تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینشاعریعلم و ادب

حمایت علی شاعر : تحمل اور تجسس کے احساس کا شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا محمد تبسم

by Editor2 16/07/2019
written by Editor2 16/07/2019
223

اک جبر وقت ہے کہ سہے جا رہے ہیں ہم
اور اس کو زندگی بھی کہے جا رہے ہیں ہم

وقت کا جبر جھیل کر حمایت علی شاعر بھی رخصت ہوگئے۔ اردو شاعری کو ان کے شعروں نے نئی جہت اور نئے افکار دیئے، فیض احمد فیض نے حمایت علی شاعر کی شاعری کو ’’تحمل اور تجسس کے احساس کی شاعری‘‘ کہا تھا۔ وہ حمایت علی شاعر کے بارے میں کہتے ہیں ’’شاعر بہت ضبط اور نظم کے تحت لکھتے ہی۔ آج کل لوگوں کو پرانی رویات توڑنے پھوڑنے کا شوق ہے جو یقینا صحتمند بات ہے۔ لیکن روایات کو پائوں تلے روند دینا اچھی بات نہیں، شاعر نے پرانی روایات کو پائمال نہیں کیا۔ حمایت علی شاعر نے اپنے اشعار میں جمہوریت اور انسان دوستی کو بھی مقدم رکھا، وہ حاکم وقت کی کسی مصلحت کا بھی شکار نہ ہوئے، ان کا ایک شعر ہے، راہ زن کے بارے میں اور کیا کہوں کھل کر۔ میر کارواں یارو، میر کارواں یارو

حمایت علی شاعر ان کا ادبی نام ہے، ان کا اصل نام میر حمایت علی اور شاعر تخلص ہے۔ وہ 14جولائی1926ء کو اورنگ آباد(دکن) میں پیدا ہوئے اور20 جولائی 2019 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انھوں نے صحافت، تحقیق، تعلیم، شاعری، اداکاری، ڈرامہ نویسی، کہانی کار، افسانہ نگار کے طور پر کام کیا۔ وہ روزنامہ ’خلافت‘ روز نامہ جناح، منزل اور ہمدرد (حیدرآباد دکن) میں بطور صحافی خدمات دیتے رہے، اسی دوران انھوں نے ماہنامہ ’’ساز نو‘‘ کا ایک خاص نمبر بھی نکالا، یہ ایک اور ماہانہ ادبی رسالے ’’آدمیت‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔ ساز نو (حیدرآباد دکن) اور شعور (حیدرآباد سندھ) کے مدیر بھی رہے۔ پاکستان آنے کے بعد وہ ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ یہاں انھوں نے بہت سے تحقیقی کام کیئے، شیخ ایاز پر ان کا کام جدید سندھی ادب کا عہد آفریں شاعر، اورشخص و عکس تنقیدی مقالات اور مباحث، دکن کے اہل قلم پر ان کے مضامین کا مجموعہ، ، کھلتے کنول سے لوگ، ، کے علاوہ انھوں نے ٹیلی ویژن پر کئی تحقیقی پروگرامز پیش کیے، جن میں پانچ سو سالہ علاقائی زبانوں کے شعراء کا اردو کلام، ، خوشبو کا سفر، ، اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ان کا پروگرام ’’عقیدت کا سفر‘‘ احتجاجی شاعری پر ان کا پروگرام ’’اب آزاد‘‘ اور سندھی شعراء کے اردو کلام کی پانچ سو سالہ تاریخ پر ان کا پروگرام ’’محبتوں کے سفیر‘‘ عوام میں بے حد پسند کیئے گئے۔ حمایت علی شاعر نے فلموں کے لیے گانے بھی لکھے اور فلمیں بھی بنائیں۔

ان کے مشہور فلمی نغموں کی ایک بڑی تعداد ہے، ان میں سے چند جو بہت مشہور ہیں۔ وہ یہ ہیں۔

جب رات ڈھلی، تم یاد آئے
اک نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
نہ چھڑا سکو گے دامن
حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں
خدا وندا، یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینہ میں
نوازش کرم، شکریہ مہربانی

