تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
مزید

موت کے آئینے میں رخ دوست ————– جویریہ سعید

by ویب ڈیسک 15/03/2017
written by ویب ڈیسک 15/03/2017
96

موت اک عجیب و غریب موضوع ہے. عموما یہ دہشت اور اداسی کا بیان ہے.
مگر میں نے اس بارے میں ذرا مختلف طریقے سے بھی سوچا ہے.
میں مانتی ہوں کہ دنیا، اس کی رونقیں، اپنی مانوس اشیا اور اپنے پیاروں کو چھوڑ کر جانا ایک بہت تکلیف دہ احساس ہو گا. مگر سفر اور جدائی میرے لئے کوئی انہونا تجربہ نہیں ہے.
کئی برسوں پہلے میں اپنے پیارے گھر سے اور اپنے بے حد چاہنے والوں سے رخصت ہو کر ایک بالکل اجنبی ماحول میں منتقل ہو گئی تھی. میرا کمرہ، میرا بستر، میری بہنیں جن سے ہر رات لڑے بغیر سونا ناممکن تھا. میرے کمرے کی وہ کھڑکی جہاں میں نصف شب کو کھڑے ہو کر سوے ہوے شہر اور چکمتے ہوے تاروں کو تکا کرتی تھی اور چاند سے باتیں کرتی تھی. ڈرائنگ روم کا وہ صوفہ جو میری مستقل رہائش تھا. وہیں پر پڑھنا، وہیں اوندھے لیٹ کر الٹے سیدھے بلکہ اپنی مرضی کے خواب دیکھنا اورکہانیاں لکھنا. ساحل کے ساتھ ساتھ چلتی وہ سڑک جس پر ابو فجر کے بعد ڈرائیونگ سکھانے لے جاتے تھے. وہ سب کچھ چھوڑنا پڑا.
میرا پیارا ایس ایم سی، جس کے کامن روم کو میں نخلستان کہا کرتی تھی، وہی جس میں ہماری ایک ساتھی صرف اس لئے انے سے ڈرتی تھی کہ اس کی چھت اپنی قدامت اور فرسودگی کے سبب کبھی بھی گر سکتی ہے.جس کے کاریدورز میں میں نے اپنی زندگی کے سب سے حسین دن گذارے.
کچھ وہ چہرے کہ رشتۂ جاں تھا کبھی جن کا خیال. ان کی جدائی کے تصور سے سانسیں رکتی تھیں. اب تو یہ بات بھی حماقت لگتی ہے کہ سجدوں میں کس بے قراری سے ان کا ہمیشگی کا ساتھ مانگا کرتے تھے.
پھر اپنا وطن بھی چھوٹا. وہ گلیاں، وہ لوگ، وہ سمندر، وہ میرا صدر بازاراور اس کی الف لیلوی دنیا. ڈاؤ میڈیکل کالج یا ریگل جاتے ہوے، گھوڑا گاڑیاں باعث تاخیر بن جاتی ہیں. مگر کتنی اچھی لگتی ہیں. سو سال قدیم عمارت میں گھٹنوں سے نیچی فراک پہنی اس لڑکی کو دلچسپی سے دیکھنا، اتوار کی صبح سڑکوں پر بکھری کتابوں میں "جینویین” ابن صفی کی عمران سیریز ڈھونڈنا. وہ نارتھ ناظم آباد اور حیدری بازار جسے اپنی پشت پر کھڑی پہاڑی اور پودوں کی نرسریوں کی وجہ سے بالاخر اپنا تسلیم کر لیا. وہ اذانوں کی آوازیں، میٹھے پھل، سرخ چہرے والا جذباتی ڈرائور، ڈھیروں پودے اور پیارے پیارے رکشے جو ہر خاتوں کا سہارا تھے، سب چھوڑنے پڑے. ( اگر کینیڈا میں رکشے ہوتے تو شاید بہت سی خواتین ڈرایونگ نہ سیکھتیں).
شاید اسی لئے جدائی کا خیال اب میری سانسیں نہیں روکتا.
موت مجھے کسی قدر انجانی اور کسی قدر مانوس دنیا کے انوکھے سفر کا دروازہ لگتی ہے. مجھے علم ہے کہ آپ بھی مجھے میرے صاحب کی طرح حساب کتاب، اور سزاؤں کے بارے میں یاد دلا کر ڈرانے اور اس سوچ کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کریں گے مگر..
مگر میرے لئے موت اس ہستی سے ملنے کا "فائنلی” ابتدائیہ ہو گی.. جس سے میں نے محبت کی ہے، لڑائیاں کی ہیں، شکوے کیے ہیں.. اور کئی مرتبہ مزے سے کہا ہے "مجھے پتہ ہے کہ آپ مجھے گناہ نہیں دیں گے، کیونکہ یو نو واٹ آئی مین!” اور "سنیے ! یہ کوئی بات نہیں ہوئی کہ ان کی تو اس بات کو آپ نے سپورٹ کر دیا، اور میری بات کو نہیں کیا.” "لیکن مجھے یقین ہے کہ دنیا کچھ بھی سمجھے، آپ مجھے سمجھتے ہیں، اور میرا فیصلہ تو آپ ہی کریں گے”.. وغیرہ وغیرہ
میں نے تصور بھی کیا ہے اور خوابوں میں بھی کبھی کبھی دیکھا ہے کہ میں ان سے کہاں ملوں گی؟
ایک ایسا بڑا سا میدان جس کی تاریکی میں نارنجی اور سرخ سا رنگ ملا ہو گا. یا پھر سیاہ لامتناہی فضاؤں میں معلق فانوسوں پر جلتی شمعوں کے پرے آپ کہیں ہوں گے. یا پھر سنگ مر مر کے سفید ایوانوں میں کہیں جہاں میں سفید لبادہ اوڑھے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں گی، انہی کے اردگرد باغوں میں آپ کی موجودگی کا احساس ہو گا. اور میں یکطرفہ گفتگو کی اذیت سے نجات حاصل کرکے "ون ٹو ون” مکالمے کی عیاشی کے مزے اڑا سکوں گی.
اپ سے گفتگو کے لئے مجھے ایسا لگا ہے کہ اردگرد اشیاء اور مناظر کی بھرمار نہیں ہونی چاہیے. کوئی ایسی جگہ جہاں میں صرف آپ کی موجودگی محسوس کر سکوں.
وہ ایک انوکھی دنیا، جیسے انسانوں کے "امیجینیریم” ہوتے ہیں، تولکیں کے روینڈل جیسی یا پھر DR. parnasas کے imaginarium کے کچھ خدو خال وہاں سے ملتے ہوں گے، ایسی اندیکھی رهداریاں جہاں فرشتوں کے نفیس پروں کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہو گی..
وہ دفاترجہاں ان کے قلم چلنے کی آوازیں سنائی دیتی ہوں گی.
وہ بلند و بالا عالم جہاں سے ہماری یہ دنیا کس قدر حقیر، کس قدر ننھی منی اور کس قدر مختصر نظر آتی ہو گی. وہاں سے بیٹھ کر اس دنیا کا نظارہ کیسا لگتا ہو گا؟ وہاں بیٹھ کر شاید ہمارے زمانوں کو کسی لاکھوں سال پرانی کتاب کے وزنی اوراق کی طرح چند لمحوں میں پڑھ کر پلٹ دیا جاتا ہو گا.
حقیر انسانوں کو خدائی کے دعوے اور خالق حقیقی کے انکار پر وہاں کے رہنے والے کھلکھلا کر ہنستے ہوں گے یا پھر بے نیازی سے نظر انداز کر کے کچھ دوسرے زیادہ اہم کاموں لیے آگے بڑھ جاتے ہوں گے.
وہ عالم برزخ جہاں انسان اپنے مادی وجود کے لباس کو اتار کر عدم میں اپنا روحانی وجود محسوس کرتا ہو گا تو اپنی گزشتہ زندگی کے بارے میں کیا سوچتا ہو گا.
پھر وہیں کہیں وہ بھی ہوں گے… وہ کہ جن سے ملنے کے تصور سے ہی سانسیں روکتی ہیں. وہ بلائیں گے، میں دائیں بائیں ہو جاؤں گی. کسی کی اوٹ میں چھپ جاؤں گی.وہ کچھ پوچھیں گے، میری آنکھوں کی بارش جواب دے گی.. میں بس دور دور سے ان کو دیکھا کروں گی. وہ باغ میں ہیں، وہ بالا خانے میں نقرئی کاسے میں خوشبو دار شراب طہورسے لطف اندوز ہو رہا ہیں، وہ کسی سے گفتگو کرتے ہوے مسکرا رہے ہیں، وہ تکیوں سے سجے اونچے تخت پر محو استراحت ہیں، اور میں چھپ چھپ کر ان کو دیکھتی ہوں. میرے دل کو شک تو ہے کہ ان کو خبر ہو جاۓ گی، اور وہ بھی نظر بچا کر مجھے اسی طرح دیکھ کر مسکرایا کریں گے جیسے معافی کے منتظر کچھ بے قراروں کے معاملے میں کیا کرتے تھے.
میں نے ان کے جانثاروں سے ملنا ہے.
میں نے ان زبردست صلاحیتوں والے انسانوں کا آپ سے مکالمہ سننا ہے. وہ جو اپنی تخلیقی اور ذہنی بے قراریوں میں حقیقت کو کھوجتے یہاں وہاں پھرتے رہے. وہ سائنس دان، ادیب، فلسفی، شاعر اور فنکار..
مجھے یہ بھی دیکھنا ہے کہ آپ غم کے ماروں سے کیسے ملیں گے. وہ جو اپنی تقدیر اور تخلیق کی سختیوں میں جکڑے اس دنیا میں اذیت ناک لمحے بسر کرتے تھے. اپ کی طرف سے ان سے گفتگو کرتے کرتے میں تھک گئی ہوں. اب آپ خود ان سے بات کریں گے.

