تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسماجیکالم

”بیانیہ“ کا کٹورا اور اینکرز کے پھولے پیٹ —- فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 13/11/2019
written by دانش ڈیسک 13/11/2019
163

زمانہ طالب علمی میں، میں کالج تو شاذ و نادر ہی جاتا لیکن کوچنگ سینٹر بڑی باقاعدگی سے جاتا تھا۔ وہاں ایک لڑکا اپنی بہکی بہکی حرکات کی وجہ سے جوکر مشہور تھا۔ اس کا نام کامران تھا مگر ایک کمینے لڑکے نے اس کا نام ”کامران سیکسی“ رکھ دیا تھا اور سارے لڑکے اسے اسی نام سے پکارا کرتے اور یہ خود بھی اپنے جوکر کے امیج کو خوب اوڑھتا بچھوتا اور اس منفی توجہ کو انجوائے کرتا۔

اس دور میں کمپیوٹر ایک جدید ترین چیز کے طور پر معاشرے کے سر پر چڑھا ہوا تھا۔ جس نوجوان کو دیکھو کمپیوٹر کی بات کر رہا ہوتا۔ ہر کوئی جو ماڈرن نظر آتا یا نظر آنا چاہتا وہ کسی طرح کمپیوٹر کی دنیا سے خود کو منسلک ظاہر کرنا چاہتا۔ کامران کو شوق ہوا کہ وہ بھی منفرد اور ماڈرن نظر آئے تو وہ کلاس میں اپنے بہکے بہکے سوالات میں کمپیوٹر کی اصطلاحات بلاوجہ گھسیڑنے لگا۔ مثلاً  ”سر میری ہارڈ ڈسک سے آپ کی بات ڈیلیٹ ہو گئی“ اسی طرح ایک اور موقع پر اس نے کہا کہ ”سر اب آپ کی ساری باتیں مجھے یاد رہتی ہیں، دماغ میں 1GB کی ہارڈ ڈسک لگائی ہے“ ہمارے حساب کے استاد، اس کی اس کمپیوٹر زدہ زبان سے ایک روز چڑ کر بولے کہ ”کتنے فاقوں میں یہ لفظ رٹے ہیں تم نے؟“ خیر بیچارہ کامران ان کی سخت باتوں سے بھی کبھی ڈرتا یا دبتا نہ تھا۔ اس نے اس کے بعد ہر بات میں ہارڈ ڈسک، ریم، موڈیم، مونیٹر، الغرض اس دور میں مروج ہر کمپیوٹر کے پرزے کو ٹھونسنا دگنا کر دیا۔

ہمارے ذرائع ابلاغ کی بعض حرکات سے کامران اکثر یاد آتا رہتا ہے جو بالکل کامران ہی کی طرح ماڈرن نظر آنے کی فکر میں ادھ موئے ہوئے رہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کون سا کرتب دکھائیں کہ یہ بھی بالکل CNN یا BBC ہی بن جائیں۔ ہر سال یہ کسی KG کے بچے کی طرح کوئی نئی اصطلاح اہل مغرب سے سیکھ لیتے ہیں اور پھر اس اصطلاح کی گردان شروع کر دیتے ہیں۔ ویسے تو ایسی اصطلاحات کی پوری ایک فہرست مرتب کی جاسکتی ہے مگر یہ فہرست ہمارے ذرائع ابلاغ کے جغادریوں کی نااہلی اور پست تصور ذات کے اشتہار کے علاوہ کچھ نہیں۔ ایسی تازہ اصطلاح ہے ”بیانیہ“۔ پہلے پہل یہ اصطلاح خورشید ندیم نے استعمال کی اور وہاں سے انکے دوست سلیم صافی اسے لے اڑے۔ پھر یہ حسن نثار کی زبان سے کسی آکاش وانی کی طرح ظاہر ہوئی۔ رفتہ رفتہ یہ اصطلاح چوہدری نثار اور نواز شریف وغیرہ نے سیکھ لی اور اب یہ فواد چودھری سے ہوتی ہوئی کی وائرل فیور کی طرح فردوس عاشق اور دوسرے Crude دماغ والے سیاستدانوں کی زبانوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔

پرجوش انداز میں گفتگو کرنے کی دوڑ میں ہمارے ذرائع ابلاغ نے اپنے نیوز کاسٹرز کو مرغے کی بانگ کے انداز میں بولنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ بیچارے مرغے مرغیاں سارا دن Headlines سناتے ہوئے بانگ دیتے ہیں اور پھر گھر جا کر گرم پانی میں نمک ڈال کر غرارہ کرتے ہیں۔ پھر ”بیانیہ“ جیسے ثقیل الفاظ کی گردان بھی کرنی پڑتی ہے۔

اب بڑے، چھوٹے، موٹے، لمبے، گنجے، کالے، سفید، ٹیڑھے میڑھے الغرض ہر تجزیہ نگار کی زبان پر یہ لفظ ”بیانیہ“ کسی وظیفے کی طرح چڑھ گیا ہے۔ ”امریکا کا بیانیہ یہ ہے“، ”فوج کا بیانیہ یہ ہے“، ”نواز شریف نے یہ بیانیہ اختیار کرلیا ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ اس نوع کے جملے اب ہر وقت ذرائع ابلاغ پر گونجتے رہتے ہیں۔

یہاں پہ پنجابی کا ایک محاورہ یاد آیا ’ہوچھیاں دے کہار کٹورا آیا، پانی پی پی ٹہڈ سجایا‘۔ یعنی کہ اوچھوں کے گھر پانی پینے کے لئے پہلی بار کٹورا آیا تو سب گھر والوں نے پانی پی پی کر اپنے پیٹ سجالئے۔

آخر یہ بیانیہ ہے کیا بلا جو اچانک اس ملک میں ہر چیز سے زیادہ مقبول ہو گیا ہے؟ اور اگر یہ اس قدر اہم بات ہے تو یہ آج سے کوئی 3 یا 4 سال قبل ہمارے ذرائع ابلاغ کو معلوم کیوں نہ تھی؟

یہ لفظ ”بیانیہ“ دراصل آج کی تاریخ میں کسی لچکدار بنیان کا کام دے رہا ہے جو ہر خیال پر فٹ آجاتا ہے اور اس کی آڑ میں کوئی بھی بے مغز اور فضول بات کی جا سکتی ہے۔ بعض لفظ ہوتے ہی اتنے بھاری ہیں کہ دیکھ کر لگتا ہے ارسطو کے فلسفے سے برآمد ہوئے ہیں مگر ذرا ان الفاظ کو Dissect تو کیجئے یہ ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا“ کی عالیٰ مثال ثابت ہوں گے۔ یہ بیانیہ بھی دراصل اسی نوع کا ایک ”چوہا“ ہے مگر میرا یہ دعویٰ دلیل مانگتا ہے۔دلیل حاضر خدمت ہے۔

دراصل یہ لفظ بیانیہ انگریزی لفظ "Narrative” کا لفظی ترجمہ ہے۔ Narrate کرنے کا مطلب ہوتا ہے بیان کرنا، بتانا۔ یہ انگریزی اصطلاح خصوصی طور پر کہانی یا داستان سنانے سے مخصوص ہے مگر اس کے علاوہ بھی استعمال ہوتی ہے اگر طرز بیان افسانوی یا داستانی ہو۔

"He Narrated all the events in great detail”

Narrate کرنا، صرف بیان کرنے سے آگے کی بات ہے۔ یہ افسانوی نوع کا بیان ہے اور اس لفظ Narrate کا مطلب (یا مفہوم) ہے کہانی کی صورت میں بیان۔ Narrate فعل یعنی Verb ہے، جو کرتا ہے Narrate وہ Narrator کہلاتا ہے اور جو وہ بیان کرتا ہے وہ بیان "Narrative” یعنی بیانیہ کہلاتا ہے۔ اب انگریزی لفظ Statement اور Narrative کا موازنہ کیجئے تو اندازہ ہو گا کہ دونوں میں فرق صرف ”افسانویت“ کا ہے۔