ان کی فلموں میں آنچل، میرے محبوب، دامن، کنیز، نائلہ شامل ہیں۔

انھوں نے شاعری میں ایک نیا تجربہ ’’ثلاثی‘‘ کے تحت کیا ہے جس میں تین مصرعے ہوتے ہیں۔ حمایت علی شاعر سندھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے بھی منسلک رہے۔ان ل کی تصانیف میں ’آگ میں پھول‘، ’شکست آرزو‘، ’مٹی کا قرض‘، ’تشنگی کا سفر‘، ’حرف حرف روشنی‘، ’دود چراغ محفل‘(مختلف شعرا کے کلام)، ’عقیدت کا سفر‘ (نعتیہ شاعری کے سات سو سال، تحقیق)، ’آئینہ در آئینہ‘(منظوم خودنوشت سوانح حیات)، ’ہارون کی آواز‘(نظمیں اور غزلیں)، ’تجھ کو معلوم نہیں‘(فلمی نغمات)، ’کھلتے کنول سے لوگ‘(دکنی شعرا کا تذکرہ)، ’محبتوں کے سفیر‘(پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام)۔ حمایت علی شاعر کونگار ایوارڈ (بہترین نغمہ نگار)، رائٹرگلڈآدم جی ایوارڈ، عثمانیہ گولڈ مڈل (بہادر یار جنگ ادبی کلب) سے نوازا گیا۔ ان کی ادبی اور دیگر خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا۔ حیدرآباد (دکن) اور حیدرآباد (سندھ) دونوں شہروں کی ادبی فضا انھیں راس آئی۔ ایک زمانے میں ان کی ادبی سرگرمیوں اور محفلوں کا مرکز سلطان ہوٹل حیدرآباد ہوا کرتا تھا، حمایت علی شاعر کی شاعری کو حیدرآباد کی شعری محفلوں نے اعتبار بخشا، یہاں قابل اجمیری، اختر انصاری سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی، جہاں میں پہلی بار کراچی سے اپنے حیدرآباد کے ادیب و شاعر دوستوں سے ملنے گیا تھا۔

ایک زمانے میں ان کی ادبی سرگرمیوں اور محفلوں کا مرکز سلطان ہوٹل حیدرآباد ہوا کرتا تھا، ان کی شاعری کو حیدرآباد کی شعری محفلوں نے اعتبار بخشا، سلطان ہوٹل حیدرآباد میں ادیبوں اور شاعروں کی ایک بیٹھک کا درجہ رکھتا تھا

سلطان ہوٹل حیدرآباد میں ادیبوں اور شاعروں کی ایک بیٹھک کا درجہ رکھتا تھا، جس طرح لاہور میں پاک ٹی ہاؤس شاعروں اور ادیبوں کا مسکن تھا، اسی ہوٹل کے کسی کونے میں حیدرآباد کے مشہور شاعر قابل اجمیری، اختر انصاری اکبر آبادی اور حمایت علی ادبی گفتگو کیا کرتے تھے۔ حمایت علی شاعر نے پی ایچ ڈی کے سلسلے میں اپنا مقالہ ’’ پاکستان میں اردو ڈراما‘‘، سندھ یونیورسٹی (حیدر آباد) میں جمع کروایا تھا۔ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ’’ فاصلے‘‘ کے عنوان سے طبع ہوا۔1950ء میں آپ کا شعری مجموعہ ’’گھن گھرج‘‘ بھارت سے شایع ہوا۔انھوں نے حیدر آباد سندھ میں ’’ارڑنگ‘‘ کے نام سے ایک ثقافتی ادارہ بھی قائم کیا تھا۔ حمایت علی شاعر کی فلم ’’لوری‘‘ بہت کامیاب رہی تھی۔ لیکن ’’گڑیا‘‘ کی ناکامی نے انھیں فلمی دنیا سے دل برداشتہ کر دیا۔ اس بارے میں یونس ہمدم رقمطراز ہیں، ، فلم ’’ لوری‘‘ اپنی خوبصورت کہانی، عمدہ ہدایت کاری، زیبا، محمد علی کی خوبصورت اداکاری اور حمایت علی شاعر کے دل میں اترجانے والے گیتوں کی وجہ سے باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی تھی، لوری کی کامیابی سے حمایت علی شاعر کے حوصلے اور بڑھتے گئے اور پھر انھوں نے ’’ گڑیا‘‘ کے نام سے دوسری فلم کا آغاز کیا۔ دوسری فلم میں بھی زیبا اور محمدعلی ہی مرکزی کردار میں تھے مگر اس بار اداکارہ زیبا فلم ’’ گڑیا‘‘ کو وقت نہیں دے رہی تھی اور اس طرح فلم ’’گڑیا‘‘ تعطل کا شکار ہوتی چلی گئی۔ پروڈکشن کے اخراجات بڑھتے چلے گئے اور حمایت علی شاعر نے فلم لوری سے جو کچھ کمایا تھا وہ بھی گڑیا کی نذرکردیا مگرگڑیا کسی طرح بھی گرفت میں نہیں آرہی تھی۔ محمد علی نے بھی چپ ہی سادھ لی تھی اور وہ زیبا پر زیادہ دباؤ ڈالنے میں بھی ناکام رہے تھے، ، یوں انھوں نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

