تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینفلمکلچر، آرٹ

شیر دل: اچھے موضوع پر بنائی گئی ہلکی فلم —— خرم سہیل

by خرم سہیل 23/03/2019
written by خرم سہیل 23/03/2019
104

فلم کتنی ہی بری ہو یا اچھی لیکن اس کو بنانے میں بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ 23 مارچ یوم پاکستان سے ایک دن پہلے ریلیز ہونے والی فلم’’شیر دل‘‘ بہت محنت سے ایک اچھے موضوع پر بنائی گئی بُری فلم ہے، جس میں جذبۂ حب الوطنی، 1965 کی جنگ کا ماضی، موجودہ پاک بھارت تعلقات کشیدگی اور سب سے بڑھ کر بھارتی پائلٹ’’ابھی نندن‘‘ کی پاکستان میں کریش لیڈنگ کے بعد، ڈرامائی انداز میں گرفتاری و رہائی کا تناظر اور عوام کے جذبات کو مخاطب کرنے کی غیر متاثر کن کوشش کی گئی ہے۔ ایک شاندار ٹریلر دکھا کے، جس انداز میں یہ فلم بڑی اسکرین پر پیش کی گئی، اس کو دیکھنے کے بعد محسوس ہوا، بڑی اسکرین تو دور کی بات، یہ فلم لیپ ٹاپ کی چھوٹی اسکرین پر بھی دیکھنے کی نہیں ہے۔ حالیہ پاک بھارت جھڑپوں میں پاکستان ائیر فورس کے انتہائی متاثرکن کرداراور اس پہ ملنے والی عالمی تحسین کے تناظر میں عوام کی توقعات ویسے ہی بہت بلند ہوچکی تھیں، جس کے بعد اس فلم نے ان توقعات کو کسی درجہ مایوسی میں بدل دیا۔

فلم کا ٹریلرسب سے پہلے اس فلم کے ٹریلر پر بات کرنا ضروری ہے۔ رواں برس میں اس فلم کی ریلیز کا دور دور تک کوئی تذکرہ نہیں تھا، لیکن حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں عین موقع پر، اس فلم کا ٹریلر جب ریلیز کیا گیا، تو کہانی کا موضوع جان کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں نے ڈان نیوز پر اس فلم کے ٹریلرکے بارے میں تفصیلی بات بھی کی۔ فلم کے ٹریلر کے مطابق یہ فلم 1965 کی جنگ کے پس منظر میں موجودہ دور کے ایک پائلٹ کی جنگی جدوجہد کی کہانی ہے۔ اس فائٹر پائلٹ کی جدوجہد کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انڈین پائلٹ سے مڈ بھیڑبھی دکھائی گئی، لیکن فلم میں چند منٹوں کے ان جذباتی مناظر کے بعد اسکرین پر راوی چین ہی چین لکھتا ہے، اس لیے مکمل فلم دیکھنے کے بعد یہ تبصرہ پیش خدمت ہے۔ پاکستانی فلم سازوں سے گزارش ہے، آپ ٹریلر میں وہی تاثر دیا کریں، جو کچھ آپ کی فلم میں ہوتا ہے، ورنہ قول وفعل کا یہ تضاد آپ کی فلم کے حق میں اچھا ثابت نہیں ہوتا، جیسا کہ اس فلم میں ہوا ہے۔

کہانی فلم کے رائٹرنعمان خان ہیں، جو اس فلم کے پروڈیوسر بھی ہیں۔ اس فلم کی کہانی کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے، ایک نوجوان (فلائٹ لیفٹینٹ حارث مصطفی) جس کے دادا پاکستان ایئر فورس میں تھے، انہوں نے 1965 کی جنگ میں جان کا نذرانہ پیش کیا تھا، اب ان کا پوتا اسی نقش قدم پر چلنے کی خواہش رکھتا ہے، جبکہ اس کے والدین اور محبوبہ، جو بعد میں بیوی بھی بن جاتی ہے، وہ اور باقی سب اس حق میں نہیں ہوتے، البتہ دادی چاہتی ہیںکہ پوتا ضرور ایئرفورس میں جائے۔ ابتدائی چند منٹوں میں دادا اور پوتے کے رشتے کے جذباتی تعلق اور دادی کی خواہش کے پس منظر میں فلم آگے بڑھتی ہے، اس کے بعد فلم میں نہ کہیں کوئی کہانی ہے، نہ ہی جذبہ ٔ حب الوطنی کا رنگ، فلم کے آخرمیں بھارتی پائلٹ ’’ابھی نندن‘‘ کا منظر بھی زبردستی شامل کیا ہوا محسوس ہو رہا ہے اورکہیں کہیں کچھ رومانوی مناظربنانے کی کوشش اور کہانی ختم۔ کچھ مناظرمیں ہلکے پھلکے مزاحیہ مکالمے فلم بین کو کچھ لطف دیتے ہیں، پوری فلم کی کہانی کا ردھم ایک ہی جیسا ہے، نہ کہیں کرداروں اور کہانی میں کوئی ٹکرائو بنا، جس کی وجہ سے کہانی میں تنائو یا دلچسپی کی کیفیت ابھرتی، نہ کوئی اور کلائمکس بلکہ فلم جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی، یکسانیت اور اکتاہٹ پیدا کرتی چلی گئی۔

