تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

اردو سوشل میڈیا کے لکھاری اور اسٹیٹس —— قاسم یعقوب

by قاسم یعقوب 10/03/2020
written by قاسم یعقوب 10/03/2020
128

گزشتہ ایک دہائی سے پاکستانی معاشرے میں سوشل میڈیا نے نہ صرف میڈیائی کلچر میں ایک نیا اضافہ کیا ہے بلکہ فکری سطح پر متبادل بیانیہ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ تمام تجاویز اور مشورے جو کبھی چند اذہان کی دسترس میں ہوتے تھے اور وہ پورے خطے کے اذہان میں ٹھونس دیے جاتے تھے، اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ کالم نگاروں یا الیکٹرونک میڈیا پر بیٹھے صحافیوں کے پاس یہی تو ایک طاقت تھی کہ وہ جو سوچتے تھے، اُسے دوسروں تک پہنچانے میں اُن کے پاس اخبارات یا ٹی وی کا ذریعہ تھا۔ وہ جو کچھ یا جس طرح چاہتے اپنی فکر کو پوری سماج کی فکر بنا کے پیش کر دیتے۔ رات کوآٹھ بجے لکھا جانے والا کالم صبح آٹھ بجے سب کی میزوں پر ہوتا۔ یہی ان کی طاقت تھی۔ اب یہ طاقت ان کے ہاتھ سے چھن سی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھا ایک عام سا شخص اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسے وائرل ہوتی ہے کہ پورے خطے کا اہم موضوع بن جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں میڈیا کی طاقت کم ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہوتی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا پر رائے دینے والوں میں دو طرح کے نظریۂ فکر پوری طرح سامنے آ چکے ہیں۔ ایک رائٹ فکر کا اور دوسرا لیفٹ فکر کا نظریۂ حیات۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگیوں کے پس منظر میں بھی دو فکریں پوری طرح سرگرم ہیں۔ ایک اسٹبلشمنٹ حمایت میں اور دوسری اسٹیبلشمنٹ مخالفت میں۔ بظاہر لگتا کہ یہ فلاں سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتا ہے مگر درپردہ اُس کی وابستگی کا تانا بانا اشرافیہ کی حمایت یا مخالفت سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ لکھاری ان معروف گروہوں سے ہٹ کر بھی اپنی انفرادی یا آزاد شناخت قایم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تمام آرا ’’سٹیٹس‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس سٹیٹس کی کہانی بھی عجیب ہے۔ یہ کبھی محض تصویر تک محدود ہوتا ہے کبھی کسی کی رائے کو اپنی رائے بناتا ہے اور کبھی خود اتنی طاقت ور رائے کا اظہار کرتا ہے کہ پڑھنے والوں کی چولیں ہلا دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ’’سٹیٹس کلچر‘‘ اتنا طاقت ور ہو چکا ہے کہ اب بلاگ کلچر تقریباً ختم ہوتا جا رہا ہے۔

ایک دفعہ سید کاشف رضا نے مجھے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ’’سٹیٹس کلچر‘‘ اتنا طاقت ور ہو چکا ہے کہ اب بلاگ کلچر تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے۔ لوگ اتنی تیزی میں ہوتے ہیں کہ وہ کلک کرکے ویب سائٹ کی طرف جانے اور لمبے لمبے آرٹیکل پڑھنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتے۔ فوری سٹیٹس کو پڑھا اور اپنی رائے بنالی، اگر رائے سے ا تفاق یا اختلاف ہے تو اسی مناسبت سے فوری اپنی رائے کو ’ٹھوک‘ دیا۔ میں نے اس بات کا تجزیہ کیا تو مجھے واقعی ایسا لگا کہ اب سوشل میڈیا نے نہ صرف لوگوں کو رائے دینے کا اختیار دے دیا ہے بلکہ رائے سننے اور اُس پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کا پورا کلچر بھی پیدا ہو چکا ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ اب خاموشی سے ایک بیانیہ ترتیب دیا جانے لگا ہے جس کا اختیار پہلے کبھی طاقتور صحافیانہ اشرافیہ یا حکومتی ایوانوں کے پاس تھا۔

اس وقت بہت سرگرم ’’سٹیٹس لکھاری‘‘ خاموشی سے ایک متبادل بیانیہ ترتیب دے رہے ہیں، اگر کوئی اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہا تو اس کی خام خیالی ہے جس کی خطرناکی بہت جلد عیاں ہونے والی ہے۔

