تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرسماجیکالم

صوفی، ادیب اور عالم: کچھ گلے شکوے —– محمد مدثر احمد

by دانش ڈیسک 07/11/2018
written by دانش ڈیسک 07/11/2018
60

مجھے بعض صوفیوں، ادیبوں اور مذہبی سکالروں سے اختلاف ہے۔ صوفیوں سے مراد صرف وہ حضرات ہیں جو کہ روایتی طو رپر شاہی درباروں سے منسلک رہے۔ بادشاہوں کے معاملات میں دخل اندازی سے باز رہے۔ عوام کو حکمران کی اطاعت والی تعلیمات سے بھر پور طریقے سے آگاہ کیا اور اپنے ظالم نفس کی سر کوبی کے لیے جنگلات اور غاروں میں چِلّے اور وظائف کے تصورات کو فروغ دیتے رہے۔ ان کا ہاتھ رعایا کی نبض پر ہوتا تھا۔ لوگوں کے مسائل اور نفسیات سے آگاہ تھے۔ یہ تمام تفصیلات حاکمِ وقت کے علم میں لائی جاتیں۔ پُشت در پُشت اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مروّجہ جاسوسی نظام اور باضابطہ وزرا اور مشیران کی جماعت کے ساتھ صوفی نظام بھی سلطنت کو استحکام بخشنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ بعض صوفیا کرام کی وفات کے بعد گدی نشینی باقاعدہ ایک سیاسی اور مذہبی نظام کی صورت اختیار کرتی گئی جہاں لوگوں کے حقیقی یا روحانی مسائل تو کیا حل ہوتے صرف ان کی معصومانہ مذہبی وابستگیوں کا سودا کر کے سیاسی مقاصد حل کئے جاتے رہے۔ ایک عام مسلمان خود سپردگی یا مریدی کے دائرے میں داخل ہو کر اپنی آزاد سوچ، تحریک کی خواہش یا اختلاف کے حق سے دستبردار ہو گیا۔ یہ سلسلہ خاندانِ غلاماں سے لے کر انگریزوں کے دور حکومت میں بھی اسی صحت کے ساتھ برقرار رہا۔

اس کے بعد ادیبوں کا گروہ ہے۔ ان میں سے بعضوں نے اخلاقیات، حب الوطنی، ما بعد الطبعیات کی طلسماتی دُنیا اور دلچسپ قصّے کہانیوں کا سہارا لیا۔ بعض حساس معملات کے بیان پر بھی زیبِ داستان پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا۔ مافوق الفطرت واقعات کی بنا پر نتیجے اخذ کئے گئے۔ عملی زندگی کی تلخیوں اور حقیقتوں کا مطالعہ اصولی، روحانی اور نظریاتی سطح پر کیا گیا۔ اس کے برعکس یہ ادیب حضرات اپنی تقررّی، تبادلے اور ترقی جیسے ضروری معملات میں کسی نیک دل اعلیٰ بیوروکریٹ کی مدد بخوشی قبول کرتے رہے۔
اس مکتبہ فکر نے جہاں حب الوطنی جیسے بلند خیالات کو فروغ دیا وہاں کچھ مسائل بھی پیدا کر دیئے۔ ایک عام آدمی کو انتہائی اصولی اور محدود بنا دیا گیا۔ عملی زندگی کی سچائیاں اور تقاضے ان ادیبوں کی خوشنما تحریروں کے برعکس بڑے کھردرے اور حوصلہ شکن تھے۔ نتیجتہً مایوسی بڑھی، تضادات سامنے آئے اور اصولوں سے بندھا قاری زمانے کے معروضی  حقائق کے سامنے مُنہ کے بل آ گرا۔
یہ ادیب لوگ گدی نشینوں سے بہر طور بہتر تھے۔ جنگلوں اور ویرانوں سے لوگوں کو بابوں کے ڈیروں تک تو لے آئے۔ وظائف اور چلّوں سے بات جڑی بوٹیوں کے خواص تک آ پہنچی۔ سائنس کی افادیت پر بھی بات ہونے لگی۔

ایک تیسرا گروہ بھی ہے۔ معذرت کے ساتھ یہ وہ علما کرام ہیں جو عہدِ حاضر کے استحصال کے مارے غریب بے روزگار مسائل میں گرے ہوئے عام آدمی کو دنیا کی بے ثباتی و صبر کی عظمت اور جنّت کی آسائشوں کے بارے باخبر کرتے رہتے ہیں۔ نماز اور دیگر ارکانِ اسلام پر کاربند رہنے کی تلقین اتحاد اور بھائی چارے کا فروغ جیسے خیالات کے پرچار سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ یقیناً اس کے بہت سے اچھے نتائج بھی ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن میرا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ معاشرے میں انصاف کے نفاذ کے لیے خوبصورت الفاظ سے سجی شیریں زبانی کی بجائے سادہ انداز میں اصل موضوعات کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو اُن کے اجتماعی حقوق و فرائض کی تعلیم چاہیے لیکن ان تینوں INSTITUTIONS نے فرد کی INTELLECTUAL GROWTH شخصی آزادی، RATIONALISM, LOGIC صحت مندی تنقیدی روّیہ، REFORMS پر کوئی خاص کام نہیں کیا۔

ان تینوں گروہوں کے زیرِ اثر ایک ایسا فرد تشکیل پاتا ہے جو اپنی فکری رہنمائی کے لیے خانقاہوں کا رخ کرتا ہے۔ بیماری میں بابا جی کے ڈیرے پر جڑی بوٹیوں سے شفا پاتا ہے۔ عملی زندگی کی دوڑ میں استحصالی قوتوں سے بلا مقابلہ ہار جاتا ہے۔ ظلم اور نا انصافی پر ردِّ عمل ظاہر نہیں رکھتا۔ عارضی دنیا کی زیادہ فکر نہیں کرتا۔ تحریک اور جدوجہد کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے خاموش اور پُرامن رہ کر ایک ادنیٰ یا اوسط درجے کی غیر اثر پذیر انفرادی زندگی گذار کر فانی دُنیا سے کُوچ کر جاتا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredSufiادیبخانقاہشکوےصوفیعالمعلمافکری رہنمائیمحمد مدثر احمد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
رشتہ جوڑنا اور نبھانا دشوار کیوں؟ —– فارینہ الماس
next post
پاکستان کیوں وجود میں آیا؟ —– خرم علی شفیق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.