تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

سطحیت کا روگ‎ ——– خواجہ نوید

by دانش ڈیسک 29/04/2019
written by دانش ڈیسک 29/04/2019
63

ایک لکھیک کیلۓ یہ بات بہت زیادہ اہم ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحریر میں جن لوگوں کو مخاطب کررہا ہوتا ہے ان کی سطح پر جاکر الفاظ و تراکیب کا انتخاب کرے تاکہ مدعا ان تک احسن طریقے سے پہنچایا جاسکے۔ لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ بسا اوقات ایسی کوشش میں خیالات و افکار کی اصلیت و معنویت بہت حد تک متاثر ہوجاتی ہے۔ آج کل کے اکثریتی پڑھنے والے، خصوصا سوشل میڈیایی حاضرین، گہرایی میں جاکر الفاظ و تراکیب کو سمجھنے کی تکلف نہیں برتتے بلکہ ایسی تحریر پڑھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ البتہ جذباتی سطح پر جو چیز ان کو اپیل کررہی ہوتی ہے اسی کو لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔ اصطلاحات کے حوالے سے تو مشکل اور بھی سوا ہے۔ بہت سی ایسی اصطلاحات ہوتی ہیں جن کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن ان کی سمجھ بہت کم ہوتی ہے۔ اس بات کا احساس یوں ہوا کہ ساینس میگزین کے چیف ایڈیٹر ، محترم علیم احمد صاحب نے فیس بک پر سوال اٹھایا کہ کیا ساینس جمود کا شکار ہوچکا ہے اور آیا ٹیکنالوجی ہی صرف ترقی پارہی ہے۔ ان کے فرینڈ لسٹ میں بہت سمجھ بوجھ رکھنے والے صاحبان کا ردعمل دیکھ کر مجھے سخت مایوسی ہویی کہ ساینس اور ٹیکنالوجی کے مابین فرق ہی اکثریت کو معلوم نہیں اسی لۓ ٹامک ٹوییاں ہی مارتے چلے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے میں نے عرض کیا کہ ساینس کے متعلقات اور نۓ علم کی نمو اسی شد و مد کے ساتھ برسر پیکار ہے جتنی کچھ بازگشت آپ کو ٹیکنالوجی کی ترقی کی دکھایی دے رہی ہے۔ فرق البتہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی عوام و خواص کے استعمال کے دایرے میں آکر مقبول و معروف ٹھرتی ہے جبکہ سائنس ” بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“ کے مصداق اگر مقبولیت پاتی بھی ہے تو ایک مخصوص دائرہ میں بہت کم عوامی مقبولیت کا امکان لۓ ہوۓ۔ درمیانی ”عملیت پسندوں“ کے وارے نیارے ہیں کہ سائنسی کاوشوں کے مصنوعات کو ٹیکنالوجی کے دایرے میں لاکر مقبولیت، پیسہ اور تعریف کے حقدار بن جاتے ہیں۔

سطحیت کے حوالے سے مسئلہ اس لۓ بھی سوا ہے کہ پڑھنے والے کو اپنے متعلق عموما یہ غلط فہمی رہتی ہے کہ اسے گہرا اور تفصیلی علم ہے موضوع بحث کا۔ اس حوالے سے ایڈم وٹز (Adam waytz) اور روزن بلٹ (Rozenbilt) کے تجربات بہت اہم ہیں۔

ان تجربات کو علمی گہرایی کے سراب (Illusion of explanatory depth) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں ان صاحبان نے مختلف لوگوں سے عام طور پر استعمال میں آنے والی اشیا اور فطری مظاہر و واقعات جیسے کہ موسموں کے تغیرات، رات دن کی کایا پلٹ، جانداروں کا زندہ رہنا اور بڑھنا وغیرہ، کی بابت سوالات کۓ ہیں کہ یہ لوگ ان اشیا کو کتنی بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اکثریت لوگوں کا جواب "بہت بہتر طور پر سمجھنے ” کا تھا۔ دوسرے مرحلے میں انہی لوگوں سے اسی چیز کے حوالے سے تفصیل طلب جوابات مانگے گۓ تھے جن کے جوابات غیر تسلی بخش اور حقایق کے منافی آۓ۔ جب پہلا سوال انہی لوگوں سے انہی چیزوں کے متعلق دوبارہ دریافت کیا گیا تو ان لوگوں نے ” بہت بہتر طور پر سمجھنے” کی بجاۓ "کچھ کچھ سمجھنے” کا جواب منتخب کیا۔ یہی تجربہ پھر علم کے دوسرے شعبہ جات کے متعلق بھی کیا گیا۔ اس چھوٹے سے تجربے سے ان لوگوں پر اپنے معلومات کی سطحیت اور کمی کا ادراک ہوا۔

اسی طرح اگر ہم سوشل میڈیا ( فیس بک، ٹویٹر ، انسٹاگرام، یوٹیوب وغیرہ) اور انفو ٹینمنٹ الیکٹرانک میڈیا کا تجزیہ کرلیں تو حجم کی زیادتی کی بنیاد پر ہمارا یہ گمان بن جاتا ہے کہ گویا ہمیں بہت علم حاصل ہوا ہے حالانکہ سب سے بنیادی سوال تو ان معلومات کے مستند اور غیر مستند، جانبداریت اور معروضیت اور جواز و عدم جوز کا ہوتا ہے۔ اس سے آگے جا کر پھر ان معلومات کو علم کے دایرے میں لانے کیلۓ غوروفکر اور تجزیہ و تحلیل کے مراحل سے بھی گزارنا لازمی ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو ایک مخصوص میدان میں تھوڑا زیادہ علم پانے والے یا طریقہ اظہار پانے والے کچھ اس طنزیہ، تضحیک سے بھرے اور مطلق انداز میں اپنی راۓ کا اظہار کرتے ہیں گویا منصب افتا پر فایز ہوگۓ ہوں اور ہر چیز پر فتوی دینا اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ دوریوں کا باعث بن رہا ہے اور علم کی ترویج میں الٹا مانع ثابت ہورہا ہے۔ ایک تحقیق میں تو یہ بات سامنے آیی ہے کہ منطقی استدلال، حس مزاح اور زبان دانی کے علم سے عاری افراد عموما اپنے علم کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خود اعتماد اور خوش فہم ہوتے ہیں۔

ہمیں اپنی علمی سطحیت کا ادراک تھوڑی سی تفصیل طلب کرنے پر ہی ہوجاتا ہے لہذا ہمیں اپنی معلومات کے دایرے کو بڑھانے پر ہمہ وقت توجہ دینی چاہۓ تاکہ ہمیں چیزوں کی پیچیدگی کا اندازہ ہو اور ایک حقیقی تصور علم کی طرف سفر جاری و ساری ہو۔ اس سے علم کےتکبر سے بھی نجات ملے گی اور سطحیت کے سراب سے بھی۔

Facebook Comments Box
Adam waytzIllusion of explanatory depthRozenbiltخواجہ نویدسوشل میڈیا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بھاگڑ مچی ہے شہر میں –[ڈاکٹر وحید قریشی: کچھ یادیں کچھ باتیں]– عزیز ابن الحسن
next post
پولیوآگاہی مہم میں میڈیا کا کردار —– اے وسیم خٹک

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.