تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمتنقیدعلم و ادبکالممعیشت

ہمارے عہد کا چیلنج The End of Poverty: Economic Possibilities for Our Time —- جیفر ے ساکس/ترجمہ: سلیمان قاضی

ہمارے عہد کا چیلنج  (Jeffrey Sachs) کی کتاب The End of Poverty: Economic Possibilities for Our Time کا آخری باب

by دانش ڈیسک 28/08/2020
written by دانش ڈیسک 28/08/2020
257

ہمارا عہد گزشتہ اڑھائی صدی کی اقتصادی پیش رفت کا امین ہے۔ ٹیکنالوجی کی روز افزوں ترقی کی بدو لت ہم فی الحقیقت 2025 تک ایسی دنیا کا تصور کرسکتے ہیں جو انتہا درجہ کی غربت سے پاک ہو۔ یہ عین ممکن ہے کہ ہم نہ صرف عالمی پیمانے پر بنیادی انسانی ضرورتیں پوری کرلیں بلکہ بنیادی ضرورتوں سے بھی ایک قدم آگے بڑھ سکیں کہ جسکی نظیر گزشتہ صدی میں نہیں ملتی۔ ٹیکنالوجی کی پیش رفت میں بنیادی سائنس میں جاری و ساری انقلابات نے مہمیز کا کام د یا۔ جبکہ ٹکنالوجی کے پھیلائو کے پیچھے عالمی منڈیوں کی طاقت اور صحت، تعلیم اور انفرا اسٹرکچر جیسے شعبہ جات میں سرکاری وسائل کی سرمایہ کاری کارفرما رہے۔ اور حیران کن امر یہ ہے کہ تھامس مالتھس کی تاریک بصیرت کے برعکس ہم اس تمام تر ترقی کا ٰٰٰٰحصول ایک ایسی عالمی آبادی کے لیے ممکن بنا سکتے ہیں جو  1750کے مقابلے میں آٹھ گنا بڑی ہے۔  ہمارا معاشی استحکام اڑھائی سو سال کی اقتصادی ترقی کا نتیجہ ہے۔ جبکہ اقتصادی و سماجی ترقی کے بارے میں ہمارے تصورات ان سماجی فلسفوں کا نتیجہ ہیں جو لگ بھگ صنعتی انقلاب کے زمانے میں ابھرے۔ اٹھارویں صدی کے دوران یورپ میں روشن خیالی کا عہد سماجی ترقی کے نئے تصورات کے متعارف ہونے سے عبارت ہے۔ صنعتی انقلاب برپا ہونے سے پہلے انسانیت صرف قحط، عالمی وبائوں اور انتہائی غربت کے ساتھ نہ ختم ہو نے والی پیہم نبردآزمائی سے ہی واقفیت تھی جنہیں جنگوں اور سیاسی مطلق العنانی کے نہ ختم ہو نے والے ادوار نے گمبھیر تر بنا دیا تھا۔ تاہم سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک نئے عہد کی ابتدائی روشنی میں یورپ بھر سے اور ابھرتی ہوئی ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جرأت مند، ذہین روشن خیال مفکرین نے ایسی ممکنہ پائیدار سماجی پیش رفت کی بابت تصورات پیش کئے جن کے تحت سائنس اور ٹیکنالوجی پر قابو پا کر سماجی سیاسی اور اقتصادی زندگی کی تنظیم میں پائیدار بہتری لائی جاسکے۔ ہم وہ سب لوگ جو ایک روشن مستقبل کے لیے کوشاں ہیں روشن خیالی کے ان بے مثال دانش وروں کے معترف ہیں جنہوں نے اول اول سوچے سمجھے سماجی اقدامات کے ذریعے عالمگیر پیمانے پر انسانی احوال میں بہتری آنے کے امکان کی جھلک دیکھی۔ روشن خیالی کے عہد کے چار ہمہ گیر تصورات آج کے دور میں بھی ہماری سوچ کو متاثر کرتے ہیں۔ امریکی جمہوریہ کے بانیوں جیسے تھامس جیفرسن وغیرہم نے، جو بذات خود انگریز مفکرین جیسے جان لاک اور ڈیوڈہیوم کے شاگرد تھے، واضح کیا کہ سیاسی ادارے انسانی اختراع ہیں (خدائی صحیفہ نہیں) لہٰذہ انہیں وضع کرتے وقت سوسائٹی کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ جیفرسن کے قول کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے ’’حکومتیں آدمیوں کے بیچ منظم ہو تی ہیں‘‘ جن کا مقصد ’’زندگی، آزادی اور مسرت کی جستجو‘‘ جیسے حقوق کو تحفظ فراہم کر نا ہے۔ امریکہ اور فرانس کے انقلاب کے بعد اس بات کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی کہ سیاسی نظام فرمانروائوں کے الوہی حق حکمرانی یا مذہبی پیشگوئیوں کی حجت پر قائم رکھے جائیں۔ چنانچہ اب حکومتوں کے لیے کارکردگی دکھانے کا بڑا امتحان یہ ہے کہ آیا وہ انسانی احوال میں بہتری لاسکیں یا نہیں۔ جیسا کہ جیفر سن رقمطراز ہے کہ

’’جب کبھی کوئی حکومت ان نتائج کے حوالے سے تباہ کن ثابت ہو رہی ہو تو عوام کا حق ہے کہ ایسی حکو مت میں تبدیلی لا ئیں یا اسے کا لعدم کر کے ایک ایسی حکومت تشکیل دیں جو ان اصولوں پر قائم ہو اور اس حکو مت کی طاقت کو اس انداز میں منظم کریں جو ان کے نزدیک انکی حفاظت اور مسرت کو یقینی بنانے میں سب سے زیادہ امکانات کی حامل ہو‘‘۔

آدم سمتھ کو یقین تھا کہ اقتصادی نظام کو بھی انسانی ضروریات کی تکمیل کے لیے اسی انداز میں تشکیل دیا جا سکتا ہے اور اس کے اقتصادی ڈیزائین جیفرسن کے سیاسی ڈیزائین کے متوازی چلتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قوموں کی دولت (The Wealth of Nations ) اور آزادی کا اعلامیہ (the Declaration of Independence) ،دونوں 1776ء میں منظرعام پر آئے۔ گو کہ آج بہت سے لوگ سمتھ کو زیادہ تر اسکی شاندار بصیرت کے حوالے سے جانتے ہیںجس کا اظہار اس نے منڈی کی قوتوں کے پیش نظر تقسیم کار کی خود کار تنظیم (self-organizing division of labor) -جسے عرف عام میں نادیدہ ہاتھ کہتے ہیں-  کی تشریح میں کیا۔ اسمتھ ر یاستی اثر سے پاک آزاد منڈی کا کٹر حامی تھا۔ "قوموں کی دولت” کی کتاب پنجم کا بیشتر حصہ سمتھ نے اس بحث پر صرف کیا ہے کہ دفاع، انصاف اور انفراسٹرکچر اور تعلیم کے شعبہ جات کے حوالے سے ریاست پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اور یہ وہ شعبہ جات ہیں جن کے ذریعے نجی منڈی کی طاقتوں کو تقویت دینے یا ان کا متبادل فراہم کرنے کی اجتماعی کو ششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جرمنی کے قدآور روشن خیال فلسفی عمانیول کانٹ نے انسانی ترقی کے ہمارے جدید تصورات میں تیسری بنیاد فراہم کی۔ اس کا مطالبہ ایک ایسے عالمگیر طرز حکمرانی کے لیے تھا جو قدیم دور سے چلی آتی لعنت یعنی جنگ کا خاتمہ کر دے۔ 1795؁ میں کانٹ اس بات سے بحث کررہا تھا کہ اگر مطلق العنان بادشاہوں کی جگہ بین الاقوامی تجارت سے مربوط خود مختار جمہوریتیں لے لیں تو اقوام عالم کے مابین دائمی امن کا  حصو ل ممکن ہے۔ کانٹ نے یہ سمجھایا  کہ باد شاہوں کو جنگیں مسلط کرنے کی ترغیب اس لیے ہو تی ہے کہ جنگ کی و جہ سے حکمران کو "اپنے دستر خوان، شکار کے جانور، ذاتی مکانات، دربار کے معمولات وغیرہ جیسے مزوں سے ذرا بھر بھی نہیں خرچ کر نا پڑتا، سو وہ جنگ کا رخ بھی ایسے ہی کرتا ہے جیسا کہ بلاوجہ معمو لی سی بات پر جشن کی دعوت دے ڈالنا۔ اور پھر کمال بے نیازی سے جنگ کا جواز بنانے کا کام سفارتی دستوں کے حوالے کر دیتا ہے جو ہمیشہ اس کام کے لٔیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں”۔ اسکے برعکس ایک جمہوریت میں ’’جنگ کے اعلان کے لیے عوام کی رضامندی درکار ہوتی ہے‘‘۔ـ’’اس سے بڑھ کر عین فطری بات ہو نہیں سکتی کہ (عوام جنگ جیسا) نامعقول کھیل شروع کرنے سے احتیاط کریں جسکے سراسر نقصانات انہی کو بھگتنے ہوں گے‘‘ جن میں ’’لڑائی لڑنا، اپنے وسائل سے جنگ کی قیمت ادا کرنا، جنگ کی تباہی و بربادی کے بعد مرمت و تعمیر کا تکلیف دہ کام کرنا، اور برائیوں کے اقدامات کی تکمیل، قومی سطح کے بھا ری بھرکم قرضے کا بوجھ اپنے کاندھوں پر ا ٹھانا…‘‘ کانٹ نے دیکھا کہ بین الاقوامی اقتصادی لین دین بین الاقوامی تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔” اقتصادی لین دین کی روح جو جنگ سے میل نہیں کھاتی، جلد یا بدیر ہر ریاست میں بالادستی حاصل کرلیتی ہے۔ اب چو نکہ پیسے کی طاقت پر شاید ریاست کے ماتحت دیگر تمام طاقتوں کے مقابلے میں، زیادہ بھروسہ کیا جاسکتا ہے اس لئے ریاستیں، بنا کسی اخلاقی حاجت (حجت) کے، مجبور ہو جاتی ہیں کہ آبرومندانہ طریقے پرامن کو فروغ دیں اور جہاں کہیں جنگ پھوٹنے کا خطرہ ہو اسے گفت و شنید کے ذریعے ٹال دیں”۔ سی آئی اے کی ٹاسک فورس کی تحقیقات سے ملنے والا یہ سبق کہ ریاستی ناکامی کی صورت میں کھلی معیشتوں open economies کے بند معیشتوں کے مقابلے میں بچ نکلنے کے امکانات زیادہ ہو تے ہیں، کانٹ کے الفاظ کی ہی بازگشت ہیں۔ دائمی امن کے حصو ل کے لیے کانٹ نے "آزاد ریاستوں کی فیڈریشن” کا تصور دیا جسے ٹھیک 150 سال بعد معرض وجود میں آنے والی اقوام متحدہ کے تصور کا پیشرو سمجھا جاتا ہے۔ کانٹ کی فیڈریشن یا "لیگ” کو کسی ریاست کی قوت پر برتری حاصل نہیں ہونا تھی بلکہ لیگ میں شامل تمام ریاستوں کے لیے انکی انفرادی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا”۔ کانٹ کا کہنا تھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ایسی فیڈریشن تمام دیگر ریاستوں تک پھیل جائے گی”۔ روشن خیالی کے ہمہ گیر تصور میں چوتھی بصیرت جو جیفرسن کے انسانوں کے تشکیل کردہ سیاسی نظاموں، سمتھ کے عقل پر مبنی اقتصادی نظاموں اور کانٹ کے دائمی امن کے لیے عالمگیر انتظامات کے تصورات کی ہمرکاب ہے وہ استدلال پر مبنی سائنس اور ٹیکنالوجی ہے جو انسانوں کے لئے بہتری اور سماجی پیشرفت کے لئے ایک دائمی وسیلے کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ جدید سائنس کے اولین فلسفی سر فرانسس بیکن، جس نے 1620ء میں یہ رائے دی تھی کہ سائنس "فطرت میں ایک دیا روشن کرسکتی ہے”، کی پیروی میں فرانس کے ممتاز رو شن خیال فلسفی ماری -جین-انتوائن کونڈروسیٹ Marie-Jean-Antoine Condorcet نے شاندار طریقے پر یہ پیش بینی کر لی تھی کہ سائنس و ٹیکنالوجی پائیدار سماجی بہتری میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

