تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

ترقی کا سفر اور بے روزگاری ——– علی حسنی

by دانش ڈیسک 14/06/2019
written by دانش ڈیسک 14/06/2019
85

میشال فوکو ایک فرانسیسی فلسفی ہے اور اس کے نظریات بنیادی طور پر طاقت اور علم کے درمیان تعلق سے متعلق ہیں۔ فوکو سے ہماری واقفیت صرف واجبی سی ہے۔ لیکن اس کا ایک جملہ بہت دل کو لگا ہے

"اگر آپ کے پاس کام نہیں، یعنی آپ بے روزگار ہیں ۔ ۔ ۔ تو آپ پاگل ہیں”۔

پاگل ہیں یا نہیں ۔ ۔ ۔ لیکن، بے روزگاری ایک عذاب ضرور ہے۔ اور جب آپ پر ذمہ داریاں بھی ہوں، آپ کا گھر کرایے کا ہو اور بچے اسکول و کالج میں پڑھ رہے ہوں تو یہ تکلیف سو گنا ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ تو آپ کے قریب بھی ہونگے ایسے؟ کیا حال ہے انکا؟

عالمی ادارہ محنت (انٹرنیشل لیبر آرگنائزیشن – آئی ایل او) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وقت کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مزید کم ہوتے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں معاشی کساد بازاری کی صورتِ حال زیادہ سنگین ہے جہاں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 25 فی صد سے بھی زائد ہوچکی ہے اور بے روزگاری کی صورتِ حال آئندہ پانچ برسوں میں مزید بگڑ جائے گی۔

لیکن کبھی سوچا ہے کہ ۔ ۔ ۔ بے روزگاری کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیوں نہیں ہے اتنا کام، جتنے لوگ ہیں۔ جب بات کرو تو "دانشور خواتین و حضرات” بے روزگاری کی وجہ "آبادی میں اضافے، امن و امان کی خراب صورت حا ل، وسائل کی کمی اور انڈسٹریلائزیشن نہ ہونے کو اس کی وجہ بتاتے ہیں”۔

لیکن اگر ایسا ہی ہوتا تو ۔ ۔ ۔ ۔ بے روزگاری کا عذاب صرف اور صرف غریب ممالک تک ہی محدود ہوتا۔ کیا ایسا ہی ہے؟ جاپان اور امریکہ میں نہیں ہے بے روزگاری؟ وہاں لوگ کام نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی نہیں کر رہے؟ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کے لیے روزگار کی صورتِ حال اگرچہ بہتر ہے لیکن پھر بھی ہر پانچ میں سے ایک شخص بےروزگاری کا عذاب جھیل رہا ہے۔

تعلیم کا نہ ہونا اس کی وجہ ہے؟ لیکن اگر ایسا ہوتا تو ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام آباد کے بہترین تعلیمی ادارے سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے اعزازعلی کی خود کشی کی خبر ۔ ۔ ۔ ہمارے سامنے نہ ہوتی۔ اعزاز علی کی انجینئرنگ کی ڈگری بھی اس کے لئے روزگار کا بندوبست نہ کر سکی۔ نوکری کے حصول کے لئے ایک سال کی تگ و دو کے باوجود روزگار حاصل کرنے میں ناکامی نے اسے شہر ِ خموشاں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ کون ہے اس کی موت کا ذمہ دار؟

بہت سی وجوہات ہونگی ۔ ۔ ۔ لیکن
ترقی کا یہ سفر بھی تو ایک وجہ ہو سکتی ہے؟

بات ٹھیک نہیں لگتی ناں ۔ ۔ ۔ ۔
ترقی اور بے روزگاری کا کیا تعلق؟

اچھا ۔ ۔ دیکھئے۔ سامنے کی مثال ہے۔ آپ کے گھر مہینے کا سودا ۔ ۔ دال چاول آٹا تیل وغیرہ ۔ ۔ ۔ کہاں سے لاتے ہیں؟ امتیاز اسٹورز۔ ۔ یا میٹرو سے۔ ۔ ۔ یا پھر۔ ۔ ۔ ۔ محلے میں کریانے کی دکان سے؟

