تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
منتخب کالم

سرمایہ داری کا مرغوب ترین کانٹ کا فلسفہ کیا ہے؟ صبغت وائیں

by ویب ڈیسک 24/02/2017
written by ویب ڈیسک 24/02/2017
102

کانٹ کی صرف ایک بات یورپ امریکہ کو پسند ہے وہ ہے اس کا نکالا ہوا نتیجہ۔ ورنہ اس کے میتھڈ کو یہ لوگ بھی اس طرح سے رد کرتے ہیں کہ اس کا میں نے آج تک ذکر کسی کی تحریر میں پڑھا نا کسی سے سنا۔ کانٹ نے ہمت دکھا کر معروض کو مانا۔ شے جو اپنا آپ دکھاتی ہے یعنی فنامینا، وہ ہماری حسیات ہماری ریزن یا عقل تک پہنچاتی ہیں۔ اور فنامینا حسیات سے ریزن کو بلیئرڈ کی بال کی طرح ٹھوکر مار دیتا ہے۔
اب یہ میٹافزکس کانٹ دیگر تمام فلسفیوں سے بڑھ کر جانتا ہے کہ اشیاء جو ہیں وہ نظر نہیں آتیں، اور جو نظر آتی ہیں وہ ہوتی نہیں۔ تو جو فینامینا ہمیں حسیات سے ملتا ہے وہ ریزن کو متحرک کر دیتا ہے۔ لیکن شے جو ہے، جو اس کی حقیقت ہے، جو کہ ظاہر نہیں ہو پاتی جسے کانٹ نومینا کہہ رہا ہے، وہ تو شئے نے پیش ہی نہیں کی، وہ تو اس کے اندر ہی ہے، تو ہم نے جانا کیا؟
kant-thinking-cap-cartoonکانٹ اپنے شاندار میتھڈ سے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ہم اصل میں اپنی ریزن کے اندر موجود اصولوں کو اپنے ہی اندر موجود کیٹیگریوں سے جانتے ہیں اور یہ کیٹیگریاں ہمارے اندر پیدائش سے موجود ہیں۔ مثلاً ٹائم اور سپیس کی یا معیار اور مقدار کی یا لازمیت اور اتفاق وغیرہ کی کیٹیگریاں۔ تو ہم شئے کو نہیں بلکہ اپنی عقل کے اصولوں کو جان رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح اس نے بارکلی سے ھیوم سے اور لاک سے اور دیگر بہت سے یکطرفہ سوچ کے حامل تجربیت پسندوں اور عقلیت پسندوں سے آگے جا کر یہ بتایا کہ:
علم بہرحال حسیات سے حاصل ہوتا ہے یا اسی کے الفاظ میں کہیں کہ تجربے سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن ہم جانتے اپنی عقل کے اصول ہیں۔ یعنی علم کے حصول میں تعقل کا کردار بھی مان لیا۔ اب کیا تھا؟
’’اشیاء ہیں مگر جانی نہیں جا سکتیں‘‘
ایسا اصول تھا جو سرمایہ داری کے لئے قابل قبول ترین تھا۔ کیوں کہ چیزوں کے وجود کو ماننا پروڈکشن اور سائنس کے لئے ضروری تھا۔ لیکن جانی جا سکتی ہیں ماننا سرمایہ داری کے استحصال کو جاننے کی طرف جاتا تھا۔ یہ فلسفہ محنت کش کو گمراہ رکھنے اور سرمایہ دار کو اس کا استحصال کرنے پر ہمیشہ قائم رکھتا ہے۔ اسی لئے مرغوب ترین ہے۔ ہیگل تھوڑا سا آگے گیا اور اس نے نہ صرف جان لیا بلکہ سب کو بتا دیا کہ چیزیں نا صرف یہ کہ موجود ہیں بلکہ ان کو جانا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن اس نے چیزوں کو جاننے کے لئے کسی بھی چیز کو اسی کے اندر سے اسے جاننے کا کہا۔ اس نے بتایا کہ چیزوں کے اندر متضاد قوانین ہوتے ہیں۔ یعنی میٹھے کے اندر ہی غیر میٹھا ہو گا جس کی وجہ سے وہ دوسرے ذائقوں سے اور دوسرے میٹھوں سے ممیز کیا جا سکے گا۔ ہیگل نے حسیات کو مانا اور تعقل کو بھی مانا۔ اشیاء کو بھی مانا ان کے جوھر کو بھی مانا۔ حسیات سے ان کا ظاہر لے کر ذہن ان کو ٹکڑے کرتا ہے اور تجربے میں ذہن خود سے باہر آتا ہے پھر باہر سے تجربہ اور علم لے کر اپنے اندر جا کر انہیں جوڑتا ہے اسی طرح ذہن بار بار عمل کرتا ہے اور نوشن بناتا ہے۔ ہیگل نے یقیناً اس طرح سے بات نہیں کی لیکن ہیگل کو پڑھنے والا فوراً اس کے مادی نتیجوں پر جا پہنچتا ہے۔ یہ بات لینن بھی اپنی نوٹ بک میں لکھتا ہے کہ اس میں مادیت کے جراثیم ہیں۔