حمایت علی شاعر کی ادبی خدمات کا سلسلہ گذشتہ پانچ دہائیوں پر پھیلا ہے۔ ریڈیو پر صداکاری ہو یا پھر ٹی وی پروگراموں کی تنظیم، مشاعرے ہوں یا پھر تحقیقی کام، حمایت علی شاعر نے بہت سی اصناف میں کام کرکے اپنا سکہ جمایا ہے۔ ریڈیو کو وسیلہ روزگار بنانے کے بارے میں ایک انٹرویو میں حمایت علی شاعر نے بتایا، حیدرآباد دکن ظاہر ہے کہ ریاست کا شہر تھا اور میں ریڈیو پر بھی رہا ہوں اور نہ صرف یہ کہ ریڈیو ڈراموں میں کام کرتا تھا۔ اناؤنسر بھی تھا، خبریں بھی پڑھتا تھا اور کمنٹری بھی کرتا تھا۔ تو میں بہت سے زاویوں سے میں ریڈیو پر کام کرتا تھا۔ پھر اخبارات میں لکھتا بھی تھا۔ پھر جب میں پاکستان آیا تو یہاں بھی مجھے ریڈیو میں نوکری مل گئی۔، 60ء کے عشرے میں انہوں نے پاکستان کی فلمی دنیا میں بطور گیت نگار قدم رکھا اوربہت سے نگار ایوارڈز اپنے نام کیے۔صحافتی، ادبی اور تحقیقی حوالے سے بے شمار کتابوں کے اس خالق کو 2002ء میں حکومت ِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈبھی دیا گیا۔انھوں نے اپنی سوانح عمری منظوم شکل میں لکھی۔اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’’آئینہ در آئینہ‘‘ میری منظوم سوانح ِ حیات ہے۔ اردو میں سوانح حیات نہیں لکھی گئی۔ چھوٹی موٹی کہانیاں لو سٹوری ٹائپ چیزیں تو منظوم لکھی گئیں۔ لیکن پوری زندگی قلم بندکرنا مشکل ہے۔

جس میں زندگی کی مشکلات اور باقی تمام مسائل بھی ہیں۔ تو یہ پہلی بار میں نے لکھااور میری ہمیشہ ایک آرزو رہی کہ کوئی ایسا کام کروں کہ جو میرے نام سے منسوب رہے، ، حمایت علی نے ابتدا میں مختلف اخبارات میں حمایت تراب، نردوش کے نام سے بھی لکھا اور کافی عرصہ ابلیس فردوسی کے نام سے طنزیہ کالم بھی لکھتے رہے۔ اسی زمانے میں یہ افسانے اور کہانیاں بھی لکھتے رہے۔ سندھ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کرنے کے بعد بطور لیکچرار سچل سرمست کالج حیدرآباد میں ملازمت بھی کی۔وہ ادب کی ترقی پسند تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ ریڈیو میں بطور براڈ کاسٹر بھی رہے اور اسٹیج کے لیے ڈرامے بھی لکھے اور خود بھی ڈراموں میں کام کیا۔ ریڈیو کے صداکار محمد علی اور مصطفیٰ قریشی بھی ان کے ادارے سے وابستہ ہوکر ان کے ساتھ اسٹیج ڈراموں میں حصہ لیا کرتے تھے۔ حمایت علی شاعر کا خوبصورت ترنم ان کی پہچان بنا۔ اپنے خوبصورت ترنم کی وجہ سے وہ اکثر مشاعرے لوٹ لیا کرتے تھے۔کچھ عرصہ تک ٹیلی ویژن کے مقبول ترین پروگرام ’کسوٹی‘ سے بھی وابستہ رہے اور پھر اپنے تمام شعری مجموعوں کو یکجا کرکے ایک ضخیم کتاب کی صورت میں مرتب کیا اور اس کتاب کو ’’کلیات شاعر‘‘ کا نام دیا اور 960 صفحات پر مشتمل اس کلیات کو حمایت علی شاعر نے اپنی زندگی کا سرمایہ قرار دیا تھا۔

وہ آدمی ہے تو کیوں مجھ سے دور اتنا ہے
وہ خاک ہے تو اسے کیوں غرور اتنا ہے
نظر میں کوئی بھی جچتا نہیں ہے اپنے سوا
کہ آگہی کے نشے میں سرور اتنا ہے

Facebook Comments Box
Himayat aliپااکستانپاکستانی شاعرحمایت علیحیدرآبادسلطان ہوٹل حیدرآبادعطا محمد تبسمفلمقابل اجمیریکینیڈا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
نہیں کا مسئلہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرحان کامرانی
next post
شعورِ ادب، مقامِ ادب (حصہ سوم): عالمی ادارے اور انکی ذمہ داریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ رائو جاوید اقبال

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.