تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسفرنامہعلم و ادبعلمیکالمکلچرکلچر، آرٹنایاب کتب

خوشبو نگر کوغذی اور گندم کا گھونگٹ (قسط ۷) ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

by Editor2 03/08/2019
written by Editor2 03/08/2019
158

جب میں صبح بیدار ہوا تو خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ شاید میرے مادی جسم میں کہیں نہ کہیں خوشبوؤں اور مہکاروں کی پچی کاری ہو چکی تھی جو گزشتہ شام کے ماحول میں توانائی پا کر مجھے آسودہ کرتی تھی۔

’’سرکار طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ واجد میرے قریب آ کر بولا۔

’’ ہاں ہاں اللہ کا شکر ہے۔ ۔ ۔ کیوں پریشان ہو رہے ہو!‘‘میں نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔

’’رات سے چپ ہو کوئی رونق میلا نہیں ‘‘زبیر بھی پاس آ گیا۔

’’ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ۔ ۔ چلو تیاری کرو، کوغذی نہیں جانا!‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’ہم تو تیار ہیں پاجی! آپ اپنی فکر کریں‘‘ اظہار اپنی نئی ٹی شرٹ پر خوشبو چھڑکتے ہوئے بولا اور مجھے فکر لاحق ہوئی کیونکہ میں ہی رہ گیا تھا باقی لوگ جانے کی تیاری مکمل کر چکے تھے۔

جلدی سے تیارہو کر اور ہوٹل میں ہی ناشتا کرکے ہم لوگ باہر بازار میں آگئے۔ گزشتہ دن والا تجربہ کامیاب رہا تھا کہ جاؤ پبلک ٹرانسپورٹ پر اور آؤ پرائیویٹ جیپ پر۔ اسی آزمودہ طریقے کو کام میں لانے کے لیے ایک بار پھر چترال میں جیپوں کے اڈے کی طرف پیش قدمی شروع کی گئی۔

’’کوغذی جائے گا؟‘‘ایک مقامی باشندہ کہیں پاس ہی سے بولا جیسے کہہ رہا ہو،

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے

’’جی ہاں ہم کوغذی ہی کے لیے جیپ ڈھونڈ رہے ہیں‘‘میں نے جواب دیا تو وہ صاحب سرگوشی کے انداز میں بولے :

’’کیوں جا رہا ہے۔ ۔ ۔ کوغذی ؟‘‘

’’سیر کرنے جا رہے ہیں۔ سنا ہے کہ خوبصورت جگہ ہے!‘‘میں نے گھبرا کر وضاحت کی۔

’’تو پھر گولین بھی ضرور جانا۔ ۔ ۔ خوبصورت ترین جگہ ہے۔ ‘‘ وہ صاحب مسکراتے ہوئے بولے تو میری جان میں جان آئی کیونکہ انکے انداز سے لگتا تھا کہ ہم کوئی غلط کام کرنے جا رہے ہیں۔ ان صاحب نے ہمیں کوغذی کی جیپ میں سوار کرایااور ڈرائیور کو مقامی زبان میں گولین کے حوالے سے کچھ ہدایات دیں۔ اس عمل کے بعد ہماری جیپ کوغذی کی طرف روانہ ہوئی۔

چترال شہر سے نکل کر دریائے کنڑ پر موجود بڑے پل کے پار ہماری جیپ نے مستوج روڈ پر دوڑنا شروع کیا۔ گزشتہ روز ہمار سفر اسی رخ پر دریا کے دوسرے کنارے پر تھا، اور آج ہم دریا کے بائیں کنارے پر سفر کر رہے تھے۔ جلد ہی ہم اس مقام پر پہنچے جہاں دریا ئے مستوج اور دریا ئے لٹکوہ ملتے تھے۔ کل ہم دریائے لٹکوہ کے کنارے محوِ سفر تھے اور آج ہم دریائے مستوج کے کنارے سفر کر رہے تھے۔ ہماری منزل کوغذی تھی۔

ایک جگہ ہم نے سڑک پر بہت سی گاڑیاں رکی دیکھیںاور پھر ہماری جیپ بھی وہاں جا رکی۔ سامنے سڑک پر مٹی کابڑا سا تودہ گرا ہوا تھا اور ایک دیو ہیکل بلڈوزر راستہ صاف کر نے میں مصروف تھا۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد رستہ کھل گیا اور ہم دوبارہ اپنی منزل کی طرف بڑھے۔