1794؁میں اس نے انقلاب فرانس کے ان جیکوبین بنیاد پرستوں سے چھپتے چھپاتے، اپنا معرکۃ لآرا ” انسانی ذہن کی پیش رفت کی تاریخی تصویر کے لیے خاکہ” (Sketch for a Historical Picture of the Progress of the Human Mind) تیکھے اندازمیں تحریر کیا جن کے ہاتھوں وہ بعد ازاں گرفتار ہوا، قید کاٹی اور اگلے ہی برس بے وقت راہی عدم ہوا۔  کونڈرو سیٹ تاریخ کے معدودے چند لوگوں کی مانند مستقبل میں جھانک سکتا تھا۔ اس نے نہایت صحت کے ساتھ پیش گوئی کر دی تھی کہ سائنسی انکشافات مزید دریافتوں کا ایک زنجیری عمل شروع کر دیں گے جس کے باعث "سچائیوں کا حقیقی اجتماع ایک نظام تشکیل کر دے گا جس میں تجرباتی اور ریاضیاتی علوم مستقلًا ترقی کرسکیں گے”۔ اس کے خیال میں "مفید فنون” کی ترقی بھی بعینہ "لازماً انہی سائنسی علوم کی ترقی کی پیروی کریں گے جن پر ان علوم کا نظریاتی انحصار ہے اور اس کے سوا ان فنون کی کوئی اور حد نہ ہو گی”۔ مثلاً اس نے چشم تصور سے دیکھا کہ زمین کے ایک چھوٹے سے قطعے سے کہیں زیادہ کارآمد اور قابل قدر پیداواریں حاصل ہوں گی… یہ ممکن ہو گا کہ، ہر قسم کی مٹی کے لیے، سب سے زیادہ ضرورتوں کی تکمیل کرنے والی فصلیں چنی جائیں اور مزید یہ کہ یکساں طور پر ضرورتوں کی تکمیل کرنے والی فصلوں میں سے بھی ایسی فصلیں چننا ممکن ہوگا جو اگانے میں سہل ہونگی”۔ اس نے دعوی کیا کہ "معالجات میں ترقی، صحت بخش غذائوں، بہتر رہا ئش اور ورزش کے ذریعے توانا رہنے کا طرز زندگی … ان کے سب طفیل انسانی زندگی کا اوسط دورانیہ اور نوع انسانی کے لیے مستقل صحت مند رہنا یقینی ہو جائیں گے۔ یہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ حفظان صحت کے شعبے میں پیش رفت جسے عقل اورسماجی نظم و ضبط میں ترقی سے معاونت ملی ہے کے باعث بالآخر چھوت چھات اور لگنے والی بیماریوں سے بھی چھٹکارا مل جائے گا اور ان امراض سے بھی جو آب و ہوا، خوراک یا حالات کار کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں”۔ کونڈور سیٹ اپنے دیگر روشن خیال مفکر ساتھیوں طرح ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے عوامی تعلیم) (public education پر بے تحاشا زور دیتا تھا۔ تعلیم افراد کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے اتایوں سے دامن بچانے، بیکار یا نقصاندہ توہمات سے گلوخلاصی کرنے اور اپنے اخلاق ethics اور انسانی ہمدردی اور اچھے اخلاق moral goodness کو سنوارنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ جتنی تعلیم بڑھے گی، بشمول سماجی و سیاسی اصولوں کی تعلیم کے حوالے سے- سارا سماج اتنا ہی پرامن، شانت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ "پس ان {سیا سی}علوم میں بنیادی تدریس میں مستقل توسیع ہمیں نوع انسانی کی ان منزلوں کے لیے معاون ہو گی جن کا کوئی انت نہیں”۔ کونڈورسیٹ کو بھی کانٹ کی طرح اس بات کا یقین تھا کہ عقل محض جنگ و جدل میں کمی لاسکتی ہے: "نہایت روشن خیال لوگ جو خون و مال و دولت میں اضافے کے حق کے حصول کے لیے کوشاں ہوں، بتدریج یہ جان لیں گے کہ جنگ سب سے تباہ کن مصیبت اور سب بے بڑا جرم ہے”۔  روشن خیالی کے وعدوں میں سے ایک عمیق ترین اور سب سے اہم وعدہ یہ تصور تھا کہ سماجی پیش رفت سب کے لیے ہو گی نہ کہ دنیا کے ایک محدود گوشے، مغربی یورپ، کے لیے۔ ممتاز روشن خیال لوگوں میں سے ہر ایک انسانوں کی برابری پر یقین رکھتا تھا اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ دنیا کا ہر انسانی معاشرہ معاشی پیش رفت میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ سب آدم سمتھ کے اس خیال پر یقین رکھتے تھے کہ عالمی تجارت جسے ہم آج عالمگیریت globalization کہتے ہیں اس عمل کو مہمیز کر سکتی ہے۔

اگرچہ آزاد تجارت کے حوالے سے سمتھ کو اولیت حاصل ہے اور وہ یقینا ََعالمگیریت کا حواری تھا لیکن اسے اس مظہر کے خدشات اور خطرات کا بھی اندازہ تھا۔ اسے یہ غلط فہمی نہیں تھی کہ عالمگیریت خود بخود ٹیکنالوجی اور تقسیم محنت کے فائدوں کو پھیلادے گی۔ سمتھ نے بڑی فصاحت کے ساتھ یہ واضح کیا کہ کس طرح یو رپ اور شرق الہند (جنوب و جنوب مشرقی ایشیا) اور غرب الہند (کیریبین) کے مابین بحری تجارت نے یقینا غیریورپی آبادیوں کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ جیسا کہ وہ کہتا ہے: "تاہم شرق اور غرب الہند کے مقامی باشندوں کے لیے تجارتی منافع (جو نئے تجارتی راستے کھلنے سے حاصل ہونا تھا) انکی خوفناک بدبختی کے باعث نابود اورغرق ہو گیا”۔ سمتھ کہتا ہے کہ مسئلہ بین الاقوامی تجارت کے ساتھ نہیں تھا بلکہ امریکہ اور ایشیاء کے مقامی لوگوں پر یورپ کی فوجوں کی چڑھائی تھا۔ عین اس وقت جب یہ (بحری) راستے دریافت ہوئے یورپ کی طاقت کا پلڑا اتنا بھاری تھا کہ انہیں ان دور دراز ملکوں میں کھل کر ہر طرح کی ناانصافی کرنے کا موقع مل گیا۔ سمتھ وہ دن دیکھ رہا تھا جب مستقبل میں شرق اور غرب الہند کے باسی اس قسم کی لوٹ مار کے خلاف مزاحمت کے لیے کافی طاقت حاصل کرلیں گے، اور اسے محسوس ہوتا تھا کہ عالم گیریت وہ دن جلد دکھائے گی: "لیکن طاقت میں اس برابری کو قائم کرنے میں کوئی بھی چیز اتنی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی جتنی کہ بڑے پیمانے پر تمام ممالک کے مابین فطری بلکہ ضروری تجارت جو علم اور ہر طرح کی بہتری کے لیے باہمی رابطے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتی ہے۔” ہمارے عہد کی باری روشن خیالی کے ان چار سرخیلوں جیفرسن، سمتھ، کانٹ اور کونڈورسیٹ کے تصورات کے فروغ کے لیے ہمارے پاس ایک دم بخود کر دینے والا زبردست موقع ہاتھ آیا ہے۔ روشن خیالی کی اصطلاحوں کے حوالے سے ہمارے عہد کا کام درج ذیل انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے: – عوام کی ر ضامندی کے ساتھ ایسے سیاسی نظاموں کے پھلنے پھولنے کے لیے مدد کی فراہمی جو انسانی بھلائی کے لیے کوشاں ہوں۔ – ایسے اقتصادی نظاموں کے قیام کے لیے تعاون جو سائنس و ٹیکنالوجی اور تقسیم کار سے حاصل ہونے والے فائدوں کو دنیا کے ہر حصے تک پھیلا دیں۔ – دائمی امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کے لیے تعاون۔ – عقل محض پر مبنی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانوں کے کیے اصلاح احوال کی کوششوں کے فروغ کے لیے تعاون  یہ سب کام بڑے بڑے ہیں اور دل گردے کا تقاضا کرتے ہیں، جیسا کہ دوسو سال سے چلا آرہا ہے، لیکن اس کے شیریں ترین پھلوں میں سے بہت سے عین ہماری دسترس میں آگئے ہیں۔ روشن خیالی میں رونما ہونے والا جمہوری انقلاب اب دنیا کی آدھی سے زائد آبادی میں رائج ہے۔ کانٹ کی بصیرت کے مطابق آزاد ریاستوں کی فیڈریشن کا تصور آج اقوام متحدہ اور اسکے 191 ممالک کی صورت میں موجود ہے۔ کونڈور سیٹ کا خودانحصاری سے متصف سائنسی انقلاب اپنی راہ پر گامزن ہے اور سائنس کو بروئے کار لاکر انسانیت کو عرصے سے لاحق چند عظیم مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے اور سمتھ کا معاشی دولت پھیلانے کا تصور فوری طور پر قابل حصول ہو گیا ہے۔ شدید ترین غربت کا خاتمہ بذات خود اب صرف دو دہائیوں میں مکمل ہو گیا ہے۔  بیسوی صدی اور ہماری صدی میں دانشوورں کے بہت سے حلقوں میں یہ کہنے کا فیشن ہو گیا کہ روشن خیالی کا تصور ناکام ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ اسے انسانیت کے لیے ہی خطرہ قرار دے دیا گیا۔

