تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینکالممعیشتمعیشت

آئی۔ٹی کی صنعت اور ہمارا مقام —- لالہ صحرائی

by لالہ صحرائی 16/06/2019
written by لالہ صحرائی 16/06/2019
155

مستقبل کی دنیا مکمل طور پر آرٹیفیشیل انٹیلیجنس کی آٹومیشن پر چلے گی مگر بیرونی دنیا کی نسبت ہم اس شعبے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ہمیں اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ دوسروں کا محتاج ہونے کی بجائے نہ صرف اپنا ڈیجیٹل ایکسچکر پیدا کریں بلکہ اس قابل بھی ہوں کہ آئی۔ٹی ایکسپورٹ کرکے نوجوان اپنا روزگار اور مملکت اپنا زرمبادلہ کما سکے۔

اس وقت دنیا کے بیشتر بزنس سینٹرز سستی خدمات کے حصول کیلئے پاکستانی افرادی قوت سے رجوع کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں آئی۔ٹی پارک، ایمپلائمنٹ ایکسچینج یا کوئی دوسرا حب ایسا نہیں جہاں بیرونی آجر کیساتھ ہماری افرادی قوت کا لنک ہو سکے اسلئے وہ انڈیا کی طرف نکل جاتے ہیں جہاں انہیں آئی۔ٹی پر مشتمل پورا ایک شہر مل جاتا ہے۔

اگر اس شعبے پر توجہ دی جائے تو کسی عالمی انویسٹر کے تعاون سے آئی۔ٹی پارکس کا وسیع انتظام کیا جا سکتا ہے جو ہمیشہ کام آئے گا کیونکہ یہ آنے والی دنیا کا مستقل، ایورگرین اور ریلیونٹ ڈومین ہے جسے نظر انداز کرنا خود کو ہمیشہ کیلئے بیرونی دنیا کی محتاجی میں دینے کے مترادف ہے۔

ہمارے تجارتی پالیسی سازوں کو اس بات کا احساس تو ضرور ہوگا مگر عملی طور پر ان کی طرف سے آن گراؤنڈ ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس سے اندازہ ہو کہ وہ سروسز سیکٹر جو دنیا کی ابھرتی ہوئی انڈسٹری ہے اسے اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ہمارے پاس آئی۔ٹی پارک کیلئے مختص زمینیں یونہی بیکار پڑی ہیں جو طویل المدتی انویسٹمنٹ پلان پر انویسٹرز کو دیکر یہ کام بغیر کسی خرچے کے بھی کیا جا سکتا ہے۔

اس بات کی تفہیم کیلئے امداد، قرض اور انویسٹمنٹ کے فرق پر ایک جائزہ پیش کرتا ہوں تاکہ بے مقصد سیاسی مباحث میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ارباب اختیار کو یہ احساس دلایا جائے کہ جو کچھ ہم مس کر رہے ہیں اسے بلاقیمت بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جس کا ہمیں نہیں تو مملکت اور آنے والی نسلوں کو بہرحال کثیر الجہتی فائدہ ہوگا۔

غیر ملکی امداد:
یہ وہ رقم ہوتی ہے جو ہم کسی خاص ضرورت کے وقت دوست ممالک کو دیتے ہیں یا ان سے مانگتے ہیں، یہ رقم عمومی طور پر سماجی بہبود یا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کیلئے بطور ناقابل واپسی عطیہ یا قابل واپسی انٹرسٹ فری لون کے طور معینہ یا غیر معینہ مدت کیلئے فراہم کی جاتی ہے۔

امداد کی رقم قابل واپسی ہو تو یہ طے شدہ اقساط میں واپس ہو جاتی ہے لیکن "نوباڈی گیوز یو فری لنچ” کے مصداق حقیقت میں یہ امداد بھی ہرگز فری نہیں ہوتی بلکہ کسی گزشتہ سہولت کے عوض ملتی ہے یا اس کے عوض کوئی نہ کوئی سہولت مانگ لی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر؛
ہر ملک اپنی تجارتی پالیسی امپورٹ ایکسپورٹ بیلنسنگ کی طرز پر بناتا ہے تاکہ اس کی لیکؤیڈیٹی متاثر نہ ہو، لیکن بڑے ممالک چھوٹے ممالک سے امداد کے عوض یہ پالیسی اپنی فیور میں تبدیل کروا لیتے ہیں تاکہ ان کی ایکسپورٹ بڑھ جائے، بعض ممالک اسلحہ خریدنے کے عوض، کسی عالمی معاملے میں حمایت کرنے یا اپنی کوئی درپیش الجھن حل کرانے کے عوض بھی دیگر ممالک کو یہ امداد فراہم کرتے رہتے ہیں۔