یہ لفظ Narrative انگریزی ذرائع ابلاغ میں اگر کسی فرد یا کسی ملک کے حوالے سے بیان ہوتا ہے تو اس سے مراد دراصل اس فرد یا ملک کے نظریات اور ان کے حق میں اسی فرد یا ملک کے دلائل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر ان معنی میں کہ بات مکمل طور پر معروضی نہ ہو اور اس میں افسانوی عنصر موجود ہو۔ مثلاً کم جونگ ان کو لے کر جو بیان بازی ٹرمپ کرتے ہیں اس کے پیچھے کوئی واضح نظریہ کوئی تحریر طور پر موجود پالیسی نہیں بلکہ ایک بیانات اور دلائل کا ایسا سلسلہ ہوتا ہے جو صریحاً معروضی (Objective) نہیں بلکہ موضوعی (Subjective) ہو اور اس بات میں ایک افسانوی طرز بھی پائی جاتی ہے۔ اس لئے یہ ٹرمپ کا Narrative یعنی بیانیہ کہلا سکتا تھا۔ مگر امریکا کی شمالی کوریا کو لے کر پالیسی کوئی بیانیہ نہیں بلکہ ایک پالیسی ہے۔ ایک ایسی چیز جو کہ واضح ہے اور اس میں افسانویت ایک فیصد بھی نہیں اور یہ پالیسی طے شدہ ہے۔ اس میں کوئی Development ہر لمحے نہیں ہو رہی جب کہ ٹرمپ کا بیانیہ شمالی کوریا سے متعلق ہر لمحہ بدل رہا ہے اور بدل سکتا ہے۔

اب ہمارے ذرائع ابلاغ نے تو اس لفظ کو نہ جانے کون سی ”اقلیدس کا طغرہ“ سمجھ لیا تھا کہ مامون الرشید کی طرح اپنی آستین پر کڑھوا کر ”ماڈرن“ بن رہے تھے۔ ایک لفظ سے اتنا فلرٹ اچھا ہوتا بھی نہیں۔ شائد ہمارے ذرائع ابلاغ اس فکر میں ہیں کہ جب سانس بہو میں لڑائی ہو تو ساس سے بہو مخاطب ہو کر کہے کہ ”مجھے آپ کے بیانیے سے اختلاف ہے“ اور ساس بیچاری کا اس بھاری لفظ سے ہی دم نکل جائے۔ اپنی نااہل ”معصومیت“ میں (کیونکہ پاگل بھی تو معصوم ہی ہوتے ہیں) انہوں نے عمران سے لے کر ہر اس شخص کو جو کچھ بھی کہتا ہے ”قصہ گو“ بنا دیا ہے۔

ہمارے ذرائع ابلاغ کی فراست بڑی حد تک نقل کی اہلیت تک محدود ہے۔ پرجوش انداز میں گفتگو کرنے کی دوڑ میں انہوں نے اپنے نیوز کاسٹرز کو مرغے کی بانگ کے انداز میں بولنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ بیچارے مرغے مرغیاں سارا دن Headlines سناتے ہوئے بانگ دیتے ہیں اور پھر گھر جا کر گرم پانی میں نمک ڈال کر غرارہ کرتے ہیں۔ پھر ”بیانیہ“ جیسے ثقیل الفاظ کی گردان بھی کرنی پڑتی ہے۔ اسی لئے یہ بیچارے کبھی کبھی گھبراہٹ میں اردو میں ”لندن“ بول جاتے ہیں۔ خیر اس سے قبل کہ یہ مضمون بھی کسی نوع کا ”بیانیہ“ بن جائے اسے ختم کر دیتے ہیں۔

Facebook Comments Box
BayaniafeaturedHassan NisarKhursheed NadeemPakistani AnchorsSalim Safiالیکٹرانک میڈیابیانیہپاکستانی اینکرزپاکستانی میڈیاحامد میرحسن نثارخورشید ندیمسلیم صافیصحافتصحافیکالم نویس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
چینامی : ایک تبصرہ — فتح محمد ملک صاحب کے قلم سے
next post
’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن ۔۔ باب سوم حصہ اول ——– ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.