تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

یوم مزدور: کچھ اور تلخ باتیں —– خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 05/05/2019
written by دانش ڈیسک 05/05/2019
228

یوم مزدور پر ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی ہمدردی اور جذبات کے دریا بہائے گئے، جہاں ایک طرف اخبارات کے خصوصی ایڈیشن شائع ہوئے وہیں پورے سوشل میڈیا پر بھوکے ننگے بچوں اور بوڑھے مزدوروں کی بہار رہی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے جو کچھ کہا وہ سچ تھا۔ جس مزدور کے لیے ہم سال میں ایک دن اتنے جذباتی ہوتے ہیں، کیا واقعی ہمارے جذبات سچے اور وہ مزدور واقعی ان جذبات کا مستحق ہے؟ افسوس کہ میں باقی سب کی طرح دریا کے بہاو کے ساتھ نہیں بہہ سکتا اور نہ ہی جھوٹی جذباتیت کا مظاہرہ کر سکتا ہوں۔ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ ہم ہر سال ایک ڈرامہ کرتے ہیں جس میں مزدور کے لیے حقوق اور خوشحالی کی باتیں ہوتی ہیں، ڈرامے کے اختتام پر سبھی تالیاں بجاتے ہیں اور شام کو ہم سب کچھ بھول بھال کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے سو جاتے ہیں۔ نئے ابھرنے والے دن پر گزرے دن کے ڈرامے کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور مزدور پھر سے اپنی اوقات میں ہوتا ہے۔ ہر سال ہم نے بہت سی جذباتی باتیں کرتے ہوئے اپنی سوشل میڈیائی دیواروں کو مزدوروں کی ہمدردی میں سجایا تو ہے لیکن اس سال آئیے کچھ سچی اور تلخ باتیں کرتے ہیں تاکہ یہ جاننے میں آسانی رہے کہ ڈیڑھ صدی کی مزدور جدوجہد آخر کامیابی کیوں نہیں ہو رہی۔ سات سال میں دنیا کا نقشہ بدل دینے والے پاکستانی لوگوں کے درمیان ستر سے زائد سالوں سے مزدور خوار پھر رہا ہے تو اس کی کچھ تو وجہ ہو گی جسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

 ایک دہاڑی دار مزدور اگر صبح آٹھ بجے کام پر آتا بھی ہے تو ہمارا مشاہدہ ہے کہ دس بجے اس نے چائے ضرور پینی ہوتی ہے، بارہ بجے کھانا اور ایک بجے نماز کی چھٹی، تین سے چار کے درمیان چائے کا ایک اور دور چلتا ہے اور پانچ بجے چھٹی۔ تعمیرات اور رنگ و روغن والوں کا یہ عمومی معمول ہوتا ہے اور سبھی اس کے شاہد بھی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آٹھ سے نو گھنٹے کے اس دن میں ان نے کام کتنے گھنٹے کیا؟

سب سے پہلے ہم مزدور کے بجائے اپنے رویے کی بات کرتے ہیں۔ یوم مزدور پر غریب بھوکے اور بوڑھے مزدور سے ہمدردی کرنے والے ہم لوگ اگلے دن جب کسی بھی کام کے لیے مزدور تلاش کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں مزدور کا ایک ہی خاکہ ہوتا ہے کہ مزدور ایک کام چور، بے ایمان اور شاطر شخص کا دوسرا نام ہے۔ اسے اگر دہاڑی پر کام دیا گیا تو کھینچ کھینچ کر ہفتے کا کام مہینے پر لے جائے گا اور دوسرے نقصانات الگ۔ ایک سائیکل کا پنکچر لگانے والے سے لے کر فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور تک، سبھی کی بے ایمانی، ہڈ حرامی اور شاطر ذہنیت کے ہمارے پاس ہزار ہا قصے ہوتے ہیں جن میں سے درجن بھر ہم سناتے ہوئے سانس لینا بھی ٹال دیتے ہیں کہ بعد میں سانس لیں گے قصہ پہلے سنانا ضروری ہے۔ زیب داستان کی بات تو ٹھیک لیکن سبھی کچھ بھی رائی کا پہاڑ کا نہیں کہ اس میں بہت کچھ حقیقت پر بھی مبنی ہوتاہے اور ہم اس کے گواہ بھی ہوتے ہیں۔ جب تلخ زمینی حقائق یہی ہیں تو ہر سال یوم مزدورپر ہمدردیاں کیوں کی جاتی ہیں۔ اس کے بڑھاپے اور غربت کے رونے روتے ہوئے اس کے حقوق اور خوشحالی کے لیے جذبے کیوں اور کس طرح جگائے جاتے ہیں۔ ہم یعنی اس معاشرے کے لوگ اپنے اس رویے کی بنا پر کیا منافقت کا مظاہرہ نہیں کر رہے کہ دل سے جس شخص کو بے ایمان سمجھتے ہیں، سال میں ایک دن اسی کے لیے ہمدردی بھی دیکھاتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت حال میں مزدور کبھی اپنی جدوجہد میں کامیاب ہو سکے گا؟ کیا واقعی ہم چاہتے ہیں کہ مزدور کے لیے کچھ سہولیات میسر ہوں اور اس کی زندگی میں بھی خوشحالی آئے؟ منافقت ایک طرف رکھتے ہوئے جواب دیں تو یقینا سارے جواب نفی میں ہوں گے۔