مخالفین کے ایک گروہ کا دعو ی یہ تھا کہ انسانی عقل محض کے بجائے غیر منطقی جذبات سے مغلوب ہو جانے والی نوع ہے۔ ان ناقدین کا کہنا ہے کہ گرچہ روشن خیالی نے وعدہ ترقی کا کیا لیکن اسکے برعکس تباہ کن جنگیں، ہولو کاسٹ، جوہری ہتھیار اور ماحولیاتی تباہی عطاء کیے۔ چند پنڈت آج یہ کہتے ہیں کہ ترقی ایک فریب نظر ہے- یہ انسانی زندگی اور تاریخ کے بارے میں ایسا زاویہ نگاہ ہے جو جذبات کی ضرورتوں کو تو پورا کرتا ہے،منطق و عقل کی نہیں۔ میرے نقطہ نظر کے مطابق یہ خیالات غلط بلکہ خطرناک حد تک غلط ہیں۔ علمی لحاظ سے دیکھیں تو ہرچند بعض چیلنجز اور آفات سے تاحال نمٹا نہیں جاسکا لیکن دو صدیوں سے مسلسل جاری سائنسی اور تکنیکی ترقی اور انسانی ضرورتوں کی تکمیل، یہ سب حقیقت ہیں۔عالمی جنگوں اور شدید غربت کا جاری و ساری رہنا جیسے حقائق اس پہلو کی نفی نہیں کرتے کہ طویل عر صے سے اور مستقل بنیاوں پر عالمی معیار زندگی بہتر ہوتے جارہے ہیں اور شدید غربت کے تحت جینے والی عالمی آبادی کی شرح میں کمی ہو رہی ہے۔ ترقی کے ہونے کا دعوٰی درست ہے بجز اس کے کہ کوئی اسے انتہائی کمال کی ترقی کا دعوٰی گردانے۔ ہاں روشن خیالی کی رجائیت نے واقعتا چند مفکرین کو دو قسم کے مغالطوں میں گرفتار کر دیا۔ ایک ناگزیریت (inevitability) کا مغالطہ تھا: یعنی یہ مفروضہ کہ انسانی منطق لازما ً جذبات پر حاوی ہو جائے گی۔ انیسوی صدی کے اثبات پسندوں (positivists) مثلاً آگسٹ کمتے (Auguste Comte) نے ترقی کی ناگزیریت سے بحث کی اور اس لیے جب جنگوں اور بربریت کے ہا تھوں انسانیت کا حشر ہوتے دیکھا تو روشن خیالی کی روایت کے بارے میں ہی مشکوک ہو گئے۔ دوسرا مغالطہ تشدد کے حوالے سے تھا، کہ اجتماعی جبرکے ذریعے عقل اور ترقی پر مبنی معاشرے کے قیام کا عمل تیز ہو جائیگا۔ لینن، سٹالن، مائو اور پول پوٹ نے سماجی ترقی کے نام پر تشدد کو ظالمانہ فروغ دیا۔ ان لوگوں نے اپنے ہی لاکھوں ہموطنوں کو مار ڈالا اور اپنے ہی معا شرے کو بے حوصلہ اور غریب بنا دیا۔ لہذا ترقی کے ناقدین کو بیچ میں ہی ٹوک دینا چائیے۔ ترقی ممکن ہے، لیکن لازمی نہیں۔ عقل اور دانش کو بروئے کار لا کر سماجی بہتری کو فروغ دیا جاسکتا ہے، لیکن تباہ کن جذبات منطق پر حاوی بھی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ انسانیت پر مبنی اداروں کو منطقی بنیادوں پر استوار کیا جائے تا کہ انسا نی رویوں کی غیر منطقی جہت پر گرفت کی جا سکے۔ یوں روشن خیالی کی منطق کو اساس بنانے کی کمٹمنٹ انسانی فطرت کی غیر منطقی جہت سے انکار نہیں کرتی بلکہ اس یقین کی حامل ہے کہ باوجود انسانی فطرت میں جذبات اور خلاف عقل عنصر ہونے کے، انسانی فکر کو سائنس،عدم تشدد اور تاریخی عکاسی کے ذریعے استعمال میں لاکر انسانی بہبود اور سماجی تنظیم سے متعلق بنیادی مسائل کے حل کے لیے ا ستعمال کیا جا سکتا ہے۔

رد عا لمگیریت کی تحریک اکیسوں صدی کے آغاز میں ترقی کے لیے روشن خیا لی کی امیدیں جو ہزاریے کے ا علامیے اور ہزاریے کے ترقیا تی مقاصد (Millennium Declaration and the Millennium Development Goals) کی صورت میں ڈھل گئی تھیں جنگ، ایڈز کے مرض، اور لاطینی امریکہ افریقہ اور ایشیاء کے بڑے بڑے خطوں میں ا نتہاء درجے کی غربت کے چیلنج سے نبرد آزما ہو گئیں۔ بلند بانگ دعووں کے برعکس معمولی نتائج نے ردعالمگیریت کی اس تحریک کو چنگا ری دکھا دی جو نومبر 1999ء  میں سیا ٹل کے گلی کوچوں میں رائے عامہ میں ڈرامائی انداز میں داخل ہو گئی۔ ردعالمگیریت کی تحریک سے میری مڈبھیڑ تب سے جاری ہے جب سے اس تحریک نے جنم لیا ہے۔ بلکہ 1999؁ ء کے اولین عوامی مظا ہرں کا میں عینی شاہد ہوں۔ اس روز میں سیاٹل میں غریبوں کے لیے ا نفارمیشن ٹیکنالوجی کے بارے میں گیٹس فا ئو نڈیشن کی منعقد کردہ اس کانفرنس میں شریک تھا جو عالمی تجارتی تنظیم World Trade Organization (WTO) کے تحت ہونے والی وزرا کی میٹنگ کے قریب جاری تھی۔ WTO کی اسی تقریب کی وجہ سے ا حتجاج کرنے والے سیا ٹل میں اکھٹے ہوئے۔ میں سیاٹل کے شہری مرکز سے گزرتے ہوے ٔا حتجاج کرنے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہاں ہر قسم کے مظاہرین تھے جنگ کے مخالف اور تجارت کے مخالف خصوصا ً کارپوریٹ کے مخالف۔ میرے ہمقدم بل گیٹس سینئر تھے، مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس جونیئر کے والد اور گیٹس فائونڈیشن کے صدر۔ میں نے ان کے کان میں کہا کہ اچھا ہے مجمع انکو نہیں پہچانتا! کیا زبردست ستم ظریفی ہے کہ گیٹس فائو نڈیشن دنیا میں غریب ملکوں کے لیے پبلک ہیلتھ کے فروغ کے حوالے سے صف اول کی فائونڈیشن ہے۔ لیکن ردعالمگیریت کی تحریک کے نزدیک کثیر القومی کمپنیاں جیسے ما ئیکروسوفٹ، مسئلے کا حصہ ہیں اس کا حل نہیں۔ سیا ٹل کے بعد سے سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ ہر بین الاقوامی کانفرنس تک دراز ہو گیا۔ گلیوں میں احتجاج کرنے والوں نے G8کے رہنماوں کو، جو بظاہردنیا کے طاقتور ترین لوگ ہیں، مجبور کر دیا ہے کہ وہ حتی الامکان احتجاج کرنے والوں کی دسترس سے بہت دور غیرمعروف جزیروں، پہا ڑوں کی چوٹیوں اور دیگر محفوظ مقامات پر جا کر اپنی سالانہ میٹنگ کیا کریں۔ آج پورٹوالیگرے، برازیل میں ورلڈ سوشل فورم اسٹیج پر ڈاوس ورلڈ اکنامک فورم (Davos World Economic Forum) کے مدمقابل کھڑا ہے۔ نجکاری کے بارے میں عالمی رپورٹنگ میں سبقت حاصل کرنے میں عالمی کاروباری رہنما ئوں کو سماجی کارکنوں activists سے کانٹے دار مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ عا لمی اقتصادی اداروں IMF اور World Bank نے اپنی سالانہ میٹنگ کا دورانیہ ہفتے بھر سے گھٹا کر چند کاروباری دنوں تک محدود کر دیا ہے۔ رد عالمگیریت کی تحریک نے اپنا رنگ جما یا ہے اور میری رائے میں یہ مثبت اثر ہے (ماسوائے ان پرتشدد لمحوں پرکہ جنہیں تحریک کے چند بیرونی عناصر نے اکسایا ہے)۔

