تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیعلمیکالم

رومی اور اقبال کا امام: جما ل الدین افغانی —- ڈاکٹر غلام شبیر

by دانش ڈیسک 27/02/2020
written by دانش ڈیسک 27/02/2020
125

اقبال اور رومی کے متعلق لٹریچر کا ایک پورا دبستان ہے مگر اقبال اور افغانی سے متعلق ہمارے قومی نصاب تعلیم میں جیسا تجاہل عارفانہ حکومتوں کی طرف سے برتا گیا، اس سے کہیں زیادہ بے حسی اور اغماز کا مظاہرہ محققین، کالم نگاروں اور اہل علم و دانش نے کیا ہے۔ حاشیہ بردار اسکالرز کے متن تو کیا حاشیے میں بھی افغانی جگہ نہیں پاسکا۔ پروفیسر شریف المجاہد کے الفاظ میں اہل مغرب نے افغانی پر جو کچھ لکھا بددیانتی سے عبارت ہے، اور ہمارے ہاں مطلوبہ اسکالرشپ کا فقدان ہے۔ مثلاً مولانا ظفر علیخان نے ایک ہی مضمون میں جما ل الدین افغانی، سرسید احمد خان اور حکومت برطانیہ کو اہل ہند کیلئے عظیم نعمت قرار دیا۔

تاہم اقبال نے افغانی کو جدید عہد کا مجدد کہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں جہاں ولیم ورڈزورتھ کی شاعری نے اقبال کو الحاد سے بچایا وہاں افغانی کے افکار نے اسے غرب زدگی سے مامون رکھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ “فکر اسلامی کی تشکیل جدید” اقبال پر افغانی کے فکری اثرات کا برگ و بار ہے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ خطبات میں کانٹ، برگساں وان کریمر، ہیگل، اشپنگلر اور نطشے سمیت زیادہ تر مغربی اہل دانش کے حوالے ملتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو مغرب کے مقابلے میں ایک مکمل تصور حیات اور توانا تہذیب و ثقافت کے طور پر سمجھنے کا اعتماد افغانی ہی کا مرہون منت ہے۔ اگر افغانی نہ ہوتا تو اقبال علیگڑھ کے سیکولر نظام تعلیم کی کان کا نمک بن کر طاق نسیاں ہوتے یا پھر تاریخ اسے عبداللہ یوسف علی اور دیگر مغرب پرست مسلم زعما کی صف میں کھڑا کرتی جو الوداع برطانیہ کے حریت پسندانہ نعروں پر ماتم کناں تھے، جن کیلئے بقول کیٹول اسمتھ اسلام یا تو شوکیس کی چیز تھی یا پھر مغربی ماڈل پر تراشا گیا مجسمہ۔ بقول نکی کیڈی جدید دور میں صرف افغانی ہی کا حلقہ اثر ہےجس نے اسلام کو قوت عمل کا سرچشمہ بنایا۔

اگر افغانی نہ ہوتا تو اقبال علیگڑھ کے سیکولر نظام تعلیم کی کان کا نمک بن کر طاق نسیاں ہوتے یا پھر تاریخ اسے عبداللہ یوسف علی اور دیگر مغرب پرست مسلم زعما کی صف میں کھڑا کرتی جو الوداع برطانیہ کے حریت پسندانہ نعروں پر ماتم کناں تھے

