تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

اندھے بھکاری کا قتل اور قانون کی حکمرانی —– اورنگ زیب نیازی

by دانش ڈیسک 28/11/2019
written by دانش ڈیسک 28/11/2019
94

’’ترش رُو ہوا اور بے رُخی برتی اس بات پر کہ وہ نابینا اس کے پاس آگیا۔ تمھیں کیا خبر شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو۔ جو شخص بے پروائی برتتا ہے، اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو اور جو شخص تیرے پاس آٹا ہے اور وہ ڈر بھی رہا ہے تو اس سے بے رُخی برتتا ہے‘‘۔

یہ ترجمہ ہے کتاب ہدایت کے تیسویں پارے میں شامل سورہ عبس کی ابتدائی آیات کا۔ کلام کرنے والا خالق کائنات ہے اور مخاطب وجہ ء تخلیق کائنات، محبوب الٰہی ہیں۔ لہجے میں خفگی عیاں ہے، اس طرزِ تخاطب کی یہ واحد مثال ہے اور پس منظر اس کا یہ ہے نبی محترمﷺ مکہ کے چنیدہ سرداروں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عمر بن ہشام، امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ کے ساتھ محو گفتگو تھے۔ مقصد یہ تھا کہ مکہ کے طاقت ور سردار دائرہ اسلام میںشامل ہو جائیں تو مشکلات آسان ہو جائیں گی، دریں اثنا ایک نابینا صحابی محفل میں داخل ہوئے اور اور انجانے میں گفتگو میں مخل ہوئے۔ ایک لمحے کو یہ مداخلت رحمت اللعالمین ﷺ کو نا گوار گزری اور آپ نے منہ پھیر لیا۔ اس پر سورہ عبس کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ یہ نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم تھے جو اس واقعے کے بعد دربار نبی ﷺ میں مقرب خاص ہو گئے۔
کل جس وقت میدان ِسیاست میں بساط بچھی تھی اور بڑے کھلاڑی ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے نت نئی چالیں چل رہے تھے، ملک تماشائی بنا بیٹھا تھا، گونگے، بہروں کا ہجوم تالیاں پیٹ رہا تھا۔ عین اس وقت لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ نو میں ایک اندھے بھکاری کی دلدوز چیخیں کچھ دیر کو فضا میں بلند ہوئیں اور سننے والے کانوں کو بہرہ پا کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔ تین اوباش، آوارہ لڑکے ایک کمپریسر کے ذریعے اس کے جسم کے کسی سوراخ سے، اس کے جسم میں ہوا بھرتے رہے، اندھا بھکاری تکلیف سے چیختا رہا اور وہ قہقہے لگاتے رہے، اس کا جسم اندر سے پھٹ گیا۔ اسے ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔

میڈیا نے قاتلوں کے لیے’’منچلے‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی یہ عمل ایک شرارت، فن یا شغل تھا، یہی  لفظ ہے جس نے پہلے بسنت جیسے  ثقافتی تہوار کو  قاتل سرگرمی میں تبدیل کیا۔ پھر جشن آزادی، چاند رات اور نیو ایئر نائٹ کو لفنگوں کا کھیل بنا دیا اور اب اس لفظ کے ذریعے میڈیا بے گناہ لوگوں کے قتل کا جواز  فراہم کرنے لگا ہے۔

پاکستان کے بڑے نیوز چینلز نے یہ خبر چند سیکنڈز کے لیے ایک ٹکر کی صورت میں چلائی۔ لیکن یہ خبر ’’بریکنگ نیوز‘‘ نہ بن سکی کیونکہ یہ واقعہ ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ بریکنگ نیوز بننے کے لیے کسی بڑی سیاسی پارٹی کا راہنما، کسی بڑے ادارے کا سربراہ، حکومت یا اپوزیشن یا طبقہ ء اشراف میں سے ہونا ضروری ہے۔ اور مقتول ایک معذور، مجبور انسان تھا۔۔۔ شاید انسان بھی نہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ میڈیا چینلز نے قاتلوں کے لیے’’منچلے‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ان کا یہ عمل ایک شرارت، عیاشی، فن یا شغل تھا، یہی وہ لفظ ہے جس نے پہلے بسنت جیسے خوبصورت ثقافتی تہوار کو ایک قاتل سرگرمی میں تبدیل کیا۔ پھر جشن آزادی، چاند رات اور نیو ایئر نائٹ کو لفنگوں کا کھیل بنا دیا اور اب اس لفظ کے ذریعے ہمارا میڈیا بے گناہ لو گوں کے قتل کا جواز بھی فراہم کرنے لگا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوئی انسان اس حد تک سفاک کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے مختلف محرکات ہو سکتے ہیں۔

فرسٹریشن، جہالت، سادیت پسندی اور دیگر نفسیاتی، ذہنی عوارض، عدم برداشت، نفرت اور انتہا پسندی وہ عمومی وجوہات ہیں جن کا شکار پورا معاشرہ ہو چکا ہے۔ اس عدم برداشت، منفیت اور انتہا پسندی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ سوشل میڈیا پر اس دل خراش واقعے کو بعض احباب نے اپنے سیاسی بغض کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔ بلاشبہ اس واقعے کی ذمہ داری بھی حاکم وقت پر ہے کہ ظلم اوربربریت کا یہ واقعہ اس کی عملداری میں پیش آیا ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ یہ سب بہتر سال کی ’’کاوش پیہم‘‘ کا نتیجہ ہے۔ اور ڈیڑھ سالہ حکومت وقت بھی اسی بد بودار نظام کا حصہ ہے جسے’’اشراف کی حکومت، اشراف کے ذریعے، اشراف کے لیے ‘‘کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ لیکن ’’ریاست مدینہ ثانی‘‘ میں اب قانون کی حکمرانی ہے۔ رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں۔ طاقت ور اور کمزور کے لیے ایک قانون ہے۔ اس لیے ہم امید کر سکتے ہیں کہ اندھے بھکاری کے علاوہ ماڈل ٹائون کے چودہ شہداء، سانحہ ساہیوال کے مظلومین، نقیب اللہ محسود، بلدیہ ٹائون فیکٹری کے مقتولین اور دیگر کمزوروں کو بھی جلد انصاف مل جائے گا۔

Facebook Comments Box
قتلمیڈیا کا کردارنابینا بھکاری کا قتل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تعلیم یا تماشا ——— اظہر عباس
next post
بیماری، علاج اور ڈاکٹر: خوف کی مارکیٹنگ ——– سعدیہ قریشی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.