تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

اشفاق احمد کے نام ایک خط — سلمان باسط

by دانش ڈیسک 25/10/2019
written by دانش ڈیسک 25/10/2019
92

پیارے اشفاق صاحب!

السلام علیکم ۔ میں اس یقین کے ساتھ آپ پر سلامتی بھیج رہا ہوں کہ جہاں آپ پہنچ چکے ہیں وہاں اسی طرح سلامت ہیں ۔ آسانیاں وصول کر رہے ہیں اور آسانیاں بانٹنے کی دعائیں حاصل کرنے والوں سے اب اپنے لیے دعاؤں کا حصّہ وصول کر رہے ہیں۔ مجھے موت کی حقیقت سے انکار نہیں مگر کیا کروں انسان ہوں اور اپنی تمامتر حیرتوں، کجّیوں اور کوتاہ بینیوں کے ساتھ زندہ ہوں۔ اپنے سامنے اس قلزمِ خاموش میں آپ جیسے ٹائٹینک ڈوبتے ہوۓ دیکھتا ہوں مگر ہر بار مجھ پر وہی کیفیت طاری ہوتی ہے جسے ہم سکتہ کہتے ہیں اور اس بار تو اشفاق صاحب! میں اس کیفیت کی طوالت سے خوفزدہ ہوں۔

ناگہش سیلِ فنا نقشِ امل باطل کرد
چہ کنم گردشِ ایّام مرا غافل کرد

کہتے ہیں پیغمبر اور شاعر کبھی نہیں مرتے مگر آپ نہ تو پیغمبر تھے اور نہ ہی شاعر۔ پھر آپ مر کیوں نہیں رہے۔ اسی طرح زندہ کیوں ہیں۔ اپنی چٹی سفید داڑھی سمیت۔ گرہ در گرہ گفتگو کے ساتھ جس کے تمام رموز سننے والے کی روح میں اتر کر کھلتے ہیں۔ اپنی شخصیت کے شفّاف آئینوں کے ہمراہ جو ہر زاویے سے ایک ہی عکس دیکھنے والے تک منتقل کرتے ہیں۔ میری آپ سے ملاقاتیں کم ضرور تھیں مگر میں آپ کی محبت اور شفقت کے تھاپڑے آج بھی اپنی کمر پر محسوس کرتا ہوں۔ میرے لیے اور میرے غیر مکمل فن کے لیے کہے ہوۓ آپ کے چند فقرے مجھے ہمہ وقت سرشار رکھتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آپ کے چلے جانے کا دکھ جس طرح آپ کے ادیب اور شاعر دوستوں کی رگوں میں اتر گیا ہے شاید آپ کے اعزّا نے بھی محسوس نہ کیا ہو۔

ماپے تینوں گھٹ رون گے بہتا رون گے دلاں دے جانی

ہمارا تو آپ کے ساتھ لفظ کا رشتہ تھا جو اپنی حرمت کے باعث بسا اوقات خون کے رشتوں سے بھی گہرا ہوتا ہے۔ لفظ کا رشتہ! اورپھر آپ سے۔ کیسا عجیب احساس ہے۔غالبا” ایمرسن نے کہا تھا:

“Cut the words and they will bleed.”

اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کے قلم نے الفاظ کے بدن پر کیسے کیسے نشتر چلاۓ اور ان کے ہر بُنِ مُو سے لہو ٹپکا۔ جانے احساس کی، مشاہدے کی اور طرزِ بیان کی یہ دولت آپ نے کہاں سے حاصل کی تھی اور ہم اتنے قلّاش کیوں ہیں۔

