تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

اسلامو فوبیا اور مغرب فوبیا؟ ——- خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 30/10/2019
written by دانش ڈیسک 30/10/2019
83

پورے پاکستان میں آپ کہیں بھی چلے جائیں، دو چار لوگوں کے علاوہ پورے ملک کا ایمان کی حد تک یقین ہے کہ پوری دنیا، مسلمانوں کی عمومی اور پاکستانیوں کی خصوصی دشمن ہے اور اس دشمنی میں مغرب سب سے آگے ہے۔ مغرب والوں سے بھی آگے یہودی ہیں کہ جن کی زندگی کا مقصد ہی اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرنا ہے۔ یہ مغرب والے اور یہودی ہی ہیں جنہوں نے ہمارے نظام تعلیم کو تباہ و برباد کر دیا اور ہمارے نصاب میں سے اسلام، قرآن، جہاد اور صحابہ کو نکال باہر کرنے کے لیے فنڈنگ کی اور آج کے مسلمان کو اس کی اپنی شناخت اور اسلام سے دور کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ مخلوط نظام تعلیم بھی مغرب کی عطا ہے اور اسی نظام کے زیر اثر اب معاشرے میں بے حیائی پھیلائی جا رہی ہے۔ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا کلچر بھی اسی مخلوط نظام تعلیم کی دین ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے کالجز اور یونیورسٹیوں میں ایسے لڑکے اور لڑکیوں کو بڑی ہی معیوب نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے جس کا کوئی بوائے یا گرل فرینڈ نہ ہو۔ انہی لوگوں نے جدیدیت کے سیلاب میں نوجوان نسل کو ڈبو دیا ہے اور اب انٹرنیٹ اور فحش موادکی ارزاں دستیابی نے ہماری نوجوان نسل کا اخلاق بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہمارا نوجوان فحش مواد کا اس حد تک رسیا ہو چکا ہے کہ اب تو دنیا بھر میں فحش مواد دیکھنے والوں میں پاکستانی پہلے نمبر پر ہیں۔ پوری دنیا کا میڈیا انہی مغربی اور یہودی لوگوں کے قبضے میں ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کے میڈیا پر کہیں بھی مسلمانوں کو اپنی بات کہنے کی اجازت نہیں ملتی بلکہ اسلام دشمن نظریات کے پھیلاو میں اضافہ ہو رہاہے۔ مغرب نے تو ہمارے میڈیا ہاوسز میں بھی فنڈنگ کی ہے جس کی وجہ سے اب ہمارے میڈیا اور اس پر دیکھائے جانے والے ڈرامے مکمل طور پر مغرب کے زیر اثر ہیں۔ لڑکے اور لڑکی کا آزادنہ میل ملاپ، بیہودہ لباس اور غیر شرعی رشتوں کی طرف دونوں کا رجحان معاشرے کو ایک ایسے گڑھے میں لے جا رہے ہیں جہاں صرف اور صرف تباہی ہے جس کے آثار ابھی سے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔ مغرب اور یہود ہمارے بچوں سے بھی دشمنی سے باز نہیں آئے اور پولیو کے قطروں کی صورت انہیں مختلف طرح کی جنسی بیماریوں کا شکار کر کے ہماری آنے والی نسلوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی منصوبے کے اگلے حصے میں وہ ہماری خوراک وغیرہ پر بھی قابض ہونے کی تیاری میں ہے اور اب جو بیج اور کھادیں ہمیں دی جا رہی ہیں یہ سب آہستہ آہستہ ہماری فصلوں پر قبضے کی تیاری ہے۔ ہمارے ملک میں ادویات کی نایابی اور دو نمبری کے پیچھے بھی اہل مغرب اور یہودی ہی ہیں۔ ہمارے لوگوں کا ماننا ہے کہ مغرب اور یہود نے ہمارے سارے سیاست دان نہ صرف خرید لیے ہیں بلکہ مسلم ممالک میں کوئی ایسا حکمران باقی نہیں رہا جو فروخت نہ ہو چکا ہو۔ ہمارے سارے سیاست دان حکومت ملتے ہی مغربی اور یہودی ایجنڈے کی تکمیل میں لگ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ مسلم حکمران عمومی اور پاکستانی حکمران خصوصی طور پر اہل مغرب اور یہودیوں کے تلوے چاٹتے ہیں، اسی لیے پاکستان میں غیر مسلم نہ صرف قوت حاصل کرتے جا رہے ہیں بلکہ قلیدی عہدوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہو چکا ہے اور مسلمانوں کو کہیں تو جنگوں کا سامنا ہے تو کہیں مخصوص گروہوں کی نفرت ان کی زندگی پر سیاہ سایہ کئے ہوئے ہے۔