’’خان آپ الغوزہ بجاتا ہے؟‘‘ میرے ساتھ بیٹھے ایک صاحب میرے ہاتھ میںبانسری دیکھ کر بولے۔

’’ہاں جی! کچھ دال دلیا کر ہی لیتے ہیں۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’تو پھر سناؤ نا۔ ۔ ۔ آبھی جا دلدارا‘‘ وہ صاحب کہنے لگے۔ ۔ ۔ اور میری بانسری پر’’آبھی جا دلدارا۔ ۔ ۔ آبھی جا دلدارا‘‘بجنے لگا تو اس کی مدھر دھن پر جیپ کی سواریاں گاڑی میں ہی بیٹھے بیٹھے رقص کرنے لگیں۔ یہ جیپ ایک اچھا خاصا ثقافتی طائفہ بن گئی۔ بانسری کے سروں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ان چترالی ہمراہیوں کا دلفریب رقص یکجہتی کا حسین منظر پیش کر رہا تھا۔ اسی اثنا میں ایک پل کے پاس گاڑی رک گئی۔ ہمارے رقاص ساتھی وہیں اتر گئے۔ پل سے دوسری طرف دریا کے پار ’’کوجو‘‘ نام کا گاؤں تھا، جس میں پھل دار درختوں کی بہتات تھی اور ہمارے ہمراہی اسی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ وہ ضد کرنے لگے کہ ہم ان کے ساتھ ان کے گاؤں چلیں، مگر ہماری مجبوری تھی کہ ہم اپنے ساتھ بہت تھوڑا وقت لے کر آئے تھے اور وہ وقت بڑی تیزی سے خرچ ہو رہا تھا، لہٰذا ہمارا سفر جاری رہا۔

سڑک کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے گاؤںآتے رہے اور ہم ان میں لوگوں کا رہن سہن دیکھ کر محظوظ ہوتے رہے، کیونکہ بہت سے گھروں کے صحنوں میں عمر رسیدہ چنار تھے جن کے تنے کھوکھلے ہو چکے تھے اور ان تنوں کو الماری کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ کسی تنے میں گھر کا فالتو سامان پڑا تھا تو کہیں باقاعدہ باورچی خانہ بنا ہوا تھا۔ ایک تنے میں چارپائی کھڑی تھی اور ساتھ کچھ کھونٹیوں پر تھیلے اور دوسری اشیا لٹک رہی تھیں۔

مجھے ’’راغ‘‘ گاؤں کی مسجد بہت بھائی جو برلبِ سڑک دعوتِ نظارہ دے رہی تھی۔ اس مسجد میں لکڑی کے رنگین نقش و نگار نے ہمیں بہت دیر تک وہاں رکنے پر مجبور کیا۔ کل کا سارا سفر تنگ کھائیوں کا سفر تھا اور گہرائی میں دریا کا ساتھ نرم دل حضرات کے لیے ممنوعہ بور تھا۔ آج تو بڑے پاٹ کے دریا کے ساتھ ساتھ ارد گرد کا ماحول بھی خاصا آسودہ اور کھلا کھلا تھا۔ پہاڑ ذرا دور دور تھے اور اتنے بلند نظر نہ آتے تھے جتنے کل والے پہاڑ تھے، جو گرم چشمہ کے رستے میںآسمانی حصار باندھے کھڑے تھے۔

’’ہائے ہائے ہائے کیا خوبصورتی ہے !!!‘‘ اظہار جیپ پر کھڑا ہو کر باہر دیکھ رہا تھا۔

’’ایک طر ف ر ہو نا! کچھ ہمیں بھی نظر آئے ‘‘میں نے اظہار کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے کہا جو سارے منظر کو اندر آنے سے روکے کھڑا تھا۔

