تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

وائرل ویڈیو اور ہمارا طرزعمل‎ —— بشارت حمید

by دانش ڈیسک 31/10/2018
written by دانش ڈیسک 31/10/2018
67

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں، ایک سفید داڑھی والے بزرگ کسی پارک میں، ٹریک سوٹ پہنے واک کر رہے تھے کہ ایک خاتون نے اپنا جوتا اتار کر ان کو مارنا شروع کر دیا اور چند لوگ وہاں اکٹھے ہو گئے ان میں سے ایک نے وہ ویڈیو بنانی شروع کر دی جو پھر شیئر ہوتے ہوتے ہم تک بھی پہنچ گئی۔ وہ خاتون جوتے مارتے ہوئے یہ بھی کہہ رہی تھی کہ اس بابے نے ہمارا پارک میں  آنا حرام کیا ہوا ہے اور پھر کئی جوتے مارنے کے بعد کہیں سے کالک لا کر کے منہ پر مل کر منہ بھی کالا کر دیا۔

اس دوران  وہ بزرگ ہاتھ جوڑ کر معافیاں، مانگ رہے تھے۔ اب اصل کہانی تو معلوم نہیں، کیا ہوئی لیکن جب سے یہ کلپ دیکھا ہے ذہن میں، عجیب خیالات آ رہے ہیں۔ ہر انسان اس دنیا میں عزت حاصل کرنا اور پھر مرتے دم تک اس  میں اضافہ ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ کوئی بندہ بشمول میرے یہ نہیں چاہتا کہ کسی بھی کمی کمزوری اور کوتاہی پر، اس کو سرعام بے عزت کیا جائے اس کا منہ کالا کیا جائے اور پھر اسکی ویڈیو بنا کر دنیا میں پھیلا دی جائے۔ اب اس بزرگ کی کوئی ناگوار حرکت اس خاتون نے نوٹ کی ہو گی لیکن اس پر وہ باباجی اس شدید ردعمل کی توقع نہیں کر رہے ہوں گے جو انہیں بھگتنا پڑا۔

اب اس کالے منہ کے ساتھ جب وہ اپنے گھر پہنچے ہوں گے تو انکی فیملی انکے بچے کیا سوچتے ہوں گے کہ یہ کیا معاملہ ہوا اور پھر یہ ویڈیو وائرل ہونے پر وہ بزرگ تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہے ہوں گے۔ اب یہاں ایک نقطے پر ذرا ہم غور کریں کہ کیا اس ویڈیو کو بنانے والا بندہ خود بہت نیک، پاک اور معصوم عن الخطا ہے۔ کیا اس کےاپنے  جی میں کسی لڑکی یا عورت کو دیکھ کرکبھی کوئی خیال پیدا نہیں ہوا۔ کیا وہ خود چاہے گا کہ اگر اس کے ساتھ کبھی ایسا ہو تو اس کی ویڈیو بنا کر نشر کر دی جائے۔ اسی طرح ہر ایسی ویڈیو کو آگے شیئر کرنے والے بھی اس معاملے میں برابر کے شریک ہیں۔

حضرت عیسٰی ع کے دور میں ایک بدکار کو سزا دینے کے لئے لوگ اکٹھے ہوئے تو حضرت عیسٰی نے فرمایا کہ اسے سنگسار کرنے کے لئے پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کبھی یہ گناہ نہ کیا ہو یہ سننا تھا کہ لوگ وہاں سے کھسکنا شروع ہو گئے اور  سارا مجمع چھٹ گیا۔

اس بزرگ نے جو کچھ کیا ہو گا یقینی طور پر غلط کیا ہو گا لیکن اس کی اتنی بھیانک سزا دینا اور وہ بھی یک طرفہ موقف پر صرف یہ دیکھ کر کہ خاتون کہہ رہی ہے تو ٹھیک ہی ہو گا، کس طرح جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ بابا جی تو آخری عمر میں اتنی ذلت دیکھ کر جیتے جی مر گئے ہوں گے۔ شیطان ہمارے اندر ہر وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ ہماری کمزوریوں کو استعمال کر کے ہمیں غلط راہ پر ڈال دے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی وقت اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارا دین کسی ایسی بات کو اس طرح سر عام پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دور میں ایک بدکار کو سزا دینے کے لئے لوگ اکٹھے ہوئے اور ہر کوئی بڑھ چڑھ کر سخت سزا دینے کی باتیں کرنے لگا، حضرت عیسٰی نے فرمایا کہ یہ شخص گنہگار ہے لیکن اسے سنگسار کرنے کے لئے پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کبھی یہ گناہ نہ کیا ہو یہ سننا تھا کہ لوگ وہاں سے کھسکنا شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا مجمع چھٹ گیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے ہم سب گنہگار ہیں اور کوئی نہ کوئی کمی کوتاہی ہمارے اندر موجود ہے لیکن ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہماری کسی بات کو سر عام نشر کر دیا جائے۔ ہم دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں گے تو اللہ دنیا اور آخرت میں ہماری بھی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ورنہ ہم کوئی اتنے حاجی بھی نہیں کہ دوسروں کے عیب لوگوں سے شیئر کرتے رہیں اور خود عزت دار بنے بیٹھے رہیں۔

عیب کی پردہ پوشی کے حکم کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انسان کو توبہ کا موقع مل جائے یہ نہ ہو کہ پھر وہ سوچے کہ بدنام تو ہو ہی گیا ہوں اب یہ کام ڈٹ کر کرتے رہو۔ ہم کسی کا عیب دوسروں پر ظاہر کرکے دراصل اس کی توبہ کا راستہ بند کرنے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Facebook Comments Box
اسبزرگ وائرل ویڈیوحضرت عیسیٰسوشل مڈیاوائرل ویڈیوویڈیو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
وفاقی وزیر اعظم سواتی کو ’’سید زادے‘‘ حامد سعید کاظمی کی آہ لگی!!!! ۔۔۔۔۔۔۔ عمران چوہدری
next post
جنرل ہوش محمد شیدی شہیدؒ —– لالہ صحرائی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.