تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

خوف سے نہ مریں —- عطا محمد تبسم

by دانش ڈیسک 29/03/2020
written by دانش ڈیسک 29/03/2020
78

اخبارات کا بنڈل بہت دیر سے گیلری میں پڑا ہے۔ پہلے کی طرح مجھے اب اخبار سے بہت زیادہ رغبت نہیں رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے میں کئی دن ایسے گذرے ہیں ، جن میں اخبار کا ربڑ بینڈ بھی نہیں اتار گیا۔ میرے لیے وہ اخبار شائع ہی نہیں ہوئے تھے۔ مجھے اخبار کی سرخیوں سے خوف آنے لگا تھا۔ ایک وبائی اور جان لیوا بیماری جس نے سب سے پہلے خبروں کا قتل عام کیا ، اخبار اور میڈیا پر خبروں کی موت کا کوئی باقاعدہ اعلان تو نہیں ہوا ، لیکن رفتہ رفتہ اخبار سے وہ خبریں ناپید ہوگئی ، جو کئی دہائیوں سے اس کی سرخیاں ، تصویروں ، کالموں ، مضامین میں جگمگاتی تھی۔ سیاست دان ، حکمران ، صنعت کار ، تاجر ، ڈاکوں ، عدالت ، فنکار ، جن سے اخبار کی زینت تھی ، اب اندر کے صفحات پر اکا دکا خبروں میں نظر آتے ہیں۔

اب خبروں کا مرکز و محور ایک ہی ہے۔ ، ، کرونا ، ، میں اسے خوف کا استعارہ سمجھتا ہوں۔ کچھ اسے عزرائیل کا ایک ہتھیار سمجھتے ہیں۔ جو موت سے پہلے اس کی آمد سے انھیں ڈراتا ہے۔ اور وہ اس کے خوف ہی سے مر جاتے ہیں۔ کل مجھے ایک ڈاکٹر کے کلینک جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھے پیٹ کی خرابی کی شکایت تھی۔ جو معمول کے مطابق معمولی دوا سے کسی حد تک ٹھیک ہوچکی تھی۔ لیکن صبح سویرے ہی میری بیٹی نےجو میری صحت سے متعلق ہر وقت متوحش رہتی ہے۔ اور معمولی سی بات پر بھی مجھے دوا لینے اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ اس ڈاکٹر کے یہاں فون کیا۔ اور مجھے کہا کہ آپ جاکر ڈاکٹر کو ضرور دکھا لیں۔ عام دنوں میں ڈاکٹر سے وقت لینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہاں صبح سویرے سے مریضوں کی آمد شروع ہوجاتی ہے۔ اور نمبر کے لیے کئی دن تک کوشش کرنی پڑتی ہے۔ لیکن آج میں جب اس کے کلینک پہنچا تو یہاں بھی کوف کے سائے بہت گہرے تھے۔ مریضوں کی تعداد کم تھی ، سب نے ماسک لگائے ہوئے تھے۔ اور ایک دوسرے سے فاصلے پر بیٹھے تھے۔ خود ڈاکٹر صاحب ، ، قرنطینہ ، ، میں تھے۔ سب سے الگ تھلک شائد کسی کمرے میں۔ فون کی گھنٹی بجتی اور مریض اپنی کیفیت سے انھیں آگاہ کرتا ، کچھ دیر میں ان کا لکھا نسخہ باہر آجاتا ، جس کے مطابق دوائیں تیار کردی جاتی۔ یہاں پہنچ کر مجھے ایک بار پھر خوف نے آگھیرا ، میں یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ پھر خواتین کی انتظار گاہ کو خالی پاکر مجھے کچھ اطمینان ہوا ، اور میں سب سے الگ تھلگ یہاں بیٹھ گیا۔

تو کیا یہ خوف مجھے اسی طرح گھیرے رہے گا۔ ہمارے وزیر اعظم بار بار کہتے ہیں ، ، ڈرنا نہیں ہے ، ، لیکن جس طرح انھوں نے ڈرا ڈرا کر پوری قوم کو بیمار کیا ہے۔ اس کےنفسایتی علاج کے لیے بہت سا وقت درکار ہوگا۔ میں اس خوف کو جرات اور بہادری کے احساس میں ڈھال سکتا ہوں۔ ماضی میں ، میں بہت سے ایسے تجربات سے گذرا ہوں۔ لیکن اس وقت موت کا خوف کچھ دوسری نوعیت کا تھا۔ لیکن دیکھا جائےتو خوف ہی ہمارا سچا ساتھی ہے۔ اس خوف ہی کے سبب ہم بار بار ہاتھ دھونے ، ماسک لگانے ، اور گھروں میں بند رہنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

لیکن جب میں ان لاکھوں ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے بارے میں سوچتا ہوں ، جو اس نادیدہ دشمن سے لڑائی کے صف اول کے سپاہی ہیں۔ یا ان این جی اوز یا الخدمت کے ان جانبازوں کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ کس بے جگری اور حوصلہ سے اس وبا اور اس کے اثرات سے لڑ رہے ہیں۔ وسائل کی کمی کے باوجود اسپتالوں مین ڈاکٹر اس جان لیوا مرض سے لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے خوف کو امید سے بدل دیا ہے۔ امید روشنی ہے ، ہمارا کل اس امید کے روشن دیئے کی لو ہے۔ کل شام جب کچھ اندھیرا ہوچلا تھا۔ دروازے پر ایک عورت آئی۔ اس کے ساتھ تین بچے بھی تھے۔ میرے کرائے دار نے اسے راشن کا تھیلہ دیا۔ وہ خاصا بھاری تھا۔ عورت نے اپنی گود کا بچہ اپنی بڑی بچی کو دیا۔ اور راشن کا بھاری تھیلہ اپنے سر پر رکھ لیا۔

اس کی شکرگزاری اور ممنونیت اس قدر تھی کہ اسے دیکھ کر پلکیں نم ہوگئیں۔ ایسے ہزاروں لوگوں کو راشن ان کے گھروں پر مہیا کرنا۔ الخدمت اور ان جیسی سینکڑوں تنظیموں ہی کا جگرا ہے۔ اسی لیے میں اس بات کا قائل ہوگیا ہوں کی اس خوف کو کسی ایسی مثبت سرگرمی سے بدل دین جو کسی کام آئے۔ مجھے اب خود کو بھی بار بار یہ یاددہانی کرانی پڑتی ہے کہ ، ، گھبرانا نہیں ہے ، ، کچھ کام کرنا ہے ، تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ اس سے میں کچھ بہتری محسوس کرتا ہوں ، امید کرتا ہوں کہ میں نے تھوڑا بہت ایسا کام کیا ہے۔ جو ہرانسان کی زندگی میں بہتری لائے گا۔ اب جب میں خوف کا شکار ہوتا ہوں تو میں اسے آگےدھکیل دیتا ہوں۔ اس طرح اس کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس کے اثرات تبدیل ہوجاتے ہیں۔ میرا خوف کم ہوجاتا ہے۔

Facebook Comments Box
coronafeaturedکرونا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کرونا یا عذاب الٰہی —- کومل شہزادی
next post
کارل مارکس: تائید مذہب کا مبلغ —– فرحان کامرانی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.