اور واقعی باہر ’’ہائے ہائے ہائے ‘‘خوبصورتی تھی۔

ایک کھلا سا چوک ہمارے سامنے تھا، جس میںایک نیلے بورڈ پر ’’کوغذی‘‘ لکھا ہوا تھا۔ ذرا فاصلے پر پانی سے بھری، دو تین ندیاں بہ رہی تھیں۔ ندیوں پر بنی دس بارہ پن چکیاں نظر آرہی تھیں۔ ندیوں میں سے پانی چھلک کر باہر آرہاتھا۔ ہم ہی نہیں ندیوں کا پانی بھی اٹھ اٹھ کر باہر کی حسین نظارے دیکھ رہا تھا۔ پاس ہی گھنے چناروں کی چھاؤں میں کچھ مست چرواہے اپنی بھیڑوں کی پاس لیٹے اپنی زبان ’’کھوار‘‘ میں گیت گا رہے تھے۔ وہ گیت ہمارے پنجاب کے ماہیے کی طرح جذبات سے بھرپور تھے، ا ور جذبات کو کسی زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں کھوار سے ناآشنائی کے باوجود وہ پہاڑی گیت سمجھ آ رہے تھا۔ چرواہوں کے چست بدن اور تیکھے نقوش ان کی گلابی رنگت کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔

زبیر اور شعیب تو یہ منظر دیکھ کر کچھ بول ہی نہ پائے اور واجد اپنی عینک کو بار بار ٹھیک کر کے مناظر کو فوکس کرتا رہا۔

’’ زاہد بھائی ! جی چاہتا ہے ان چرواہوں کی بھیڑ بن کر انھی وادیوں میں کھو جاؤں۔ ‘‘ اظہار جذباتی ہو کر کہنے لگا۔

’’پہلی بات تو یہ ہے کہ تم ’بھیڈو‘ بن سکتے ہو۔ ۔ ۔ بھیڑ نہیں۔ دوسرے بات یہ ہے کہ تمہیں انسان بننا کیوں ناپسند ہے؟‘‘ واجد نے اظہار سے پوچھا۔

’’یار اپنی بیکار بحث سے ماحول کو آلودہ نہ کرو۔ اس خوبصورتی کو محسوس کرو۔ ‘‘ میں نے سب کو سمجھایا تو ہم سب جیپ سے اتر کر کوغذی کی فضا کا حصہ ہو گئے۔

کوغذی کے لوگ کم گو اور آنکھوں میں محبت کی ڈ ھیر ساری چمک لیے ہوئے تھے۔ سب مرد گہرے رنگوں کی شلوار قمیض اور چپل پہنے ہوئے تھے اور سروں پر چترالی ٹوپیاں تھیں جن میں پھول اُڑسے ہوئے تھے۔ کوئی مرد بھی فربہ نہ تھا، سب کے بدن چست اور اکہرے تھے۔

معلوم نہیں کوغذی کو کیسے پتہ چلا کہ کچھ غیر مانوس اجنبی ناآشنا چہرے اس وادی میں آ اترے ہیں۔ ہم جدھر سے بھی گزرتے تھے سوال بھری نظریں ہماری پشت پر پیوست ہو جاتیں۔ مڑ کر دیکھتے تو دروازہ بند ہو جاتا۔ سارے بازار میں یہ آنکھ مچولی جاری رہی۔ جب ہم بازار سے آگے نکل آئے توہمارے بائیں طرف دور تک گندم کی ہری فصل ہوا میں ہلکورے کھاتی نظر آئی۔ کھیتوں میں خواتین کام کر رہی تھیں۔

سب خواتین پردے کی پابند نظر آئیں مگر انکی شوخی اور زندہ دلی پردے میں بھی عیاں تھی۔ ان کے لباس کے تروتازہ اور شوخ رنگ انہیں دھنک بنا رہے تھے اور سب کی آنکھوں میں چمکتا کاجل ہمیں لن ترانی کے نغمے سنا رہا تھا۔ ۔ ۔ تو نہیں دیکھ سکتا۔ ۔ ۔ نہیں میں دیکھ کے رہوں گا!

کیا خوب ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی!!!

پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

دوسری قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

تیسری قسط کے لیے اس لنک پہ کلک کریں۔

آٹھویں قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

Facebook Comments Box
پاکستانی ثقافتچترالکوغذیکیلاش
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
گرم چشمہ، افغانی پلاؤ اور حیرانیاں (قسط ۶) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم
next post
آزادئ اظہار کے “تاج محل” میں “سینسر کی جھگیاں” —- شاہنواز فاروقی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.