فکر اسلامی کی تشکیل جدید کو اگر اسیر قفس کی آزاد آشیاں کیلئے خس اور تنکے فراہم کرنیکی کاوش سمجھا جائے تو یہاں متن تو کیا حاشیے میں بھی سرسید احمد خان کا حوالہ نہیں ملتا۔ یہ جدید عہد میں اسلامی الٰہیات کی تفہیم نو کی جدوجہد ہے۔ مغرب کے مادی تصور حیات کیخلاف اسلام کے روحانی تصور زیست کا مقدمہ اور تہذیب و ثقافت کی پارچہ بافی ہے۔ کچھ مسلکی پوشش رکھنے والے اقبال پسندوں کا خیال ہے کہ اس میں یہاں وہاں شاہ ولی اللہ کے فکری اثرات نمایاں ہیں۔ ایسا ہونا معیوب نہیں ہے تاہم اس کتاب میں نہ سرسید جیسے صاحب رخصت کا فکری سرنڈر ہے اور نہ شاہ ولی اللہ کے جانشینوں جیسا سراسر ردمغربیت، یہ مقالات صاحب عزیمت جمال الدین افغانی کے فکری خط و خال پر استوار کیے گئےہیں۔ ان میں نہ تو شاہ ولی اللہ کی طرح زمانہ وسطیٰ کے چاروں فقہی مکاتب فکر کی تطبیق کو نسخہ شفا قرار دیا گیا ہے، اور نہ ہی سرسید کی طرز پر فکر اسلامی کو ڈارون ازم اور نیچرل ازم کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ اقبال جب یہ کہتے ہیں کہ عہد جدید مسلمانوں سے اسلام کے سب سے پہلے جدید ذہن حضرت عمر جیسی روح کا مطالبہ کر رہا ہے جس کی حریت فکر نے پیغمبرؑ کی موجودگی میں اسے یہ کہنے پر مجبور کیا کہ حسبنا کتاب اللہ ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اسلاف کی عظمت بچشم وسر تاہم مسائل کےحل کیلئے الگ راہ اختیار کرنا پڑے تو ایسا کرنا ہوگا کیونکہ جو مسائل درپیش ہیں ان کا سامنا ہمیں کرنا پڑ رہا ہے۔ اس جملے کی انسپائریشن کا یہ عالم ہے کہ اسی کو نشان منزل بنا کر ڈاکٹر طارق رمضان نے ریڈیکل ریفارمز ان اسلام لکھی جسےخطبات اقبال سے اگلی منزل کا پڑائو سمجھا جائے تو مبالغہ نہیں ہے۔ بغور جائزہ لیا جائے تو اس رِیت کے موجد و معمار اول افغانی ہیں۔ افغانی نے کہا قرآن کے دامن میں نئے جہان کی تکوین و تقویم ہے۔ اقبال نے اس بیانئے کی شاخ تاک پرخطبات سے بال و بر پیدا کیے، ڈاکٹر فضل الرحمان نے اقبال سے شہ پاتے ہوئے “Major Themes of Quran” کے ذریعے اپنا جام مئے قرآنی سے لبریز کیا۔ ڈاکٹر طارق رمضان نے Radical Reforms in Islam میں افغانی، اقبال اور فضل الرحمان کے بادہ و ساغر سے کاک ٹیل بنائی۔ افغانی سے کسب فیض کاسلسلہ ہنوز جاری ہے جانے کہاں تھمے، اور کیوں تھمے؟

آنی وفانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کارجہاں بے ثبات، کارجہاں بے ثبات
ہے مگراس نقش میں رنگ ثبات دوام
جس کو کیا ہو کسی مردخدانے تمام

خطبات میں عالم اسلام میں جدیدعہد کے ادراک اور موثر جوابی فکروعمل کے باب میں اقبال لکھتے ہیں:

یہ غالباًشاہ ولی اللہ دہلوی تھے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے اندر نئی روح کی بیداری محسوس کی لیکن اس عظیم الشان فریضے کی حقیقی وسعت اور اہمیت کا پورا پورا اندازہ تھا تو سیدجمال الدین افغانی کو، جو اسلام کی حیات ملی اور حیات ذہنی کی تاریخ میں بڑی گہری بصیرت کے ساتھ طرح طرح کے انسانوں اوران کی عادات و خصائل کا خوب تجربہ رکھتے تھے۔ اتنے وسیع تناظرکا حامل یہ شخص ہمارے ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ و توانا نامیاتی آرگینک لنک ثابت ہوسکتا تھا۔ اس کی ان تھک کوششیں اگر اس امر پر مرکوز رہتیں کہ اسلام نے نوع انسانی کو جس طرح کے عمل اور ایمان کی تلقین کی ہے، اس کی نوعیت کیا ہے، تو آج ہم مسلمان اپنے پائوں پرکہیں زیادہ مضبوطی سے کھڑے ہوتے۔

دوسری جگہ لکھتے ہیں

Image result for jamaluddin afghaniزمانہ حال میں میرے نزدیک اگر کوئی شخص مجدد کہلانے کا مستحق ہے تو وہ صرف جمال الدین افغانی ہے۔ مصر و ایران و ترکی و ہند کے مسلمانوں کی تاریخ جب کوئی لکھے گا تو اسے سب سے پہلے عبدالوہاب نجدی اور بعد میں جمال الدین افغانی کا ذکر کرنا ہوگا۔ موخرالذکر ہی اصل میں موسس ہے زمانہ حال کے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا، اگر قوم نے ان کو عام طور پر مجدد نہیں کہا یا انہوں نے خود اس کا دعویٰ نہیں کیا تو اس سے ان کے کام کی اہمیت میں کوئی فرق اہل بصیرت کے نزدیک نہیں آتا۔