مثال کے طور پر کہانی میں کئی واقعات کو دیکھ کر محسوس ہوا، انہیں بہت مرتبہ پاکستانی فلموں میں دیکھ چکے ہیں، جس طرح پاکستان ایئرفورس اکیڈمی پہنچنے پر کیڈٹس کے ساتھ سینئر جو سلوک کرتے ہیں، وہی پرانے گھسے پٹے واقعات، جہازوں کے جنگی مناظر کے مابین کسی ربط کا نہ ہونا وغیرہ۔

https://www.youtube.com/watch?v=1dR46L5J0yc

پھر فلم میں ایک جگہ پس منظر میں ایم ایم عالم پارک دکھایا گیا، کیا ہی اچھا ہوتا، ایم ایم عالم، راشد منہاس یا عہد موجود کے قومی ہیروپائلٹ حسن صدیقی یا دیگر پاک فضائیہ کے بہادرسپوتوں کی کہانی پر کوئی فلم بنائی جائے، جو واقعی ہی جذبہ ٔ حب الوطنی کی عکاسی کرسکے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے پاک فضائیہ کی تھیم پرہی ایک فلم’’پرواز ہے جنوں‘‘بنی تھی، اس کابھی مسئلہ فلم کی کہانی کا اچھا نہ ہونا تھا۔ صرف اچھا موضوع منتخب کرلینے سے تو کچھ نہیں ہوتا، اس موضوع سے انصاف اور ایک اچھی کہانی متقاضی ہوتی ہے کہ فلم کے پردے پر کچھ دکھانے کو ہوورنہ سینما ہال میں خریدے ہوئے مہنگے ٹکٹ کے بعد، فلم ختم ہونے کا انتظار تکلیف دہ ہو جاتا ہے اور گرم کافی بھی ایسی ٹھنڈی کہانی میں مزا نہیں دیتی۔

اداکاری و موسیقی جب کہانی اچھی نہ ہو تو اداکار بھی کتناہی زور لگالیں، فلم متاثر نہیں کرتی۔ فلم میں ہیرو (میکال ذوالفقار) اس کی دادی (ثمینہ احمد) اور ولن (حسن نیازی) کے علاوہ کوئی اداکار متاثر کن ثابت نہ ہوسکا۔ فلم کی ہیروئن ’’ارمینا رانا خان‘‘ شروع سے آخرتک بغیر ضرورت کے کئی مرتبہ کہانی میں آتی اور جاتی رہیں، ایک ہی ردھم میں سارے مکالمے بولتی رہیں۔ وہ شاید ماڈل اچھی ہوں، اداکاری میں ان کا مستقبل روشن دکھائی نہیں دیتا، باقی اداکاروں میں سبیکا امام، ابراہیم علوی، بلال شاہد، ملک عقیل، عمران اُپل اور لیلیٰ زبیری سمیت کم و بیش کے ساتھ یہی مسئلہ تھا کہ ان کے کردار کہانی سے انصاف نہ کرسکے، جس کے ذمے دارفلم ساز، ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹر ہیں۔

فلم کی موسیقی کوئی سر پیر نہیں تھا، نہ ہی کوئی گانا فلم کی تھیم کے ساتھ منسوب تھا، بس گانے آئے اور گزر گئے، اس طرح کے سنجیدہ موضوع کی فلم میں بھی فلم ساز نے دو آئٹم نمبر شامل کر دیے، اس جسارت کی داد دینی چاہیے۔ فلم کی تشہیرمیںموسیقی کوزیادہ توجہ نہ مل سکی۔ بہرحال اس فلم میں نوجوان نسل کے ابھرتے ہوئے بینڈ ’’سوچ‘‘ نے میوزک دیا۔ عدنان نے ان گیتوں کولکھا، گایا بھی اورموسیقی بھی ترتیب دی۔ فلم کے نمایاں گیتوں میں، سانسوں میں باقی ہے دم، یاریاں تھے، جو ناظرین کی زیادہ پسندیدگی حاصل نہ کرسکے۔

