تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

منہ چڑاتا ہوا صلاح الدین مر گیا ——— قاسم یعقوب

by قاسم یعقوب 05/09/2019
written by قاسم یعقوب 05/09/2019
89

منہ چڑاتا ہوا صلاح الدین مر گیا۔ صلاح الدین کے ساتھ ایک دفعہ پھر پورا نظام مر گیا۔ ہم سب مر گئے ہیں۔ ’’ایک دفعہ پھر‘‘ میں نے اس لیے کہا کیوں کہ ہم روز مرتے ہیں اور پھر جینے کا قصد کرتے ہیں۔

پولیس کے نظام پر سب سے زیادہ اعترضات انھی لوگوں کو ہوتے ہیں جو اقتدار کے لیے جنگ کر رہے ہوتے ہیں مگر یونہی اقتدار ملتا ہے یہ لوگ ایسے بھول جاتے ہیں، جیسے پولیس کوئی مسئلہ تھی ہی نہیں۔ جب عمران خان کے حکمرانی ٹولے نے قابو میں آنا ہے تو اسی پولیس گردی کا شکار ہونا ہے، جس طرح پچھلے حکمران اس وقت زیرِ عتاب ہیں۔ یہی وہ وقت ہے، جب ہمیں مل بیٹھ کے اس نظام کو ازسرنَو تبدیل کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔

پولیس کا نظام صرف غریب، کمزور اور اثر رسوخ نہ رکھنے والے شخص کے لیے زہرِ قاتل ہے، ورنہ طاقت ور اور بااثر آدمی کے لیے ہر چیز ٹھیک ہے۔ پڑھا لکھا آدمی بھی اب اتنی آسانی سے قابو میں نہیں آتا، اس کے پاس شور مچانے کے لیے اب سوشل میڈیا یا درخواست کلچر ہاتھ میں آ گیا ہے۔ میرے بہت قریبی دوست پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ میرے ادیب دوست بھی پولیس میں نہایت اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ مجھے یہ سطریں لکھتے ہوئے شدید دکھ ہو رہا ہے کہ پولیس کا محکمہ پورے سماج کے اخلاقی دیوالیہ پن کا اعلان کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں پولیس میں سے ہزاروں آفیسر اور سپاہی جان کا نذرانہ بھی دے چکے ہیں۔ نہایت خطرناک مجرموں کو جان پر کھیل کے پولیس والوں نے عوام کے لیے قربانیاں دی ہیں مگر یہ شرح اتنی کم ہے کہ اسے عوام کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ پھولوں کے کیاری کے پاس ایک انسانی لاش پڑی ہو تو کون پھولوں کی خوشبو محسوس کر سکتا ہے۔ پورا سماج تعفن چھوڑ رہا ہے۔ ہر طرف اخلاقیات کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ ضمیر مردے ہو چکے ہیں اور ہم شہرِ دل میں چراغ جلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے اور نہ ہو گا۔

کسی کے پاس اتنے اختیارات نہیں۔ بلکہ آفیسر صرف اپنے محکمے تک آفیسر ہے باہر اس کی حیثیت ایک شہری کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی۔ پولیس کا کردار منفی ہوا ہی اس لیے ہے کہ ان کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ وہ خود انھیں سنبھال نہیں پاتے۔

کسی بھی قوم کا سماجی نظام اس میں موجود انصاف کی فراہمی کے نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ انصاف سے مراد صرف عدالتوں میں سائلین کو ملنے والا انصاف نہیں بلکہ ہر جگہ جہاں جہاں حق دار کے حقوق کا خیال کیا جائے، انصاف کی فراہمی کے مترادف ہے۔ پاکستانی قوم اس حوالے سے بہت سنگین نتائج رکھتی ہے کہ ایک ہی معاشرے میں رہنے والے تمام شہری ایک دوسرے سے حقوق کے تحفظ کے لیے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ ہر روز ایک دوسرے کے ہی ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ اب ضروری نہیں رہا کہ ظالم اور مظلوم کی پرانی تعریفوں پر اکتفا کیا جائے، آپ کو کسی بھی شکل میں ظالم مل سکتا ہے اور آپ خود بھی ظالم یا مظلوم بن سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ سماج کے وہ پیشے جو ہمیشہ سے ظالم کے ظلم کی شکایات لگاتے رہے ہیں، اب ان کے خلاف بھی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں کوئی پیشہ، کوئی کردار اب دوسرے لیے معصوم نہیں رہ گیا۔ جس کا جہاں ہاتھ پڑتا ہے، وہ ایک دم ظالم بن سکتا ہے اور دوسرے کے حقوق چھیننے کی صلاحتیں آزمانے لگتا ہے، جب کہ دوسری طرف اپنے حقوق کا واویلا مچانے والے بھی یہی لوگ آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے۔ اگر ایک دوکان دار ڈاکٹروں کے رویوں کے خلاف احتجاج کر رہا ہو اور اپنے حقوق سلب کیے جانے کا رونا رو رہا ہو تو اسی دوکان دار کو شام کو ظالم بنتے ہوئے دیکھ لیجیے گا۔ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ استاد جو نہایت بے ضرر پیشہ تصور کیا جاتا ہے مگر طلبہ و طالبات (جب اس کے محکوم بنتے ہیں) اس کے سامنے کسی ظالم حکمران سے کم اہمیت نہیں رکھتے۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بہ حالتِ مجبوری آپ کو اپنا سماج ہی یک دم بدلا ہوا محسوس ہو گا۔