آئیے اب مزدور کی طرف چلتے ہیں اور باقی دنیا کے مزدور وں کے بجائے صرف اپنے معاشرے میں موجود مزدوروں کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ ایک دہاڑی دار مزدور اگر صبح آٹھ بجے کام پر آتا بھی ہے تو ہمارا مشاہدہ ہے کہ دس بجے اس نے چائے ضرور پینی ہوتی ہے، بارہ بجے کھانا اور ایک بجے نماز کی چھٹی، تین سے چار کے درمیان چائے کا ایک اور دور چلتا ہے اور پانچ بجے چھٹی۔ تعمیرات اور رنگ و روغن والوں کا یہ عمومی معمول ہوتا ہے اور سبھی اس کے شاہد بھی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آٹھ سے نو گھنٹے کے اس دن میں ان نے کام کتنے گھنٹے کیا؟ ایک مزدور ٹھیکے پر ملے کام کو جلدی مکمل کرتا ہے لیکن دہاڑی والے کام کو لمبا کھینچتا ہے، یہ تاثر آج تک کتنے مزدوروں نے اپنی ایمانداری سے زائل کرنے کی کوشش کی ہے؟ ایک پنکچر والا صاف ٹیوب میں بھی دو تین پنکچر لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں ایک سبزی والا مہنگی سبزی تو بیچتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی خراب اور گلی سڑی سبزی اور پھل جو چپکے سے شاپر میں ڈالتا ہے، اس کے بارے وہ خود کیا کہے گا؟ ہم شائد اپنی پوری زندگی میں چند مزدوروں کی گواہی دے سکیں لیکن مزدور خواہ وہ کسی بھی شعبہ زندگی سے منسلک ہو، اپنی بے ایمانی اور خراب ذہنیت کی بدولت دوسرے کے نقصان کا ہی باعث ہوتا ہے اور یہی ہمارے معاشرے کا ایک سچ ہے جسے بولا نہیں جاتا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مانتے یا جانتے بھی نہیں ہیں۔ ایسے لوگ ایک صدی کیا ایک ہزار صدی بھی جدوجہد کریں، بھلا کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟

سرمایہ دارانہ نظام کو ہی لعن طعن کرنے والے اگر مزدور طبقے کی ہیرا پھیریوں، بے ایمانیوں اور بیمار ذہنیت سے پوری طرح روشناس ہو جائیں تو ایک لمحے سے پہلے ان سے جان چھڑانے کو ہی کہہ دیں لیکن ہم پھر بھی مزدور طبقے سے ہمدردی رکھتے ہیں کیونکہ ڈوبنے والا سرمایہ ہمارا نہیں ہوتا۔

