم حکومتی اعلان کے مطابق لاک ڈائون کی وجہ سے کمروں، لائونج اور حد سے حد باہر پورچ تک محدود ہو کر رہ گئے تھے مگر دو روز پہلے مطلع بالکل صاف تھا اور سورج اس شدت سے چمکتا تھا کہ باہر کی تپش اندر آتی تھی۔  ایسے میں یہ کیوں نہ سمجھا جاتا کہ لو جاڑا تو گیا۔  ہم بھی یہی سمجھے تھے لیکن ادھربیگم نے بچوں کی مدد سے گرم کپڑوں کو تہہ کرکے اسٹور میں پھینکوا یا اُدھر بادل کی ٹکڑیاں آسمان پر نمودار ہوگئیں اور وہاں سارے میں تہہ بہ تہہ جمع ہوتی گئیں۔  پہلے یخ ہوائیں چلیں، اتنی تند اور تیزکہ صدر دروازے کی ریخوں چولوں کے نہ نظر آنے والے چھیدوںاورجھِریوں سے گھر میں گھستی چلی آئیں۔  ہوا کا زور ٹوٹا تو بادل پورے جلال سے گرجنے لگا، بجلی کڑکی اور چھم چھم بارش برسنے لگی۔  اس بارش نے جاتے موسم کو واپس بلا لیا۔  سردی بڑھ گئی تو ہم ٹھٹھرنے لگے۔  ہیٹر دھکایاہاتھ تاپے مونگ پھلیاں، پکوڑے، سوجی کا حلوہ؛ ہر وہ حیلہ کیا جواس موسم میں کیا کرتے تھے مگررگوں میں تو جیسے جما ہوا لہو بہنا بھول گیا تھا۔

مجبوراً ایک ایک کرکے اسٹور میں رکھے گرم کپڑے پھر سے نکال لائے۔  رات بھر میہنہ برستا رہتا۔  دن کو کچھ لمحوں کے لیے دھوپ نکلتی تو بھی اندھی، اور لگتا جیسے بدلیاں اوڑھے سورج پورا باہر نکلا تو اسے بھی کپکپی آلے گی۔  ایسے میں کہ جب یونیورسٹیاں، دفاتر، مارکیٹیں سب بند تھے، بچوں نے گھر میں ہی اپنی مصروفیت کے بہانے ڈھونڈھ نکالے تھے۔  ان دو دنوں میں بھی بچوں کا معمول وہی تھا، ماں کے ساتھ مل کر لڈو یا تاش کھیلنا اور یکسانیت کو توڑنے کے لیے کوئی فلم یا بھلے وقتوں کا کوئی پرانا ڈرامہ دیکھ لینا۔  بس اس میں اگر کچھ بدلا تھا تو یہ کہ کچن میں کچھ اضافی پکنے لگاتھا۔

بچے رات کے پہلے پہر کی نیند کے ہمیشہ سے دشمن تھے۔  رات گئے تک بہانے بہانے سے نیند پرے دھکیلتے رہتے۔  رات بھی ایسا ہی ہوا۔  بیوی بچے لائونج میں ہنگامہ کرتے رہے اور میں چپکے سے خواب گاہ میں اپنے بستر پردراز ہو گیا۔  یہ لگ بھگ وہی وقت ہو گا کہ جو لوگوں نے کرونا وائرس کی وبا سے چھٹکارا پانے کے لیے چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینے کے لیے مختص کر رکھا تھا۔  دور نزدیک سے اذانوں کی آواز یں آتی رہیں پھر ان پر بچوں کے قہقہے حاوی ہو گئے اور میں نیند کی جھیل کے گہرے پانیوں میں اتر گیا۔

میری یہ عادت پختہ ہو چکی ہے کہ رات جلد سو جاتا ہوں اور تڑکے تڑکے اٹھ کھڑا ہوتاہوں۔  جی، جب گھر کے سارے جی گہری نیند میں ہوتے ہیں، تب۔  بستر چھوڑتے ہوئے مجھے بہت احتیاط برتنا ہوتی ہے کہ بیگم کی سانسوں سے فضا میں ایک خاص آہنگ سا بن جاتا ہے۔  اٹھتے ہی نہ جانے کیوں مجھے اس کے ٹوٹنے کا اندیشہ لگا رہتا ہے لہٰذا چپکے سے بستر سے اترتا ہوں۔  پنجوں کے بل چلتے ہوئے خواب گاہ سے نکلتا ہوں اور دھیرے سے دوازہ بند کردیتا ہوں۔  کتاب گاہ میں اترتے ہوئے سیڑھیوں والا قمقمہ بھی روشن نہیں کرتا۔  اس احتیاط کی عطا ہے کہ جب میں اپنے لکھنے کی میز پر بیٹھتا ہوں تو سانسوں کا یہ آہنگ میرے ساتھ ہوتا ہے جس میں بچوں کے سانس لینے کا آہنگ بھی شامل ہوجاتا ہے کچھ اس تناسب سے کہ مجھے لگتا ہے جیسے پورا گھر سانس لے رہا ہے۔  یہی وہ زندہ تخلیقی ماحول رہا ہے جس میں کاغذ قلم اٹھاتا رہا ہوں تو تخلیق کے لطیف لمحے مجھ پر مہربان ہوتے رہے ہیں۔

