تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

دھرنے کے فکر مندوں پر ہنسی آتی ہے ——– خرم شہزاد

by Editor2 21/10/2019
written by Editor2 21/10/2019
131

ویسے تو یہ ایک خوشی کی بات ہے کہ پاکستانی بڑے ہی بے فکرے قسم کے لوگ ہیں جس کی ایک بڑی وجہ ان کی لائی لگ طبیعت ہے۔ لائی لگ کا آسان ترین مطلب دوسروں کی باتوں میں آ جانا ہے اور اگر آپ اپنے آس پاس دیکھیں تو ہماری ایک اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہے جو خود کو عقل کل تو سمجھتے ہیں لیکن دوسروں کی باتوں میں آنے میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ آپ متفق نہیں تو بتائیے کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟ مہنگائی، معیشت، کرپشن اور کشمیر کا ذکر آخری بار سنے کتنے دن ہو گئے ہیں، یاد تو ہو گا؟ باربر کی دکان کے باہر بیٹھے موچی سے لے کر چینلز کے ٹاک شوز تک میں آج صرف ایک ہی موضوع زیر بحث ہے جبکہ لوگوں کی آپسی گفتگو میں بھی یہی سوال پوچھا جاتا ہے کہ بھئی اور سناو کیا حال ہے، دھرنے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

مولانا فضل الرحمان نے دھرنے یا آ زادی مارچ کا کیا اعلان کیا کہ پاکستان اور اہل پاکستان کی جان دنیا جہاں کے تمام کاموں سے چھوٹ گئی اور ہمارے پاس صرف اور صرف ایک مقصد حیات رہ گیا جس کا نام دھرنا یا آزادی مارچ ہے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس میں شرکت اور کامیابی کی متمنی ہے اگرچہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ اس دھرنے اور آزادی مارچ کا بنیادی مقصد اور ہدف کیا ہو گا۔ دوسری طرف پاکستانیوں کی دوسری بڑی تعداد اس دھرنے کو روکنے کے لیے کمر کس چکی ہے اور ان میں سے کئی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ پاکستانیوں کا تیسرا اور سب سے بڑا گروہ تماش بینوں کا ہے جن کو اس دھرنے کی کامیابی یا ناکامی سے کوئی غرض نہیں، انہیں تو بس ہلا گلا، چس اور چسکے، پوسٹوں کے لیے مواد چاہیے ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایک منٹ میں حکومت کے خلاف پوسٹ کرتے ہیں تو دوسرے ہی منٹ میں چسکے لینے کے لیے حکومت مخالفوں کی بھی بینڈ بجاتے نظر آتے ہیں۔ عام آدمی جس کے ہاتھ صبح کا اخبار بھلے شام کو آتا ہو یا وہ کہیں بھی ٹی وی اسکرین تک رسائی رکھتا ہے تو اس کی گفتگو کا پہلا موضوع بھی آج کل کے حالات اور دھرنا ہی ہے۔ اسے بھی آج کل مہنگائی کا کوئی مسئلہ نہیں، اس کے بچوں کا مستقبل کیسا ہو گا، اس پر وہ بعد میں بات کرئے گا لیکن پہلے اسے دھرنے کے بارے کوئی تازہ ترین خبر درکار ہے جسے مزید مصالحے کے ساتھ دوسروں کو سنا کر باخبر ترین شخص کا اعزاز وہ اپنے نام کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت دھرنا اور آزادی مارچ تمام پاکستانیوں کے لیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں تو اس کے بعد کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ اس صورت حال میں ایک چھوٹا سا سوال پوچھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں۔

گزشتہ دور حکومت کی بات ہے کہ نواز شریف پوری آب و تاب کے ساتھ حکومت کر رہے تھے اور جس موقع پر بھی عمران خان یا کسی بھی غیر جمہوری قوت (یہاں کریشن کے خلاف کی جانے والی گفتگو اور حساب کتاب کا ذکر ہے) کی طرف سے حکومت کو کوئی مسئلہ ہوتا، تمام اسمبلی ارکان (حکومت اور اپوزیشن مل ملا کر )جمہوریت کو بچانے کے لیے اکٹھے ہوجاتے۔ بہترین تقاریر ہوتیں اور محمود ایاز کے بجائے ہر الزام کا ملزم دوسرے کا گواہ بن جاتا اور خطرے سے نمٹ لیا جاتا۔ اسمبلی کے اندر ہونے والے اس روز روز کے تماشے سے تنگ آ کر عمران خان نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا اور نوجوانوں کو ڈی چوک پہنچنے کا حکم دیا۔ پورے ملک سے نوجوان لڑکے لڑکیاں تبدیلی کے نام پر اسلام آباد میں جمع ہو گئے۔ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت تھی اور وزیر اعلی سمیت تقریبا پوری کابینہ جلسہ گاہ میں نظر آنے لگی۔ امپائر کی انگلی بھی ساتھ ہے، یہ یقین جلسہ کرنے والوں کو تھا جس کا اظہار وہ اکثر اپنی تقاریر میں کرتے۔ مخالفین کا خیال تھا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موبائلز کی بیٹریوں کے خاتمے کے ساتھ ہی کھسکنے لگے گی لیکن عمران خان نے انہیں دھرنے کے آخری دن تک اپنے ساتھ باندھے رکھا اور پونے دو سو دن کا یہ تاریخی دھرنا پاکستان میں اپنی مثال آپ رہا۔ لیکن اتنی شہرت، ساتھ اور تیاری کے باوجود کیا عمران خان حکومت کی کرسی کا ایک پایہ بھی اکھاڑ پائے؟ نہیں۔ ۔ ۔ پوری حکومت کیا وہ ایک وزیر تک سے استعفیٰ نہ لے سکے تھے اور راوی ہلا گلا، چس اور چسکے کے ان دنوں کی داستان کے آخری صفحے پر سکھ چین سے حکومت کرتے نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کتاب بند کر دیتا ہے۔

