تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آرٹآرٹتازہ ترینسماجیکالمکلچر، آرٹ

ٹیکنالوجی کی یلغار: ہیرا منڈی کی رونقیں کھا گئی‎ — سمیع احمد کلیا

by دانش ڈیسک 27/04/2019
written by دانش ڈیسک 27/04/2019
274

گزشتہ سے پیوستہ : اس سلسلہ کا دوسرا حصہ ہیرا منڈی: رقص کی محفلوں سے جسم فروشی کے مرکز تک اور پہلا حصہ  ہیرا منڈی کے کباب اور روبینہ سے گپ شپ


آج میں ذرا دیر سے دفتر پہنچا تو پتا چلا کے سبھی مجھے ہی ڈونڈھ رہے ہیں کہ بڑے صاحب نے بلایا ہے۔ بڑے صاحب کے بارے میں بتا دوں کہ وہ ایک ملنسار، خوش اخلاق اور انتہائی مذہبی آدمی ہیں۔ سلام کے لئے حاضر ہوا تو سر سے پاؤں تک بغور جائزہ لیا گیا اور پہلا جملہ "تم ایسے لگتے تو نہیں” میں بولا کیسا سر؟ کافی کا کپ میز پر رکھتے ہوۓ اور ماتھے پر شکن ڈالتے ہوۓ بولے "وہی جو آج کل لکھ رہے ہو میں تو آپ کو معقول بندا سمجھتا تھا ” میں نے قدرے روایتی مسکراہٹ سے کہا کے سر وہ بھی ہمارے معاشرے کا ہی ایک پسماندہ طبقہ ہے۔ مسکراتے ہوۓ بولے "ینگ مین جو بھی ہے آج سے اس سلسلے کو کلوز کرو اور چائے تو نہیں پیؤ گے” آپ پڑھنے والے اسے ایک ان آفیشل شو کاز نوٹس ہی سمجھیں یہ آج اس سلسلے کی آخری قسط ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت سے کسی بھی صورت انکار ممکن نہیں، مگر ایشیا اور بالخصوص پاکستان جسے ملک میں اس کا نقصان زیادہ ہوا ہے آج ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ جدید ٹیکنالوجی نے کس طرح ہیرا منڈی کے لوگوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ہیرا منڈی صدیوں سے روایتی رقص و سرود، موسیقاروں اور طوائفوں کا مرکزرہی ہے۔ تاہم اب ٹیکنالوجی کی یلغار سے یہاں کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔ آج میری ملاقات ہیرا منڈی کی سب پرانی نائکہ سے کروائی گئی جس کا نام نورین ہے اور اس کے بقول لوگ اسے نوراں کنجری یا گشتی بھی کہتے ہیں۔ مری معنی خیز نظروں کو بھانپتے ہوۓ خود ہی وضاحت کر دی کہ اب اسے برا نہیں لگتا اب یہ الفاظ اس کے وجود کا حصہ بن چکے ہیں۔ نورین اس وقت سات لڑکیوں اور اور دو لڑکوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے تین منزلہ مکان میں رہ رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کے سیلاب میں مغلیہ تہذیب کے رکھ رکھاؤ والی لاہور کی ہیرا منڈی کے رنگ بھی پھیکے پڑنے لگے ہیں۔ نورین کا کہنا ہے کہ اس تاریخی بازار کی ثقافتی اور معاشی بقا اب خطرے میں ہے۔ وہ بالکونیاں جہاں کبھی خوبصورت خواتین گاہکوں کے انتظار میں کھڑی رہا کرتی تھیں، اب ویران نظر آتی ہیں۔ خالی کمروں کے بند دروازوں پر زنگ لگ چکا ہے۔ موسیقی کے آلات بیچنے کی چند دکانیں البتہ اب بھی باقی ہیں۔ مرد حضرات ہیرا منڈی کی گلیوں میں دلچسپی تلاش کرنے کے بجائے اب ملاقات کا وقت اس حوالے سے مخصوص ویب سائٹس کے ذریعے آن لائن طے کر لیتے ہیں یا پھر سوشل میڈیا پر براہ راست خواتین سے رابطہ کر لیتے ہیں۔ ایسے میں جب ہیرا منڈی میں کاروبار مندا چل رہا ہے، شیزہ اور شہزادی جیسی معروف طوائفوں نے اب اس علاقے کو چھوڑ دیا ہے۔ اس نے دوبارہ نم آنکھوں سے یہی الفاظ دہراۓ وہ بالکونیاں جہاں کبھی خوبصورت خواتین گاہکوں کے انتظار میں کھڑی رہا کرتی تھیں، اب ویران نظر آتی ہیں۔

