تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

بچوں کے جمیل جالبی —– عطا محمد تبسم

by دانش ڈیسک 19/04/2019
written by دانش ڈیسک 19/04/2019
169

بچوں کا ایک اور ادیب رخصت ہوگیا۔ اردو کے بڑے لکھنے والوں میں جمیل جالبی ایسے ادیب تھے، جو بچوں کے لیے بھی وقت نکال کر کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے تھے۔ نونہال کے مدیر مسعود احمد برکاتی جو خود بھی بچوں کے بہت بڑے ادیب تھے، اور اپنے آخری وقت تک بچوں کا نونہال کی ادارت کرتے ہوئے رخصت ہوئے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی سے اپنے رسالے کے لیے کچھ نہ کچھ لکھوالیتے تھے۔ جس کی وجہ سے بچوں کو نادان بکری، نادانی کی سزا، ناشکرا ہرن، قصّہ ایک بھیڑیے کا، دو دوست، دو دشمن، دو چوہے، مغرور لومڑی جیسی کہانیاں پڑھنے کو ملی۔ محمد انیس الرحمٰن، اعجاز عبید نے یہ کہانیاں ای بک کی شکل میں جمع و ترتیب کرکے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پر شائع کردی ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کو بچپن ہی سے کتاب لکھنے کا شوق تھا۔ اپنے اس شوق کے بارے میں ڈاکڑ طاہر مسعود کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر جمیل جالبی کہتے ہیں، ، جب میں بہت چھوٹا تھا تو میری پٹائی اکثر اس بات پر ہوتی تھی کہ میں کاپیاں پھاڑ کر ان سے کتاب بناتا تھا اور دوپہر کو جب سب لوگ سوجاتے تھے غسل خانے میں چھپ کر کاپیوں کے ورق علیحدہ کرکے ان سے کتاب بناتا اور اپنے کورس کی کتاب اس پر نقل کرکے اپنانام نمایاں طریقے سے لکھ دیتا: ’’محمدجمیل خان‘‘۔ اس سے اباجی بہت خوش ہوتے تھے لیکن ہمارے اسکول کے ہیڈ ماسٹر مسٹر فانسس جو عیسائی ہوگئے تھے، انھیں میری اس قسم کی سرگرمیوں سے سخت شکایت رہتی تھی اور وہ اباجی سے اکثر شکایت کرتے تھے کہ یہ کاپیاں پھاڑ دیتا ہے۔ گویا کتاب لکھنے یا مصنف بننے کا رجحان شعوری طور سے موجودتھا۔ اسی زمانے میں ہمارے ایک استاد تھے مولوی اسمٰعیل صاحب، پڑھے لکھے آدمی تھے، بہت ہی بوڑھے۔ مجھے یاد ہے لیکن بچوں کو تو ہر شخص بوڑھا لگتا ہے، ممکن ہے وہ اتنے بوڑھے نہ ہوں، لیکن وہ بہت بوڑھے تھے اورآنکھوں سے بھی بالکل معذور تھے۔ ان سے ہم نے اردو اور فارسی پڑھی۔ وہ اتنے اچھے طریقے سے پڑھاتے تھے کہ ان کی سنائی ہوئی کہانیاں ہمیں فوراً یاد ہوجاتی تھیں۔ وہ محبت بھی کرتے اور ناراض ہوتے تو مار بھی دیتے تھے۔ مارنا جو تھا وہ محبت کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔ وہ خود مولوی اسمٰعیل میرٹھی کے شاگرد تھے۔ ان ہی مولوی صاحب سے ہم نے صحتِ زبان و بیان اور اچھی عبارت لکھنے کا انداز سیکھا۔ ، ،

جالبی صاحب کی ادبی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں ان کی والدہ کا بھی ہاتھ ہے۔ انھوں نے بچپن ہی میں کہانیاں لکھنا شروع کردی تھی۔ ڈاکڑ جمیل جالبی کی پہلی تخلیق، ، سکندر اور ڈاکو، ، ہے۔ جو انھوں نے گیارہ بارہ سال کی عمر میں لکھا تھا، جو ان کے اسکول مین اسٹیج بھی کیاگیا تھا۔ ان کی پہلی تحریر، ، بنات، ، دہلی میں شائع ہوئی۔ بعد میں، ، عصمت، ، دہلی میں بھی ان کی تحریر شائع ہوئیں، ان کی پہلی کتاب، ، جانورستان، ، کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ یہ جارج آرول کا ناول تھا۔

