تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

مضر صحت دودھ اور خواتین کے مسائل —— عافیہ شاکر

by دانش ڈیسک 08/05/2019
written by دانش ڈیسک 08/05/2019
78

گائے کو ٹیکے لگا کر ان کے دودھ کی پیداوار بڑھانے کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہمیں اب اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ ہم کس قدر زہر ناک زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ گوالوں کو صرف اتنا پتا ہے کہ ہم نے کس طرح پیسے زیادہ کمانے ہیں۔ انھیں اس چیز کی کسی نے تربیت نہیں دی کہ آپ جن ٹیکوں سے گائے کے دودھ کی پیداوار بڑھا رہے ہیں، وہ کس قسم کی تبدیلیاں لا سکتاہے یا لا رہا ہے۔

چند دن پہلے میرے ماموں نے مجھ سے ایک نظم کی بابت دریافت کیا کہ کیا واقعی گائے کے ٹیکوں سے عورتوں پر اس قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کا اس نظم میں ذکر کیا گیا ہے۔ میں نے اس نظم کو پڑھا اور کسی حد تک درست پایا مگر جس انداز سے اس نظم میں اثرات دکھائے گئے ہیں وہ مکمل طور پر درست بھی نہیں۔ پہلے نظم ملاحظہ کیجیے:

’’حیف صد حیف!!
خالہ سکینہ کی بیٹی،
جسے عورتیں کوستی تھیں
کہ تیرہ برس ہی میں بَر مانگتی ہے،
وہ تنگ آ کے کل خودکشی کر گئی ہے
گوالوں پہ لعنت خدا کی
فراوانیِ شیر کی حرص میں
اپنی بھینسوں کو ٹیکے لگا کر
ہمیں ظاہراً کم سنی ہی میں بالغ بنا دیتے ہیں
آنجہانی کو میں پاس سے جانتا تھا
حقیقت میں وہ بالغہ بالعلامات تھی
‘بالغہ بالکرامات’ ہرگز نہیں تھی
——-
گوالوں کے فرعون پر بھی ہو لعنت خدا کی
کوئی جا کے یوسف سے تعبیر پوچھو
کہ اب اَن گنت گائیں فرعون کا خواب ہیں
ایسی گائیں کہ جو نہ تو دبلی نہ موٹی ہیں لیکن
بہت تیز رو ہیں،
ہر اک شے کچلتی چلی جا رہی ہیں
زمانے میں دو قسم کے لوگ ہیں
اک گؤپال ہیں،
دوسرے ان گؤپال کی لاگ* ہیں
دودھ سے زندگی ہے
اسی دودھ کی صارفیت میں ہم رات دن مستعد ہیں
خدا ان گوالوں کو سمجھے
فراوانیِ شیر کی حرص میں،
جو ہمارے لیے یہ مہ و سال مہمیز کرتے چلے جا رہے ہیں
ہمیں نوجوانی میں بوڑھا کیے جا رہے ہیں‘‘

مقامی لفظ: وہ لوگ جن کو گوالا روزانہ دودھ دینے کا پابند ہوتا ہے. پنجابی میں اس کے لیے ‘باندھ’ کا لفظ مستعمل ہے۔

یہ نظم سرمد سروش کی ہے۔ اس نظم میں ٹیکوں کے اثرات کو مبالغہ کی حد تک پیش کیا گیا ہے۔ کسی بچی کے اندر ہارمونک تبدیلی اس قدر زیادہ نہیں ہوتی کہ وہ جذبات کے ہاتھوں خودکشی تک پہنچ جائے۔ شاعر بتاتا ہے کہ وہ بالغہ بالعلامات تھی کیونکہ اس میں علامتیں ظاہر ہوئیں۔ شاعر کے مطابق اس لڑکی میں جانتے بوجھتے تبدیلیاں لائی گئی نہ کہ کسی معجزے کی بدولت۔ ۔ اس دودھ سے genes میں تبدیلی نہیں آتی بلکہ یہ انفرادی سطح پر ہونے والی تبدیلی ہے۔ جو عادات میں تبدیلی سے درست بھی ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ مردوں میں بھی اس ہارمون کی زیادتی کے اثرات آسکتے ہیں جس میں چھاتی میں ابھار اور مزاج کی تبدیلیاں شامل ہیں۔ مرد اور عورت میں اس ہارمون سے تبدیلیاں صرف oxytocin کا لیول بڑھنے سے پیدا ہوتی ہیں اگر لیول نارمل رہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

