تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادبعلمیکالم

ابن حزم: کثیر الجہت، آزاد منش فیلسوف —– احمد الیاس

by دانش ڈیسک 18/06/2019
written by دانش ڈیسک 18/06/2019
78

جس دور میں عراق، ایران، ترکستان، مصر و شام وغیرہ میں فلسفہ ذوق و شوق سے پڑھا جارہا تھا، اسی دور میں سپین کی اموی حکومت سائنس و عمرانیات کے مختلف علوم و فنون کی حوصلہ افزائی تو بہت کرتی تھی جس کے نتیجے میں سپین عراق کے بعد اسلامی تہذیب کا دوسرا بڑا علمی مرکز بن گیا تھا لیکن باقی اسلامی دنیا سے الگ اور غیر مسلموں سے گھرے اندلسی اسلامی معاشرے کو تقسیم سے بچانے کے لیے فلسفہ اور عقائد سے متعلق بحثوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی کیونکہ ان مباحث سے تفرقہ پیدا ہوتا جیسا عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں مباحث کے سبب ہوا تھا۔ دوسرا یہ کہ مشرقی اسلامی ممالک میں فلسفے کا رجحان ایرانیوں کے مسلمان ہونے کے سبب ہوا جو پہلے ہی کافی فلسفیانہ مزاج رکھتے تھے لیکن مغربی مسلم ممالک بشمول سپین میں ایرانی اور ایرانیت موجود نہ تھے بالکل خالص عرب رنگ غالب تھا۔ عرب بہت عملیت پسند لوگ رہے ہیں۔

مشرقی اسلامی ممالک میں فلسفے کا رجحان ایرانیوں کے مسلمان ہونے کے سبب ہوا جو پہلے ہی کافی فلسفیانہ مزاج رکھتے تھے

ان حالات میں ایک فکری باغی نے جنم لیا جسے ابن حزم کہا جاتا ہے۔ ابنِ حزم نے ایک تو ائمہِ فقہ کی تقلید سے انکار کیا اور آزادانہ طور پر شریعت کی تشریح کرنی شروع کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے مسلمانوں میں انتہائی محترم سمجھے جانے والے مقتدر ائمہ پر سخت تنقید بھی شروع کردی۔ ابن حزم ظاہریت کا قائل تھا اور قیاس کے مختلف طریقوں کا مخالف۔ گویا آج کی اصطلاحوں میں سمجھا جائے تو ابن حزم وہابیت کے ظہور سے کئی سو سال قبل ہی وہابی تھا۔

لیکن وہابی کی اصطلاح سے یہ نہ سمجھا کہ ابن حزم آج کے سعودی علما کی طرح تنگ نظر یا انتہائی قدامت پسند تھا۔ ابن حزم کی دوسری بغاوت یہ تھی کہ اس نے سپین میں فلسفہ پڑھنا اور لکھنا شروع کیا جہاں یہ کام کسی نے نہ کیا تھا۔

اسپین میں ابن حزم کا مجسمہ

اس کے ساتھ ساتھ ابنِ حزم رومانوی مزاج کا حامل بھی تھا۔ محبت کے موضوع پر اس کی ایک طویل ادبی تصنیف “طوق الحمامہ” انتہائی جدید محسوس ہوتی ہے اور دلچسپ و خوبصورت علامتوں سے معمور ہے۔ کالج کے دنوں سے اس کا انگریزی ترجمہ ring of the dove مجھے بہت محبوب رہا ہے۔ یہ تحریر آپ کو اندلسی زندگی کی رعنائی کا ویسا ہی احساس بخشتی ہے جیسا واشنگٹن ارونگ کی Tales of Alhambra۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں نفسیات کا گہرا فہم بھی پایا جاتا ہے اور ابن حزم کی اپنی نفسیاتی کیفیات بالخصوص لڑکپن کے دنوں کی رومانوی کیفیات کھل کر سامنے آتی ہیں۔ ابن حزم اپنے معصوم معاشقوں کی مثالیں دے کر بات واضح کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی نوعیت کے دلچسپ استعارے بھی استعمال ہوئے ہیں، مثلاً ابنِ حزم دردِ دل کے بیان میں عاشق کو “مظلوم اور سازش کے شکار علی” سے تشبیہ دیتے ہیں اور رقیب کو کھلم کھلا “ابنِ ابی سفیان” کہتے ہیں۔

اس قسم کی کثیر الجہتی آزاد روی کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلتا ہے۔ ابنِ حزم کو شہر بدر کردیا گیا اور وہ کوئی پناہ نہ پا کر اندلس کے بیابانوں میں دم توڑ گئے۔

ابنِ حزم کی متعدد تصانیف ہیں۔ ان میں ایک کتاب “تقریب” تو فلسفے کے موضوع پر ہے لیکن ایسی چابکدستی سے لکھی گئی ہے کہ تمام اصطلاحیں بدل دی گئی ہیں، بظاہر کتاب فقہ کی لگتی ہے لیکن درحقیقت ہے فلسفے کی۔

دوسری کتاب تورات اور انجیل میں ہونے والی تحریفات کا سراغ لگانے کے لیے ہے۔

جب کہ ان کی سب سے مشہور تصنیف “الفصل فی الملل والنحل” ہے۔ اس میں مختلف مذاہب اور مختلف مسلمان فرقوں کے عقائد پہلے تفصیل سے بیان ہوتے ہیں اور پھر ابنِ حزم اپنے مخصوص انداز میں ان کا رد کرتے جاتے ہیں۔ یہ بھی کافی دلچسپ کتاب ہے جس کے کچھ حصوں کا ترجمہ مجھے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ سپین والوں کے لیے یہ کتاب کافی دلچسپ رہی ہوگی کیونکہ سپین میں دیگر مسلم ممالک کی طرح مسلمان مختلف فرقوں میں تقسیم نہ تھے بلکہ تقریباً سب ہی اہلسنت اور مالکی تھے۔ خود ابنِ حزم کو اپنے وطن پر بہت فخر تھا لیکن سپین سے متعلق ایک تحریر میں لکھتے ہیں :

“ہمارے ملک میں چونکہ فرقے نہیں ہیں نہ عقائد پر بحث ہوتی ہے اس لیے یہاں عقلی علوم کو ترقی حاصل نہیں ہوئی”۔

آج ابن حزم کو ایک طرف تو سلفی مکتب فکر کے لوگ بہت اہمیت دیتے ہیں، دوسری طرف انہیں سپین میں بھی پہلا مقامی فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں ابن حزم کو “الفصل” کی تصنیف کے سبب علمِ تقابلِ ادیان کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ کے بعد ابن العربی اور ابنِ رشد کے عہد تک سپین میں کوئی بڑا فلسفی نہ ہوا۔ المغرب کا ایک بڑا حکیم ابنِ خلدون بھی ابنِ حزم سے بہت متاثر تھا۔

Facebook Comments Box
ring of the doveTales of Alhambraابن حزماسلامی فلسفیاسلامی فیلسوف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
رابعہ بصری —— صائمہ نسیم بانو
next post
نیر مسعود: جادوئی حقیقتوں کا قصہ گو ——– قمر صدیقی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.