میں مجموعی اعتبارسے اس تحریک کا معترف ہوں کہ اس نے طاقتوروں کی برس ہا برس سے جاری خود ستائش اور عالمی ا نتظام میں ہونے والی نالائقیوں اور منافقتوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ سیا ٹل سے پہلے G8, IMF اور عا لمی بنک کی میٹنگز کا مطلب عالمگیریت کے لیے بے جا تعریف اور بنکاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے خوشحالی کے پھیلائو میں انکی خدمات کے اعتراف میں ستائش باہمی کے ا عزازات ہوتا تھا۔ تقریروں اور نہ ختم ہو نے والی کاک ٹیل پا رٹیوں میں دنیا کے غریبوں، ایڈز کی عالمی وباء، بے آسرا اقلیتوں، حقوق سے محروم عورتوں اور انسانی ہا تھوں ہونے والی ماحولیاتی بریدگی کا تذکرہ کم کم ہی ہوتا تھا۔ سیاٹل کے واقعے کے بعد سے انتہائی غربت کے خاتمے، حقوق انسانی، اور ماحول کی بریدگی کے حوالے سے کام کرنے کا ا یجنڈا ایک بار پھر عالمی ایجنڈے کا حصہ بن گیا ہے اور، اگرچہ شاذ ہی سہی، عالمی ذرائع ابلا غ کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ لیکن بھلے میں ردعالمگیریت کے راہنمائوں کا، امیروں کی بے نیازی، سست روی کے حوا لے سے، ا خلاقی مؤقف کا معترف ہوں تاہم مجھے انہی رہنمائوں کی بہت سی باتوں سے اختلاف بھی ہے۔ ا گرچہ ردعالمگیریت کی تحریک کو جائز طور پر شہ اخلاقی بنیادوں پر اٹھنے والے غم و غصے سے ملی ہے لیکن میری رائے میں اس کا رخ اکثر سطحی قسم کے اہداف کی جانب موڑ دیا جاتا رہا ہے۔ تحریک کے قلب میں کارپوریٹ مخالف عنصر موجود ہے جس کا ماننا ہے کہ کثیرالاقوامی کمپنیاں، جیسے مائیکرو سوفٹ، کوک، میکڈانلڈ اور رائل ڈچ شیل اور بہت سے دوسرے غربت کا سبب اور ماحولیاتی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ تحریک نے پالیسی سے متعلق سفار شات عموما کلاسیکی حفاظت classical protectionism کے نقطہ نظر سے بیان کی ہیں جن کا مقصد غریب ممالک کو امیر کارپوریشنوں کی استحصا لی دسترس سے محفوظ بنانا ہے۔ تحریک نے با لخصوص WTO کو نشانہ بنا یا ہے کیو نکہ یہ ادارہ دنیا کی صف اول کی کمپنیوں کو اپنے عالمی کاروبار کی اجازت دیتا ہے۔ ردعالمگیریت کے بارے میں بنیادی تصورات نئے نہیں ہیں۔ یہ تصورات مجھے 1994 میں نئی دہلی میں میرے مشاہدے کی یاد دلاتے ہیں جب ا نڈیا کے تعلیمی شعبے سے متعلق لوگوں نے ملک میں 1991؁ میں شروع کی گئی آزاد تجارت اور سرمایہ کاری کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا… اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ردعالمگیریت تحریک دیکھتی کہ 1990؁ سے آج تک کسی بھی اور چیز کے مقابلے میں عالمگیریت کے باعث ا نڈیا میں شدید غریب ترین افراد کی تعداد میں دو ملین کمی آئی ہے اور چین میں تین ملین کمی۔ بنا کسی کثیرالاقوآمی کمپنیوں کے استحصال کے یہ اور ایسے دیگر بہت سے ممالک براہ راست بیرونی امداد FDI) (اور اسکی بیشتر برآمدات میں اضافے ایسی مثا لیں قائم کرنے کے قابل ہو سکے جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔

میرا خیال ہے کہ ردعالمگیریت کی تحریک کے رہنما ئوں کا موقف اخلاقی اور اصولی ا عتبار سے درست ہے لیکن ان سے عمیق مسائل کی تشخیص میں چوک ہوئی ہے اگر وہ شکل نمبر  1کے اعدادوشمار پر غور و فکر کرتے جس میں لا طینی امریکہ، ا یشیا اور افریقہ ایسے ممالک میں 1992؁ سے 2002؁ کے دوران مجموعی بیرونی امداد (foreign direct investment- FDI) فی کس حساب سے دکھائی گئی ہے تو وہ جان لیتے کہ جن جن ممالک میں فی کس بیرونی امداد (FDI) زیادہ ہے، وہیں فی کس ملکی پیداوار (GNP) بھی زیادہ ہے۔ دیگر تحقیقی مطالعے بھی ثا بت کرتے ہیں کہ FDIکی اونچی شرح کا تعلق تیز تر اقتصادی ترقی سے بنتا ہے۔  جہاں تک افریقہ کے مسائل کا سوال ہے تو میں نے یہ باربار نوٹ کیا ہے کہ ان کا باعث عالمی سرمایہ کاروں کا استحصال نہیں بلکہ افریقہ کی اقتصادی اعتبار سے تنہائی economic isolationہے اور یہ کہ اس کی براعظمی حیثیت کو عالمگیریت کی طاقتیں زیادہ تر محل نظر کر دیتی ہیں۔ یہی بات تجارت کے لیے صادق آتی ہے جیسا   کہ ہم شکل نمبر 2 میں دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ممالک جہاں کھلی تجارت (open trade) جاری رہی وہاں بند تجارت پر کاربند رہنے والے ممالک کے برعکس عموما” تیز تر بڑھوتری ہوئی۔ زیادہ تر ملکوں میں فی کس آمدن میں اضافے کا تعلق عمو ما” تجارت (برآمدات +درآمدات) اور GDPکے مابین بڑھتے ہوئے تناسب کے ساتھ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد استعماری حاکمیت کا خاتمہ ہوا تو چند ایک ملکوں نے کھلی تجارت کی پالیسی ا ختیار کی جبکہ زیادہ تر ترقی پزیر ممالک نے تحفظ (protectionism) کی راہ لی۔ کھلی معیشتوں نے فیصلہ کن ا نداز میں بند معیشتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 1990؁ کے اوائل میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک نے کھلی تجارت کو قبول کیا اور عرصوں سے جاری بھاری محصولات (tariff) اور کوٹہ جیسی رکاوٹوں سے جان چھڑائی۔ صاف بات ہے کہ اس بات کی ایک بھی شہادت موجود نہیں کہ تجارت میں تحفظ یا کثیرالاقوامی کمپنیوں کی عدم موجودگی شدید غربت کے خاتمے میں ذرا بھر بھی کردار ادا کرتے ہوں تو پھر کیا بات ہوئی کہ رد عالمگیریت کا پہلا حملہ تجارت اور کارپوریشنوں پر ہوا؟ پہلی بات تو یہ کہ بہت سی کمپنیوں کا طرز عمل برا رہا ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے کارپوریٹ کی بری بلکہ بدعنوان حرکتوں کو طشت از بام کیا بلکہ ان کی صفائی کرانے میں بھی کامیاب رہے۔ یہ احتجاج کرنے والوں کی دین ہے کہ آج امریکہ اور یورپ کی کمپنیاں جن سستے پلانٹوں سے ملبوسات اور کپڑا خریدتی ہیں بلا شبہ انکے کم تنخواہ پانے والے کاریگروں اور مزدوروں سے زیادہ شائستگی اور وقارسے پیش آتی ہیں۔ آئل کمپنیاں جو کبھی افریقہ کے استثنا رکھنے والے رہنمائوں کو رشوت دیتی تھیں آج ایسا کرنے سے پہلے دو فعہ سوچتی ہیں بلکہ اجتناب کرتی ہیں کیونکہ وہ جان چکی ہیں کہ احتجاج کرنے والوں کی نظریں ان پرہیں اور اس بات سے آگاہ ہیں کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے مزاحمت اور کارپوریٹ کی بدنامی آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ٍ دواسازاداروں کے ایگزیکٹو جن کے پیٹ میں یہ درد رہا کرتا تھا کہ اپنی پیٹنٹ کے ذریعے تحفظ دی گئی ادویات کی من چاہی قیمت مقرر کر لیں آج تحریک کی کامیابی کی وجہ سے مجبور ہو گئے ہیں کہ یا تو ادویات عطیہ کے طور پر اوریا پھر صفر منافع کی بنیاد پر فراہم کریں۔ ردعالمگیریت اور کاروبار مخالف رویوں کی ایک وجہ سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت تھی اور یہی بات ایک بڑی غلط فہمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ احتجاج کرنے والوں میں سے بے تحاشہ ایسے ہیں جنہیں علم نہیں کہ ایڈم سمتھ بھی انہی لوگوں کے ا خلاقی جذبات کا حامل تھا اور ا نہی کی طرح سماجی ترقی کے لیے عملی ا قدامات کا داعی تھا اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ تجارت اور سرمایہ کاری کی حمایت کرنے والے لوگ بھی غریبوں اور ماحول کی ضرورتوں کے لیے حکومت کی رہنمائی میں عملی اقدامات کے قائل بھی ہوسکتے ہیں۔ بہت سے احتجاج کرنے والوں کو خبر نہیں ہے کہ بیک وقت تجارت اور منڈی کی قوت پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ دونوں شعبوں کی کمزوریوں کے بارے میں آگاہ بھی ہوا جاسکتا ہے۔ ان کی تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے اس انسانی پہلو کے امکانات کے بارے میں شدید قنوطیت کا شکار ہے جس کے تحت تجارت اور سرمایہ کاری کی غیرمعمولی قوت کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے اس نظام کی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہوئے اور ان کی ا صلاح کے لیے اجتماعی تعاون کی راہ اختیار کی جاسکتی ہے۔ بنیادی طور پر عالمی ماحولیاتی بحران BP یا Shell یا Exxon Mobil کمپنیوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہیں نہ ہی AIDS کی عالمی وبا Pfizer یا Merck کمپنیوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے اور نہ ہی ان مسائل کا حل توانائی یا ادویہ سازی کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کی خونریزی کر دینے میں ہے۔ مسائل کے حل قومی اور بین الاقوامی سطح کی ان پبلک پالیسیوں میں ملیں گے جو آب و ہوا کو بدلنے والی گیسوں کے اخراج کی انتظام کو مناسب طور پر سنبھالتی ہیں اور جو زندگی بچانے والی ادویات کو ان غریبوں کی دسترس میں لانے کے لیے مناسب اقدامات کرتی ہیں جو انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ردعالمگیریت کا یہ مفرو ضہ غلط ہے کہ نجی کمپنیاں کھیل کے اصول طے کرتی ہیں اگر حکومتیں صحیح اصولوں کو لاگو کرنے میں ذمہ داری نبھائیں تو کمپنیاں مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں کیونکہ آخرالامر ان اداروں کے پاس دنیا کی چوٹی کی ٹیکنالوجی تحقیق کے بے مثال ادارے اور رسل و رسائل سے متعلق ایسے زبردست وسائل ہیں جس کا ثانی پورے جہاں کے کسی پبلک ادارے کے پاس دکھا ئی نہیں دیتا۔ المختصر اگر ان کے لیے دلچسپی کے مواقع موجود ہوں تو انہیں معلوم ہے کہ صحیح کام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ ردعالمگیریت کی تحریک کا دبائو جس نکتے پر ہونا چائیے وہ یہ ہے کہ کثیر الا قومی کارپوریشن کیوں کر بجائے مارکیٹ کے کھیل کے اصولوں کے تحت اپنے حصہ داروں کی دولت میں اضافے کے لیے،اکثر اپنی مارکیٹ کی طلب سے تجاوز کرنے کے لیے، اپنی اچھی بھلی کوششوں کا رخ عموما بدعنوانی کے ذریعے کھیل کے اصول بذات خود وضع کرنے میں موڑ دیتے ہیں۔ اگر کھیل کے اصولوں میں جھول نہ ہو تو ا قتصادی عقل (Economicreasoning) مارکیٹ کی بنیاد پر کمپنیوں کے رویوں کا جواز نکالتی ہے۔ اقتصادی عقل میں ایسا کچھ نہیں جو کمپنیوں کو خود لابی بنا کر مہم چلانے اور اسکے لیے مالی معاونت کی فراہمی اور حکومت کی پالیسیوں پر غلبہ حاصل کرکے کھیل کے اصول طے کرنے کا جواز نکالے۔

