تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

نقاب، ماسک اور رخِ زیبا —- تیمیہ صبیحہ

by دانش ڈیسک 30/03/2020
written by دانش ڈیسک 30/03/2020
187

یہاں تہاں جہاں دیکھیے ہر جا منہ پر رنگ برنگ ڈھاٹے باندھے مردو زن دکھائی پڑتے ہیں ـ کوئی آنکھ حیرت سے تکا کرتی ہے نہ نخوت سے ابرو چڑھاتی ہے ـ وہ کیا ہے کہ اک شمہ بے مایہ نہ دکھائی دینے والا جرثومہ سب نوع انساں کے ڈیفالٹ سسٹم میں فیڈ ہو گیا: احتیاط، احتیاط کا بھونپو بجے جاتا ہے ـ جی جی ـ آمنا صدقنا کہتے سر ہم نے بھی جھکا لیا ـ خود کو آپ ہی تاڑ لیا ـ نے صیاد نے قفس ـ بہار آئی جاں فزا نہ ٹھیری ـ لالہ و بلبل تو جھومتے ہیں ـ دے ڈالیوں پر چہچہا رس گھولتے ہیں ـ منہ چھپایا نہ رقص کرتے مرمریں بدن تاکتی نظروں سے اوجھل کیے ـ اک ہم ہیں ـ جو ذرا سر پر تنی چادر کو نوچ پھینکنا چاہا، اک نعرہ سرکش آزادی کا بلند کیا، اس گل و مینا کو رنگ و غنا دینے والے نے گلا ہمارا گھونٹ ڈالا ـ اور اسی چاردیواری میں قید کیا جس سے نکل بھاگنے کو بےتاب تھے ـ ہم سا بھی کوئی مظلوم ہے!!

دو مہینے اُدھر کی بات ہے جب ہمسایہ ملک نے دس دن میں اک بے نظیر شفاخانہ بنا ڈالنے کی طرح ڈالی تو صاحب کی کمپنی کے کان کھڑے ہو گیے ـ ترنت اُدھر چھٹیوں پر گیے اپنے سب ملازموں کو تا حکم ثانی واپسی سے منع کر دیا ـ جو اڑان بھر چکے تھے انہیں اترتے ہی کمپنی کے خرچے پر پندرہ دن پنج ستارہ ضیافت کرائی ایسی کے کھڑکی سے جھانکنا بھی منع تھا ـ اب جانے اندر کی بورڈ کی ٹک ٹک ہوا کرتی تھی یا قرنطینے کے قیدی آہ و بکا بھی کرتے تھے مگر شنید ہے کہ بندہ بشر ادھر کوئی نہ پھٹکا تآنکہ وہ پاک صاف قرار دے کے رن میں چھوڑ دیے گیے ـ اِدھر ہماری پیاری سرکار گو مگو میں ٹک ٹک دیدم بنی مہا گرو کے اشارہ ابرو کو تکتی تھی ـ ہم بھی اپنے قومی استغنی کی بدولت مسئلے کو چٹکیوں میں اڑایا کرتے تھے ـ انہی دنوں گاڑی کے ہر دروازے اور دروازوں کے طاقچوں اور سب سیٹوں کے گرداگرد ہرے ہرے نیلے نیلے چٹے چٹے فیس ماسک دھرے پاے ـ خیال ہوا شاید بدلتے موسم کے پیش نظر سٹاک جمع کر لاے ہیں کہ دار الحکومت میں پھوٹتے شگوفوں سے ان کا ازلی بیر ہے ـ مگر تحقیق پر معلوم ہوا کہ گذشتہ ایک ماہ سے جناب کا عمارت میں داخلہ اس بالشت بھر نقاب سے مشروط ہے ـ داخلی دروازے کا گارڈ اک طرف بندوق تانے یہ ڈھاٹے عزیزان کے رخ زیبا کی زینت بناتا ہے دوسری طرف کھڑے بندوق بردار ٹمپریچر گن سے گرمئی عشق ملاحظہ کرتے ہیں ـ چھٹی کرنے کے شوقین دور سے ماتھا رگڑے جاتے کہ شاید دو چار ڈگری حرارت چڑھ جاے اور انہیں پروانہ رخصت عطا ہو ـ دن میں وقتا فوقتا کوتوالی گشت ہوا کرتا جہاں دیکھا کسی حضرت کا پردہ ناک سے کھسکا وہیں وسل بجا کے الاسٹک کسنے کا اشارہ کیا ـ کماندار صاحب جب آپ قید تنہائی سے باہر نکلے تو تمام دن دفتری عملے کے ہاتھ دھلوانے، نقاب کسوانے، کھانسی اور چھینکنے کی نشاندہی کے لیے باؤلے ہوے پھرتے ـ یار لوگ ہنس ہنس ٹھٹھا اڑاتے تآنکہ آپ اس بلا میں گرفتار ہوے ـ

