تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینمنتخب کالم

بیماری، علاج اور ڈاکٹر: خوف کی مارکیٹنگ ——– سعدیہ قریشی

by دانش ڈیسک 29/11/2019
written by دانش ڈیسک 29/11/2019
130

یہ مارکیٹنگ اور کمرشلائزیشن کا دور ہے۔ زندگی سے جڑی ہر شے اشتہاری اور اشتہاراتی ہو چکی ہے۔ مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزمنٹ (Advertisement) کا یہ سونامی آج کے دور کے انسان کی زندگی سے سکون اور خوشی بہا کر دور لے چکاہے اور ہم مارکیٹنگ گزیدہ لوگوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی کہ ہم کارپوریٹ دنیا کے لالچ اور دولت کی ہوس کا کس بری طرح شکار ہوئے ہماری زندگیاں کارپوریٹ مافیا نے کس انداز میں یرغمال بنا لیں۔

مارکیٹنگ اور اشتہارات کا کاروبار اس وقت گھنائونی صورت اختیار کر لیتا ہے جب دوا ساز کمپنیاں خوف کی مارکیٹنگ کرتی ہیں۔ جی ہاں دنیا کی بڑی بڑی دوا ساز کمپنیاں میڈیا کے ذرائع اور ڈاکٹروں کے گٹھ جوڑ سے صحت مند لوگوں کو بیماریوں کے خوف میں مبتلا کرنے کی مارکیٹنگ کرتی ہیں۔ اس طرح دنیا کا ہر صحت مندانسان خود کو کسی نہ کسی بیماری کے دہانے پر محسوس کرتا ہے۔ بیماریوں کا یہ مسلسل خوف ایک مستقل ذہنی اذیت ہے اور ذہنی دبائو اگر مسلسل رہے تو اچھا بھلا صحت مند انسان کسی نہ کسی بیماری کی پکڑ میں ضرور آ جاتا ہے مسلسل ذہنی دبائو انسانی قوت مدافعت کو متاثر کر کے بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔

آسٹریلیا میں کچھ سال پہلے ایک مشہور دوا ساز کمپنی کی کانفڈشیل رپورٹ افشا ہوئی اس رپورٹ میں اس فارماسوٹیکل کمپنی اور ایک میڈیکل کالج کے نصاب ترتیب دینے والے ڈائریکٹرز کے درمیان راز دارانہ کمیونیکیشن تھی۔ جس میں فارما سوٹیکل کمپنی نے تجاویز دی ہوئی ہیں کہ انسانی جسم میں طبیعت کا ایک معمولی سا اتارچڑھائو جو اگرچہ غذا کے ردوبدل سے آسانی سے ٹھیک ہو سکتا ہے اسے ایک خوفناک اور بڑی بیماری کے طور پر میڈیکل کے طلباء کو پڑھایا جائے اس کا نام بھی تجویز کیا کہ اسے Irritable Bow Syndrome IBS کہا جائے یہ کانفیڈنشل بات چیت نوے کی دہائی میں ہوئی اس سے پہلے IBS بیماری کا کوئی وجود نہ تھا۔

دواساز کمپنیاں ‘ٹی وی اخبارات‘ ریڈیو کے ذرائع استعمال کر کے صحت مند لوگوں کو اس خوف میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ ان میں فلاں وٹامن کی شدید کمی ہو چکی ہے اور فلاں وٹامن اگر انہوں نے گولیوں کی شکل میں روزانہ استعمال نہ کیا تو انہیں جلد ہی کوئی مہلک بیماری لاحق ہو جائے گی۔ خوف کی مارکیٹنگ کرنے پر دوا ساز کمپنیاں‘ کروڑوں اربوں لگاتی ہیں اس کے لئے سیمینار کئے جاتے ہیں ورکشاپس کی جاتی ہیں۔ لوگوں کے مفت ٹیسٹ کرنے کے لئے کیمپس لگائے جاتے ہیں۔ بیماریوں میں مبتلا افراد کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر میڈیا میں پیش کئے جاتے ہیں۔ بیماریاں اگرچہ زندگی کا حصہ ہے۔ ہر شخص کبھی نہ کبھی ضرور بیمار ہوتا ہے لیکن ہمہ وقت مہلک بیماریوں کے خوف میں مبتلا رہنا بجائے خود ایک بیماری نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ہم لوگ اکثر ان بیماریوں کے بارے میں معلوماتی مضمون پڑھ رہے ہوتے ہیں یا ویڈیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں جو ہمیں لاحق ہی نہیں ہوتیں۔ اس لئے کہ غیر ارادی طور پر ہم اس کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ نامحسوس طریقے سے پورا عالمی سماج خوف کی اس مارکیٹنگ اور بیماریوں کی سوداگری کی وجہ سے صحت کے ایسے جنون میں مبتلا ہو چکاہے جو بجائے خود ایک بیماری ہے۔