افسوس کہ لوگوں میں روایتی مجرا کرنے والی رقاصہ اور طوائف کے درمیان تمیز تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ جنس اور رقص آپس میں خلط ملط ہو گئے ہیں اور اس طرح ہیرا منڈی پر غلاظت کی چھاپ لگ گئی لیکن نیلم (پیار سے اس کو گھر میں نیلو بلایا جاتا ہے) آج بھی یہاں کے شاندار زمانے کو یاد کرتی ہیں۔ نیلم کی والدہ اور ان کی نانی بھی ہیرامنڈی کی ان طوائفوں میں شامل رہی ہیں جو یہاں آنے والے مردوں کو رقص اور گائیکی سے محظوظ کیا کرتی تھیں۔ نیلم نے قدرے سنجیدگی بات کرتے ہوئے کہا، لوگ ہماری عزت کیا کرتے تھے اور ہمیں فنکار کہا جاتا تھا لیکن گزشتہ ایک عشرے میں سب کچھ بدل گیا ہے اب کوئی ہماری عزت نہیں کرتا۔ نیلم نے ہیرا منڈی کی ثقافت کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ان لڑکیوں کو قرار دیا ہے جو اس پیشے میں کسی خاندانی پس منظر اور تربیت کے بغیرداخل ہوتی ہیں اورانہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ گاہکوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا جانا ہے۔ ان کو رقص اور سیکس میں فرق کا پتا ہی نہیں ہے۔

نیلم کے بعد شہلا سے بات ہوئی شہلا مسلسل موبائل پر انگلیاں گھمائی جا رہی تھی شہلا جدید ٹیکنالوجی کے حق میں ہے اس کا کہنا ہے کہ اب ہم لڑکیوں کو گاہک تلاش کرنے کے لیے صرف ایک موبائل فون درکار ہے جس سے وہ فیس بک اور دیگر ویب سائٹس پر اشتہار دے سکتی ہیں۔ اسی طرح رقص کے لیے اب موسیقی کے سازوں اور موسیقاروں کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ کام یو ایس بی اسٹک کے ذریعے میوزک چلا کرباآسانی انجام دیا جا سکتا ہے۔

مہک کا کہنا ہے کہ کاروبار کے آن لائن ہونے کے بعد اس میں بہت بہتری آئی ہے۔ مہک بھی شہلا کے خیالات سے متفق ہے مزید تحقیق پر پتا چلا کہ موبائل ایپس زیادہ فائدہ مند ہیں کیوں کہ اس میں کسٹمر گاڑی بھیج کے منگوا لیتا ہے گھر یا ہوٹل جو بھی مقام طے ہوا ہو خوبصورت ہوتا ہےاور کھانا بھی اچھا ہوتا ہے۔ جبکہ نورین کا کہنا تھا اسی چیز نے ہمارے رقص کے کلچر کو متاثر کیا ہے مگر ہم بھی کیا کریں ہماری بھی مجبوری ہے ہم نے بھی زندہ رہنا ہے۔

Facebook Comments Box
Heera MandiRed Light Area Lahoreبازار حسن لاہورٹبی گلیجسم فروشیچکلہطوائفقحبہ خانہکنجرکنجریہیرا منڈی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
دیباچے کی اہمیت و معنویت —– معراج رعنا
next post
تکمیل تاریخ : انحطاطِ تہذیب کے باب میں — ناصر فاروق

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.