ایک روشن خیال عالمگیریت کی جانب اس ساری رام کہانی کے بعد ردعالمگیریت کی تحریک کو چائیے کہ اپنے وسیع عزم اور اخلاقی قوت کا رخ اس عالمگیریت کی حمایت میں موڑ دے جو غریب ترین لوگوں اور عالمی ماحول اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرے۔ ایک ایسی عالمگیریت جو روشن خیالی کے تحت پروان چڑھے جہاں جمہوریتوں، کثیر جہتی سائنس و ٹیکنالوجی اور عالمی اقتصادی نظام،جو انسانی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہو، ان سب کو عالمگیریت حاصل ہو جائے …. ہم اسے روشن خیال عالمگیریت پکارسکیں گے۔ ایسے میں ایک روشن خیال عالمگیریت کے حصول کے لیے عوامی امنگوں کا مرکزی نقطہ کیا ہو؟ سب سے پہلے امیر حکومتوں کا رویہ توجہ کا متقاضی ہے اور ان میں بھی سب سے پہلے ریاست ہائے متحدہ امریکہ توجہ چاہتا ہے۔ سو عوامی تحریک کا مطالبہ ہو کہ امریکہ اور دیگر امیر ممالک غریبوں کو غربت سے چھڑانے کے عزم کا ایفا کریں اور اس عزم کا بھی ایفا کریں کہ وہ ماحول کی بریدگی (بشمول انسانی ہاتھوں سے آنے والی تبدیلیوں اور حیاتیاتی تنوع کے زیاں) کو بھی محدود کریں گے۔ ایسی تحریک کا رپوریٹ کی سماجی ذمہ داریوںپر توجہ مرکوز رکھے گی ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ بڑی کثیرالاقومی کمپنیوں کو غریب ترین ملکوں میں سرمایہ کاری کے لیے دبائو ڈالے گی۔تجارت و سرمایہ کاری میں رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے یہ تحریک اس بات پر اصرار کرے گی کہ عالمی تجارتی ادارہ دوحہ اور دیگر مقامات پر کیے گئے سیاسی عزم پر عمل درآمد کرے جسکے تحت غریب ترین ملکوں کی امیر ترین ممالک کی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ شائد مستقبل قریب میں اہم ترین بات یہ ہو گی کہ تحریک امریکہ پر دبائو ڈالے کہ وہ اپنے خوابوں اور اپنی ذات کے حصار سے باہر آئے اور اقوام متحدہ کے کثیر طرفہ کاموں میں شریک ہو جائے۔امریکہ کی عالمی سلطنت کا خواب ایک خطرناک خواہش ہے۔ یہ لوگ ہماری دنیا کے بارے میں دو غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔اول یہ کہ امریکہ عالمی آبادی کا 4.5فیصد حصہ بنتا ہے اور صارف کی قوت خرید کے حوالے سے دیکھیں تو عالمی آمدن کا  20فیصد حصہ ٹھہرتا ہے۔ 2050؁تک عالمی آبادی میں امریکہ کا حصہ کچھ کم ہو جائے گا لیکن GNP میں تیزی سے کمی- شائد 10فیصد تک- آجائے۔ اب بھلے عالمی سلطنت کا خواب کتنا ہی اچھا یا برا ہو یہ طے ہے کہ امریکہ کے پاس اقتصادی لحاظ سے وہ ذرا سی بھی برتری نہیں جو اسے سچ مچ ایک عالمی سلطنت کو برقرار رکھنے میں سہارا دے سکے۔ ستم ظریفی ہے کہ عراق میں چھوٹے پیمانے پر ہونے والی جنگ نے امریکی فوج اور سرمائے پر برا اثر ڈالا اور چونکہ عوام جنگی اخراجات کے لیے ٹیکس پلے سے ادا کرنے میں فی ا لواقعہ قطعی دلچسپی نہیں رکھتی تھی فلہذا بش ا نتظامیہ کو جنگ کا خرچہ بجٹ خسارے کی صورت میں نکالنا پڑا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ امریکہ کے پاس وسیع فوجی قوت ہے تاہم اس فوج کو سیاسی مفادات کے لیے کم ہی استعمال کیا جاتا ہے۔جیسا کہ عراق کی جنگ سے ثا بت ہوا ہے کہ امریکہ فتح تو کر سکتا ہے حکمرانی اور راج نہیں۔ جس بات کا ادراک نو قدامت پسند وں کو نہیں ہوا وہ یہ تھی کہ غیروں کی آبادیوں میں ریا ستہائے متحدہ کے تسلط کو برداشت کر لینے کا جواز کا زمانہ نصف صدی پہلے ختم ہو چکا۔ امریکہ کو عراق میں نجات دہندہ نہیں بلکہ غاصب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور یہ ساری صورتحال عین متوقع تھی۔ بظاہر جس بات کی توقع نہیں تھی وہ یہ تھی کہ نو قدامت پسند حقائق سے اتنے بے بہرہ ہوںگے۔ ہمارے عہد میں سیاسی میدان میں دو تصورات کا سکہ چل رہا ہے قوم پرستی اور حق خود ارادیت- اور یہ دونوں تصورات ترقی پزیر دنیا میں خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ جڑ پکرتے گئے اور سامراجی حکمرانی کا بوداپن اور تکلیف دہ انداز میں سامنے آتے گئے۔ بش انتظامیہ کی شورش پسندی اور یکطرفہ سوچ کو ایک اور طاقت نے بھی خوب ہوا دی۔ میں کتاب میں حقیقت بیان کر آیاہوں کہ بظاہر لکھو کھہا امریکی اپنی خارجہ پالیسی کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قومی مفادات کے تجزیئے کے بجائے بائیبل کی تشریح کی صورت مانتے ہیں۔ چنانچہ جب امریکہ نے عراق اور افغانستان پر ہلہ بولا تو امریکہ کے لاکھوں بنیاد پرست عیسائی یہ بحث کرنے لگے کہ آیا دہشت گردی کا عروج اور شرق اوسط کا منا قشہ محشر کے قریب ہونے کی علامت تو تونہیں۔ فکشن ناولوں کے سلسلے Left Behind جو کہ پیش گوئی پر مبنی تھے اور مستقبل کو آ رماگیدون کے ڈرامائی انداز میں ظاہر کر رہے تھے ان کی کاپیاں لاکھوں کے حساب سے، بے تحاشہ فروخت ہوئیں۔ اس قسم کے عقائد رکھنے والوں نے بش کے سیاسی اتحاد میںشراکت داروںکو ایک طاقتور حیثیت حاصل کر لی۔ اگر امریکی خارجہ پالیسی یکطرفہ سوچ یا نو قدامت پرستی کی غلط فہمیوں کے ساتھ ساتھ بائیبل کی بے تکی پیش گوئیوں کے زیر اثر آجاتی ہے تو دنیا کے لیے خطرات میں کئی گنا اضافہ ہی ہو گا۔  چیلنج قبول کرنے کا بیڑہ اٹھانا  گزشتہ دو سو سال کے دوران عالمی خوشحالی میں جس طرح سے توسیع ہوئی ہے، ہر نسل کو انسانی بہتری کے امکانات کو یقینی بنانے کے حوالے سے نت نئے چیلنج درپیش ہوئے ہیں۔کہیں کہیں تو بیسویں صدی کے دوران عوام پر سفاکانہ طور پر مسلط کمیونزم، فاشزم اور دیگر قابوچی totalitarianisms نظاموں ایسے پاگل پن پر مبنی تصورات کے چیلنج سے فکر و عقل کا دفاع کرنا پڑا جبکہ دیگر اس حوالے سے خوش نصیب رہے کہ انہیں فکرا ور آزادی کے دائرہء عمل کو،جنگ سے بچا کر،آگے بڑھاتے ہوئے انسانی حالات میں بہتری کے طریقے وضع کرنے کا طریقہ نصیب ہوا۔ ہماری اپنی نسل بھی امن کے نازک سہارے پر کھڑی ہے جسے دہشت گردی اور بڑھتے ہوئے امریکی فوجی عزائم- ہر دوسے خطرہ ہے لیکن اگر ہم اسے بچا سکے تو اس کی بنیا د پرآگے بڑھ سکیں گے۔ ہمارے دور میں غربت کو ختم کرنے کا ایک شاندار موقع میسر آیا ہے اور اگر ہم اخلاص عمل سے کام لیں تو اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر لوگوں کی تکلیفوں کا ازالہ ہو سکتا ہے بلکہ اقتصادی ترقی کے در بھی وا ہو سکتے ہیں اور روشن خیالی کے مقاصد جیسے جمہوریت اور عالمی سیکیورٹی اور سائنس میں پیش رفت جیسے مقاصد بھی حاصل کیئے جا سکتے ہیں۔ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ مجھے اس بات کا یقین کیوں ہے کہ امریکہ، یورپ اور جاپان جیسی مادہ پرست اور خودبین قومیں غریب ترین لوگوں کی سماجی ترقی کے غیر معمولی پروگرام کو قبول کرنے پر کیوں کر آمادہ ہوںگی؟ کیا معاشرے کوتاہ نظر اور مطلب پرست نہیں، کیا وہ دوسروں کی ضرورتیں پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔دیگر نسلیں خوشحالی کے پھیلائو میں کامیاب رہیں۔بعض امور جیسے جدوجہد، فہمائش، برداشت اور تاریخی لحاظ سے درست نہج پر رہنے کے چلن، سب کو ایک ساتھ بروئے کار لاتے ہوئے انسانی آزادی اور اس ضمن میں نسلوں سے چلے آتے تین عظیم چیلنج سامنے آتے ہیں جن میں غریبوں اور کمزوروں کے حقوق محفوظ کیے گئے۔یہ مثالیں ہمارے اپنے عہد کے لیے قابل تقلید اور حوصلہ افزا ہیں: غلامی کا خاتمہ 1789؁ میں جب فرانس کی قومی اسمبلی روشن خیالی کے اس تصور کہ ـ انسان آزاد جنم لیتا ہے اور آزاد رہتا ہے اور حقوق کے لحاظ سے برابر رہتا ہیــ کے تحت افراد اور شہریوں کے حقوق کو اختیار کر رہی تھی،عین اس وقت پورے کرہ ارض پر غلامی پھل پھول رہی تھی، فرانسیسی، برطانوی اور عثمانی و دیگر سلطنتوں میں اس کا دور دورہ تھا۔ رود بار انگلستان کے اس پار لندن میں ایک تحریک کا آغاز ہو رہا تھا یہ تھی غلاموں کی تجارت کے خاتمے پر عمل درآمد کی کمیٹی۔ اس کے بانیوں میں ایک 27سالہ نوجوان تھا مس کلارسن اور اسکے دوست تھے اور یہ قوئیکر Quaker عیسائی مسلک کے پیرو تھے جس کے تحت اخلاقی اور مذہبی بنیادوں پر وہ غلاموں کی تجارت کی مخالفت کر رہے تھے۔ا نہوں نے مقامی سطح پر غلامی کے خاتمے کی کمیٹیاں تشکیل دے دی تھیں۔ مورخ ہیو تھامس کے لفظوں میں ’’انسانیت (philanthropic) کے مقصد کے لیے کسی بھی ملک میں یہ اولین بڑی تحریک تھی‘‘۔ کلارکسن جلد ہی ولیم ولبر فورس سے ملا جو بعد ازاں ربع صدی تک پارلیمانی سطح پر اس مقصد کے ایک عظیم حامی کے طور پر نمایاں رہا۔ برطانیہ میں غلامی کے خلاف تحریک حیران کن حد تک برطانوی تجارتی مفادات کے عین مخالف چلی۔ غلاموں کے دھندے کے زوال آنے میں اگرچہ ابھی بڑا عرصہ پڑا تھا لیکن غلامی کے خاتمے کی تحریک اس وقت شروع ہوئی جب غلاموں کی تجارت اور غلاموں کے بل پر چلنے والی صنعتیں خوب چل رہی تھیں۔غلامی کی مخالفت کی اساس اخلاقی سیاست، سماجی بصیرت اور انسانی بنیادوں پر تھی نہ کہ محض ذاتی منفعت کی تنگ نظر سوچ پر اور پھر جیسا کہ ہوتا آیا ہے، غلاموں کی تجارت کے خاتمے کے مخالفوں نے کہا کہ اس تحریک کا نتیجہ اس کے مقصد کے عین الٹ نکلے گااور یہ ویسی ہی بات ہے جیسا کہ آج بیرونی امداد کی مخالفت کرنے والے غلط فہمی اور متنازعہ بنیاد پر دعوی کرتے ہیں کہ امداد فائدے سے زیادہ نقصان دیتی ہے۔ولبر فورس کے مخالفوں میں سے ایک کا موقف یہ تھا کہ ’’اگر ان (افریقیوں) کو غلاموں کے طور پر فروخت نہ کیا جا سکاتو انہیں اپنے علاقوں میںذبح کر دیا جائے گا، قتل کر دیا جائے گا‘‘۔ دوسروں کا خیال یہ تھا کہ بھلے تصوراتی حد تک یہ کیسا ہی مستحسن کیوں نہ ہو، غلاموں کی تجارت کے خاتمے کے عملی امکانات موجود نہیں ہیں۔ ایک مخا لف نے کہا ’’اگر غلاموں کی تجارت کے خاتمے کا قانون بن گیا تو سارے عقلمند تاجر فرانس کی راہ لیں گے جہاں ان کا اچھا استقبال ہو گاــ‘‘۔  جیسا کہ تھامس رائلے Thomas wryly رقمطراز ہے ’’سیاست میں ڈٹے رہنا سب سے بڑی خوبی ہے اور یہ ولبر فورس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی…‘‘۔ اگلی دہائیاں چند تکلیف دہ رجعتوں، حیلہ بازیوں اور گردشوں سے عبارت تھیں لیکن آخر کار انکا نتیجہ یہ نکلا کہ غلاموں کی تجارت اور بذات خود غلامی یورپی کالونیوں میں ختم ہو گئی۔  1807؁میں نپولین کے ساتھ جنگوں کے بیچ برطانوی راج نے غلاموں کی تجارت کا خاتمہ کر ڈالا1815؁میں نپولین سے لڑائیوں کے اختتام پر ویانا کی کانگرس میں برطانیہ، فرانس، سپین، آسٹریلیا، پرشیا، روس اور پرتگال کی حکومتوں نے اپنے ہاں غلاموں کی تجارت کے خاتمے کا عزم کیا، اگرچہ اس ضمن میں کوئی تاریخ معین نہیں کی۔1820 ؁میں برطانوی پارلیمینٹ میں سلطنت برطانیہ میں غلامی کے بارے میں مباحثے ہوئے۔ غلامی کے خاتمے کی حمایت کرنے والوں نے بڑی ہوشیاری سے اخلاقی و عملی دلائل دیے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ غلامی کے خاتمے سے برطانیہ کو یقینا تھوڑی بہت معاشی تکلیف اٹھانی پڑے گی لیکن فرانس کو تو اس سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ آخر کار برطانیہ عظمی میں سیاسی اصطلاحات کے بعد 1833؁میں پوری سلطنت میں غلامی کے خاتمے کا قانون بنا دیا گیا۔  سامراجیت کا خاتمہ  ان واقعات کے قریباََ سو سال بعد موہنداس کرم چند گاندھی نے وہ تحریک شروع کی جو بظاہر بعید از امکان دکھائی دیتی تھی: یعنی انڈیا کو برطانوی سلطنت کے تسلط سے آزادی دلانا۔ انڈیا سلطنت برطانیہ کا ہیرا تھاجسے ونسٹن چرچل اور اسکے سامراجی دوست، بقول چرچل ’’ـ ایک با غی فقیر‘‘ کے حوالے کرنے سے سخت گریزاں تھے۔ گاندھی کی تحریک جس نے سامراجیت تلے دبی دنیا میں درجنوں تحاریک آزادی کوچنگاری دکھائی، آج ایک عالمی استعارہ بن گئی ہے: اہنسا /عدم تشدد پر مبنی جدوجہد انڈیا کی خودانحصاری کی تحریک جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ قوم اپنے پیروںپر خود کھڑی ہو سکتی ہے اور یہ کہ وہ افلاس زدہ محروم لوگ جنہیں گاندھی نے ہریجن (خدا کے بچے) کہا انہیں سیاسی اور سماجی برابری مل جائے۔ گاندھی کی حکمت عملی نے تحریک آزادی میں سیاسی، سماجی، معاشی اور اخلاقی تمام حوالوں کو وسیع بنیادوں پر سمو دیا۔ کون یہ دعوٰی کر سکتا ہے کہ امیر دنیا کی محض 0.7فیصد قومی پیداوار کو انتہائی غربت کے خاتمے کے لیے متحرک کرانا اتنا بڑا چیلنج ہے جتنا سامراج کے چنگل سے آزاد کرکے پچاس سے زیادہ آزاد مملکتیں بنانا۔