اب اس سارے گھنائونے کھیل کے ردعمل کے طور پر سچائی کی آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔ مغرب میں بھی طب سے وابستہ سائنسدانوں نے اس پر آواز اٹھائی ہے اور اس سارے عمل کو انہوں نے unhealthy obsession with health کا نام دیا ہے۔ یہ آوازیں جو انسانیت کے حق میں اور ایک حقیقی صحت مند عالمی سماج کے لئے اٹھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوا ساز کمپنیاں اتنا بڑا مافیا بن چکی ہیں کہ ہماری زندگیاں اور ہماری صحت ان کے قبضے میں ہے۔ یہ ہمیں ہر صورت بیماری دیکھنا چاہتی ہیں۔ مثلاً سوشل فوبیا SB بھی ایک ایسی ہی خود ساختہ بیماری ہے جس میں آپ کو یقین دلا دیا جاتا ہے کہ اگر آپ مجمع میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں تو آپ سوشل فوبیا نامی نفسیاتی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں اس کے علاج کے لئے آپ سائیکائٹرسٹ کے پاس جائیں اور دوائوں کے پلندے کھائیں۔ بڑے جمع میں بات کرتے ہوئے گھبرانا ایک فطری سی بات ہے۔ اس میں کسی طور دماغ کے کیمیکل کا توازن نہیں بگڑتا۔ گھبراہٹ کی یہ کیفیت عارضی سی ہوتی ہے مگر کیا کریں کہ فارما سوٹیکل مافیا نے ہر صورت صحت مندوں کو بیماری میں مبتلا کرنا ہے۔ اس لئے اگر آپ کہیں گے آپ بیمار نہیں ہیں اور بالکل تندرست ہیں تو یہ مافیا اس کو بھی ایک بیماری ڈکلیئر کر دے گا اور اس کا نام رکھا جائے denial disorder syndrome اور اس کو طب کی کتابوں میں DDS کے نام سے پڑھایا جائے گا اور پھر اس کے علاج کے لئے آپ کو دوائیں کھانا پڑیں گی۔

بانو قدسیہ کی ایک بات مجھے یاد آتی ہے۔ وہ کہیں لکھتی ہیں کہ بیماریوں کے بارے میں معلومات اکٹھے کرتے رہنا بھی ایک بیماری ہے اور سچی بات یہ ہے کہ ہمارے سماج کو اب یہ بیماری لاحق ہو چکی ہے یہاں باقاعدہ بیماریوں کے دن منائے جاتے ہیں۔ بیماری کا چرچا ہوتا ہے علامات بتا بتا کر ہر شخص کو اس خوف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے کہ وہ جلد یا بدیر اس بیماری میں مبتلا ہونے والا ہے۔ خوف کی مارکیٹنگ کرتے ہوئے بیماریوں کی جو معلومات ہم تک پہنچتی ہیں وہ corporate funded ہوتی ہیں اور اس مافیا کا مقصد یہی ہے کہ صحت مند انسانوں کو ہر صورت بیمار کر دیا جائے گا یا پھر بیماری کے خوف میں مبتلا کر دیا جائے اور یہ مافیا اس کے لئے نئی سے نئی خود ساختہ بیماریاں ایڈورٹائز کرتا ہے۔ خوف کی مارکیٹنگ، بیماریوں کی اس سوداگری کا حصہ ہے!!

Facebook Comments Box
ایلو پیتھیبیماریخوف کی مارکیٹنگڈاکٹرسعدیہ قریشیعلاج
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اندھے بھکاری کا قتل اور قانون کی حکمرانی —– اورنگ زیب نیازی
next post
 سمارٹ فون کا انتخاب کیسے کریں —— طلحہ سہیل فاروقی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.