تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

کشمیر کے مسئلہ پہ قرارداد: حقیقت کیا ہے؟ —- عمیر فاروق

by دانش ڈیسک 23/09/2019
written by دانش ڈیسک 23/09/2019
56

پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ پہ قرارداد پیش کرنے کا رسک ہی نہیں لیا کیونکہ مطلوبہ حمایت ہی نہ مل سکی۔ اور امکان بھی اسی کا تھا لیکن ہمارے ہاں یوں ہاہاکار مچ گئی جیسے کوئی انہونی ہوگئی ہو۔ سادہ لوحوں کی دنیا میں رہنے کی بجائے حقائق کا سامنا کریں۔ عالمی ضمیر نام کی کوئی شئے موجود ہی نہیں جو جاگے، ہاں میڈیا کی طاقت ہے۔

کوئی منڈی کی طاقت کی نام کی شئے موجود نہیں اور نہ ہی منڈی کی نام نہاد طاقت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاسکتا ہے ورنہ امریکہ یہ ہتھیار کب کا چین کے خلاف استعمال کرجاتا۔ ہاں معاشی طاقت ضرور موجود ہے لیکن بغیر فوجی طاقت کے ملاپ کے وہ بھی بیکار ہے ورنہ کل تک چین کی بجائے جاپان اور جرمنی دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہوا کرتے تھے لیکن کبھی عالمی سیاست میں انکا دو ٹکے کا بھی کردار دیکھا؟ برطانیہ کا کردار نسبتاً چھوٹی معیشت ہونے کے باوجود جرمنی اور جاپان سے کہیں زیادہ رہا اور ہے۔

دلچسپ مثال آج کا چین اور امریکہ ہے چین اس لئے بھی بڑی معاشی طاقت ہے کہ امریکہ چین سے قرضہ پہ انحصار کرتا ہے لیکن امریکہ اپنی فوجی اور میڈیا کی طاقت کے ملاپ کی وجہ سے نسبتاً بڑی سیاسی طاقت ہے۔

اس واہمہ سے بھی باہر نکلیں کہ امریکہ کشمیر کا مسئلہ حل کرانا چاہتا ہے اور اسی لئے ثالثی کی پیشکش کی، ایسا کچھ بھی نہیں تھا اور نہ ہے۔ وہ کل بھی اس مسئلہ کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا اور آج بھی یہی چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ دونوں پارٹیوں پہ بیک وقت دباؤ بھی بڑھائے گا اور انکو اپنے اعتماد میں بھی لئے رکھنے کی کوشش کرے گا تاکہ اپنی مرضی کا حل مسلط کر سکے۔

اُمّہ، عالمی ضمیر اور منڈی کی طاقت دلکش نعرے اور واہمے ہی ہیں جبکہ زمینی سطح پہ ننگی طاقت کا کھیل ہے جو ان نعروں کی آڑ میں خود کو چھپائے رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ میں ہمیں مطلوبہ حمایت صرف اس وجہ سے نہ مل سکی کہ ہمارا جھکاؤ عالمی سطح پہ چینی اور روسی گروپ کے ساتھ تھا اور امریکی گروپ سے ہمیں حمایت حاصل نہ ہوئی۔ امریکی گروپ میں فی الوقت زیادہ ممالک شامل ہیں۔

لیکن یہ سوچنا بھی غلط ہوگا کہ ہم اس کے حل کے لئے چینی گروپ کو چھوڑ کر امریکی گروپ کی راہ پکڑیں جیسا کہ ہمارے دانشور بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمیں یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کسی بھی فوری حل کی امید میں اتنا بڑا ایڈونچر بھی حماقت ہے کیونکہ امریکی گروپ کا سائز اور طاقت دن بدن کم ہوتا جارہا ہے اور آنے والے دنوں میں بہت سکڑے گا تو اس صورت میں ہم پسپا ہوتی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہونے کا جوا کھیل کے خود کو مزید مشکلات کا شکار کیوں کریں؟

حقیقتاً کشمیر کا کوئی بھی فوری حل موجود نہیں اور فوری حل کی کوئی کوشش نقصان اور دھوکہ ہی دے گی۔ یہ کوئی سپرنٹ دوڑ یا ٹوئنٹی ٹوئنٹی نہیں ہورہا بلکہ یہ ایک میراتھن یا ٹیسٹ میچ ہے لمبے عرصہ تک صبر آزما جدوجہد ہی بہترین راستہ ہے جو ایڈونچرزم کے خطرات سے مبرا ہے۔

لیکن قنوطیت کا شکار ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں کچھ نہ کچھ مثبت بہرحال ہورہا ہے گوکہ اس کی رفتار سست ہے لیکن سست رفتار تبدیلی دیرپا اثرات بھی رکھتی ہے۔ فی الحال یہ بھی کم نہیں کہ ہمیں بالاخر ایران کی حمایت ملنا شروع ہوگئی۔ سعودیہ کی اپنی مجبوریوں کے باعث اس سے فوری حمایت کی توقع بھی غلط تھی البتہ آگے جاکر مل جائے گی۔ امارات سے حمایت کی توقع کا امکان دور دور تک نہیں لیکن قطر کی حمایت مل سکی۔

مودی کا سٹانس وقتی طور پہ سخت سہی لیکن دوسری طرف چین مسئلہ کشمیر میں باقاعدہ طور پہ فریق بھی بن چکا ہے جو اسکی علامت ہے کہ پاکستان کو خاموش کراکے بھی مسئلہ کشمیر کو ٹھپ نہیں کیا جا سکتا۔

تیسری طرف امریکہ کی اپنی مجبوریاں ہیں نائن الیون کے بعد جو عالمی ماحول اس نے خود تخلیق کیا تھا آج اسی کے راستے میں پتھر بن چکا ہے اسے یہ ماحول بدلنا ہی پڑے گا بلکہ بدلنے کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے وہ افغانستان سے بھی نکلے گا عالمی سیاست نیا رخ اختیار کرنے والی ہے۔ بقول شخصے پارٹی تو اب شروع ہونے والی ہے ماضی اور حال کے ماحول کو ذہن میں رکھ کر ردعمل دینے کی بجائے آنے والے ماحول کو سمجھ کر اسکی تیاری اور مطابقت سے اپنا ردعمل دینے کی ضرورت ہے۔ کھیل کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے انجام بہت دور ہے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
حاجی لق لقؔ : ایک فراموش کردار —– شاہین اختر
next post
پردے کے پردے میں —- سجاد میر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.