سو جیسا کہ غلامی کے خاتمے کے سلسلے میں ہوا سامراج کا خاتمہ شروع شروع میں ایک مایوس کن جدوجہد لگتا تھا لیکن آخر ایک ناقابل مفر حقیقت اور لازمی نتیجہ دکھائی دیا۔سامراجیت کا حسرتناک انجام جزوی طور پر یورپ کی سامراجی قوتوں کے مابین1914؁سے 1945؁تک تباہ کن سول وارکے کارن ہوا۔جنہوں نے فی الحقیقت سامراجیوں کو لہولہان اورانکی معیشتوں کو نڈھال کر ڈالا اور اخلاقی بنیادوں پر غیر معتبر بنا دیا۔ اسکے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بڑے پیما نے پر عوامی شعور اور خودارادیت کے تصورات بیدار ہو جانے اور زبردست عوامی سیاسی سرگرمیوں کے باعث فتح نصیب ہوئی۔ افسوسناک تشدد، قنوطیت اور سیاسی انتشار سے قطع نظر، ہمیں روشن خیالی پر مبنی، اتفاق رائے سے بننے والی حکومت کے تصور کے مثبت اور بے پناہ فروغ کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے۔ شہری حقوق اور نسلی امتیاز مخالف تحریکیں گاندھی کی عدم تشدد کی جدوجہد نے بعد میں آنے والی تحریکوں کے لیے تصوراتی لحاظ سے ایک ثبوت فراہم کیا۔ اس نے ثابت کر دکھایا کہ کمزور اگر چاہیں تو بڑے پیمانے پر انسانی اقدار کی اپیل پر پیہم کاربند رہتے ہوئے زور آور کے تسلط سے گلو خلاصی کروا سکتے ہیں۔انڈیا کی آزادی کے لیے گاندھی کی سیاسی جدوجہد بنیادی اعتبار سے انڈیا کے لیے حقوق و احترام آدمیت کی تحریک تھی اور اس وجہ سے ایک نسل بعد بھی یہ تحریک امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک اور نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک حوالہ بن گئی۔ امریکی گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر جو عدم تشدد پر مبنی عوامی تحریکوں کا سرخیل تھا اور جس نے استبداد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہا ’’بہت ہو چکا بس! ‘‘،1958؁میں اس نے لکھا ’’مجھے گاندھی کے عدم تشدد اور محبت پر اصرار میں سماجی تبدیلی کا وہ راستہ مل گیا جسے میں تلاش کر رہا تھا‘‘۔ اگلے برس کنگ ہند یاترا کے لیے چلا گیا تاکہ عدم تشدد کے ذریعے احتجاج کی راہ کا مطالعہ کرے۔تین دہائیوں کے بعد نیلسن منڈیلا نے دنیا کو دکھایا کہ کیسے اخلاقی جراٗت اورسیاسی مہارت کے بل بوتے پر جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے راج کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس کی جگہ پرامن طریقے پر آئینی جمہوریت لے لیتی ہے۔ اپنی مشہور تقریر ’’میرا ایک خواب ہے‘‘ میں کنگ روشن خیالی اور بالخصوص امریکہ کی اساس بننے والی دستاویزات کا حوالہ دیتا ہے: ’’جب ہماری جمہوریہ کے معماروںنے آئین اور اعلامیہ آزادی شاندار الفاظ میں رقم کیے ٗ تو وہ ایک عہد نامے پر دستخط کر رہے تھے، جس کا امین ہر امریکی کو ہونا تھا۔ اس تحریک میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ تمام آدمیوں کو زندگی آزادی اور مسرت اور انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور ان کو انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ آج یہ امر مسلّم ہے کہ امریکہ اس عہد نامے سے، جہاں تک اس عوام کے رنگ کا سوال ہے، پھر چکا ہے۔ بجائے اس مقدس ذمہ داری کی پاسداری کے، امریکہ نے نیگرو لوگوں کو ایک ایسا خراب چیک دیا ہے جو یہ کہہ کہ لوٹا دیا گیا ہے کہ فنڈز ناکافی ہیں۔ لیکن ہم یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ انصاف کے بنک کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔ہم یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ اس قوم کے لیے مواقع کی عظیم تجوریوں میں ناکافی فنڈز ہیں۔ سو ہم یہ چیک کیش کرانے آئے ہیں ایک چیک جو ہمیں مطالبے پر ادا کرے گا- آزادی اور انصاف کی حفاظت کی دولت ـ‘‘۔ ہمارا آج کا قول کنگ کے 40سال پرانے قول جیسا ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی انصاف کا بینک دیوالیہ نہیں ہوا۔ دنیا کے غریب ایسا برا چیک قبول نہیں کرسکتے جس پر تحریر ہو کہ فنڈز ناکافی ہیں، بالخصوص اس وقت جبکہ یہ تکلیف دہ بات بالکل عیاں ہو کہ کافی فنڈز موجود ہیں،بلکہ امریکہ کے چند امیر ترین لوگوں کے اکائونٹ میں دھرے ہیں اور یہاں ہماری مراد ان چار ملین کے قریب امریکی گھرانوں سے نہیں جن کی حیثیت 1ملین ڈالر سے بڑھ کر ہے اور نہ ہی اسی طرح دنیا بھر کے دیگر مقامات پر 8ملین کے قریب گھرانوں سے اور نہ ہی مجموعی طور پر ایک بلین افراد سے جو زیادہ آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں اور جنکی مجموعی سالانہ آمدن 30ٹریلین ڈالر کے قریب ہے۔  غلامی، سامراجیت، اور نسل پرستی کے مخالف چلنے والی تحریکوں میں چند بنیادی مماثلتیں ہیں۔ یہ ناممکن دکھائی دیتی تھیں بلکہ اپنے آغاز میں شائد مایوس کن تک لگتی تھیں جیسا کہ آج دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ترین لوگوں سے یہ مطالبہ لگتا ہے کہ وہ غریب ترین اور بے یار و مدد گار ترین لوگوں سے انصاف کریں۔ کامیابی کے لیے یہ تحریکیں روشن خیالوں کے ذاتی مفاد کے ساتھ ساتھ بنیادی مذہبی و اخلاقی تصورات سے بھی میل کھاتی تھیں۔ ان تحریکوں کو بیک وقت سیاسی، حقیقی سیاست اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے ذرائع اختیار کرنے پڑے۔ انہیں کئی عشروں تک اپنا ثمر پانے کے لیے انتظار کرنا پڑا گویا مستقل مزاجی اصل کلید کامیابی تھی۔ ان تحریکوں نے روشن خیالی کی بنیادی اقدار، انسانی حقوق اور انسانی صلاحیتوں پر اصرار کیا۔ آخر کار انسانی رویے میں اچانک آنے والی تبدیلی کے ساتھ ہی ان تحریکوں نے ناممکن کو لازم کر دکھایا۔ اسی انداز میں غربت کا خاتمہ ہو جائے گا، جلدی سے اور تیز عبوری تبدیلی سے۔