ہیگل کے بعد فیورباخ آ کر ہیگل کی عینیت پرستی کو رد کرتا ہے لیکن ہیگل کا یہ کہنا کہ فلسفے کی تاریخ میں ہر فلسفی کا اپنا کردار ہے جسے صرف رد نہیں کر دیا گیا بلکہ ’’جدلیاتی رد‘‘ ہے۔ یعنی جس فلسفی کا نام تاریخِ فلسفہ میں موجود ہے اس کا فلسفہ بھی موجود فلسفے میں موجود ہے۔ فلسفے میں ’’رد‘‘ سے مراد نابود ہونا نہیں ہے بلکہ پہلا ناگزیر محفوظ ہوا اور غیر ضروری نابود ہوا لیا جا سکتا ہے۔ اور اسی طرح سے لیں گے تو ہی فلسفہ سمجھ میں آئے گا۔ لیکن فیورباخ نے ہیگل کو قطعی طور پر رد کر دیا اور اینگلز کے الفاظ میں اسی وجہ سے خود بھی رد ہو گیا۔ ہیگل کی اوڑھی ہوئی دھوکے کی چادر یعنی عینیت کے اندر اس کا چھپا ہوا اب تک کا سب سے شاندار میتھڈ تھا جسے پیچھ کے ساتھ چاولوں کی طرح فیورباخ نے گٹر میں بہا دیا۔ مارکس اور اینگلز نے اس طرف توجہ کی اور ہیگل کے میتھڈ کو نہ صرف اپنایا بلکہ اسے استعمال بھی کیا۔
ہیگل کے بعد واضح طور پر فلسفہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ ایک وہ جو ہیگل کا سسٹم یا نظام یا جو اس نے کہا تھا جسے ہم کونٹینٹ یا مافیہا بھی کہتے ہیں اس کی پیروی کرنے لگے (جیسا کہ ہمارے اردو میں فلسفے پر باتیں کرنے والے لوگ کر رہے ہیں۔ جہاں بھی ہیگل کی بات ہوئی یہی کہتے ہیں کہ ہیگل نے یوں نہیں یوں کہا ہے وغیرہ۔۔۔ ) دوسرے وہ جنہوں نے ہیگل میتھڈ یا منہاج یا طریق کار یا جس طور سے اس نے چیزوں کو ثابت کیا جسے ہم فارم یا بنتر یا ہیئت بھی کہتے ہیں کو اپنایا۔ اول الذکر لوگوں کو جو ہیگل کے کہے کو ’’مطلق‘‘ سمجھ کر چلتے ہیں انہیں رائٹ ہیگلیئن کہا جاتا ہے اور آخرالذکر جو ہیگل کے طریق کار کو اپناتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں لیفٹ ہیگلیئن کہتے ہیں جن میں کارل مارکس کا نام سب سے نمایاں ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہیگل کے بعد فلسفے آئے؟ ہمارا کہنا ہے کہ مارکس نے ہیگل کے ہی فلسفے کو سیدھا کرنے کی بات کی یعنی اس کے مابعدالطبیعاتی پہلو کو مادی میں تبدیل کر کے اس کے میتھڈ کو لیا۔ باقی وہی چلتا رہا۔ فلسفے جن کو نیا کہا جا رہا ہے ان کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہر ’’نیا‘‘ فلسفہ ایک ہی ’’حقیقت‘‘ کو سامنے لا رہا ہے کہ چیزوں کو جانا نہیں جا سکتا۔ اس میں خواہ آپ پریگمیٹزم اور لاجیکل پازیٹیوازم کے جدیدترین ’’سائنسی‘‘ فلسفے لے لیجئے یا پھر ’’پس ساختیات‘‘ اور ’’مابعد جدیدیت‘‘ یا ’’مابعدمابعدجدیدیت‘‘۔ بات ایک ہی نکلے گی کہ چیزوں کو جانا نہیں جا سکتا۔
میری بات پڑھنے والے۔۔۔ میں فرض کرتا ہوں کہ فلسفے سے بہت زیادہ واقف نہیں ہیں۔ کیوں کہ میں آسان زبان اور آسان انداز میں انہی کے لئے لکھ رہا ہوں۔۔۔ یوں کریں کہ کوئی بھی ہیگل کے بعد والا فلسفہ لیں اور دیکھیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یا کیا کہنا چاہتا ہے؟
اگر تو کسی کے اندر شعور کا، انسانیت کا یا شرم و حیا کا رتی برابر مادہ بھی موجود ہو گا تو اسے یہ جان کر عجیب سی کوفت ہو گی کہ ہر ’’نیا فلسفہ‘‘ صرف ایک ہی چیز پر اپنا ’’خاتمہ‘‘ کرتا ہے۔۔۔ یا اس کا صرف ایک ہی مقصد نظر آئے گا۔۔۔ وہ یہ کہ کسی بھی شئے کا وجود ہی ممکن نہیں۔۔۔ وجود ہے تو جانا نہیں جا سکتا۔۔۔ جان بھی لیں تو آگے بتانا ممکن نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box
فلسفہکانٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
اے چاند! بھٹائی سے کہنا۔۔۔ اعجاز منگی
next post
وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد ۔ اوریا مقبول

Related Posts

سامراجی مداخلت کی تاریخ — ترجمہ و تحقیق: محمد...

11/08/2022

عرب سپرنگ : سیکولرز و لبرلز نے تبدیلی...

19/01/2021

مسلمان شہریوں کی بے ریاستی اور مودی میکرون...

05/11/2020

صدر میکرون : فرنچ مسلم دشمنی کی تاریخ...

27/10/2020

بیماری، علاج اور ڈاکٹر: خوف کی مارکیٹنگ ——–...

29/11/2019

علم نفسیات کی کلینک سے آزادی —- فرحان...

19/11/2019

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.