تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

طبقاتی کشمکش میں برتری کی نفسیات —– عمر خالد

by دانش ڈیسک 19/10/2018
written by دانش ڈیسک 19/10/2018
107

صدیوں سے انسان ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ جنگی نفسیات کا اندرونی محرک طبقاتی مفادات کی تحفظ اور زیادہ سے زیادہ وسائل کی جستجو ہے۔ سرد خطوں کی بیشتر اقوام وسائل کی محرومی کا شکار رہی ہیں جو افریقہ اور وسائل سے مالامال دیگر خطوں پر حملہ آور رہے۔ استعماری ادوار میں عظیم طاقتوں نے مشرق تا مغرب لوٹ مار جاری رکھی۔

مگر گروہی مفادات کی آڑ میں حملہ آور صرف فزیکلی ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوتے۔ بلکہ اپنے ناجائز اقدامات کا جواز پیدا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی فلسفہ ضرور گھڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر گورے برتر ہیں اور کالے ذلیل۔ گویا رنگ کی عصبیت کے پس پردہ گوروں کو یہ زعم تھا کہ وہ ہر لحاظ سے اونچے، بلند اور بہتر ہیں۔ جبکہ کالوں کی نفسیات واقعتاً خود کو کمتر سمجھنے لگی۔ کالا رنگ برائی، ظلم، سفاکی کی علامت بن گیا اور سفید رنگ امید کی کرن۔

اس طرح ایک جواز مذہبی برتری کا تراشا جاتا ہے، برطانیہ نے استعماری عزائم کی تکمیل کے لئے ہندوستان میں عیسائی مشنری کو استعمال کیا۔ پرتگیزیوں نے ہزاروں لوگ اس لئے قتل کئے کہ وہ گمراہ تھے۔ماضی میں مذہبی وحدتوں کو مٹانے سے جابر قوتوں کو تحفظ کا احساس ہوتا تھا، اسی طرح مذہب کے نام پر مخالفین کو تہس نہس کرنا اپنی مذہبی برتری کا اظہار تھا۔

طبقاتی کشمکش میں دور تک مار کرنے والا عنصر تہذیبی برتری کا ہے، امریکہ ساری دنیا کے حقوق، تہذیب اور انسانیت کا علمبردار بنا ہے۔ تہذیب و تمدن کی سطح پر پیش رفت کا اظہار، ابلاغ اور وسیع پیمانہ پر مسلسل دہرائے جانے کے عمل میں دو نمایاں نقصانات ہوتے ہیں۔ اول شناخت کا بحران شدت اختیار کرتا ہے، یوں خود کو مہذب کہنے والی قوم کی عظمت پسماندہ اقوام کے دلوں میں سرایت کر جاتی ہے۔ دوسرا اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر لوگ اپنے ماضی سے برگشتہ ہوجاتے ہیں۔ تاریخی اثاثوں کی عظمت ماند پڑجاتی ہے۔ حال کی چکا چوند ذہنیت پر سوار ہوجاتی ہے۔

طبقاتی کشمکش میں دور تک مار کرنے والا عنصر تہذیبی برتری کا ہے، امریکہ ساری دنیا کے حقوق، تہذیب اور انسانیت کا علمبردار بنا ہے۔

اس ضمن میں نیشنلزم کی رومانویت دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ قومیت شناخت کا سوال ہے، مخالف کو زیر کرنا ہو شناخت پر سوال اٹھادیا جائے۔ مثال کے طور فاشسٹ جرمنی میں چھہ صدیوں سے رہنے والے یہودی باشندگان نسلی جرمن سے الگ قوم ہی رہے۔ طاقتور طبقات دو طرح سے قومیت کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اپنی قوم میں اٹھنے والی ہر حقوق کی آواز کو غدار ملت اور وطن فروش قرار دیتے ہیں، اور دنیا کی دیگر اقوام کو دشمنی کا پیکر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یوں طبقاتی مفادات کا تحفظ اور وسائل پر قبضہ برقرار رہتا ہے۔

طبقاتی کشمکش میں طاقتور گروہ اپنی عظمت و برتری کے اظہار بھی تخلیق کرتے ہیں۔ مثلا ایشیا افریقہ اور لاطینی امریکہ کے جن ممالک میں فوجی طاقتیں اقتدار میں رہیں وہ اپنے اقتدار کے جواز میں سیاسی گفتگو کو انتشار سے تعبیر کرتے اور فوجی ڈسپلن و یکسانیت کو نظم و بندوبست کا حسن جتاتے ہیں۔ علامتی برتری کے طور پر خاص قسم کی چھڑی (Stick)، تمغوں سے آراستہ یونیفارم، شان و شوکت کے رعب دار نشانات، اسی طرح جنگی مزاج پیدا کرنے کے لئے نسیم حجازی اور اسلم راہی کے کرداروں کو رول ماڈل بناکر پیش کرتے ہیں۔ اور قدیم تاریخ کے جنگی فاتحین کو قومی ہیرو کے طور پر پیش کرکے عام لوگوں کے ذہن میں رومانویت پیدا کرتے ہیں۔ اس پورے عمل کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہن میں فوج کی ہر لحاظ سے برتری قائم ہوتی ہے، اور سنہری دور (Golden age) کی تمنا معشوقہ کی صورت میں دبی ہوئی حسرت رہ جاتی ہے۔

نفسیاتی برتری نہایت طاقتور ہتھیار ہے، علم و شعور، اور تنقیدی نگاہ کے بنا قومیں اپنی اصل شناخت اور حقیقی طاقت بھول جاتی ہیں۔ بالکل اس شیر کی مانند جو بکریوں کے ریوڑ میں پلا بڑھا ہو۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  تہذیبی کشمکش: عبدالروف
Facebook Comments Box
featuredتہذیبتہذیبی برتریحقوقطاقتور طبقاتطاقتور گروہطبقاتی کشمکشفاشسٹ جرمنی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جماعت اسلامی کو دس مشورے —- فرحان کامرانی
next post
دل کچے دھاگے سا ! مدد علی سندھی کا افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: عامر صدیقی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.