وبا کے دنوں کے آتے ہی یہ معمول ٹوٹ گیا تھا کہ اندر کی بے کلی نے سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ چھوڑاتھا۔  چاہتے ہوئے بھی میں اس کیفیت کو گرفت میں نہیں لے پا رہا۔  تاہم کچھ لمحے پہلے، جب میں اپنی کتاب گاہ میں اترا، مجھے لگا سب کچھ معمول پر آگیا تھا۔  حکومت کی طرف سے عائد کی گئی لاک ڈائون کی پابندی کا دورانیہ آنے والی رات ختم ہوجانا تھا۔  اگرچہ یہ افواہ گردش میں تھی کہ یہ دورانیہ بڑھ سکتا تھا مگر ابھی تک اس باب میں سرکار خاموش تھی۔  مجھے لگنے لگاتھا کہ میرے اندر کی بندش بھی ٹوٹ گئی تھی۔  میں ماحول سے لطف اندوز ہو سکتا تھا اور ہو رہاتھا۔  اس قدر کہ میرے اندر یقین اُترآیا کہ تخلیقی عمل کو مہمیز لگنے والی تھی۔  عین اسی لمحے اچانک میرے سیل سے مدہم سی آواز آئی تھی۔  میں چونکا اور نظر سیل کی جانب اُٹھ گئی۔  ابھی ابھی اس کا مانیٹر تھوڑا سا جھلملا کر بجھ گیاتھا۔  واٹس ایپ اور ایس ایم ایس پیغامات کی الگ الگ پہچان کے لیے میں نے سیل پر الگ الگ آوازوں کا التزام کر رکھا تھا۔  یہ آوازیں بہت مدہم اور مختصرتھیں۔  اتنی مدہم اور اتنی مختصر کہ بس اشارہ سا ہوتا۔  اس بار جو اشارہ ہوا، وہ ایسی مدہم آواز میں تھا جیسے کسی نے منی سی کنکری پانی کے ذخیرے میں گرادی تھی۔  ایس ایم ایس؛ میں جان گیاتھا۔  اچھا، تو کوئی اور بھی تھا جو اس وقت میرے علاوہ جاگ رہاتھا۔  مجھے کرید لگ گئی، کون؟۔  میرا بے اختیاری میں سیل کی جانب ہاتھ بڑھا اور ایک انگلی سیل کے ڈسپلے کو چھو گئی تو سویا ہوا سیل ایک دم سے جاگ گیااُٹھا۔  ڈسپلے کے نوٹیفکیشن پر موجود ’’کووڈ۱۹‘‘کے ابتدائی حروف سے میں میسیج کی نوعیت سمجھ سکتا تھا۔  میرا دِل وسوسوں سے بھرگیا لہٰذا پورا میسج پڑھنے سے قصداً احتراز کرنے کے لیے ہاتھ کھینچ کر انگلیاں ہتھیلی کے اندر موڑلیں اور مٹھی سختی سے بھینچ لی۔

میں اُس فضا میں رہنا بسنا چاہتا تھا جس میں پورا گھر سانس لیتا تھا۔  میں نے لمبا سانس لیا اورپھیپھڑے پوری طرح بھرلیے۔  پھر ہونٹوں میں اندر کی ہوا دبا دبا کر اور روک روک کرباہر پھینکنے لگا۔  ابھی پوری طرح پھیپھڑے خالی نہیں ہوئے تھے کہ سانس روک لی اور سر کرسی کی پشت پر ٹکادیا۔  ایسا کرتے ہوئے بے دھیانی سے ہونٹ خود بہ خود کھل گئے اور چھاتی نے باقی ماندہ ہوا ایک ہی ہلے میں باہر پھینک دی تھی۔  اب سارے میں گہرا سکوت تھا۔  اتنا گہرا، اور اتنا بوجھل کہ وہاں کہیں کوئی بھی سانس نہیں لے رہاتھا۔  میں بھی نہیں۔  صوفے، میز، الماریاں، الماریوں سے جھانکتی کتابیں، دیواریں، دیواروں پر ٹنگی تصویریں، اوپر جاتی سیڑھیاں، قمقمے سے گرتی روشنی؛ کوئی بھی نہیں۔  محض ایک چھوٹی سی کنکری پڑنے سے سب کچھ بے جان ہوگیاتھا۔

Facebook Comments Box
coronaCoronavirusFamilyfeaturedlockdownQuarantineSelf isolationحکومتفیملیکورونا وایرسوبا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
مغربی خداوں کی دنیا کے نفسیاتی لوگ —- خرم شہزاد
next post
ضمیر کی صدائیں(پہلا حصہ) —- نجویٰ زیبین/ترجمہ: محمد کامران خالد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.