سوال بس اتنا سا ہے کہ کیا ہم بھی مغرب فوبیا کا شکار نہیں؟

ایک لمبی فہرست ہے مغرب اور یہود کے خلاف جس پر ہمیں اپنے ایمان کی حد تک یقین ہے کہ اہل مغرب اور یہود ان تمام کاموں میں ملوث ہیں اور اپنی اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی موقع نہیں ہوتا تو وہ ایک موقع ایجاد کرتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرتے ہوئے مسلم دشمنی کی انتہا کر دیتے ہیں۔ آپ کسی بھی محفل میں بیٹھ جائیں اور ان میں سے کسی بھی بات کے خلاف کچھ کہہ دیں، ابھی آپ کی بات مکمل نہ ہوئی ہو گی کہ آپ کو مسلم دشمن، دشمن ایجنٹ، یہودیوں کا آلہ کار، غدار، لبرل، ملحد، بے غیرت، بے شرم جیسی ایک لمبی فہرست میں سے کسی نہ کسی لقب سے نواز دیا جائے گا۔

سوال یہ نہیں ہے کہ ان باتوں میں سے کتنی سچی اور کتنی جھوٹی ہیں؟ سوال تو یہ بھی نہیں ہے کہ ہمیں ان باتوں پر اپنے ایمان کی حد تک یقین کی وجہ کیا ہے، بلکہ سوال تو یہ بھی نہیں ہے کہ ان سب باتوں کے خلاف اپنے ردعمل میں ہم نے کیا کچھ کیا ہے؟ سوال بس اتنا سا ہے کہ کیا ہم بھی اہل مغرب کی طرح انتہا پسند نہیں ہیں؟ وہ اسلام سے نفرت کرتے ہیں اور اس نفرت میں ہر حد سے گزرتے چلے جاتے ہیں، ویسے ہی ہم بھی اہل مغرب سے نفرت کرتے ہیں اور اس نفرت میں ہم بھی ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ وہ اسلامو فوبیا کا شکار ہیں کہ ان کے خیال میں ان کے ممالک میں جہاں کہیں کوئی دہشت گردی ہو، دھماکہ ہو، منشیات کی درآمد برآمد ہو، اس میں کوئی نہ کوئی مسلمان ملوث ہوتا ہے۔۔۔ویسے ہی ہم اپنے ہر عیب اور کمی کوتاہی کا ذمہ دار اہل مغرب کو سمجھتے ہیں۔۔۔ کیا ہم بھی مغرب فوبیا کا شکار نہیں؟وہ مسلمانوں کو اپنی تہذیب و تمدن پر حملہ کرنے والے سمجھتے ہیں اور ایسا ہی ہم بھی سمجھتے ہیں۔ وہ قوت میں بہترین ہیں اس لیے ہمارے ممالک کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ ہمارے ہاتھ جو لگے ہم اس کو نشانہ بنا کر اپنے دل کی آگ ٹھنڈی کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں اور اس راہ میں اکثر اپنے ملک کی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی جلانے اور نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔ بلکہ کچھ معاملات میں ہمارا ریکارڈ ان سے زیادہ بہتر ہے کہ ہمارے ہاں اپنی ذاتی دشمنی بھی اسلام کی حفاظت اور ختم نبوت کے پردے میں نکالنے کی سہولت موجود ہے۔ بادامی باغ میں ایک عیسائی سے جوا ہارنے والا جب ’گستاخی کر رہا ہے‘ کی آواز بلند کرتا ہے تو پھر کوئی تصدیق نہیں کرتا بس راکھ بنا دینے کو گھر اور عبادت گاہ ملنی چاہیے۔۔۔۔ جب ایک بھٹے والے سے تنخواہ مانگی جاتی ہے تو وہ زندہ میاں بیوی کو بھٹے کی آگ میں دھکیل دیتا ہے کہ یہ گستاخی کر رہے تھے۔۔۔ اور جب ایک بارہ سالہ بچہ اپنا ہوم ورک نہیں کرتا اور غیر مسلم استاد کی پوچھ گچھ پر گستاخی کر رہا ہے کا نعرہ بلند کرتا ہے تو آن کی آن فرزندان توحید اور اسلام کے ٹھیکے دار زندگی اپنے درمیان گزار دینے والے استاد کے بارے ایک لمحے کو بھی نہیں سوچتے اور اس پر پل پڑتے ہیں۔۔۔ تب یہ پوچھنا تو بنتا ہے کہ مغرب اسلامو فوبیا کا شکار ہے لیکن ہم اور ہمارا معاشرہ کس مرض کا شکار ہے؟ اور چھوٹا سا یہ سوال بھی کہ کیا ایسے سب لوگوں کو مغرب کے اسلاموفوبیا پر بات کرتے ہوئے اپنا مغرب فوبیا نظر نہیں آتا؟

Facebook Comments Box
islamphobiaاسلام فوبیامغرب فوبیا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
روحانیت اور اسپارک پلگ ——– عمران شبیر تاجی
next post
تین دن لاہور میں ——– محمد حمید شاہد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.