تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

قصہ صہبا اختر کی اداکاری اور غلام محمد قاصر کی سادگی کا —– شاہد مسعود

by دانش ڈیسک 23/03/2019
written by دانش ڈیسک 23/03/2019
101

چند دن قبل میں نے منیر نیازی کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا تھا، جس میں اُن کی، کُل پاکستان مشاعرے کے کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں پشاور آمد، کا ذکر تھا۔ اس واقعہ میں یہ بھی بتایا تھا کہ جس دن شاعروں نے آنا تھا، اُس روز سارے ملک میں موسلادھار بارش ہوتی رہی، جس کے باعث کراچی کی فلائٹ نہ آ سکی۔ (جن خواتین و حضرات نے وہ write up نہیں پڑھا، وہ ریفرینس کے لئے اس لنک پہ پڑھ لیں تو، ابھی جو لکھ رہا ہوں، اُس کا پس منظر واضح ہو جائے گا)۔

رات دس بجے ہمیں اطلاع دی گئی کہ کراچی سے آنے والے شعرا، ائرپورٹ پہ کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ خیر، جو جو، جہاں سے آ سکا، اُس پہ شُکر کرتے ہُوئے، اگلے دن، مشاعرے کی ریکارڈنگ شروع کی۔ مشاعرے کے میزبان محسن احسان تھے۔ سارا مشاعرہ جب خوش اسلوبی سے ریکارڈ ہو گیا تو اچانک اطلاع ملی کہ صہبا اختر راستے میں ہیں اور دو گھنٹے بعد پشاور پہنچ جائیں گے۔ سب سر پکڑ کے بیٹھ گئے، لیکن کیا کِیا جا سکتا تھا۔ گھنٹے بھر میں مہمانوں نے واپس جانا تھا۔ یہی سوچا گیا کہ اُنہیں رات بھر ٹھہرائیں گے اور اگلے دن روانہ کر دیں گے۔ ایسے میں میرے ذہن میں ایک "حرام توپ” آیا، جس کا میں نے اپنے پروگرام منیجر، شوکت پرویز سے ذکر کیا۔ (حرام توپ، پشاوری ہند کو زبان کا لفظ ہے، جو بہت سی حرکات کی مناسبت سے بولا جاتا ہے، لیکن میں نے اس لفظ کو فلم اور ٹی وی پروڈکشن میں تخلیقی اِختراع سے موسوم کر رکھا ہے) شوکت صاحب نے مُجھے اجازت دے دی۔ میں نے محسن احسان کو واپس مشاعرے کے سیٹ پہ بٹھایا، اور کُچھ اضافی جملے ریکارڈ کر لئے- یعنی "آج کی اس محفلِ مشاعرہ میں جو شعرائے کرام تشریف فرما ہیں، اُن کے اسمائے گرامی ہیں۔۔۔۔” اِس میں صہبا اختر کا بھی نام بُلوا لیا۔ دوسرا جُملہ یہ بھی ریکارڈ کر لیا کہ، "اب تشریف لاتے ہیں، صہبا اختر”۔

جب صہبا بھائی بالآخر ٹی وی سنٹر پہنچے، تو اُنہوں نے بتایا کہ وہ رات، کافی دیر شاعروں کے ساتھ بیٹھ کے فلائٹ کا انتظار کرتے رہے، لیکن پھر، تنگ آ کے، کُچھ دیر کے لئے سب سے الگ ہو کے کسی کونے میں جا کے بیٹھ گئے۔ جب ہوش آیا تو اگلا دن ہو چکا تھا۔ پوچھنے پہ پتہ چلا کہ پشاور کے لئے فلائیٹ تیار ہے۔ سو، جہاز پہ بیٹھے اور آگئے۔ اب مشاعرہ ریکارڈ ہو چُکا ہے، "تو بھئی اِس میں میرا قصور تو نہیں”۔