میری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آسکا اشفاق صاحب! کہ آپ ملامتی صوفی ہوتے ہوۓ بھی اتنے اُجلے کیوں تھے کہ آپ سے کبھی کوئی نفرت نہیں کر سکا۔ اور میں کیا شاید یہ بات اپنی شخصیت کو ہر قسم کی ملامت سے پاک رکھنے کی سعی کرنے والے صوفیا کی سمجھ میں بھی نہ آسکی ہو۔ ترکھان،موچی اور لوہار کے علم کو علمِ نافع ماننے والے اشفاق صاحب! آپ نے علم و فضل کی دھاک بٹھا دینے والے مستند علما کو ان لوگوں کے فن کی اور علم کی قدر کرنا سکھایا جو انہیں جاہل اور ان پڑھ سمجھتے تھے۔ آپ نے کیسے کیسے بے خبروں کو خبردی۔ کتابی علم پر پریکٹیکل وزڈم کو کیا فوقبت ہے یہ ہمیں آپ کے لیکچرز، آپ کے ڈراموں اور آپ کے تخلیق کردہ کرداروں کی معرفت پتہ چلا ورنہ ہم تو اپنے تئیں خود کو بہت پڑھا لکھا تصوّر کرنے لگے تھے۔ ذات کی نفی کر کے تلاشِ ذات کیسے کی جاتی ہے یہ راستہ بھی آپ نے ہمارے لیے آسان کر دیا۔ اشفاق صاحب! آپ بڑے گُنی آدمی تھے اتنے گُنی کہ آپ کی بڑائی ہمارے گُن کھا گئی۔ ہم اپنی پہچان کیسے کروائيں۔ ہماری کیا شناخت رہ گئی۔ ہر راستے سے تو آپ ہو گزرے ہیں اور شاہی سواری گزر جانے کے بعد پیادوں کو کون دیکھتا ہے۔ ہمیں تسلیم ہے کہ آپ اقلیمِ سخن کی بادشاہ تھے اور ہم تو محض آپ کے باجگزار ہیں۔

بہت پیارے اشفاق صاحب! آپ کی زندگی کے توازن نے مجھے ہمیشہ حیران رکھا ہے۔ میری برادری کے بے شمار ادیبوں کے برعکس آپ کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ عظیم ادیب کی شخصیت کی تنک تابی اپنے گھر کے درودیوار کو بھی روشن رکھتی تھی۔ شفیق باپ جو اپنی اولاد، بہؤوں اور ان کی اولاد تک کے لیے محبوب ترین ہستی تھا۔

آپ نے گڈریا کیا لکھا ہم سب کے داؤ جی بن گۓ۔ یقین کریں اشفاق صاحب! آپ نے بارہا زمانے کی یخ بستگی میں میرے اوپر اوڑھے ہوۓ لاعلمی اور بے خبری کا لحاف اتار کر مجھے بے شمار سبق دیے ہیں جنہیں میں اپنی آرام طلب طبیعت کے باعث کبھی ازبر نہیں کر سکا۔ میں آپ سے شرمندہ ہوں مگر آپ سے ارادت کا تعلق توڑ نہیں پاتا۔ کج رو ہوں مگر نسبت قائم رکھنا چاہتا ہوں اور آپ تو میرے داؤ جی ہیں۔ آپ مجھ سے کیسے ناراض ہو پائیں گے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ ابھی آپ اپنے اوپر اوڑھا ہوا مٹی کا حصیر ایک طرف ہٹا کر میری طرف پیار سے دیکھیں گے اور کہیں گے ” داؤ کی جان! ادھر آ۔ دیکھ روٹھا مت کر۔ بس یہ سبق پڑھ لے پھر میں دیر تک کوئی اور سبق نہیں پڑھاؤں گا” مٹی کا حصیر۔۔۔۔۔۔۔ منوں مٹی کا حصیر۔۔۔۔۔۔ کیسے ہٹا پائیں گے داؤ جی آپ۔ بس آپ سوۓ رہیں۔ مت اٹھیں۔ کوئی اور سبق نہ دیں۔ مجھے تو بس آپ کے مٹی کے اس حصیر سے یہ کہنا ہے:

اے خاکِ تیرہ! دلبرِ مارا عزیز دار
ایں نورِ چشمِ ماست کہ بر در گرفتہ ای

آپ کا

سلمان باسط

Facebook Comments Box
featuredاشفاق احمدبانو قدسیہسلمان باسط
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قائدِ اعظم کا حلفِ وفاداری ——– لالہ صحرائی
next post
ضرورت الہامین : برائے سیکورٹی فورسز، پاکستان —– خرم شہزاد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.