خالص انسانی بنیادوں پر یہاں کوئی امداد نہیں ہوتی یا اس کا رواج بہت کم ہے یعنی ایسی امداد کسی ڈیزاسٹرز کے موقع پر ہی دی جاتی ہے۔

غیر ملکی قرضے:
قرضہ جہاں سے بھی لیں یہ انٹرسٹ کی بنیاد پر ہی ملتا ہے، جس کی قسطیں طے شدہ شیڈیول کیمطابق بمعہ سود ادا کرنی پڑتی ہیں۔

غیر ملکی انویسٹمنٹ:
امداد اور قرضے کے برعکس انویسٹمنٹ ایک جامع منصوبے کے تحت ہوتی ہے جس میں ایک ملک اپنی ضرورت کے تحت اپنی زمین، مواصلات، صنعتی دائرے یا اکنامک کلچر کو ڈویلپ کرنے کیلئے انویسٹر کو راغب کرتا ہے یا وائس۔ورسہ انویسٹر از خود ایسا کوئی منصوبہ لیکر آجاتا ہے۔

ایسے منصوبوں کا بنیادی نقطہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اگلے بیس سال بھی جن چیزوں کو ڈویلپ نہیں کر سکتے یا بیس سال بعد اس قابل ہوں گے کہ اسے جزوی یا کلی طور پر بنا سنوار کے اپنے اکنامک کلچر کا حصہ بنا سکیں تو اس سے بہتر ہے کہ کوئی بندہ آج ہی اپنے خرچے سے اسے ڈویلپ کر دے اور اپنی انویسٹمنٹ اور منافعے کی ریکوری کیلئے بیس سال تک اس کے محصولات وصول کرتا رہے۔

اس کے دو فائدے ہوتے ہیں، پہلا یہ کہ جو چیز بیس سال تک بیکار پڑی رہے گی وہ فوری طور پر عوامی روزگار، اکنامک کلچر، قومی ریوینیو اور قومی ترقی کا حصہ بن جائے گی، دوسرا یہ کہ بیس سال بعد بغیر کسی محنت کے ایک لگا لگایا کیپیٹل ایسٹ مع کیپیٹل پروسیڈز اور مکمل ریوینیو کے قومی ملکیت میں آجائے گا۔

انویسٹر یہ دیکھتا ہے کہ اپنی رقم بیس سال تک بینک میں رکھنے یا اس دوران چار چھ پراجیکٹ کرنے سے جتنا نفع ملے گا اتنا اس ایک پراجیکٹ سے مل جائے تو ضمنی طور پر کئی دیگر فوائد بھی اسے حاصل ہو جاتے ہیں۔

مثلاً ایک تو یہ کہ اسے تمام پروڈکٹس اور مین افرادی قوت اپنے ملک کی لگانی ہوتی ہے لہذا سرمائے کا ایک تہائی حصہ واپس اسی کے پاس لوٹ جاتا ہے، پھر وہ اس پراجیکٹ کو مختلف فیزز میں اس طرح سے مکمل کرتا ہے کہ ہر اگلے حصے پر ہونیوالی انویسٹمنٹ میں پہلے حصوں سے ملنے والے محصولات بھی شامل ہو جاتے ہیں، پھر اس کی کامیابی سے دنیا بھر سے کئی دیگر کنٹریکٹ بھی ملتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پراجیکٹ کا فائدہ انویسٹر کی اپنی مملکت کو براہ راست اور ہمیشہ ہوتا رہتا ہے۔

