تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیعلمیکالم

مطالعہ پاکستان اور مغالطہ پاکستان —– احمد الیاس

by دانش ڈیسک 27/05/2019
written by دانش ڈیسک 27/05/2019
128

مطالعہ پاکستان واقعی ایک کافی فضول کتاب ہے لیکن اس لیے نہیں کہ اس میں دو قومی نظریہ ہے۔ بلکہ اس لیے کہ یہ دو قومی نظریے کو کہ ٹھیک سے سمجھاتی ہی نہیں ہے۔

مثال کے طور پر آج کل اکثر لوگوں کو یہ مغالطہ ہے کہ دو قومی نظریے کا مطلب پاکستان کا قیام اور دو ریاستوں کا نظریہ تھا۔ یہ قطعی طور پر غلط ہی نہیں بلکہ شہریت کے حوالے سے شدید کج فہمی کا حامل نکتہ نظر ہے۔ قوم اور ریاست قطعاً ہم معنی ہیں نہ لازم و ملزوم۔ دنیا میں کئی قومیں بغیر کسی ریاست کے قوم ہیں اور کئی ریاستیں دستوری یا غیر دستوری طور پر کثیر القومی ہیں۔

علیحدہ ریاست کی بات تو باقاعدہ طور پر پہلی مرتبہ 1930 میں علامہ اقبال نے کی۔ دو قومی نظریے پر مسلمانوں کی رائے عامہ 1867 کے اردو ہندی تنازعے سے ہموار ہونا شروع ہوئی تھی اور 1886 کی محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس تک مسلمان اپنے آپ کو ایک علیحدہ قوم مان چکے تھے۔ یہ کانفرنس ڈھاکہ میں ہوئی اور اس میں پنجاب، بنگال، سندھ، سرحد، مدراس اور مالابار سمیت پورے ہندوستان کے مسلمان نمائندے شریک تھے۔

بہرحال، اس کانفرنس کے بعد سے مسلمانانِ ہند اپنے لیے قوم کا لفظ ہی استعمال کرتے رہے۔ ہندو مسلم اتحاد کے سفیر (جن میں سب سے نمایاں ایک دور میں اقبال اور جناح تھے) جب ابتدائی دور میں مسلمانوں اور ہندوؤں کو سیاسی اتحاد بنانے پر قائل کرتے تب بھی اسے دو قوموں کا اتحاد قرار دیتے۔

دو قومی نظریہ ایک تمدنی نظریہ ہے جو پاکستان کی بات ہونے سے قبل بھی مسلمہ طور پر ہندوستانی مسلمانوں میں رائج تھا اور بالفرض اگر پاکستان نہ بنتا تو بھی حقیقیت ہوتا۔

بہرحال، وقت کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہوتا گیا کہ ہندوؤں کی سب سے مقبول اور نمائندہ جماعت کانگرس مسلمانوں کو قوم تسلیم کرکے ان کی اقتدار میں جائز اور آبادی سے متناسب شرکت پر راضی نہیں ہے بلکہ انہیں کسی افسانوی “ہندوستانی قوم” کا حصہ بتا کر مارجنلائز کرنا چاہتی ہے۔ ایسا 1911 میں بنگال کی تقسیم منسوخ ہونے سے شروع ہوگیا تھا لیکن پھر بھی مسلمانوں نے صبر کا مظاہرہ کیا اور قائد اعظم کی کوششوں سے میثاقِ لکھنؤ بھی طئے پایا اور گاندھی کی قیادت میں عدم تعاون کی مشترکہ تحریک بھی چلی۔ تاہم انیس سو بیس کی دہائی میں جب جمہوریت باقاعدہ طور پر وارد ہوئی تو دونوں قوموں میں سیاسی فاصلہ بڑھتا چلا گیا۔

انیس سو اٹھائیس کی نہرو رپورٹ میں جداگانہ انتخابات ختم کرنے اور اختیارات زیادہ سے زیادہ مرکزی حکومت کے پاس رکھنے کی سفارش کی گئی۔ یہ مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے والی بات تھی۔ اسی کے ردعمل میں پہلے جناح کی چودہ نکات آئے اور جب یہ انتہائی معتدل اور معقول مطالبات بھی مسترد کردئیے گئے تو اقبال نے انتہائی مطالبہ کردیا یعنی شمال مغرب میں مسلم ریاست کا قیام، خواہ تاجِ برطانیہ کے تحت ہو یا اس سے الگ۔

گویا دو قومی نظریہ ایک تمدنی نظریہ ہے جو پاکستان کی بات ہونے سے قبل بھی مسلمہ طور پر ہندوستانی مسلمانوں میں رائج تھا اور بالفرض اگر پاکستان نہ بنتا تو بھی حقیقیت ہوتا۔ پاکستان صرف اور صرف ایک سیاسی بندوبست ہے جو کانگرس کی ضد کے باعث پیدا ہونے والی انسیکورٹی کے سبب ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے کم سے کم سیاسی حقوق محفوظ رکھنے کے لیے کروایا ہے۔ اس سے بہتر سیاسی بندوبست متحدہ ہندوستان میں ہی مسلمانوں کو دستوری ضمانتیں (جداگانہ انتخابات اور صوبائی خودمختاری وغیرہ) ملنا ہوسکتا تھا لیکن اس سے انکار مسلمانوں نے نہیں بلکہ کانگرس نے کیا تھا۔

مسلمان 1940 میں قرارداد پاکستان منظور کرچکے تھی جس کی توثیق ہندوستان کے تمام حصوں کے مسلمان نمائندوں نے کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود 1946 میں کابینہ مشن پلان میں مسلم لیگ نے پاکستان سے دستبرداری قبول کرلی کیونکہ اس پلان میں پاکستان قائم کیے بغیر اور ہندوستان تقسیم کیے بغیر مسلمانوں کو ان کے سیاسی حقوق کی دستوری ضمانت دی گئی تھی۔ اس پلان کو مسترد کرنے والی کانگرس تھی، گویا متحد ہند کے تابوت میں آخری کیل بھی خود کانگرس نے لگایا۔

لہذا پاکستان رہے یا نہ رہے، دو حصوں میں بٹ جائے یا دس، ہندوستان کے مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی مل سکے یا نہ ملے، مسلمانانِ برصغیر میں ایک مشترکہ قومی شعور اور مشترکہ شناخت بہرحال موجود تھا، ہے اور رہے گا۔ صرف اسی کا نام دو قومی نظریہ ہے۔

(لسانی قومیت کی آوازیں قیام پاکستان سے قبل وجود ہی نہ رکھتی تھیں۔ یہ قیام پاکستان کے بعد سیاسی وجوہات اور مفادات کے تحت اٹھائی گئی ہیں اس لیے خارج از بحث ہیں)

یہ بھی پڑھیئے: من کہ مسمی مطالعہ پاکستان —— ملک آفتاب اعوان
Facebook Comments Box
featuredhindu muslimPakistantwo nation theoryپاکستانجناحدو قومی نظریہقیام پاکستاننظریہ پاکستانہندو مسلم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سعید اختر ملک کی سوچ کہانیاں —– محمد حمید شاہد
next post
نقاط: کتاب نمبر، قارئین کے لیے تحفہ خاص — نعیم الرحمٰن

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.