فلم سازی، ہدایت کاری اور تکنیکی شعبےنعمان خان اس فلم کے پروڈیوسر اور رائٹر ہیں۔ بطور پروڈیوسر ایک ایسے موضوع کو منتخب کرنا، پھر پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں فلم کی ریلیز کا فیصلہ کرنا، 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر ایک دن پہلے فلم کو ریلیز کرنے کا فیصلہ کرنا اور فلم کی تشہیر میں 1965 کا جذباتی پہلو استعمال کرنا، جو فلم کا ایک دو فیصد حصہ تھا، یہ سب چیزیں انہیںصرف ایک موقع شناس فلم ساز کے طور پر ثابت کر رہی ہیں۔

My Preview for DAWN NEWS about this film: 

مثبت پہلو سے دیکھیں تو انہوں نے جس طرح ہالی ووڈ کے ڈی او پی’’رِکی بٹلینڈ‘‘ سے کام لیا، جن کے کریڈٹ پر فاسٹ اینڈ فیورس اور اسٹار ٹریک جیسی فلمیں ہیں، یہ اچھا فیصلہ تھا، اس کااثر فلم پر بھی ہوا، تکنیکی طور پر فلم میں جھول نہیں تھا۔ کئی فریمز بھی بہت شاندار تھے۔ گرافکس کے شعبے میں’’اسکاٹ نیومین‘‘ کو شامل کرنا بھی مثبت بات تھی، ان سب پہلوئوں سے فلم تکنیکی طور پر مضبوط ہوئی، لیکن خود فلم لکھنے کا فیصلہ انتہائی غلط تھا، جس نے پوری فلم کی لٹیا ڈبو دی۔

ہدایت کاری کے فرائض ’’اظفر جعفری‘‘ نے انجام دیے، نئی نسل کے ڈائریکٹر کے طور پر ابھی تک وہ اپنے کام سے فلم بینوں کو متاثر نہیں کرپائے، اس فلم نے بھی کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑا، جبکہ پاکستان ایئرفورس کے وسائل، کئی غیر ملکی تکنیکی ماہر اور دیگر سہولتیں میسر تھیں۔

حرف آخر پاکستانی فلم سازوں سے یہ درخواست ہے، ایسے نازک اور جذباتی موضوعات کواشیائے خوردونوش کی طرح بیچنے کی کوشش نہ کیا کریں، کمرشل ضرورتیں بھی ہوتی ہیں، لیکن پوری دنیا میں انہی ضرورتوںسے نمٹتے ہوئے فلم ساز اچھا کام بھی کر رہے ہیں، ماضی میں پاکستانی سینما میں بھی اچھا کام ہوا، اب تو ٹیکنالوجی، اسپانسرز، فنانسرز اور دیگرسہولتیں بھی وافر طور پر دستیاب ہیں، اگر کہانی اور تھیم پر کام کرلیا جائے اور کسی مخصوص موقع کو کیش کروانے کی بجائے صرف فلم کی تخلیق پر دھیان مرکوز رکھا جائے، تو شاید اچھی فلم بن جائے گی۔

پاکستانی سینما کی واپس بحالی کی باتیں تو ہو رہی ہیں، انڈین فلمیں بھی پاکستان میں ریلیز ہونا بند ہوگئی ہیں، کیا اس تناظر میں پاکستانی فلم سازوں کو نہیں لگتا کہ وہ بچکانہ رویے ترک کرکے خود کو باشعور اورزیرک فلم ساز ثابت کریں، ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا، کم ازکم یوم پاکستان کے موقع پر اس فلم کو دیکھ کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب انتظار ہے۔
پاکستانی سینما خالی پڑے ہیں، فلم بین منتظر ہیں، پاکستانی فلم سازوں سے امیدیں ہیں، اگر اب بھی اپنی صلاحیتیں ثابت نہ کرسکے، تو پھر شاید مشکل ہوگا کہ بحالی کا عمل زیادہ دیر جاری رہ سکے، یہ ایک زمینی حقیقت ہے، جس پر پاکستانی فلمی صنعت کے ذمے داروں کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

خرم سہیل  khurram.sohail99@gmail.com

یہ بھی پڑھیئے: قصہ صہبا اختر کی اداکاری اور غلام محمد قاصر کی سادگی کا —– شاہد مسعود
Facebook Comments Box
featuredFilmPAFSherDil FIlmپاکستان ائیر فورسپاکستان فضائیہفلمفلم شیردل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خرم سہیل

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

previous post
قصہ صہبا اختر کی اداکاری اور غلام محمد قاصر کی سادگی کا —– شاہد مسعود
next post
پاکستان : خطۂِ خاک یا ارضِ پاک؟ فتح محمد ملک

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.