یہ حقیقت کہ گزشتہ 35 برس سے امیرملکوں نے اپنی قومی آمدنی کا 0.7فیصد سرکاری امداد (ODA) کے لئے دینے جیسا وعدہ کیا مگر نہ نبھایا، مایوسی کا باعث نہیں بلکہ مزید سوشل موبلا ئزیشن کا جواز بنتا ہے۔  ہمارے اگلے اقدامات غربت کے خاتمے کا وقت آن پہنچا ہے گو کہ مشکل کام ابھی کرنے ہیں۔میں نے دولت کے انباروں کے بیچ جاری انتہائی غربت کے اسباب کی تشخیص کر دی ہے۔ میں نے وہ خصوصی اقدامات بھی درج کر دیے ہیں جو اس غربت کے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ میں نے دکھایا ہے کہ عمل کرنا ہو تو اسکی لاگت تھوڑی اور بے عملی کی وجہ سے آنے والی لاگت سے تو با لکل کم ہے۔ میں نے دو ھزار پچیس تک کے ٹائم ٹیبل کی نشاندہی کر دی جس میں دو ھزار پندرہ میں ہزاریے کے ترقیا تی مقاصد (MDGs) بیچ راہ کا پڑائو ہیں۔ میں نے یہ ظاہر کر دیا کہ اگلے مرحلے میں کلیدی عالمی ادارے کیونکر کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن یہ سارے کام ہمیں عالمی تعصبات اور قابل فہم شبہات کے تناظر میں کرنے ہونگے جو فی زمانہ ماضی کے برعکس مختلف ہو سکتے ہیں۔ جی ہاں یہ دور مختلف ہو سکتا ہے، اور یہ رہے وہ نو اقدامات جو مقاصد کی جانب لے جائیں گے۔ غربت مکانے کا عزم کریں پہلا قدم اس کام کا عزم صمیم ہے۔ Oxfam اور سول سوسائٹی کے دیگر قائدین نے ایک مقصد طے کر لیا ہے،غربت کو تاریخ کا حصہ بنا دیا جائے (Making poverty history) اب ساری دنیا کو اسے اپنا مقصد بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم نے 2015 ؁تک غربت کو آدھا کرنے کا عزم کیا ہے۔ آئیں2025 ؁تک شدید غربت کے خاتمے کا عہد کریں۔  لائحہ عمل بنا کر عمل کریں غربت کے خاتمے کے لیے MDGs پیشگی قسط) (down payment ہیں۔ یہ مخصوص ہیں، نپے تلے ہیں اورامیر و غریب کے بیچ پہلے ہی ایک معاہدے کی صورت موجود ہیں۔عالمی سماج کو ان کے لیے تجدید عہد کی ضرورت ہے اور قیادت کو ان کے حصول کے کیے مخصوص عالمی لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔  غریبوں کی آواز بلند کرنا مہاتما گاندھی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر امیروں اور طاقتوروں کے انتظار میں بیٹھے نہیں رہے کہ وہ آکر انہیں نجات دلائیں۔انہوں نے انصاف کے لیے آواز بلند کیا اور سرکار کی رعونت اور تغافل کے آگے سینہ سپر ہو گئے۔ غریب انصاف کے حصول کے لئے امیروں کا انتظار نہیں کر سکتے کہ وہ ان کے لیے آواز بلند کریں گے۔اگر غریب خاموش بیٹھے رہے تو آٹھ بڑے ممالک (G8) کبھی بھی غربت کا تاج سجانے کے لیے راضی نہیں ہونگے۔ یہ وقت ہے کہ غریب دنیا کی جمہوریتیں -برازیل، انڈیا، نائیجیریا، سینیگال، جنوبی افریقہ اور دیگر درجنوں- ہم آواز ہو کر عمل کے لیے پکاریں۔ غریب اپنی آواز کو پانے کا آغاز کر چکے ہیں جیسے G3 (برازیل،انڈیا، جنوبی افریقہ) ،G20 (ایک تجارتی گروہ جو WTO کے اندرمعاملات طے کرتا ہے) ۔ دنیا کو مزید سننے کی ضرورت ہے۔  دنیا میں ریا ست ہا ئے متحدہ کا نیا کردار متعین کرنا کرہ ارض کا امیر ترین اور طاقور ترین ملک،جمہوری آدرشوں کا منبع ملک، حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ خوف زدہ اور منتشر کر دینے والا ملک بن گیا ہے۔ امریکہ کی یہ سوچ اور کو شش کہ اسے بلا روک ٹوک اجارہ داری اور من مانی حاصل ہو جائے گی،بڑی تباہ کن نکلی۔ یہ عالمی توازن کے لیے عظیم ترین خطرات میں سے ایک ہے۔کثیر جہتی اقدامات میں امریکہ کی عدم شمولیت نے عالمی تحفظ، سماجی انصاف کے لیے جدوجہد اور ماحولیاتی تحفظ جیسے امور پر برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس یک طرفہ، ایک جہتی طرز عمل سے خود امریکہ کے مفادات پر بھی زد آئی ہے۔ اگر امریکہ چاہے تو روشن خیالی کو اساس بناتے ہوئے روشن خیال عالمگیریت کا سہرا سجا سکتا ہے۔ امریکہ کے اندر اور باہر سے سیاسی عمل اس ملک کو پھر سے اس نہج پر ڈال سکتا ہے جو عالمی امن و انصاف کو جاتی ہے۔  آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو بچا لیں ان بین الاقوامی سرمایہ کار اداروں کو عالمگیریت کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے پاس وہ تجربہ اور تکنیکی معاونت موجود ہے جو اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے پاس درون خانہ پیشہ ورانہ اعتبار سے بڑے لائق ملازم ہیں جنہیں بری طرح سے بلکہ غلط طریقے سے استعمال کیا گیا اور بجائے 182ممبر حکومتوں کی نمائندگی کے یہ ادارے محض ساہوکار بن گئے۔ وقت آن پہنچا ہے کہ ان اداروں کا قبلہ درست کیا جائے اور بین الاقوامی کردار کو دوبارہ راہ راست پر لایا جائے کہ یہ بجائے حکومتوں سے ساہوکار ی کرنے کے روشن خیالی عالمگیریت اور اقتصادی انصاف کے چیمپین بنیں۔ اقوام متحدہ کو مستحکم بنائیں حالیہ برسوں میں غلط اقدامات کے حوالے سے یو این کو مورد الزام ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ہمارے پاس ایک ایسی اقوام متحدہ ہے جو دنیا کے طاقتور ملکوں خصوصا امریکہ کی مرضی کی تابع ہے۔ کیا وجہ ہے کہ یو این کے ادارے اتنے فعال نہیں جتنا انکو ہونا چاہیے تھا۔ اسکی وجہ یو این کی افسر شاہی نہیں گو کہ وہ اپنی جگہ موجود ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ طاقتور ممالک بین الاقوامی اداروں کو فیصلہ سازی کا اختیار دینے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انکو خوف ہے کہ اس طرح معاملات میں خود مداخلت کرنے کا امکان کم ہو جائے گا۔ یو این کی پیشہ ورانہ مہارتوں سے متصف ایجنسیوں کا غربت کے خاتمے میں کردار مرکزی ہے۔ عالمی ادارہ اطفال، عالمی ادارہ صحت، خوراک و زراعت کی تنظیم اور بہت سے دیگر اداروں کا یہ قائدانہ کردار ہے کہ وہ ملکوں ملکوں جا کر غریبوں میں غریب ترین لوگوں کو غربت کے شکنجے سے نکلنے کے لیے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں انکی معاونت کریں۔ عالمی سائنس کو بروئے کارلائیں صنعتی انقلاب کی ابتداء سے ہی سائنس ترقی کی کلید بن چکی ہے۔ یہ وہ فلکلرم ہے جس سے عقل کو سماجی ترقی کی ٹیکنالوجی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔جیسا کہ کونڈرو سیٹ نے پیش گوئی کی تھی، سائنس نے خوراک سازی، صحت، ماحول کے انتظام اور پیداوار اور انسانی ضرورتوں سے متعلق ان گنت شعبوں میں تکنیکی پیش رفت کو یقینی بنایا ہے۔ تاہم سائنس منڈی کی قوتوں کی رہنمائی بھی کرتی ہے اور ان کے پیچھے بھی چلتی ہے۔ میں نے بار بار مشاہدہ کیا اور اس میں کوئی اچنبھا بھی نہیں ہے کہ امیر پیداوار کے چکر میں امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور غریبوں میں غریب ترین عموما ًاس چکر سے باہر رہ جاتے ہیں۔ جب ان غریبوں کی ضرورتیں مخصوص ہوں، جیسا کہ کوئی خاص مرض،فصل یا ارد گرد کے مسائل،تو عالمی سائنس اُن کی ان مسائل سے صرف نظر کر جاتی ہے۔ فلہذا عالمی سائنس جس کی رہبری حکومتوں تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے تحقیقی مراکز کرتے ہیں، اسے آگے بڑھ کر غریبوں کی ضرورتوں کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کا عزم کرنا ہوگا۔ چونکہ منڈی کی طاقتیں اس ضمن میں کافی نہیں ہونگی اس لیے پبلک فنڈ، انفرادی عطیات اور غیر منافع بخش فائونڈیشنز کو اس عزم کو سہارادینا ہوگا۔  پائیدار ترقی کو فروغ دیں اگرچہ صحت،تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اہداف کو مخصوص کرکے سرمایہ کاری کرنے سے شدید غربت کا جال ٹوٹ سکتا ہے تاہم مقامی علاقائی اور کرہ ارض کی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی بریدگی اب تک ہونے والی سماجی ترقی کی پائیداری اور طویل مدت کے اثرات کے لیے خطرہ ہے۔ شدید غربت کا خاتمہ کرکے ماحول پر سے بہت سے دبائو رفع کیے جاسکتے ہیں۔ جب غریب گھرانوں کے ہاں پیداوار زیادہ ہوگی تو ان پر دبائو کم ہوگا اور وہ نئے فارم بنانے کے لیے پاس پڑوس کی زمین سے درخت نہیں کاٹیں گے۔ جب انکے بچوں کے بچ جانے کا امکان زیادہ ہو گا تو زیادہ بار آوری کی شرح برقرار رکھنے میں انہیں فائدہ نہیں ہوگا اور یوں آبادی میں تیز اضافہ نہیں ہوگا۔ لیکن پھر بھی شدید ترین غربت کا خاتمہ ہو گا تو صنعتی آلودگی سے ہونے والی ماحول کی بریدگی اور فاضل ایندھن کے بے تحاشہ استعمال سے ہونے والی آب و ہوا کی طویل مدتی تبدیلی کا حل نکالنا ہوگا۔ ایسے طریقے موجود ہیں جن سے ترقی کو گزند پہنچائے بغیر ان ماحولیاتی چیلنجوں کا سامنا کیا جا سکتا ہے (جیسا کہ ایسے بہتر پاور پلانٹ تعمیر کرنا جو خود سے اپنے ہی خارج کردہ کاربن کو روک لیں اور ٹھکانے لگا دیں) اور اس کے علاوہ جیسے جیسے ہم شدید غربت کے خاتمے کے لیے سرمایہ کاری کریں تو ساتھ ساتھ کرہ ارض کے ایکو سسٹم کو پائیدار رکھنے کے لیے بھی سرمایہ کاری کریں۔