افغانی کا اقبال کی نظر میں کیا مقام ہے اس کا نقشہ جاوید نامہ میں ملتا ہے۔ رومی اور اقبال کی یہ عالم بالا کی سیر ارواح جلیلہ سے ملاقات کا احوال ہے۔ سہل پسند دانش جاوید نامہ کو دانتے کی ڈیوائن کامیڈی کا اسلامی چربہ قرار دیتی ہے۔ یہ بھول جاتی ہے کہ معراج مصطفےٰ تاریخ مذہب و ادب کا پہلا واقعہ ہےجس نے شاعرانہ تخیل کو بھی عالم بالا کی سیر اور احوال کی نقشبندی کیلئے عمل انگیز کا کام کیا۔ دانتے کا سورس آف انسپائریشن ابن سینا کا فارسی معراج نامہ، سنائی کی مثنوی سیرالعبادالی المعاد، رازی کا رسالۃ النفس، ابن عربی کی فتوحات مکیہ اور دیگر اسلامی مآخذ ہیں۔ محکوم قومیں جو اپنی اجناس سستے داموں ترقی یافتہ ممالک کو بیچ کر واپس مہنگے داموں خریدنے کو عز و ناز سمجھتی ہوں، فکری سطح پر ان کا ایسا رویہ خلاف توقع ہرگز نہیں ہے۔

افغانی نے کہا قرآن کے دامن میں نئے جہان کی تکوین و تقویم ہے۔ اقبال نے اس بیانئے کی شاخ تاک پرخطبات سے بال و بر پیدا کیے

جاوید نامہ میں اقبال چاندکے فلک سے آگے ایک مقام پر حکیم طالسطائی کو پارے کی سفید ندی میں تابہ کمر غرق مگر پیاسا دیکھتے ہوئے ایک حسینہ سے محو کلام پاتے ہیں۔ یہاں پارے کی ندی سے مراد غالباً مغرب کی مادہ پرستانہ اقدار ہیں، جنہیں نوش کرنے سے جان جانے کا خدشہ ہے اور حسینہ سے مراد مغرب کا پرتعیش اور چکاچوند والا محروم اخلاق و روحانیت طرز زندگی ہے۔ طالسطائی حسینہ یعنی تہذیب مغرب سے پوچھتا ہے کہ کیا مسیح ؑ کا یہی پیغام تھا جو تیرے لچھنوں سے ہویدا ہے۔ جواب ملتا ہے جو تیرے قبیلے نے مسیح کے جسد کیساتھ سلوک کیا، میں نے وہی سلوک اس کی روح سے روا رکھا ہے۔ تیرا ظلم عظیم ہے یا میرا؟ پھر اچانک پارے کی ندی جم کربرف بن جاتی ہے جس میں دھنسی اس حسینہ کی ہڈیاں تڑک کرکے ٹوٹ جاتی ہیں۔ شاید مطلب یہ ہے کہ تہذیب مغرب کے بطن سے کسی نئے انقلاب یا نئے جہان کا ظہور ممکن نہیں ہے۔

اقبال لکھتے ہیں قدرت کے طریقے بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ مذہبی فکروعمل کے لحاظ سے ہمارے زمانے کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان افغانستان میں پیدا ہوتا ہے۔

اقبال رومی کے ہمراہ محو پرواز ہیں اور فلک عطارد پر پہنچتے ہی اس فلک کے پہاڑوں دریائوں اورندی نالوں سمیت دیگر مناظر کو زمین جیسا پا کر خوشی سےپھولے نہیں سماتے، رومی سے پوچھتے ہیں جب یہاں زندگی کا کوئی نشاں نہیں ہے تو یہ اذان کی آواز کہاں سے آرہی ہے؟ رومی کہتے ہیں یہ اولیا کا مقام ہے، اس فلک کی زمین ہماری زمین سے آشنا ہے۔ ابوالبشر حضرت آدم کو جب جنت سے نکالا گیا تو اس نے یہاں ایک دو روز قیام کیا تھا۔ اس فلک کی فضا نے آدم کی آہوں، سسکیوں اور سحرگاہی کے سوز کو دیکھا اور سنا ہے۔ اس مقام کے زائر بلند مرتبہ عارف ہیں۔ یہ جنید و بایزید جیسے عارفین کا مقام ہے۔ اٹھ جلدی کر تاکہ ہمیں ان بزرگوں کیساتھ نماز مل جائے اور ایک دو دم کیلئے سوزوگداز کی دولت میسر ہو۔ جب جماعت کھڑی ہوئی تو اقبال نے افغانی کو امام اور سعیدحلیم پاشا کو مقتدی پایا۔ رومی نے کہا مشرق نے ان دو اشخاص سے بہتر کسی شخص کو جنم نہیں دیا، ان کی گفتارسے مٹی اور پتھروں میں جان آجاتی ہے۔ اطاعت و فرمانبرداری کا مغز ایسے لوگوں کیساتھ دو رکعت نماز کا مل جانا ہے۔ ورنہ نماز کا اجر فردوس بریں کے علاوہ کیا ہے؟

