تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

معیشت، معاشرت اور مباشرت ——– محمد خان قلندر

by Editor2 14/10/2019
written by Editor2 14/10/2019
86

صوبائی اور لسانی عصبیت کو ایک طرف رکھتے، قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی بمشکل تین ساڑھے تین کروڑ تھی، جس میں سے قریب ساٹھ فیصد پنجاب میں تھی، سندھ، موجودہ پختون خواہ اور بلوچستان کے صوبوں میں چالیس فیصد لوگ بستے تھے، دوسری تلخ حقیقت یہ بھی کہ برصغیر میں تقسیم بھی صرف پنجاب ہوا، بنگال کی تقسیم برطانوی دور میں پہلے ہوئی، اور آزادی کے ہنگام میں وہی بحال کی گئی، ریاست کشمیر پر بھارت اور پاکستان کا متنازعہ قبضہ تاحال وجہ نزاع ہے۔

حصہ بقدر جُثہ کے اصول کے تحت ملک کی تباہ حالی کی زیادہ ذمہ داری پنجاب پہ آتی ہے، جسے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا نام دے کر باقی صوبے الزام دیتے آئے ہیں۔ معیشت یوں تو پورے مغربی پاکستان کی زرعی تھی، زرعی پیداوار ظاہر ہے نہری نظام کی وجہ سے پنجاب کی زیادہ تھی۔

تجارت میں ہندو اکثریت میں تھے باقی مسلمان، سکھ اور دیگر کا اُس وقت بڑا ذریعہ معاش زراعت اور سرکاری ملازمت تھے، جن کے لئے معاش میں نفع کم اور قناعت پر بھروسہ زیادہ تھا۔

انتقال آبادی میں بھی ایسٹ پنجاب سے آنے والوں کی اکثریت کاشتکاری سے وابستہ تھی، بقیہ بھارت سے نقل مکانی کرنے والے پڑھے لکھے، اردو بولنے والے اور زیادہ تر سرکاری ملازم اس وقت کے دارالحکومت کراچی میں سیٹل ہوئے۔

یوں شروع کے چند سال ملکی معیشت زراعت پر ہی چلی، دلچسپ حقیقت ہے کہ پچاس کی دہائی کے پہلے سال کے بجٹ سرپلس تھے۔

کاروباری شعبے میں ہندو آبادی کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا اسے نئے نابغہ روزگار طبقے نے پُر کیا، متروکہ جائیداد اور ادارے ان کے ہاتھ لگے، راتوں رات لوگ لکھ پتی بن گئے، صنعت و حرفت کا میدان سجا، کراچی میں تو کاروباری خاندان موجود تھے لیکن باقی ملک میں نئے بورژوا سرمایہ دار بن گئے، پنجاب میں بڑے زمیندار بھی شامل ہوئے۔

یہ نازک مرحلہ تھا معیشت زراعت سے صنعت کاری اور بڑے کاروبار پر منتقل ہوئی، لیکن معاشی تھیم میں ریاستی وسائل کو منظم کرنا ترجیح نہیں تھی، زرعی معیشت سُکڑنے لگی، صنعت و حرفت پھیل گئی۔

اس میں معاشرہ جو زرعی قناعت کی روایات، اقدار، رسم و رواج پر قائم تھا یکلخت دولت کے ارتکاز، جائز ناجائز کی پرواہ کئے بغیر منافع خوری، رشوت اور مال و زر کی ہوس کا شکار ہوا، حکومتی بندوبست میں اخلاقی زوال آنے لگا۔

کراچی بندرگاہ بھی تھی، درآمد برآمد کی تجارت کے ساتھ وہاں وسائل جلدی بڑھے۔ معاشرتی انحطاط کے مسائل پیدا ہوئے، باقی ملک بھر سے لوگ بھی وہاں منتقل ہوتے رہے، تو یہ ہر قسم کی صنعتی پیداوار کے ساتھ ہر آلائش کی آماجگاہ بھی بنتا گیا، سماجی اقدار کی پامالی سے امن و امان کے مسئلے پیدا ہوئے۔

