تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

بُحرانوں میں گھری حکومت ——– ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

by Editor Daanish 06/12/2019
written by Editor Daanish 06/12/2019
92

عمران خان کو اگر بحران خان کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ عمران خان کی حکومت کو پورے ایک سال چار ماہ ہو گئے حکومت سبنھالے ہوئے ۔ 16 ماہ میں ایک بحران ختم ہوا تو دوسرا بحرں شروع ہو جاتا ہے۔ ویسے تو ماضی کی تمام جمہوری حکوتیں بحرانوں کا شکار رہی ہیں، یہاں تک کہ انہی بحرانوں نے ان کے اقتدار کا سورج بھی غروب کر دیا۔ لیکن کپتان کے 16 ماہ میں اتنے بحرن آئے، اگر کسی بھی طرح کپتان کی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کر بھی لی تو بحرانوں، دھرنوں، جلسوں، جلوسوں، احتجاجوں، آزادی مارچ نہ جانے کس کس قسم کے بحرانوں سے بھرپور دور کہلائے گا۔ معاشی بحران کے سمندر میں غوطہ لگا کر عمران خان کی حکومت نے اپنی حکمرانی کا آغاز کیا تھا۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ معاشی بد حالی موجودہ حکومت کو ورثہ میں ملی تھی۔ بد قسمتی کہا جائے یا عمران خان کی کمزوری کہ جتنے ابتر معاشی حالات اسے ملے اس سے کہیں زیادہ نہ اہل معاشی ٹیم اُسے ملی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشی طور پر حالات ابتر سے ابتر ہوتے چلے گئے۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد بڑھنے لگیں، ڈالر آسمان سے باتیں کر گیا، روپے کی قدر کم ہو گئی، وزیر خزانہ اسد عمر کو وزارت چلانے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کا تجربہ نہیں تھا، اعلیٰ تعلی یافتہ، سیاست داں ہونا اپنی جگہ لیکن حکومتی معاملات اور وہ بھی معیشت کے حالات کو قابو میں رکھنا بالکل الگ چیز یںہیں چنانچہ وزیر خزانہ جو کہ عمران خان کے بہت بہ اعتماد ساتھی تھے، وزارت سے سبکدوش کرنا پڑا مجبوراً باہر سے تجربہ کار ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی تلوار الگ لٹک رہی تھی، ملک کا خزانہ خالی تھا، کشکول توڑنے کے دعوے کرنے والوں کو گرتی ہوئی معیشت کے پیش نظر کشکول ہاتھ میں لیناپڑجاتا ہے، عمران حکومت نے وہی کیا آئی ایم ایف کو قائل کیا جس میں وہ کامیاب ہوئے، فوری حل کے لیے آس پڑوس ممالک سے امداد کا حصول ممکن بنانا پڑا۔ عمران خان کی شخصیت میں کشش ہے، اسے دنیا میں اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب، چین، قطر اور دیگر ممالک نے ساتھ دیا ، معیشت میں بہتری کے آثار دکھائی دینے لگے۔ ماہر سے درآمد کیے گئے ماہرین نے یہ ضرور کیا کہ ملک کی معیشت کو سہارا دے کر ، بہتر ی جانب روں دواں کردیا۔ عمراں خان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔

ایسی صورت حال عمران کے ساتھ ہی پیش نہیں آئی سابقہ حکوتیں بھی عالمی مالی اداروں کے سامنے امداد کی جھولی پھیلاتی رہی ہیں، غلام اسحاق خان ، سرتاج عزیز، شوکت عزیز، سلیم مانڈوی والا، نوید قمر، عبدالحفیظ شیخ ، شوکت ترین ،اسحاق ڈار، مفتاح اسماعیل، ماہر حصول امداد رہے ہیں۔ انہی کی ماہرانہ پالیسیاں ہی تو ہیں جن کے باعث پاکستان معاشی طور پر اس بد حالی پر پہنچ گیا ہے۔بات آئینی بُحران کی کرنا چاہتا تھا بات معیشت کی جانب نکل پڑی۔ یہ بُحران عسکری چیف کے حوالے سے عدلیہ کے چیف کے اقدام سے پیدا ہوا جس نے شدت اختیار کر لی، نظاہر نظر یہ آرہا تھا کہ ملک میں شدید بحرانی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ اس کیفیت کو پیدا کرنے میں بھی حکومت کی نااہلی کا ہی دخل رہا۔ عمران سے محبت اور عقیدت رکھنے والے ، تحریک انصاف کی حکومت کے حامی بھی حیران و پریشان اور ان حکومتی کارندوں کی نہ اہلی پر اش اش کر اٹھے کہ بظاہر ماہر سیاست، ماہر تعلیم و تجربہ اعلیٰ منصب پر فائز ، بیوروکریسی ایسی شدید غلطیاں کررہی ہے جس کی نشاندھی چیف جسٹس نے کی۔ معاملہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کی ریٹائرمنٹ کے بعد تین سال کے لیے جاری رکھنا تھا۔ یہ کوئی خاص بات نہ تھی سابقہ ادوار میں ایسی مثالیں ملتی ہیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی ، بہ وجود اس کے کہ آئین اس حوالے سے خاموش ہے، آج بھی خاموش اور جب پاکستان کے آئین 1973ء نے جنم لیا تھا تب بھی وہ اس حوالے سے خاموش تھا ، لیکن یارانِ اختیار نے جب بھی ایسا کیا کسی بندہ خدا کی جرت نہیں ہوئی کہ وہ عدالت جانا تو دور کی بات معمولی سے آواز بھی بلند کرتا۔ بعض بعض فوجی حکمرانوں نے از خود اپنے آپ کو مدت اقتدار میں توسیع دی، خلق خدا خاموش رہی، یہ سیاست ،عدالت، کے میدان کے کھلاڑی اس وقت بھی موجود تھے، لیکن ان کے سامنے ان کی گھگی بندھی رہی، جی حضوری سے فرصت نہیں ملتی تھی۔ اب جب موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مرحلہ آیا، کپتان نے سوچے سمجھے بغیر باؤنس مادیا چارماہ قبل ہی فرمان جاری کردیااور متعین طریقہ کار پر عمل نہ کیا۔ جب توسیع کا وقت قریب آیا تو معاملہ عدالت چلا گیا، باوجود اس کے کہ درخواست دائر کرنے والا بھاگ کھڑا ہوا، لیکن چیف صاحب نے بھگوڑے کی درخواست کنندہ کی درخواست پر حکومت کو بلوا بھیجا ، حالات خطرناک حد تک پہنچتے دکھائی دے رہے تھے، حکومت غلطی پر غلطی کرتی چلی جارہی تھی، جیسے جیسے فیصلے کی گھڑی قریب آرہی تھی ، عجیب و غریب خدشات اور جمہوریت کی گاڑی پٹری سے اترتی بھی دکھائی دی ۔ لیکن چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی راہ کا تعین کیا جس سے سب کی عزت بچ گئی اور خود فیصلہ کرنے کے بجائے منتخب نمائندہ کو از خود فیصلہ کرنے کی راہ دکھائی، ساتھ ہی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو اس مسئلہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی ہدیت کی۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، اب اگر حکومت اور حزب مخالف چاہیں تو مسئلہ کے لیے قانون سازی کریںتاکہ آئندہ اگر یہ صورت حال پیدا ہو تو آئین راہ دکھائے۔ مستقبل میں جو غیر قانونی فیصلے ہوئے ، ان پر ماتم کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں۔حکومت مخالفین کے ساتھ لچک پیدا کرے، مخالفین بھی اس مسئلہ کو اہمیت دیں ،دونوں فریق اسے قومی مفاد سمجھتے ہوئے قانون سازی میں بھر پور حصہ لیں۔

اب ایک اور آئینی بُحران اٹھ رہا ہے وہ ہے چیف الیکشن کمیشن اور اس کے دو نمائندوں کا انتخاب ہے۔ اس انتخاب میں بھی حکومت کو حزب اختلاف سے مشاورت درکار ہوگی، یہ آئینی ضرورت ہے۔حکومت تنہا فیصلہ نہیں کرسکتی، یعنی اپوزیشن لیڈر چیف الیکشن کمیشن کے لیے تین نام اور وزیر اعظم تین نام سامنے لائیں گے ، ان میں سے اگر کسی ایک پر دونوں رضامند ہوجاتے ہیں تو مسئلہ حل ہوجائے گا ورنہ بات آئینی طور پر عدالت تک جاپہنچے گی۔ اب تک جو تین تین نام دونوں کی جانب سے سامنے آئے ہیں ان میں سے ایک نام ایسا ہے جس کے بارے تحریک انصاف کے رہنما ء بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ’’شہباز شریف اور اپوزیشن نے جسٹس نورالحق این قریشی کا نام بھجا ، جسٹس نورالحق قریشی کے نام پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے موجود ہے ‘‘۔ (روزنامہ جنگ۔6 دسمبر2019)،ایک خبر یہ بھی ہے کہ حکومت نے جو نام تجویز کیے ہیں وہ تینوں ریٹائرڈ بیورو کریٹس ہیں۔اگر بابر اعوان کی خبر درست ہے اور ایسا ہوجاتا ہے تو یہ ملک کی سیاسی صورت حال میں خوشگوار اضافہ ہوگا ورنہ یہ معاملہ بھی آئینی بحران اختیار کر جائے گا۔ اسے آئینی بحران کہا جائے یا آئینی خلا پیدا ہونا کہا جائے۔ لیکن خان صاحب عام طور پر بحرانی کیفت کے سمندر میں کودنے کے عادی ہیں۔ بہتریہی ہے کہ حکومت اس طرح کے بحرانوں میں خود کو شامل کرنے کے بجائے انہیں افہام وتفہیم سے حل کرکے ملک کو ترقی کی جانب لے جائے۔ ملک کا سب بڑا بحران مہنگائی ہے ، حکومت کو اس بحران کو ترجیحی بنیادوں پرحل کرنے کی جانب توجہ دینی چا ہیے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو حکومت کے خلاف مہنگائی کا اٹم بم استعمال کیا جائے گا اور حکومت اس ایٹم بم سے بچ نہیں سکے گی۔

Facebook Comments Box
آئی ایم ایفپاکستانچیف الیکشن کمیشنچینڈاکٹر رئیس احمد صمدانیسعودی عربعمران خانقطر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
بھٹو صاحب نے کہا : نورا ! انہیں بتاو پہاڑ روتے نہیں ہیں — اظہر عزمی
next post
۳۸ ارب کی ’خاموش‘ واپسی —- سید مظفر الحق

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.