مجھے یہاں پولیس کے نظام کے حوالے سے بات کرنی ہے، جو سماجی رشتوں میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پولیس کا بنیادی کردار تو جان ومال کا تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے اور کسی حد تک سماج کی تخلیقی و تعمیری سرگرمیوں کو طاقت مہیا کرنا بھی پولیس کا کام ہے مگر افسوس کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے دیگر زوال یافتہ اداروں کی طرح اس ادارے کا اندرونی اور بیرونی ڈھانچہ اس قدر خستہ حال ہو چکا ہے کہ اس کی بہتری کی بجائے، اس کی ازسرنَو تعمیر کی ضرورت ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ یہ نظام پورے سماج پر ایک زور دار دھماکے سے گرے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔

سب سے پہلے اس ضرورت کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مہذب قوم ہیں؟ کیا ہمیں تہذیب کی ضرورت ہے؟ کیا ہم مہذب اقدار کو اپنانا ضروری بھی سمجھتے ہیں؟ اگر ہمیں یہیں نفی میں جواب مل جائے تو پھر اس پر بات نہیں کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں پولیس کا نظام پولیس اور عوام دونوں کے لیے شکستہ در شکستہ اقدار کا مرقع بن چکا ہے۔ پولیس کے اندر جن اصطلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، ان کی نشان دہی کرنا ضروری بن چکا ہے:

۱۔ پولیس کا اندرونی ڈھانچہ نہایت کمزور اور 1861 ایکٹ کے تحت چل رہا ہے جس کو فوری تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مشرف نے ۲۰۰۲ ء میں جو تبدیلیاں کی ان سے بہتری کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

۲۔ پولیس کے پاس عمارات، اسلحہ، گاڑیوں اور دیگر سہولیات کی شدید کمی ہے۔

۳۔ پولیس کا پورا سسٹم انتظامی تقسیم کرنے کی ضرورت چاہتا ہے۔

۴۔ پولیس کی کوئی تربیت نہیں۔ فوجی طرز کی انتہائی اہم تربیت سے گزرے بغیر پولیس کو عوام کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔

۵۔ تربیت صرف بندوق چلانے کی نہیں ہوتی، کردار اور معاملات کی بھی ہوتی ہے بلکہ عوام میں خدمت کرنے کے لیے پولیس کی اخلاقی تربیت اور معاملہ بندی کے قواعد کی تربیت زیادہ ضروری امر ہے۔ پولیس میں ’سماجی نفسیات‘ کا علم ضروری پڑھایا جانا چاہیے۔

۶۔ خدا کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ پورے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے۔ پولیس والے بھی ٹھیک کہتے ہیں کہ پولیس کیا کیا کرے۔ پولیس والا وقوعوں پر ریسکیو کرے، رپٹ کاٹے، VIP سیکیورٹی دے، عدالتوں پر پہرہ دے، پنچائتیں کروائے، جلسوں کی نگرانی کرے، مذہبی اجتماعات کو تحفظ فراہم کرے، تفتیش کرے، چور پکڑے، ناکے لگائے۔ کیا کیا کرے۔ اس طرح تو نہیں چلے گا اب سب کام ایک ہی ادارے کو نہیں تھوپے جا سکتے۔

۷۔ خدا کے لیے پولیس کے اختیارات کم کریں۔ اتنے اختیارات کہ ایک کانسٹیبل، ڈائریکٹر، پروفیسر، ڈاکٹر، انجینئیر، بزنس مین وغیرہ کو پکڑ کے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف کسی بھی محکمے میں، کسی کے پاس اتنے اختیارات نہیں۔ بلکہ آفیسر صرف اپنے محکمے تک آفیسر ہے باہر اس کی حیثیت ایک شہری کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی۔ پولیس کا کردار منفی ہوا ہی اس لیے ہے کہ ان کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ وہ خود انھیں سنبھال نہیں پاتے۔

یہ حکومت بھی انھی ڈھکوسلوں سے کام لے رہی ہے جن سے پچھلی حکومت لیتی رہی۔ بے پناہ اصطلاحات اور غلط مشورے۔ شہباز شریف نے 100 ماڈل تھانے بنائے۔ اے ایس پی سطح کا آفیسر ماڈل تھانوں میں تعینات کیا مگر نتائج صفر۔ یونیفارم تبدیل کر دی مگر نتائج صفر بٹا صفر۔ نوکری سے اخراج، تبادلے، تنزلیاں اور معطلیاں مگر نتائج صفر۔ اصل میں نظام کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔

اب وقت ہے کہ صلاح الدین کی قربانی کو کسی تحریک کی طرف موڑیں اور پولیس کے نظام کو یک سر تبدیل کر کے رکھ دیں۔ اختیارات کے نشے میں دھت اس اندھے محکمے کو لگام دی جائے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
قاسم یعقوب

previous post
اعلیٰ تعلیم: ایک بین الاقوامی صنعت —- جہاں تاب حسین
next post
بلا اجازت دوسری شادی ——– فرحان کامرانی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.