تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

میری سوچ میں تبدیلی اور تدریجی ارتقاء —– نورالوہاب

by دانش ڈیسک 28/06/2019
written by دانش ڈیسک 28/06/2019
195

مسلکی فرقہ واریت سے تو الحمد للہ، اللہ نے بچپن ہی سے بچائے رکھا، اس بچت میں زیادہ کردار بہترین اساتذہ کے بعد غیر نصابی کتب کے مطالعے کا ہے، جس سے سوچ اور فکر میں وسعت پیدا ہوئی۔

درسِ نظامی سے فراغت ہوئی تو ذہن پر جناب جاوید احمد غامدی کی مخالفت کا بھوت سوار ہوا، اور سوچا کہ انہیں تفصیل سے پڑھ کر ان کے رد میں صفحے سیاہ کروں گا۔ کچھ وقت گزرا تو یہ کارِ لاحاصل معلوم ہوا۔

اب اگلے مرحلے میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ ہمارے اصل دشمن سیکولرازم اور لبرل ازم کے علمبردار ہیں، جو نہ صرف "اسلامی جمہوریہ پاکستان” کی اسلامی شناخت کے خلاف ہیں بلکہ مذہب کے ہی خلاف ہیں، لہذا لبرل ازم اور سیکولرازم کو پڑھ سمجھ کر اس کی تردید میں وقت اور دماغ کھپانا ہے، تاکہ اس عظیم فتنہ سے امتِ مسلمہ کو بچایا جائے۔

پھر یوں ہوا کہ کچھ کٹر سیکولر لوگوں سے واسطہ پڑا تو خلافِ توقع انہیں اخلاق میں بہت اعلیٰ پایا، اور خدا و مذہب کے بارے میں ان کے خیالات سے کئی زاویوں سے شدید اختلاف کے باوجود، ان کے افکار کو اس قدر نقصان دہ نہیں پایا کہ جس کی بناء پر انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے، مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی کچھ باتیں غلط فہمیوں پر مبنی ہیں، کچھ باتیں واقعی قابلِ غور اور قابلِ قدر ہیں، کچھ میں تعبیر کا فرق ہے، کچھ میں لفظی اختلاف ہے، اور کچھ باتوں میں ان کا موقف مذہبی طبقات کی بے اعتدالیوں کے ردعمل میں طے ہوتا ہے نہ کہ کسی ٹھوس علمی بنیاد پر۔
اس لئے اب ان کے افکار سے اختلاف کے باوجود اچھی چیزوں کو سراہتا ہوں۔

نئی چیز سمجھ میں آئی کہ کسی طبقہ سے اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی فکر کے تمام جوانب کو بیک جنبشِ قلم مسترد کردیا جائے، بلکہ علمی رویہ یہ ہے کہ ہر طبقہ کے افکار کو دلائل کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا اور جانچا جائے

مزاج میں یہ تبدیلی کیوں اور کیسے پیدا ہوئی؟ اس کا سو فیصد تجزیہ تو شائد ممکن نہ ہو، البتہ اس کی بنیادی وجوہات میں سے سب سے پہلی اور بڑی وجہ تو معتدل اور بہترین اساتذہ کا ملنا ہے۔
دوسرے نمبر پر ذاتی اور خارجی مطالعہ ہے۔
تیسرے نمبر پر جس چیز نے مجھے تدریجاً اور مسلسل اپنی فکر اور طرزِ عمل پر نظرِ ثانی پر مجبور کیا، وہ ہر طبقہ فکر سے وابستہ لوگوں سے میل جول اور تبادلہ خیالات کا مزاج ہے، میرا مزاج بچپن سے یہ ہے کہ نئی چیز کی کھوج اور بعد ازاں اس کے حصول پر طبیعت خوشی سی محسوس کرتی ہے، بھلے وہ چیز کسی مخالف سے ملے۔ اس وجہ سے بھی نئے خیالات والے لوگوں سے ملنے سے کبھی یہ ڈر نہیں لگا کہ گمراہ ہوجاؤں گا۔

میرے ناقص اندازے کے مطابق سب سے بڑی تبدیلی جو مزاج میں آئی وہ ایم فل علوم اسلامیہ کے دوران ریسرچ میتھاڈولوجی پڑھنے اور پھر عملی ریسرچ کی مشق سے پیدا ہوئی۔ جس میں یہ نئی چیز سمجھ میں آئی کہ کسی طبقہ سے اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی فکر کے تمام جوانب کو بیک جنبشِ قلم مسترد کردیا جائے، بلکہ علمی رویہ یہ ہے کہ ہر طبقہ کے افکار کو دلائل کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا اور جانچا جائے، اور "خُذ ما صفا و دَع ما کدر” پر عمل کیا جائے۔

آگے چل کر میرے خیالات کس نہج پر جاتے اور فکر کا زاویہ کس مقام پر رکتا ہے؟ اس کا علم مجھے ہے نہ کسی اور کو، اس کا علم صرف اللہ کو ہوسکتا ہے اور ہے۔ (اللہ سے دعا بھی ہے کہ ہر قسم کی فکری کجی اور زیغ و ضلال سے حفاظت فرمائے) البتہ اتنی بات بحمد اللہ طے ہے کہ کسی طبقہ کی اندھی تقلید یا کسی طبقہ کی ہر بات میں مخالفت کا مزاج اب نہیں رہا، اب یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ کسی شخص سے بھلے حد درجہ عقیدت و محبت ہو، یا حد درجہ اختلاف ہو، لیکن ان کے افکار کی حمایت یا مخالفت میں بنیاد، ان سے عقیدت یا ان سے اختلاف کو نہیں، بلکہ دلیل کو بنیاد قرار دینا ہی صحیح علمی رویہ ہے۔

اللھم اَرِنی الحقَ حقًا و ارزقنی اتباعہ، و ارنی الباطل باطلاً و ارزقنی عنہ اجتنابہ”

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  دین اور موجودہ سوشل سائنسز ——– احمد جاوید
Facebook Comments Box
featuredتلاش حقجاوید غامدیسیکولرزمعلمی رویہفکری سفرلبرل ازممدارسمذہبی سوچ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کتابِ اُمید: باب سوم — اعلٰی انسانی اقدار۔۔۔ اور مغرب: (۳)
next post
ساسو جی! بیٹے کو شوہر بننے دیں ——– خرم شہزاد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.