اب موجودہ صورت حال سے موازنہ کیجئے۔ مولانا نے دھرنے کا اعلان کیا ہے لیکن نہ تو ان کے پاس عمران خان جیسی شہرت اور نہ مقناطیسی شخصیت، جس سے وہ ہزاروں نوجوانوں کو باہر نکلنے پر مجبور کر دیں۔ ان کے پاس صرف مدارس کے طلبا ہیں جنہیں وہ طاہر القادری صاحب کی طرح ساتھ چلنے پر مجبور کر سکتے ہیںلیکن بہت سے مدارس نے بھی شرکت سے معذرت کر لی ہے، لہذا متوقع تعداد کم ہو جائے گی۔ عمران خان صاحب کے ہاتھ میں اس وقت کے پی کے کی حکومت تھی جو اپنی پوری قوت کے ساتھ دھرنے میں موجود تھی، مولانا کے پاس کہیں کی حکومت چھوڑ اتحاد بھی موجود نہیں ہے، بہت بڑی تعداد اور سپورٹ یہاں بھی ختم ہوئی۔ عمران خان کو امپائر کے ساتھ ہونے کا یقین تھا، پوچھ کر بتائیں کہ مولانا کو کیا اتحادیوں کے ساتھ ہونے کا بھی پوری طرح یقین ہے؟ عمران خان کے دھرنے کو مدد دینے کے لیے جہانگیر ترین اور علیم خان سمیت کئی ایسے لوگ تھے جن کی مدد اور تعاون نے دھرنے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ مولانا کے دھرنے میں ایسی کسی غیبی مدد کا ایک نام جانتے ہوں تو بتا دیں؟

وہ تمام تاجر جن کی انڈر انوائسنگ پکڑی گئی ہے وہ خفیہ طور پر مدد ضرور کریں گے لیکن محتاط بھی ہیں کہ اگر انڈر انوائسنگ پکڑی جا سکتی ہے تو یہاں بھی فنڈنگ پکڑی گئی تو ان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ ان لوگوں کا یہ محتاط رویہ مولانا کے لیے مشکلات بڑھانے کی ایک اور بڑی وجہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب اس ساری صورت حال کے بعد مجھے صرف وہ تین باتیں بتا دیں جس کی وجہ سے یہ دھرنا ہونا ممکن ہو گا اور اگر ہو گیا تو ہفتہ بھر بھی چل سکتا ہے؟ ابھی دھرنے کا ہدف اور مقصد تو کسی نے پوچھا بھی نہیں لیکن خیر اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہو گی کہ لوگوں کو بریانی شریانی بوٹیوں کے ساتھ تین وقت ملتی رہے تو انہیں کوئی سوال پوچھ کر بریانی پر لات مارنے کی کیا پڑی ہے۔ بس اس ساری صورت حال کے بعد مجھے دھرنے کے لیے پریشان ہونے والوں پر ہنسی آتی ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے پریشان نہیں، مہنگائی کے لیے پریشانی نہیں، کاروبار اور روزگار کے لیے پریشان نہیں، کرپشن اور نیب کے لیے پریشان نہیں، مغربی یلغار کے بارے پریشان نہیں، یہودی سازشوں کے لیے پریشان نہیں، کشمیر، برما، بوسنیا اور فلسطین کے لیے پریشان نہیں، یمن، ایران، سعودی عرب، شام، ترکی اور اسرائیل کے لیے پریشان نہیں۔ ۔ ۔ آج کل لوگ پریشان ہیں تو بس اس بات پر کہ مولوی آ رہے ہیں نجانے کیا ہو گا۔ جب ہم نہ انہیں روک سکتے ہیں، نہ سمجھا سکتے ہیں، نہ پوچھ سکتے ہیںاور نہ وہ لوگ آ سکتے ہیں تو فکر کیسی۔ مجھے ایسے لوگوں پر ہنسی آ رہی ہے اگر آپ بھی ایسے لوگوں میں شامل ہیں تو خدارا حقیقی مسائل پر فکر مند ہوں تاکہ مسائل حل ہوں۔

Facebook Comments Box
آزادی مارچپاکستانپاکستان تحریک انصافتحریک انصافجماعت اسلامیجے یو آئیدھرناعمران خانمولانا فضل الرحمان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن ۔۔ باب دوم حصہ اول — ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق
next post
طاہرہ اقبال کا ناول ’’نیلی بار‘‘ ——– محمد تیمور

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.