اگر ہم اپنے بدن کی ساخت پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے جسم کے مختلف نظام ہارمونز سے چلتے ہیں۔ oxytocin بھی ان میں سے ایک ہے۔ کیمیائی اعتبار سے یہ پروٹین ہے۔ اس کا مقصد پٹھوں کی ایک قسم smooth muscle cells میں کھچاؤ پیدا کرنا ہے۔ اس ہارمون کا بنیادی کام حمل کے دوران labour کا عمل کرانا ہے یعنی بچہ دانی یا uterus کے مسلز میں کھچاؤ پیدا کرنا۔ اس کے علاوہ بچے کی پیدائش کے بعد شیر خواری کے لیے دودھ کے نکلنے میں بھی oxytocin کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مردوں میں بھی موجود ہوتا ہے لیکن مندرجہ بالا امور سر انجام نہیں دیتا۔ یہ انسانوں کے علاوہ جانوروں میں بھی موجود ہوتا ہے۔ چونکہ انسان عجلت پسند ہے لہٰذا اس ہارمون کے ٹیکے بنا دیے گئے ہیں اور گائیوں کو لگائے جاتے ہیں تاکہ ہارمون کی مقدار بڑھ جائے اور اس طرح زیادہ outcome یعنی زیادہ دودھ ملے۔ لیکن یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ اس ہارمون کے پورے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گائے ہر دفع uterus میں کھچاؤ کی تکلیف سے گزرتی ہے اور اسی وجہ سے تقریباً تین بچھڑوں کے بعد مزید بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی گائے کا دودھ پینے سے ہمیں کیا نقصان ہوگا؟

ایسا دودھ جس میں oxytocin کی مقدار نارمل سے زیادہ ہو، نقصان دہ ہے لیکن یہ ہارمون heat sensitive protein ہے اس لیے دودھ کو اچھی طرح ابالنے (pasteurization) سے اس کے منفی اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔ عموماً گھروں میں دودھ ابال کر پیا جاتا ہے لہٰذا بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس ہارمون کے اثرات انسانی جسم میں منتقل ہوں۔ چونکہ ہمارے ہاں صحت و صفائی کا اتنا خیال نہیں رکھا جاتا اس لیے ہم گؤپالوں کی غفلت کا شکار ہو رہے ہیں۔ Hormone imbalance عام ہوتی جا رہی ہے۔ اس ہارمون کی زیادتی سے مرد اور عورتوں دونوں میں کچھ نہ کچھ اثرات مرتب ہوتے ہیں جس میں مزاج میں بدلاؤ بھی شامل ہے۔ مسلسل اسی کیفیت میں رہنے سے جسمانی بگاڑ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

حکومتوں کا کام یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دے۔ گوالوں کے دودھ کو باقاعدہ چیک کیا جائے۔ کم از کم گائیوں کو تو اس اذیت سے بچایا جا سکتا ہے جسے ہم شمار بھی نہیں کرتے۔ اگر ہماری dairy industry میں شعور اجاگر کیا جائے تو اس مسئلے کو یہیں ختم کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایسی بیماریوں فوری نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ دیکھا جائے تو بانجھ گائے گؤپال کے کسی کام کی نہیں رہتی اور یوں وہ زیادہ نقصان اٹھاتا ہے۔ مجبوراً اسے گائیوں کو فروخت کرنا پڑتا ہے جس کا گوشت بھی کسی بڑے نقصان سے کم نہیں۔ مگر قصائی حضرات ایسی گائیوں کو کوڑیوں کے بھائو خرید کے ان کے گوشت کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ اس طرح کی گائیوں کا گوشت بھی مضرِ صحت ہوتا ہے۔

Facebook Comments Box
Cow MilkMilkOxytocinPoisonous Milkآکسی ٹاکسنبالغ خواتینبالغ لڑکیاںخطرناک دودھدودھدودھ اور خواتینزھریلا دودھگائے کا دودھ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
روزہ، صحت، بیماری اور بسیار خوری _____  محمد عنصر عثمانی
next post
کنٹرول لائن پر جاری تجارت پر بھی پابندی —- ارشاد محمود

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.