مجھے نہ ڈرائیے کہ وہاں کیسی بھیانک سزائیں ہوں گی. آپ مجھ سے میرے خالق سے ملاقات کا لذیز ترین شوق اور اس مانوس سی ان دیکھی دنیا کی سیر کی بے قرار خواہش نہیں چھین سکتے.
مجھے علم ہے کہ ٹولکیں کی مڈل ارتھ، اوراسلنگ کا نارنیہ، اور پیٹر پین کا نیور لینڈ اور ایلس کا وندر لینڈ، اور ڈاکٹر پرناسس کا امیجناریم شاید حقیقت میں کہیں موجود نہ ہوں، مگر وہ عالم تو یقیننا اپنا وجود رکھتا ہے، جس کی سچائی کے آگے ہماری یہ دنیا اور اس کی زندگی ایک دھوکہ ہے.
موت میرے لیے ایک ایسا ہی پراسرار اور دلچسپ خواب ہے، جس کی تعبیر سے میں خوفزدہ نہیں ہوں. 🙂

Facebook Comments Box
موتموت کا خوف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
گلوبل ازم کی حکومت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثاقب ملک
next post
A Complicated and Ignored Pandemic

Related Posts

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین...

16/07/2025

برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس...

08/09/2024

قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے...

15/04/2023

تعلیمات خواجہ معین الدّین چشتی اجمیری رح: ملفوظات...

04/02/2022

ناقدینِ تصوف اور اہل تصوف سے شکوہ —–...

21/11/2021

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.