آپ کپڑے کون سے پہنتے ہیں ۔ ۔ ۔ جوتے، چپلیں کون سی پہنتے ہیں ۔ ۔ ۔ کھلونے کون سے خریدتے ہیں ؟ وہ جو آپ کے محلے کا درزی سیتا ہے ۔ ۔ ۔ یا پھر جو بڑے سے شاپنگ مال میں ۔ ۔ ۔ چین و امریکہ سے آتے ہیں؟

مٹھائیاں، ٹافیاں، بسکٹ، آئسکریم، جوسز وغیرہ کون سی کھاتے ہیں ۔ ۔ ۔ وہ جو محلے کا حلوائی یا نان بائی بناتا ہے ۔ ۔ ۔ یا پھر وہ جو بڑے انڈسٹریل کمپلیکسز سے بن کر آتی ہیں؟ اور دودھ کونسا استعمال کرتے ہیں؟ وہ کہاں بنتا ہے؟ کہاں پیک ہوتا ہے؟

آپ کہیں گے ۔ ۔ ۔ کہ ترقی کے اس سفر میں ۔ ۔ ۔ ۔ روزگار کم نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ بلکہ، تبدیل ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جو حلوائی پہلے اپنی دکان کھولتا تھا صبح شام، اب وہ ۔ ۔ ۔ والز فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ ۔ ۔ اور جو دودھ والا ۔ ۔ پہلے سائیکل لے کر اپنا دودھ بیچتا تھا ۔ ۔ ۔ وہ "ملک پیک” کی گاڑی چلاتا ہے۔ لیکن حضور، بات اتنی سادہ ہوتی تو کیا ہی بات تھی ۔ ۔ ۔ ۔

ہمارا ماننا ہے کہ "سائنٹیفک انڈسٹریل کمپلیکس” اور اس سے منسلک ادارے "آہستہ آہستہ ۔ ۔ ۔ روزگار کی بھی گلوبلائز کرتے جارہے ہیں” اب اگر آپ کے پاس "سات تہہ والا ۔ ۔ ۔ خاص پیپر” نہیں جو ٹیٹرا پیک میں استعمال ہوتا ہے تو آپ نہ تو دودہ پیک کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور نہ ہی بیچ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس "شان مصالحے” نہیں تو آپ کھانا پکا نہیں سکتے۔

” سائنٹیفک انڈسٹریل کمپلیکس” نے کاموں اور ان سے منسلک جذبات کو علیحدہ علیحدہ کردیا ہے۔ آپ ساری زندگی ایک پنکھے بنانے والے کارخانے میں کام کرتے رہیں ۔ ۔ ۔ لیکن خود پنکھا نہیں بنا سکتے۔ کیوں ہے ایسا ۔ ۔ ۔ اور کیا اس سارے ” ترقی کے سفر” کا بھی کچھ تعلق ہے بے روزگاری سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس پر بھی سوچئے۔

یہ ” سائنٹیفک انڈسٹریل کمپلیکس” چھوٹے اور ذاتی کاروباروں کو بہت حد تک کھاتا جا رہا ہے۔ درزی کی دکانیں ۔ ۔ ۔ اور بڑھئی کا ہنر، اب کچھ دن کی ہی بات ہے۔ گاڑیوں کے مکینک بھی کچھ عرصے میں ۔ ۔ اپنا ہنر لئے بیٹھے رہیں گے۔ گاڑی خراب ہوگی تو سوفٹ ویئرز سے درست ہوگی ۔ ۔ ۔ استاد کے ہاتھ سے نہیں۔ کیا ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا؟

اور کیا ۔ ۔ ۔
جاپان، امریکہ و برطانیہ کی نقالی سے
ہوجائی گی ختم بے روزگاری ہمارے جوانوں میں؟
اور کیا "سپر انڈسٹریلائیزیشن اور ترقی”
سے ہوجائے گا یہ مسئلہ حل؟