قرأت آں پیر مردے سخت کوش
سورۂ و النجم و آں دشتِ خموش!
دل از و در سینہ گردد ناصبور
شور الا اللہ خیزد از قبور!
اضطراب شعلہ بخژ ددود را
سوزومستی می دہد دائود را
آشکارا ہرغیاب ازقراتش
بے حجاب ام الکتاب از قراتش

اس سخت کوش پیرمرد (افغانی) کی قرات، وہ فلک عطارد کا دشت خموش اور سورۃ والنجم کی تلاوت، ایسا ساماں بندھ گیا ہے کہ اسے سن کرخلیل اللہ وجد میں آجائے اورجبرائیل سنے تو اس پرسکتہ و وجد طاری ہوجائے۔ ایسی سوزوگداز بھری قرات سے دل سینے میں بے قرار ہوا جاتا ہے۔ اس قرات سے اہل قبور الاللہ کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ یہ قرات دھوئیں کو شعلے کا اضطراب بخشتی ہے، دائودؑ کو سوزومستی عطا کرتی ہے۔ یہ قرات غیاب کو حضور اور ام الکتاب کو بے حجاب کرتی ہے۔

Image result for jamaluddin afghani

نماز کے بعد رومی اقبال کا افغانی سے تعارف کراتے ہیں اور اس کے بعد اقبال، افغانی اور سعید حلیم پاشا کے درمیان ایک جامع مکالمہ ہے۔ گفتگو کیا ہے مغز قرآن ہے، قرآن کے سینے سے دل نکال کر قارئین کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں قدرت کے طریقے بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ مذہبی فکروعمل کے لحاظ سے ہمارے زمانے کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان افغانستان میں پیدا ہوتا ہے۔ افغانی دنیائے اسلام کی تمام زبانوں سے واقف تھے۔ ان کی فصاحت و بلاغت میں سحر آفرینی تھی۔ ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی اور اس نے ایران، مصر اور ترکی کے ممتاز ترین افراد کو متاثر کیا۔ ہمارے زمانے کے ممتاز ترین علما جیسے مفتی عبدہٰ اور نئی پود کے بعض افراد جو آگے چل کرسیاسی قائد بنے جیسے مصر کے زاغلول پاشا وغیرہ انہیں کے شاگردوں میں سے تھے۔ انہوں لکھا کم اور کہا بہت، اور اس طریقے سے ان تمام لوگوں کو جنہیں ان کا قرب نصیب ہوا چھوٹے چھوٹے جمال الدین بنا دیا۔ انہوں نے کبھی مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا پھر بھی ہمارے زمانے کے کسی شخص نے روح اسلام میں اس قدر تڑپ پیدا نہیں کی جس قدر انہوں نے کی تھی۔ ان کی روح اب بھی عالم اسلام میں سرگرم ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کی انتہا کہاں ہوگی!

اقبال کا تصور پاکستان بھی افغانی سے مستعار ہے۔ افغانی نے کہا تھا وسطی ایشیا کی مسلم اکثریتی ریاستوں، افغانستان اور بھارت کے شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک مسلم جمہوریہ کا قیام ناگزیر ہے۔

اقبال کا تصور پاکستان بھی افغانی سے مستعار ہے۔ افغانی نے کہا تھا وسطی ایشیا کی مسلم اکثریتی ریاستوں، افغانستان اور بھارت کے شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک مسلم جمہوریہ کا قیام ناگزیر ہے۔ اقبال نے مسلم برصغیر میں الگ اسلامی مملکت کا قیام بھارتی مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ بنادیا۔

جغرافیے کبھی منجمد نہیں رہتے۔ ان کا ادل بدل سنت الٰہیہ ہے۔ آج وسطی ایشیا کی مسلم ریاستیں روس سے آزاد ہوچکی ہیں۔ افغانستان روس کے بعد امریکا کا قبرستان ثابت ہو رہا ہے۔ عجب نہیں کہ تاریخ کے کسی موڑ پر مسلمانوں میں کوئی دور اندیش قیادت ابھرے، اور نہیں تو کم ازکم یورپی یونین طرز کا مسلم بلاک بنے اور افغانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں: سید جمال الدین افغانی : اک بھولا ہوا تاریخی کردار —- پروفیسر غلام شبیر


Facebook Comments Box
iqbalJamal ud Din AfghaniJamaluddin AfghaniPan IslamismRumiاقبالپان اسلام ازمجما ل الدین افغانیرومیمجتہد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
2019ء کے اقبالیاتی ادب کا سرسری جائزہ —— پروفیسر مہر سخاوت حسین
next post
تعلیم اور انسان کے تعصبات —– ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.