خود سے عزم کریں لیکن آخرالامر گھوم پھر کر بات ہم پر ہی آتی ہے۔ ہم بحیثیت افراد مل جل کر معاشروں کی تشکیل کرتے ہیں۔ سماج کے عزم و ارادے افراد کے ذاتی و انفرادی ارادوں سے ہوتے ہیں۔ رابرٹ کینیڈی نے پرزور انداز میں ہمیں یاد دہانی کرائی ہے کہ عظیم سماجی قوتیں محض انفرادی افعال کے اجتماع سے ظہور میں آتی ہیں۔ اس کے الفاظ آج کہیں سے زیادہ طاقتور ہیں: ’’کوئی اس یقین کے ہاتھوں حوصلہ نہ گنوائے کہ ایک آدمی یا ایک عورت دنیا کے شدید مسائل- بے چارگی، لا علمی، نا انصافی اور تشدد …. کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔ گر چہ معدودے چند کو وہ عظمت نصیب ہوتی ہے کہ تاریخ کا دھارا بدل دیں لیکن ہم میں سے ہر ایک واقعات کے ایک چھوٹے سے جزو کو تبدیل کر سکتا ہے اور ایسے تمام افعال کا مجموعہ اس نسل کی تاریخ کے طور پررقم ہو گا….  انسانی تاریخ کی تشکیل حوصلہ مندی اور یقین کے ان گنت اور متنوع اقدامات کے ذریعے ہوتی ہے۔ جب بھی کبھی کوئی شخص کسی آدرش کے لیے کھڑا ہوتا ہے یا دوسروں کی اصلاح کرتا ہے یا کسی ناانصافی کے لیے سپر ہوتا ہے وہ امید کی ننھی سی موج جاری کرتا ہے اور پھر جب ایسی ننھی موجیں امنگوں اور جراٗت کے مراکز سے نمودار ہوتی ہیں تو آپس میں مل کر ایک بڑی لہر میں ڈھل جاتی ہیں جو جبراور استبداد کی مضبوط ترین دیواروں کو بہا کر لے جا سکتی ہیں۔آنے والے وقت کو گواہ بننے دیجیے کہ وہ کہے کہ ہماری نسل نے امید کی عظیم لہریں ارسال کیں اور یہ کہ ہم نے مل جل کر دنیا کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی‘‘۔

Facebook Comments Box
Auguste ComteDavos World Economic ForumGlobalizationIMFMarie-Jean-Antoine CondorcetMillennium Declaration and the Millennium Development GoalsOxfamSketch for a Historical Picture of the Progress of the Human Mindthe Declaration of IndependenceThe End of Poverty: Economic Possibilities for Our TimeThe Wealth of Nationsآئی ایم ایفآدم سمتھغربتکانٹمعشیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہیں آج کیوں ذلیل ؟ برنارڈ لیوس/ محمد سلیمان قاضی
next post
قبلہ والد صاحب: پروفیسر جعفر بلوچ — مظفر حسن بلوچ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.