اول اول جب ہم نے بھی ڈھاٹا کسے حضرات کو دیکھا تو چندے مشکل سے دوچار ہوے ـ بھری میٹنگ میں ادراک نہ ہوتا کہ یہ آواز کہاں سے نکلی ـ پھر کہیں نقاب تلے ہلتی داڑھی اور کہیں ناچتے ہاتھ دیکھ کے احساس ہوتا کون گویا ہیں ـ بعضے لبرل لب کشا کرنے سے قبل ماسک کھسکاتے، فرمودہ عالی ارشاد کرتے اور دوبارہ کس لیتے ـ بعضے وفور جذبات میں بھول جاتے یہاں تک کہ کوتوالی نظر انہیں اس پردے میں واپس دھکیل دیتی ـ

اور یہ اچھا ہی ہوا ـ تب ہمیں بھی سمجھ آئی کہ ہم جیسی مہ جبینیں نیک پروینیں جب شناخت مخفی رکھ کے ادھر ادھر دراتی پھرتی ہیں تو مخاطب کبھی اس عنبریں ٹکڑے کے کارن مخمصے میں پڑ جاتا ہے کہ کون سی مینا چہچہائی اور کون سی کوئل کوکی ـ یہ بھی اچھا ہی ہے ـ پردہ کیا ہی اسلیے جاتا ہے ـ مگر اس سے بھی اچھا یہ ہوا کہ وہ جو کمرے میں داخل ہونے والی کو بغیر امتحان لیے ابرو چڑھا کے واپس کردیا کرتے تھے:

Your attire doesn’t suit your profession

وہ جو کہا کرتے تھے ، تمہیں وائوے میں پاس کردینے کا مطلب ہے کہ تم پروفیسر بن جاؤ اور پھر یہ ڈھاٹا چڑھا کے ہمارے روبرو آ بیٹھو، وہ جو سیلیکشن بورڈ میں چہرے کے سامنے ہاتھ نچاتے ہوے کہا کرتے تھے: یہ یہ ـــ یہ کپڑا ڈال کے آپ لیکچر کیسے ڈلیور کر سکتی ہیں، اسے اتارنا ہوگا ـ اور وہ جو بھرے مجمعوں میں نقاب نوچ ڈالتے تھے کہ ہماری سوسائٹی کی اقدار، فرد کی آزادی پر قربان نہیں کی جا سکتیں ـ وہ جب امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سامنے اس بالشت بھر کپڑے کو اتار دینے کے مطالبے کے جواب میں ہم نے اپنی قابلیت کے ثبوت میں آزادئ فکر وعمل کی دہائی دی تھی، وہ جب ہمیں بتایا گیا کہ تمہیں دیکھ کے کتا خوخیاے یا منہ پھاڑ کے لپکے تو تجاہل برتو ـ تم اسکے لیے نامانوس ہو ـ وہ جب اوقیانوس کے کنارے اک پستہ چوٹی پر کھڑے نیم برہنہ گروہ نے ہمیں جتلایا کہ یہ بالشت بھر کپڑا کمیونیکیشن بیرئیر ہے ـ تم انسان نہیں معلوم ہوتیں ـ وہ جب دمشق کی اک پروفیسر نے آٹھ انچ کے اس کپڑے کو چھوتے ہوے کہا، یہ عرب جاہلیت کی یادگار تم کیوں لٹکاے پھرتی ہو ـ اسلام نے ہمیں آزاد کر دیا ہے ـ جب ان مصری استادوں نے ہنستے ہوے تمسخر کیا، اب تو یہ کپڑا شدت پسندی اور دہشت گردی کا اظہار ہے ـ تم تو ایک روشن خیال پروفیسر ہو ـ وہ جب اقتدار کی لابیوں میں ہم اجنبی ٹھیرا دیے جاتے رہے،  وہ جب لازمی فوجی سروس کی بجا آوری میں اس کپڑے کے ٹکڑے کے کارن پیشیاں بگھتا کرتے اور… اور ..

اب جبکہ کل جہاں مستور و محجوب ہونے کو لازمہ حیات بتا رہا ہےـ اک شمہ بھر جرثومے نے ہم سب کو بتا دیا کہ آزادی کیا ہے .. بیرئیر کیا ہے .. واہمہ کیا ہے، حقیقت کہاں ہے،  تعصب کسے کہتے ہیں، روشن خیالی کیا ہے، معاشرہ کب فرد کی آزادی سلب کرسکتا ہے اور فرد اس پر چیں بچیں ہونے کی بجاے سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے .. کلچر بدلنے میں کون رتیں جاتی ہیں یہ تو چند ثانیے کی بات ہے ـ زندگی کی چاہ ہمیں انسان بناتی ہے، انسان اپنی زندگی کا تسلسل چاہتا ہے ـ بقا کی جنگ جیت جاتی ہے ـ اس چکر میں زمردی لاجوردی نقرئی روپہلا عنبر و طاؤسی چلمن ہو ــــ سب رخ زیبا پہ روا ہے ـ اور ہم سب سا بھی کوئی مظلوم نہیں!!!

Facebook Comments Box
featuredHijabMasksNiqabپردہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کیا؟ —- میاں ارشد فاروق
next post
صبح دھونا ہاتھ کا ور شام دھونا ہاتھ کا —- عطا محمد تبسم

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.