میں اگر ان چند لکھاریوں کا نام لوں تو ان کو پہلے کچھ حصوں میں تقسیم کروں گا۔ پہلے وہ لکھاری آتے ہیں جو ریاستی اشرافیہ کے خلاف لکھتے اور طے شدہ ٹیبوز کو توڑنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ یہ لکھاری بنیادی طور پر لیفٹ اپروچ سے چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آرا غیر معمولی طور پر پورے سماج پر اثر انداز کر رہی ہیں۔ ان میں سید کاشف رضا، مبشر علی زیدی، ارشد محمود، علی اکبر ناطق، عثمان قاضی، حسن نقوی، جمیل قریشی، عامر کاکازئی، صفی سرحدی، محمد اقبال قریشی، فرنود عالم، حاشر بن ارشاد، عدنان کاکڑ، فرحان احمد خان، جمشید اقبال، حافظ صفوان، شیخ نوید وغیرہ شامل ہیں۔

اب خاموشی سے ایک بیانیہ ترتیب دیا جانے لگا ہے جس کا اختیار پہلے کبھی طاقت ور صحافیانہ اشرافیہ یا حکومتی ایوانوں کے پاس تھا۔

مذکورہ تمام نام میں نے بہت انتخاب سے پیش کیے ہیں۔ ان لکھاریوں میں درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ ان کی تحریروں میں موضوعات کی تقسیم بھی کی جا سکتی ہے مگر مجموعی طور پر یہ لکھاری اپنا نقطہ ٔ نظر دیتے ہوئے ریاستی بیانیوں کے خلاف اپنا موقف رکھتے ہیں۔ سیاسی حوالے سے بھی یہ لکھاری تقسیم ہیں مگر مجموعی طور پر ان کا موقف طے شدہ رویوں اور بیانیوں کے خلاف خاموشی سے اپنی فضا بنا رہا ہے۔ ان لکھاریوں کی اپنی اپنی جہت ہے، اپنا اپنا بیانیہ ہے، ایک ایک نام اہم اور خوب زیرِ بحث آنے والا ہے۔ ان کی تحریروں اور سٹیٹس پر بہت لکھا جا سکتا ہے۔ ان لکھاریوں کی تحریروں کا بیانیہ بہت اثر رکھتاہے۔ بعض اوقات پڑھنے والے کے ہاں مخالفت یاحمایت میں نئی بحث جنم لیتی ہے۔

اسی لاٹ میں اگر ذرا کم اثر انداز ہونے والے لکھاریوں کی فہرست بنائی جائے تو ان میں وسیم عبد اللہ، وصی بابا، ابو بکر، احمد حماد، آصف جاوید، صلاح الدین درویش، ناصر مینگل، محمد عاطف علیم، علی ساحل، منزہ احتشام گوندل وغیرہ کا نام آتا ہے جو اپنی رائے کا برملا اظہار بھی کرتے اور طے شدہ فکریات میں شگاف ڈالنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مگر کم اور محدود لکھنے کی وجہ سے ان کا اثراتنا گہرا نہیں جتنا پہلی لاٹ کے لکھاریوں ہے۔

دوسری طرف رائٹ کی آواز اٹھانے والی توانا آوازوں میں رعایت اللہ فاروقی، محمد عامر خاکوانی، ڈاکٹر مشتاق احمد، شاہد اعوان، لالہ صحرائی، زاہد مغل، ادریس آزاد، عاصم اللہ بخش، سبوخ سید، اعجاز الحق اعجاز، قاری حنیف ڈار، کاشف نصیر، حنیف سمانا، لالہ صحرائی، محمود فیاض، جین سارترے، عمیر فاروق، رضوان خالد چودھری، احمد بن الیاس، عماد بزدار، عامر ہزاروی، عزیزی اچکزئی، ہمدرد حسینی اور عثمان سہیل وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے ہاں مذہبی بیانیہ پوری طاقت سے جلوہ گر نظر آتا۔ سیاسی اعتبار سے البتہ ان میں سے کچھ ایک گروہ کی جانب مائل نظر آتے ہیں اور کچھ دوسرے۔ تاہم کچھ لکھاری اپنی انفرادی، بے لاگ اور توانا آواز کی وجہ سے کبھی ایک گروہ کو حیران کرجاتے ہیں اور کبھی دوسرے کو پریشان۔ ان میں آصف محمود، شاہد اعوان، سبوخ سید، مجاہد خٹک، ہمایوں مجاہد تارڑ، محمود فیاض اور عاطف حسین شامل ہیں۔ کچھ لکھاری متنازعہ ہونے کے باوجود اپنی بے پناہ مقبولیت کے باعث بہت اہم ہیں، جیسے بابا کوڈا نامی پیج وغیرہ۔ رائٹ کی آوازیں مجموعی طور پر اتنی اثر انداز نہیں جتنی لیفٹ کی تحریروں میں تلخ سوچ ابھر رہی ہے۔ البتہ اپنے موقف کے بلند آہنگ اظہار میں کسی طور رائٹ بھی پیچھے نہیں ہے۔