گلی محلے کے ان مزدوروں سے آگے بڑھتے ہوئے اگر فیکٹریوں کے مزدوروں کی حالت دیکھی جائے تو وہ اور بھی خراب ہوتی ہے۔ گروپ بندیاں، یونین بازیاں اور آئے دن کی ہڑتالیں مزدوروں کے دن گزارنے کابہانہ ہوتی ہیں۔ یقینا مالکان کے ظالمانہ کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن مزدوروں نے بھی کوئی اچھی مثالیں قائم نہیں کی ہیں۔ اگرچہ بھرتی ہوتے ہوئے تنخواہ بتا دی جاتی ہے لیکن اس وقت اعتراض کرنے کے بجائے بعد میں کبھی یونین اور کبھی کسی اور بہانے سے مطالبات منوانے اور ہڑتالیں کرنے کاجو راستہ اپنایا جاتا ہے وہ کسی بھی سرمایہ کار کے لیے بہت سے سخت اور غلط فیصلے کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کچھ سرمایہ کاروں نے اپنے کارکنوں کو بہت سی مراعات اور سہولیات فراہم کیں لیکن کارکنوں نے انہیں بھی قلاش کرنے کی پوری کوشش کی۔ مقابلے بازی میں دوسروں کے آلہ کار بننا بھی کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ فیکٹریوں کی زندگی کا اک عام باب ہے۔ اسی طرح اگر کہیں کارکنوں کو مخلص قیادت مل بھی جائے جو مالکان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو وہاں نچلے درجے کے مزدوروں کا چند ٹکوں پر بک جانا اور پوری جدوجہد کا بیل اپنے پاو گوشت کے لیے کٹوا دینا بھی ایک تکلیف دہ پہلو رہا ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یقینا ایک سرمایہ کار آج کے ان حالات میں کوئی کاروبار کر رہا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو ہی لعن طعن کرنے والے اگر مزدور طبقے کی ہیرا پھیریوں، بے ایمانیوں اور بیمار ذہنیت سے پوری طرح روشناس ہو جائیں تو ایک لمحے سے پہلے ان سے جان چھڑانے کو ہی کہہ دیں لیکن ہم پھر بھی مزدور طبقے سے ہمدردی رکھتے ہیں کیونکہ ڈوبنے والا سرمایہ ہمارا نہیں ہوتا۔ مزدور یہ بھول جاتا ہے کہ اگر کوئی فیکٹری ان کی ہڑتالوں کے باعث بند ہوئی تو نقصان ان کا ہونا ہے، سرمایہ دار تو بند اور جلی ہوئی فیکٹری سے بھی کچھ نہ کچھ کما ہی لے گا لیکن خود مزدور کہاں جائے گا۔ کسی بھی خوشحال اور سرمایہ دار سے نفرت کرنا بھی ایک مزدور اپنا فرض سمجھتا ہے اور عموما اس کے جذبات اس معاملے میں بہت سخت ہوتے ہیں۔ ویسے منشیات کا سب سے زیادہ استعمال بھی یہی غریب مزدور طبقہ کرتا ہے، وجہ آپ تلاش کریں؟

الغرض تصویر اتنی بھی صاف نہیں، بات اتنی بھی سیدھی نہیں جتنی مزدور طبقہ اپنی غربت اور ناتوانی کے باعث دکھا رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہر قلم کار بکاو اور ہر پولیس والا رشوت خور نہیں ہوتا لیکن ہمارا عمومی واسطہ اچھے لوگوں سے کم ہی رہتا ہے اور زیادہ ترلوگ کی وجہ سے جو تصویر ہمارے ذہنوں میں بنتی ہے ہم اسے ہی حقیقت سمجھتے ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مزدور جس دن اپنے آپ سے مخلص ہوجائے اور دوسروں سے مخلص ہوجائے گا، ایماندار ہو جائے گا یقینا کامیاب بھی ہو جائے گا۔ کیونکہ معاشرے کے باقی تمام طبقات سے لڑتے ہوئے، ان کے نقصانات کرتے ہوئے آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور یہ بات ایک عام مزدور کو سمجھنی ہو گی کہ اس کی غربت اس کے لیے کوئی بہانہ یا آڑ نہیں ہو سکتی۔ سچ بہر حال سچ رہتا ہے اگر ہم اسے ماننے سے انکار بھی کریں تو اس کے وجود پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور سچ یہی ہے کہ مزدور کو خود کو بدلنا ہو گا۔

اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ دیکھیئے

Facebook Comments Box
1st mayfeaturedLabor DayMay Dayلیبر ڈےمزدوریوم مئییوم مزدور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شادی سیریز ———– سحرش عثمان
next post
صحت مند معاشرہ کے لیے عام آدمی کی ذمہ داریاں —- باسط حلیم

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.