یہ چیز اس تمثیل میں آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی فرد کے پاس ایک کمرشل پلاٹ خالی پڑا ہو جسے آباد کرنے کیلئے اگلے دس سال بھی اس کے پاس سرمایہ دستیاب ہونے کے امکانات نہ ہوں تو وہ کسی ٹھیکیدار کے پاس جائے یا ٹھیکیدار اسے آفر دے، دونوں صورتوں میں ان کے درمیان یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے کہ؛

ٹھیکیدار اسی لاکھ روپے کی انویسٹمنٹ سے بیس دکانوں پر مشتمل ایک کمرشل مارکیٹ بنا کے دے گا۔

جب مارکیٹ کو کرائے پر دیں گے تو فی دکان دو لاکھ روپیہ ایڈوانس اکٹھا ہوگا اس سے ٹھیکیدار کو ایک کروڑ روپیہ مل جائے گا۔

یوں چند ماہ کی محنت سے پلاٹ اونر کی جائیداد بن جائے گی اور ٹھیکیدار کو بیس لاکھ کا پرافٹ مل جائے گا۔

ایسی بنی ہوئی جائیداد کی قیمت بھی دن دوگنی بڑھتی ہے اسلئے اونر کو اپنی جیب سے بھی دس لاکھ ٹھیکیدار کو دینے پڑ جائیں تو دے کے اپنا کام کرا لینا چاہئے کیونکہ اسے فوری روزگار بھی حاصل ہو رہا ہے جو چند ماہ میں اس کے اپنے دس لاکھ بھی لوٹا دے گا۔

اب اونر کے اوپر دکانداروں کا ایک کروڑ ایڈوانس کے طور پہ کھڑا رہ جائے گا جو ٹھیکیدار لے گیا ہے لیکن قابل ادا اونر کے ذمے ہے، یہ رقم دکانوں کے منیمم کرائے سے بھی محض دو سال کے عرصے میں وصول ہو جاتی ہے۔

اس دوران اگر کوئی دکاندار جائے گا تو اسے دولاکھ ایڈوانس واپس کرنا ہوگا جو نئے آنے والے کرائے دار سے لیکر بھی دیا جا سکتا ہے لہذا اس ڈیل میں کوئی نقصان نہیں بلکہ جو زمین اسے دس سال بعد بھی کرایہ نہیں دے سکتی تھی وہ فوراً اس کے کام میں آجائے گی۔

یہ ٹھیک ہے کہ ہماری مالی حالت کمزور ہے جس کی وجہ سے ہم چاہتے ہوئے بھی بہت کچھ نہیں کر پاتے، لیکن اس طرح کے بہت سے انویسٹمنٹ پلان بنائے جا سکتے ہیں جن کی بدولت قوم کو تعمیراتی اسٹیج پر بھی بھرپور روزگار ملے گا اور مکمل ہونے کے بعد بھی یہ اکنامک کلچر میں بیش بہا کنٹریبیوشن دیں گے۔

ان معاملات میں عوامی نمائندوں کو فیصلے کا اختیار تو ہے لیکن شفافیت برقرار رکھنے کیلئے ایسے منصوبوں کی فیزیبلٹی اور معاہدے کی شرائط نہ صرف پبلک ہونی چاہئے بلکہ زمین اور پروجیکٹ کی ملکیت اور اس پر قانونی کنٹرول بدستور حکومت پاکستان کے پاس رہنا چاہئے۔

اس احتیاط کے علاوہ کوئی امر مانع نہیں ہے کہ سورسز سیکٹر کو بطور انڈسٹری کھڑا کرکے ہم اپنی قوم کا حال اور مستقبل نہ سنواریں اسلئے سیاسی مباحث میں وقت ضائع کرنے کی بجائے عوام کو خاص طور پر آئی۔ٹی سے منسلک احباب کو ایسے سنجیدہ مطالبات حکومت کے سامنے ضرور رکھنے چاہئیں۔

Facebook Comments Box
BudgetBudget 2019-20ITIT Industryآئی ٹی انڈسٹریانفارمیشن ٹیکنالوجیبجٹپاکستانی بجٹلالہ صحرائی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
کراچی کی نفسیات: کل اور آج —— احمد اقبال
next post
داستان زیست: اسلام آباد، مابعد — قسط 2 —– محمد خان قلندر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.