بچوں کے ادب سے ڈاکٹر جمیل جالبی کے بارے میں ایک مضمون میں راشد اشرف لکھتے ہیں کہ، ، ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ بڑا ادیب بچوں کے لیے لکھنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے، چہ جائیکہ ایک کھرا محقق یہ رستہ چنے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی تمام تر تحقیقی مصروفیات کے باوجود اس جانب بھی خوب توجہ دی۔ ننھے بچوں کے لیے جمیل جالبی نے جو کہانیاں لکھیں ان میں بید کی کہانیاں، بلیاں، حضرت امیر خسرو، چھن چھن چھن چھن، عجیب واقعہ اور نئی گلستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے فسانہ آزاد کے مزاحیہ کردار خوجی پر مبنی داستان ’خوجی پر کیا گزری‘ عنوان سے رسالہ ’ہونہار ْکے لیے قسط وار لکھی جبکہ ان کی ایک طویل کہانی ’حیرت ناک کہانیاں‘ کے عنوان سے ۱۹۸۳میں شائع ہوئی۔ ’خوجی پر کیا گزری ‘کی کل ۶۶ اقساط شائع ہوئیں۔ ستمبر ۱۹۸۴ میں یہ سلسلہ اپنی آخری یعنی ۶۶ ویں قسط کے ساتھ اختتام کو پہنچا تھا۔ خوجی پر کیا گزری بچوں کے لیے ایک دلچسپ سلسلہ تھا۔ ، ،

ڈاکٹر جمیل جالبیکو ان کی ادبی خدمات کا سب سے بڑ ا ایوارڈ ’کمال فن ایوارڈ‘ بھی دیا گیا۔ جمیل جالبی کی خدمات اور ان کے کام پر دائود ادبی ایوارڈ، یونیورسٹی گولڈ میڈل، محمد طفیل ادبی ایوارڈ، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

ڈاکٹرجمیل جالبی۱۲ جون ۱۹۲۹کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد جمیل خان ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے ہندوستان، پاکستان کے مختلف شہروں میں تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد ۱۹۴۷ میں ڈاکٹر جمیل جالبی پاکستان آگئے، یہاں جمیل جالبی کو بہادر یار جنگ ہائی اسکول میں ہیڈ رہے۔ جمیل صاحب نے ملازمت کے دوران ہی ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کیے۔ سندھ یونیورسٹی سے قدیم اْردو ادب پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ملازمت سے رٹائرمنٹ کے بعد باقاعدہ طور پر ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہوئے۔ انہوں نے ماہنامہ ساقی میں معاون مدیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں، اس کے علاوہ انہوں نے اپنا ایک سہ ماہی رسالہ نیا دور بھی جاری کیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی۱۹۸۳ میں کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پھر مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین تعینات ہوئے اس کے علاوہ اردو لغت بورڈ کراچی کے سربراہ بھی رہے۔ ان کا سب سے اہم کام قومی انگریزی اردو لغت کی تدوین اور تاریخ ادب اردو، ارسطو سے ایلیٹ تک، پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ جیسی اہم کتاب کی تصنیف و تالیف ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے متعدد انگریزی کتابوں کے تراجم بھی کیے جن میں جانورستان، ایلیٹ کے مضامین، ارسطو سے ایلیٹ تک شامل ہیں۔ ، ، جمیل جالبی کا کتب خانہ ایک یکتا روزگار کتب خانہ ہے۔ کتابوں کو محبت سے سینت سینت کر رکھنا تو کوئی ان سے سیکھے۔ بقول نصر اللہ خاں ’’ جمیل جالبی ریشم کے کیڑوں کی جگہ کتابوں کے کیڑے پالتے ہیں۔ اگر انہیں ان کی پسند کی کرم خوردہ کتاب نہیں ملتی تو یہ کتاب کی جگہ اس کتاب کے کیڑے حاصل کرلیتے ہیں اور پھر ان کیڑوں کا پیٹ چاک کرکے اس میں سے اصل کتاب حاصل نکال لیتے ہیں۔ ‘‘ انھیں کتابوں اور تحقیق سے بہت شغف رہا، اپنی شدید بیماری کی حالت میں انھوں نے اگست ۲۰۱۶ میں انھوں نیبذات خود، ، ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری، ، کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس سے ان کی جامعہ کراچی سے محبت کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ لائبریری کراچی یونیورسٹی کے لئے ڈاکٹر جمیل جالبی کی طرف سے ایک بہت بڑاعلمی تحفہ ہے جس میں ایک لاکھ کتابیں اور قلمی مخطوطے شامل ہیں۔ اس کتب خانہ کے ایک ریسورس سینٹر بھی بنایا گیا ہے جو نئے دور کے تمام علمی اور تحقیقی تقاضوں کو پوراکرے گا۔

ایواڈ یافتہ پاکستان کے معروف محقق، نقاد، ادیب اور دانشور اور بچوں کے ادب کا یہ درخشندہ ستارا، ڈاکٹر جمیل جالبی ۹۰ سال کی عمر میں انتقال آج ۸ا اپریل ۲۰۱۹ کو غروب ہوگیا

 

 

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایمنسٹی کی اہمیت اور حقیقت حال کا جائزہ ——– لالہ صحرائی
next post
پیشہ کا انتخاب: غیر روایتی میدان اور بچے کا رجحان — اسماء ظفر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.