تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ہانگ کانگ، ایک ملک دو نظام —- جہاں تاب حسین

by دانش ڈیسک 02/09/2019
written by دانش ڈیسک 02/09/2019
102

ہانگ کانگ کو چین کے خصوصی انتظامی خطے یا ‘ایس آر اے’ کی حیثیت حاصل ہے یعنی ہانگ کانگ کو ‘ایک ملک دو نظام’ کے اصول کے تحت چلایا جاتا ہے کیونکہ سابق برطانوی کالونی کو سنہ 2047 تک بڑی حد تک اپنی معیشت اور سماجی نظام کے بارے میں خود مختاری حاصل ہے، خیال رہے کہ برطانیہ نے بیس برس قبل ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کیا تھا۔ بیجنگ نے اس وقت اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ پر ‘ایک ملک دو نظام’ کے تحت حکمرانی کرے گا۔ اس کے تحت شہر کا اپنا خاص قانونی نظام، محدود جمہوریت، مختلف سیاسی پارٹیوں، اسمبلی اور اظہار ِ رائے کی آزادی جیسے نکات کو تسلیم کیا گيا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر ہانگ کانگ میں اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں بیجنگ کی مداخلت سے اس کی اپنی آزاد سیاست اور روایات کمزور نہ پڑ جائیں۔ بہت سے سیاسی کارکن زیادہ سیاسی اختیارات کے لیے مہم بھی چلاتے رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی ہانگ کانگ کا دورہ کیا تھا۔ شی جن پنگ اپنی اہلیہ پینگ لیونگ کے ساتھ ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے کے 20 برس مکمل ہونے پر تقریب میں شرکت کے لیے ہانگ کانگ کے تین دن کے دورے پر تھے۔ 2013 میں صدارت سنبھالنے کے بعد ہانگ کانگ کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے تاہم یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب سیاسی ماحول خاصہ کشیدہ ہے۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ

‘ہانگ کانگ ہمیشہ میرے دل میں ہے۔ بیجنگ کی مرکزی حکومت ہانگ کانگ کی ہمیشہ سے ہی حامی رہی ہے اور اس کی معاشی ترقی اور یہاں کے لوگوں کی زندگيوں کو بہتر بنانے کی ہمیشہ حمایت کرتی رہے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ‘ایک ملک دو نظام’ کا قانون استحکام کے ساتھ جاری رہے۔’

بیس برس کے مکمل ہونے پر کئی سرکاری تقریبات کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی جاری رہے۔ انتظامیہ نے اسی کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہوئے تھے اور شہر کے بعض راستوں کو بلاک کر دیا گيا تھا۔ صدر کی آمد سے پہلے ہی کئی ایسے کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا تھاجنہوں نے احتجاج کی کال دی تھی جن میں جمہوریت نواز گروپ کے طلبا بھی شامل تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہانک کانگ کی مرکزی حکومت کو کسی بھی طریقے سے چیلنج کرنا ناقابلِ قبول عمل ہوگا۔ خود انحصاری اور حتیٰ کہ آزادی کے مطالبوں میں اضافے کے باعث حالیہ برسوں میں ہانک کانگ میں سیاسی صورتحال کافی کشیدہ ہے۔

ہانگ کانگ میں سنیچر کے روز دسیوں ہزار افراد مظاہروں پر عائد پابندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے پولیس کی جانب سےکھڑی کی گئی روکاٹوں کو روندتے ہوئے پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر حملہ کیا۔ ہزاروں مظاہرین چین کی فوج کے ہیڈکوارٹر اور پارلیمنٹ کی بلڈنگ کے باہر جمع ہوئے۔ ہانگ کانگ کے ایڈمرلٹی ضلع میں مظاہرین نے پولیس پر پیٹرول بم بھی پھینکے۔ اس سےپہلے مظاہرین ہانگ کانگ کے رہنما کیری لیم کی رہائش کے سامنے جمع ہوئے۔ کیری لیم ہانگ کانگ میں نفرت کی نشانی بن چکے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس اور آبی توپوں کا استعمال کیا۔ پولیس نے مظاہرین پر آبی توپ کے ذریعے رنگ دار پانی پھینکا۔ رنگ دار پانی کی زد میں آنے والے مظاہرین باآسانی پولیس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ تازہ مظاہروں کی کال ہانگ کانگ میں مکمل جمہوریت کے لیے شروع کی جانے والے مہم کےپانچ سال مکمل ہونے پر دی گئی تھی۔ یہ مظاہرے ہانگ کانگ اور چین کی حکومت کی تمام تر کوششوں کےباوجود تھم نہیں رہے ہیں۔