سیاسی تلخ حقیقتوں کے ساتھ سٹیٹس دینے والوں میں جمیل اصغر جامی، شاہین مفتی، عزیز ابن الحسن، عتیق الرحمن خواجہ، انوار الحق، شاہد اشرف، فیاض ندیم، ظہیر بدر، ظہیر قندیل وغیرہ شامل ہیں۔ ان صاحبان کی فکر و نظر زیادہ تر سیاسی بیانیوں کے پس منظر میں موجود حقائق کی بازیافت کرتی ہے۔ گو کہ کچھ صاحبان بہت کم لکھتے ہیں مگر ان کی تلخ تحریروں کادائرۂ اثر بہت بڑا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا کا یہ خموش بیانیہ کسی دن اتنا پُراثر ہو جائے گا کہ اشرافیائی کلچر کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے گا۔

خوبصورت، معلوماتی اور اہم ادبی سٹیٹس دینے والوں میں اسلم ملک، محمود الحسن، طارق ہاشمی، عزیز ابن الحسن، ڈاکٹر معین نظامی، اقبال خورشید، امجد علوی، عامر سہیل (ایبٹ آباد)، سعید سادھو پیش پیش ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں بعض اوقات مکمل آرٹیکل کی شکل میں سٹیٹس ابھرتے ہیں اور پڑھنے والوں کو نئی فکریات سے روشناس کرواتے ہیں۔

اس گروہ میں کچھ خواتین بھی لکھاری بھی نمایاں ہیں۔ انکی اکثریت سماجی اشوز پہ لکھتی ہے مگر کچھ سیاسی موضوعات پہ بھی بروئے کار آتی ہیں۔ ان میں رابعہ خرم، نیر تاباں، ڈاکٹر لبنیٰ مرزا، زارا مظہر، جویریہ سعید، زیتون بی بی، سعدیہ علی، سعدیہ کیانی، فرحین شیخ، ثنا غوری، نبیلہ کامرانی، سائرہ فاروق، فارینہ الماس، سحرش عثمان، رقیہ اکبر، مریم عرفان، ثمینہ رشید، مطربہ شیخ وغیرہ شامل ہیں۔

کچھ احباب سٹیٹس دینے کی بجائے کسی اور کی رائے کو شئیر کرتے اور لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں ان میں عرفان احمد عرفی، انجم سلیمی، شیخ عدیل احمد، فخرِ عالم، شہزاد وریا وغیرہ شامل ہیں۔

معروف مزاح نگار ذوالفقار علی بڑا منفرد سٹیٹس دیتے ہیں۔ ان کے ہاں سماجی ناہمواریاں مزاحیہ انداز سے سامنے آتی ہیں، وہ چوں کہ خود اعلیٰ پائے کا مزاح لکھنے والے ہیں، اس لیے وہ طنز ومزاح کے ذریعے خاموش بیانیہ ترتیب دے رہے ہیں، بعض اوقات ان کے ہاں نہایت سنجیدہ سٹیٹس بھی ابھرتا ہے اور پڑھنے والوں کو اداس کر دیتا ہے۔

