تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

بڑھاپے اور تنہائی کی خزاں رسیدگی —— سلمان باسط

by دانش ڈیسک 30/10/2019
written by دانش ڈیسک 30/10/2019
91

چند روز قبل ایک ایسی جگہ جانے کا اتفاق ہوا جہاں وہ ضعیف، لاچار اور بیمار لوگ رہتے ہیں جن کے پاس پیسہ تو اتنا ہے کہ وہ اپنی رہائش، خوراک، دیکھ بھال اور دیگر ضروریات کے لیے ساڑھے تین ہزار ڈالر ماہانہ ادا کر سکتے ہیں لیکن اس اولاد کا قرب، لمس اور ساتھ نصیب نہیں جس کو کامیابی کے ساتویں آسمان تک پہنچانے کے لیے ان لوگوں نے اپنا سب کچھ تج دیا۔ یہ رہائش ہر اعتبار سے پرآسائش ہے۔ بہترین، آرام دہ اور ہر سہولت سے آراستہ کمرے، بہت اچھا کھانا، ایکسرسائز کے لیے معاونین، تفریح کے لیے ہر طرح کے لوازمات، چوبیس گھنٹے دیکھ بھال کے لیے ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر مستعد عملہ۔ وہ سب ہے جس کی ایک شخص زندگی میں خواہش کر سکتا ہے لیکن ان سب کے چہروں پر فسردگی، تنہائی، کسک، اکتاہٹ اور درد کی تحریریں واضح طور پر پڑھی جا سکتی ہیں۔ اس جگہ قیام کے لیے اتنی زیادہ رقم ادا کرنے کے بعد بھی یہ لوگ کسی ایسے شخص کو مزید رقم ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں جو دن میں چند گھنٹے ان کے ساتھ گزارے۔ ان سے بات کرے تاکہ ان کو اپنے زندہ رہنے اور زندگی کے تحرک کا احساس ہو سکے۔

یہ لوگ کسی ایسے شخص کو مزید رقم ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں جو دن میں چند گھنٹے ان کے ساتھ گزارے۔ ان سے بات کرے تا کہ ان کو اپنے زندہ رہنے کا احساس ہو سکے۔

میرے پاس ان دنوں گزارنے کے لیے چونکہ وافر وقت ہے سو میں نے رضاکارانہ ایک صاحب کے ساتھ اپنی سہولت سے کچھ وقت گزارنے کا فیصلہ کیا۔ وہ صاحب اس بات پر شدید حیران ہوئے کہ میں ان کی پیشکش کے باوجود اپنا وقت انہیں دینے کے لیے کوئی معاوضہ نہیں لے رہا۔ وہ امریکہ جیسے ملک میں اس تصور سے بھی نا آشنا تھے کہ کوئی اتنی دور سے اپنی گاڑی ڈرائیو کر کےان کے پاس دن میں کچھ وقت گزارے اور وہ بھی بلامعاوضہ۔ وہ اس سکون سے واقف نہیں جو اپنے والدین سے محروم ہو جانے والے ایک غریب الدیار کو ان بزرگوار کے چہرے پر مسرت اور اطمینان دیکھ کر مل رہا ہے۔

ان صاحب کے علاوہ اس بلڈنگ میں بسنے والےسبھی مرد و زن سفیدفام ہیں۔ اجے کمار 1960 میں بھارت سے ملازمت کے سلسلے میں امریکہ آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بے تحاشہ پیسہ کمایا۔ آسائشیں خریدیں۔ عمر ڈھلوان پر لُڑھکنے لگی تو وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ دوڑنے والی اولاد نے والد کے ساتھ آہستہ روی سے چلنے سے انکار کر دیا۔ایک بیٹے اور بیٹی کو دولت کمانے اور آگے بڑھنے کی دُھن میں اتنی فرصت نہیں کہ وہ بوڑھے اور بیمار باپ کو ساتھ رکھنا تو درکنار، تواتر سے مل بھی سکیں۔ ان کا بایاں بازو اور بائیں ٹانگ مفلوج ہے اور کسی کی مدد کے بغیر حرکت بھی ممکن نہیں۔ بیٹا واشنگٹن ڈی سی میں رہتا ہے اور کبھی کبھار چند ثانیوں کے لیے فون کر کے بری الذمہ ہو جاتا ہے جب کہ نیویارک میں مقیم بیٹی کو اتنی بھی فرصت نہیں۔ بیوی طویل عرصہ پہلے جدائی کا داغ دے چکی۔ اجے کمار مشی گن کے ایک پوش علاقے میں ایک شاندار محل نما مکان کے مالک ہونے کے باوجود اس رہائش میں خطیر رقم ادا کر کے رہنے پر مجبور ہیں۔ وہ اپنے وطن کو یاد کر تے ہیں۔ اپنی جنم بھومی الہ باد کے نام سے ان کی آنکھوں میں چمک تنہا نہیں آتی، ساتھ آنسو بھی لاتی ہے۔ بھرپور زندگی گزارنے والے اجے کمار کو اپنے ایک دوست قاضی قیصرالاسلام کی شدت سےیاد آتی ہےجو 1947 میں ہجرت کر کے کراچی چلے گئے تھےاور جن سے بعد میں کبھی رابطہ نہ ہو سکا۔ بے قرار ہو کر مجھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میں اس بچھڑے دوست کو کسی طرح تلاش کر دوں۔ ہماری پاک بھارت دوستی خوب جمی ہے لیکن میں نے کل جب انہیں بتایا کہ میں کچھ عرصے کے لیے پاکستان جا رہا ہوں تو ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ میں اس خزاں رسیدہ شجر کو اس کیفیت میں دیکھ کر ملول ہو گیا۔ ایک اجنبی سے محض چند روز میں اتنا مانوس ہو جانے والا یہ شخص اس کے جانے پر اتنا آزردہ ہو رہا ہے تو اپنی سگی اولاد کے ہجر میں کیسے کیسے تڑپتا ہوگا۔

Facebook Comments Box
featuredlonlinessold age homeold homeOld people lifeاولڈ ہومبڑھاپاتنہائی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تین دن لاہور میں ——– محمد حمید شاہد
next post
اغواکار، قاتل عورت اور خلیل الرحمن قمر —– رقیہ اکبر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.