مظاہروں میں شامل ایک بائیس سالہ طالبعلم ایرک نے خبر رساں ادارے روئٹر کو بتایا

‘ہمیں مظاہرے نہ کرنے کا بتانا ایسا ہی ہے جیسے ہمیں کہا جائے کہ سانس نہ لو۔ میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کے لیے جہدوجہد ہمارا فرض ہے۔ شاید ہم جیت جائیں، شاید ہم ہار جائیں لیکن ہم لڑیں گے۔’

حالیہ مظاہروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا کوئی رہنما نہیں ہے۔

ہانگ کانگ کی جمہوری تحریک کے رہنما جوشو وانگ نے ضمانت پر رہائی کے بعد بی بی سی سے کہا کہ مظاہرہ کرنا ہمارا بنیادی حق ہے اور ہانگ کانگ کے لوگ گلیوں میں جمع ہو کر صدر شی جن پنگ اور چینی حکومت کو پیغام دے رہے ہیں کہ لوگوں کی آواز سنو۔’

ہانگ کانگ میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ چین مظاہروں پر قابو پانے کےلیے شاید فوج کا استعمال کرے کیونکہ چین کا پہلا طیارہ بردار بحری بیڑہ ‘لیاؤننگ’ ہانگ کانگ پہنچ گیا ہے۔ یہ اس بیڑے کا چین سے باہر پہلا دورہ ہے اور یہ برطانیہ کی جانب سے ہانک کانگ کی چین کو حوالگی کے 20 برس پورے ہونے کے موقع پر لایا گیا ہے۔ لیاؤننگ کی علاقے میں موجودگی کو بعض لوگ بیجنگ کی جانب سے طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاہم ہانگ کانگ کے کئی لوگ اسے دیکھنے کے لیے مفت ٹکٹ کے حصول کے لیے قطاروں میں بھی کھڑے ہیں۔ اس بیڑے کے ساتھ تین جنگی جہاز بھی ہیں جو ہانگ کانگ کے تسنگ یی جزیرے کے پاس پانچ دن کے لیے لنگر انداز ہوں گے۔ 300 میٹر طویل طیار برادر بیڑہ دراصل سویت جہاز کوزنیتسوف کی تزیئن نو کر کے بنایا گیا ہے جسے چین نے سنہ 80 کی دہائی میں یوکرین سے خریدا تھا۔ یہ چین کی جانب سے عالمی سطح پر اپنی عسکری موجودگی کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

چینی حکومت ہانگ کانگ کو مزید سیاسی اور جمہوری آزادیاں دینے کی سوچ کی سخت مخالف ہے۔ چینی حکومت نے ایک مرتبہ پھر علیحدگی پسندوں سے سختروی کے ساتھ نمٹنے کا اعادہ کیا ہے۔ چین کے ہانگ کانگ اور ماکاو امور کے دفتر سے جاری ہونے والے ا یک بیان میں کہا گیا کہ چین کی حکومت ہانگ کانگ کے ‘خصوصی انتظامی خطے’ کی قانونی حیثیت پر سختی سے کاربند ہے لیکن انتخابی مہم کے دوران کچھ امیدوار کھلم کھلا آزادی کی بات کرتے رہے ہیں اور حکومت اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کو سزائیں دے سکتی ہے۔

ہانگ کانگ کے قانون ساز ادارے کے لیے گذشتہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں 30 جمہوریت پسند نوجوان امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ستر رکنی ایوان میں اس سے قبل 27 نمائندے ایسے تھے جو جمہوری آزادیوں کے حامی تھے۔ کونسل میں 30 جمہوریت نواز نمائندوں کے منتخب ہونے سے عددی طور پر انھیں یہ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ کسی بھی آئینی ترمیم کی منظوری کو ویٹو یا روک سکتے ہیں۔ منتخب اراکین میں کم از کم چھ ایسے نمائندے شامل ہیں جو ہانگ کانگ کے حق خودارادیت کے حامی ہیں۔ ان میں 23 سالہ ناتھن لا بھی شامل ہیں جنھوں نے سنہ 2014 میں ‘چھتری احتجاج’ کے نام سے شروع ہونے والی تحریک میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ ‘ڈومنسٹو پارٹی’ کے شریک بانی بھی ہیں۔ ان انتخابات میں بہت سے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے اس لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ کی آزادی کے بارے میں اپنی سوچ میں تبدیلی کو ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات سنہ 2014 کے عوامی احتجاج کے بعد پہلے الیکشن ہیں۔ سنہ 2014 کے احتجاج کئی ہفتوں تک جاری رہے تھے اور ہانگ کانگ کی آزادی کے حامیوں نے ہانگ کانگ کے مرکزی علاقوں کو مکمل طور پر بند رکھا تھا۔

۱ ستمبر ۲۰۱۹

Facebook Comments Box
ChinaHong KongHongkongجہاں تاب حسینچینہانگ کانگ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایک تھی بستی کالاباغ (ناول) — (قسط 4) حمید قیصر
next post
ادبیات، ’’ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نمبر‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.