کچھ ادیب بھی سوشل میڈیا پر اپنا موقف دیتے ہیں مگر وہ کسی سماجی تلخ بحث کاحصہ نہیں بنتے ان میںآصف فرخی، ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد، غافر شہزاد وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے ہاں ادبی مضامین ہی غالب رہتے ہیں، کسی سیاسی و سماجی گفتگو سے پرہیز کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر زیادہ تر احباب اپنی تصاویر شیئر کرنے اور روزمرہ کی رونمائی میں مصروف نظر نہیں آتے۔ ادیب شاعر تو مکمل طور پر نابلد ہو کے سوشل میڈیا کی وادی میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ انھیں کچھ خبر نہیں ہوتی کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ صرف مشاعرے پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں یا اپنی غزلیں، نظمیں لگا کے داد وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا الیکڑانک میڈیا کو پیچھے دھکیلتا جا رہا ہے۔ اخبار تو سوشل میڈیا کی وجہ سے ویسے ہی تقریباً ختم ہو کے صرف لائبریریوں کی زینت بن چکا ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا کی آواز کو معمولی نہیں سمجھا جارہا۔ یہ خموش بیانیہ کسی دن اتنا پُراثر ہو جائے گا کہ اشرافیائی کلچر کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے گا۔ لہٰذا ان احباب کی آرا کو بہت توجہ سے سننا اور دیکھنا چاہیے۔

ایک دفعہ میں اپنے عزیز دوست آصف غفار سے سوشل میڈیا کے حوالے سے کسی موضوع پر گفتگو کر رہا تھا۔ میں نے اُسے ٹانٹ کرتے ہوئے کہا کہ تم سوشل میڈیا کی طاقت کو کیا جانو۔ اس نے بہت طنزاً مسکراتے ہوئے مجھے جواب دیا: ’’او بھائی ہمیں تو نہ کہو کہ ہم سوشل میڈیا کی طاقت نہیں سمجھتے۔ ہم نے تو سوشل میڈیا کے ذریعے پورا وزیر اعظم بنا دیا اور تم ہمیں اس کی طاقت کا اندازہ کروا رہے ہو۔ ‘‘

(نوٹ: یہ اظہاریہ میرے سوشل میڈیائی مطالعہ پر منحصر ہے، کسی اور کا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے اور مزید نام بھی سامنے آ سکتے ہیں)۔

Facebook Comments Box
featuredsocial mediaUrdu Social Media Writersابو بکراحمد بن الیاساحمد حمادادریس آزادارشد محموداسلم ملکآصف جاویدآصف محموداعجاز الحق اعجازاقبال خورشیدامجد علویانوار الحقثمینہ رشیدثنا غوریجمشید اقبالجمیل اصغر جامیجمیل قریشیجویریہ سعیدجین سارترےحاشر بن ارشادحافظ صفوانحسن نقویحنیف سماناڈاکٹر لبنیٰ مرزاڈاکٹر معین نظامیرابعہ خرمرضوان خالد چودھریرعایت اللہ فاروقیرقیہ اکبرزارا مظہرزیتون بی بیسائرہ فاروقسبوخ سیدسحرش عثمانسعدیہ علیسعدیہ کیانیسعید سادھوسوشل میڈیاسوشل میڈیا کے لکھاریسید کاشف رضاشاہد اشرفشاہد اعوانشاہین مفتیشیخ نویدصفی سرحدیصلاح الدین درویشطارق ہاشمیظہیر بدرظہیر قندیل وغیرہعاصم اللہ بخشعاطف حسینعامر سہیل (ایبٹ آباد)عامر کاکازئیعامر ہزارویعتیق الرحمن خواجہعثمان سہیلعثمان قاضیعدنان کاکڑعزیز ابن الحسنعزیزی اچکزئیعلی اکبر ناطقعلی ساحلعماد بزدارعمیر فاروقفارینہ الماسفرحان احمد خانفرحین شیخفرنود عالمفیاض ندیمقاری حنیف ڈارکاشف نصیرلالہ صحرائیمبشر علی زیدیمجاہد خٹکمحمد اقبال قریشیمحمد عاطف علیممحمد عامر خاکوانیمحمود الحسنمحمود فیاضمریم عرفانمطربہ شیخمنزہ احتشام گوندلناصر مینگلنبیلہ کامرانینیر تاباںہمایوں مجاہد تارڑہمدرد حسینیوسیم عبد اللہوصی بابا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
قاسم یعقوب

previous post
پہلی عرب فیمنسٹ مخالف خاتون: زینب الغزالی ——– منصور ندیم
next post
ڈاکٹر فضل الرحمان: پاسبان روایت و اجتہاد ——– ڈاکٹر غلام شبیر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.