جب وہ چائے وائے پی چُکے تو میں نے اُنہیں سیٹ پہ بٹھایا، اور ریکارڈ کرنے لگا۔ اُن کی سہولت کے لئے سامنے کُچھ سٹاف کے لوگ بطور "دادئیے” بھی بٹھا دئے۔ ایک قباہت یہ تھی کہ original مشاعرے کی ریکارڈنگ میں، پڑھنے والے شاعر کے بیک گراؤنڈ میں سید ضمیر جعفری اور ایک اور بزرگ شاعر (جو اب یاد نہیں) صاف بیٹھے ہُوئے نظر آتے تھے۔ اِس کا کیا کِیا جائے ؟ میں نے دیکھا کہ ان دو اصحاب میں سے ایک نے کالی، اور ایک نے براؤن شیروانی پہن رکھی ہے۔ بس میں نے wardrobe سے کالی اور براؤن شیروانی لیے کے اپنے دو کولیگز اکرام جمالی اور عزیز اعجاز کو پہنا کے پیچھے بٹھا دیا، اور صہبا بھائی کا سامنے سے شاٹ بناتے ہُوئے ایسا فریم بنایا کہ شاعر کے پیچھے، دائیں اور بائیں صرف شیروانیوں کے دو کندھے نظر آئیں۔ ایک کالی اور ایک براؤن۔ ظاہر ہے چہرہ نہیں دکھا سکتا تھا۔ صہبا بھائی نے بھی کمال اداکاری کی۔ یہاں تک کہ پیچھے مُڑ مُڑ کے غیر موجود شاعروں سے داد بھی طلب کرتے رہے۔ اس مشاعرے کو ایڈٹ یوں کیا کہ پتہ ہی نہ چلتا تھا کہ صہبا اختر کو الگ ریکارڈ کیا گیا۔ جس رات مشاعرہ نشر ہُوا، اُس کے اگلے دن غلام محمد قاصر عجیب حالت بنائے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یار، رات مشاعرہ دیکھنے کے بعد سے میں بہت پریشان اور شرمندہ ہوں۔ پریشان اس لئے کہ اُس دن میں ٹی وی سنٹر آیا بھی، مشاعرہ بھی پڑھا، لیکن مُجھے قطعاً یاد نہیں کہ میں صہبا بھائی سے ملا تھا۔ اگر ملا تھا اور یاد نہیں، تو مُجھے اپنی ذہنی حالت پہ شک ہونے لگا ہے۔ اگر اُن سے ملا نہی تو یہ کتنی نامناسب بات ہے کہ وہ پشاور تشریف لائے، اور۔ ۔ ۔ ۔ یار وہ کیا سوچتے ہوں گے؟ جب میں نےانہیں اصل بات بتائی تو اطمینان اور حیرت سے اُن کا منہ کھُلا کا کھُلا رہ گیا۔ میں نے کہا، اسی لئے تو کہتے ہیں کہ:

Television is a make belief medium
قاصر جیسا سادہ، اور کھرا آدمی اب ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ اُس کا یہ شعر، صرف ایک شعر نہیں، بلکہ اُس کے کردار کا عکاس بھی ہے:

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مُجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

میرا یار اور کولیگ، اکرام جمالی عربی، فارسی اور اُردو کا ماہر تھا۔ کمال کا شاعر، اور یاروں کا یار۔ ساری ساری رات پشاور کی سڑکوں پہ آوارہ گردی، ہم دونوں کا معمول تھا۔ دنیا سے جانے میں بہت جلدی کر گیا۔

عزیز اعجاز، خدا اُسے زندگی دے، میرا دوست، نہاہت شریف آدمی اور زبردست شاعر۔ ڈرامہ کا ایک بڑا نام۔

Facebook Comments Box
featuredصہبا اخترغلام محمد قاصر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نوجوانوں میں شدت پسندی کی لہر —– حلیمہ سعدیہ
next post
شیر دل: اچھے موضوع پر بنائی گئی ہلکی فلم —— خرم سہیل

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.