اور سب سے بڑہ کر یہ کہ، جب تک یہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ کیا کریں ہم لوگ اپنے ان بھائیوں اور دوستوں کا جو بے روزگار ہیں۔ اپنے گھروں میں بند ۔ ۔ ۔ اپنے آپ سے بے زار ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کریں اس صورتحال کا۔ کیا یہی ترقی ہے؟

۔ ۔ ۔ کیا ۔ ۔ ۔
دو سو سال پہلے اچھا تھا
یا آج کی دنیا "ترقی یافتہ دنیا” بہتر ہے؟

ایک دوست سے پوچھا تو اس نے پیار سے کہا "دیکھو کیا تم چاہتے ہو کہ ہم پھر واپس اس دور میں چلے جائیں، جہاں نہ دوائیں تھیں، نہ اسپتال ۔ ۔ ۔ نہ گاڑیاں تھیں اور نہ جہاز ۔ ۔ ۔ نہ موبائیل تھے اور نہ ہی ٹی وی ۔ ۔ ۔ نہ ایرکنڈیشنر تھے اور نہ ہی زندگی کی دوسری سہولیات”۔

عزیز دوست کی یہ بات سن کر میں چپ ہو گیا، لیکن آپ ایرکنڈیشنر خرید سکتے ہیں اور بجلی کا بل دے سکتے ہیں تو شوق سے ” ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن کتنے ہیں آپ کے اردگرد جو ۔ ۔ ۔ پندرہ ہزار روپے مہینے ۔ ۔ ۔ بجلی کا بل دے سکتے ہیں؟

آپ کو معلوم ہے کہ کم ازکم تنخواہ ۔ ۔ ۔ سرکار کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ساڑھے سترہ ہزار مقرر ہے؟ لیکن اسے بھی چھوڑیں ۔ ۔ ۔ جن کی تنخواہ پچاس ہزار ہے ۔ ۔ ۔ ان سے پوچھ لیں ۔ ۔ ۔ مہینہ کیسے گزرتا ہے انکا؟ کبھی پوچھیں اپنے کسی جونیئر سے ۔ ۔ ۔

جناب ۔ ۔ ۔ ۔ آپ ترقی کے سفر میں ۔ ۔ ۔ سب سے آگے نہیں تو ۔ ۔ ۔ ۔ بہت پیچھے بھی نہیں ۔ ۔ ۔ اللہ نے آپ کو کامیابی دی اور آپ سکون سے ہیں لیکن اس ۔ ۔ ۔ ترقی کی دوڑ مسلسل ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی ان کی نظر سے بھی دیکھیں ۔ ۔ ۔ جو ” ترقی کی اس دوڑ” میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ راستے میں گر گئے ہیں ۔ ۔ ۔ جن کا سانس اکھڑ رہا ہے ۔ ۔ ۔ گر گئے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ہجوم کے ہاتھوں کچلے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ دم توڑ رہے ہیں ۔ ۔ ۔

جناب والا ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی بیان کردہ سہولیات کی افادیت پر بحث اپنی جگہ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اگر ان ہی میں ہے دنیا ۔ ۔ ۔ تو یہ دنیا ۔ ۔ ۔ کس کے پاس ہے ۔ ۔ ۔ سب کے پاس ۔ ۔ ۔ ۔ یا چند کے پاس ۔ ۔ ۔ اور باقی لوگوں کےلئے ۔ ۔ ۔ کیا ہے؟ کیا یہی انسانیت ہے؟ ترقی ہے؟

 

Facebook Comments Box
featuredjoblessnessProgressionبے روزگاریترقیسرمایہ داری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایڈورڈسعیدؔ : مشرق کی ’آواز‘ —– امتیازعبدالقادر
next post
قومی بجٹ بمقابلہ پرائیویٹ ملازمین —- لالہ صحرائی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.