معیشت تو زراعت سے صنعت کی طرف منتقل ہونے لگی، لیکن زرعی معاشرت میں بنیادی پیداواری عامل لیبر کی پیداوار میں کمی کی بجائے اضافہ ہو گیا، آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی پیداوار ’’بچے‘‘ ہیں۔ جب مقصد حیات شادی، مباشرت اور چھ آٹھ بچے پیدا کرنا ہو، اصول معاش کام کرنے والے ہاتھ گننا ہو، سب سے بڑی برآمد، مین پاور ایکسپورٹ ہو وہاں بچے پیدا کرنا ہی سب سے بڑی صنعت ہو گی۔ جب بچے با افراط ہوں تو ان کی تعلیم کے لئے مدرسے کتنا بڑا کاروبار ہونگے۔

معیشت پہ کراچی کے سیٹھ، سندھ کے وڈیرے، پنجاب کے صنعتکار، بڑے ٹریڈرز، بلوچستان کے سردار کے پی کے خان، آزاد قبائل کے سرمایہ دار جو پیسے پے پیسہ کماتے ہوں، سمگلرز، بنکوں سے قرضے معاف کرانے والے زعما، سبسڈی کھانے والے، ٹھیکے لے کے سرکار سے مال بٹورنے والے، ایکا کر کے، سرکاری خزانے کے عمال کو ساتھ ملا کے نگہبانوں کی آشیر باد سے اشرافیہ کا روپ دھار کے قومی وسائل پر قابض ہوں، حکومت کی ترجیح معیشت نہیں بس اقتدار ہو تو عام عوام کے پاس سوائے مباشرت کے کوئی کام نہیں ہوتا۔

تقسیم سے پہلے پنجاب کا مرکز لاہور تھا، ثقافت تھی، تہذیبی ورثہ تھا، معاشرت کی روایات تھیں۔ تقسیم کے ہنگام میں یوں ہوا جیسے کسی لشکر نے یہ ملک فتح کیا ہے، ریاست کی ملکیت مال غنیمت ہے، مذہبی عناصر جو ’’آزادی‘‘ کی جدوجہد میں سائیڈ لائن ہوئے تھے، حکومت کی گرفت کمزور ہونے پہ ان کا کم بیک ہوا، حکمرانوں کے وہ معاون ٹھہرے، معیشت اور معاشرت پہ مذہب کی فوقیت قائم ہوئی۔

فرقہ در فرقہ تقسیم در تقسیم ہونی شروع ہوئی، خرافات پر نمائشی پابندیاں لگنے لگیں، چکلے، شراب خانے، جوا خانے، نائٹ کلب اور انٹرٹینمنٹ جب عام لوگوں کے لئے حرام ٹھہری تو ان کے پاس مباشرت کے علاوہ کوئی شغل تو تھا نہیں۔ مقامی آبادی میں اضافے کے ساتھ دیگر ملکوں سے آنے والے پناہ گزین بھی برادر مسلم تھے، ڈیڑھ دو کروڑ یہ مہمان بھی مقیم ہوئے اور صرف سات عشروں میں ہم نے آبادی میں سات گنا اضافہ کر لیا، بیس بائیس کروڑ کے ہدف کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

اب اتنی بڑی نفری کو قابو رکھنے کے لئے کسی بھی حاکم کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ انہیں نفرت میں سرشار رکھے، معاشرے میں مذہبی، فقہی، منافرت کے ساتھ سیاست میں اتنی نفرت بھر دی جائے کہ ساری پبلک منقسم رہے، جہاں ضرورت پڑھے وہاں مذہبی تڑکہ لگایا جائے، سماجی اقدار میں فساد تو آسان ہے۔

پنجاب کی آبادی بارہ کروڑ سے زائد ہے اس لئے یہاں لوگوں کو تقسیم کرنے کے لئے سنگین نفرت کی آبیاری ضروری ہے۔ یہاں کی آب و ہوا، ماحول بھی منافرت کے لئے سازگار ہے، انگریزوں کی چھوڑی رسم و رواج، ہندو تہذیب کے نشان، مٹانے اشد لازم ہیں۔ معیشت اگر کسی باقاعدہ نظام کے بغیر، بیرونی امداد اور قرضوں پہ ساٹھ ستر سال چلتی رہی ہے۔۔۔ تو بیس تیس سال اور چل جائے گی، معاشرہ جیسے ہے ٹھیک ہے، بچے پیدا ہوتے رہیں، ملک چلتا رہے گا۔

Facebook Comments Box
featuredآبادیتقسیم ہندکراچیلاہورمباشرتمزدورمزدوریمعاشرتمعیشتوفاقی دار الخلافہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
کند ہم جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز ——— گُل ساج
next post
لنگڑی دانشوری —– فاروق عادل

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.