تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

سچے رشتوں کی جھوٹی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم شہزاد

by Editor2 17/10/2018
written by Editor2 17/10/2018
70

ماں باپ کسی بھی انسان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ پرورش اور تربیت سے شروع ہونے والا یہ سفر کسی بھی بچے کی زندگی کا نقطہ آغاز ہوتا ہے جو ماں باپ کے ہاتھوں شروع ہوتا ہے۔ کوئی بھی بچہ اپنی زندگی میں جیسا مرضی مقام حاصل کرئے لیکن اپنے پروردگار اور ماں باپ کو اپنی زندگی سے نفی نہیں کر سکتا جو اس کی تخلیق اور پرورش کا باعث ہوتے ہیں۔ اگرچہ انسان ناشکرا ہے اور فوراً ہی سارے احسان بھلا دیتا ہے لیکن کسی کے بھلانے سے بھلا کیا سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ زندگی کا پہیہ اپنی مخصوص رفتار سے چلتا رہتا ہے اور احسان فراموش کو خود اپنے کئے کا حساب دینا پڑ جاتا ہے یا کم از کم اس دکھ یا درد کا اندازہ ضرور ہوتا ہے جس سے اس نے دوسروں کو دوچار کیا ہوتا ہے۔

کوئی باپ اپنے بچوں کا خیال رکھنے سے پہلے اپنے باپ کا خیال کیوں نہیں رکھتا تا کہ اس کا باپ ایک پرسکون موت مر سکے۔

دراصل بات شروع کچھ ملاقاتوں سے ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں مختلف جگہوں پر کچھ افراد سے ملنے کا اتفاق ہوا جو اپنے بچوں کے لیے پریشان تھے۔ یہ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے جس طرح سے پریشان تھے اسے لفظوں میں بیان کرنا ایک مشکل امر ہے۔ کسی بھی بچے کے لیے ماں اور باپ اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور دونوں ہی مل کر ایک ایسا طریقہ کار اپناتے ہیں جسے ہم پرورش کہتے ہیں جس سے کسی بھی بچے کی نشوونما ہوتی ہے۔ باپ کمانے کے لیے صبح گھر سے نکلتا ہے اور کہیں شام کو گھر واپس آتا ہے ۔ کچھ افراد صرف اپنے بچوں کے لیے بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور برسوں ہر طرح کی مصیبت میں صرف اس لیے گزارہ کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے اچھے ماحول میں رہ سکیں لیکن افسوس تب ہوتا ہے کہ جب یہی بچے جن کے لیے باپ نے اتنی قربانیاں دی ہوتی ہیں، چھوڑ چھاڑ کر اپنی آزاد اور نئی دنیا بسانے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ میں نے بہت سے افراد کو بڑھاپے میں روتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک باپ سات بیٹے پا ل لیتا ہے لیکن سات بیٹے مل کر ایک باپ کو نہیں پال سکتے۔ اس شخص کی یہ بات سچی اور دکھ جھوٹا ہوتا ہے لیکن ہم اس جھوٹ پر کبھی بات نہیں کرتے بلکہ اس شخص کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے اولاد کی برائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ آئیے باپ کے دکھ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔

ایک باپ جو آج شکوہ کناں ہے کہ اس نے سات بچے پال لیے لیکن سات بچے ایک باپ کو نہیں پال سکتے، اس سے صرف اتنا پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اس کا اپنے والد صاحب کے بارے کیا خیال ہے۔ کیا وہ اپنے باپ کے ان سات بچوں میں سے ایک نہیں ہے جن سے اپنے والد صاحب نہیں پالے گئے تھے؟ یقیناً ایسا ہی تھا کہ اس شخص کے اپنے والد صاحب بھی یہی شکوہ کرتے ہوئے دنیا سے گزر گئے ہوں گے کہ ایک باپ سات بچوں کو پال لیتا ہے لیکن سات بچے ایک باپ کو نہیں پال سکتے۔ یہ ایک سرکل ہے ، ایک پہیہ ہے جو چل پڑا ہے، ہر نیا باپ اس کا حصہ ہوتا ہے اور ہر مرنے والا شخص یہی دکھ لے کر اس سرکل سے اپنی زندگی کی آخری سانس کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے۔ آپ ٹسٹ کیس میں کسی بھی ہسپتال چلے جائیں، کوئی بھی ایسا شخص جس کی شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور ایک ہی اولاد ہو لیکن کسی مرض میں مبتلا ہو، آپ اس شخص کی فکریں اور ڈوریں دیکھ کر حیران رہ جائیں گے، دنیا میں اس سے زیادہ فکر مند شائد کوئی نہ ملے۔ ٹھیک اسی وقت وہ اپنے والد سے شکوہ کناں اور لاپرواہ بھی ہو گا۔ اپنے بچے کے لیے دن رات جاگنے والے نے شائد ہفتے بھر سے اپنے والد سے بات بھی نہ کی ہو گی۔ خود اپنے بچے کے لیے ہسپتال ہسپتال پھرنے والے کو اس بات کی کتنی فکر ہو گی کہ اس کے والد نے دوائی لی کہ نہیں، مجھے یہ کہنے کی بالکل ضرورت نہیں۔ مجھے کئی ایسے صاحبان سے بھی ملاقات کا شرف حاصل رہا ہے جو اپنے بچوں کے ساتھ ہسپتال میں موجود ہوتے ہیں اور باوجود کوشش کے ان سے اپنے دکھ کا اظہار بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہو پا رہا ہوتا۔ اس وقت پاس ہی ان کے اپنے والد صاحب انہیں نصیحت کر رہے ہوتے ہیں کہ بیٹا کچھ دیر آرام کر لو اور وہ اپنے والد کو کچھ یوں دیکھتے اور سمجھاتے ہیں جیسے ان کے والد پلاسٹک کے بنے دل کے مالک ہوں اور اپنے بیٹے کے لیے جذبات صرف انہی کے پاس ہیں، ان کے والد تو یکسر عاری ہیں۔

میرا سوال صرف یہ ہے کہ ماں باپ کا رشتہ بڑا ہی سچا اور کھرا ہوتا ہے تو پھر اس میں جھوٹے جذبے کیوں شامل ہو جاتے ہیں۔

ایسی ہی کچھ صورت حال گھروں میں لڑکیوں اور ان کی ماوں کے مابین بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ لڑکیوں کو اگرچہ ماوں کے قریب ہونا چاہیے لیکن عموما گھروں میں ماں بیٹی میں ایک بحث ہی چل رہی ہوتی ہے۔ میں جب بھی بیٹی کی اچھی پرورش کے حوالے سے ماں پر الزام دھرتا ہوں تو خواتین مخالفت میں یہ ضرور کہتی ہیں کہ ظالم سماج میں بیٹی کی ماں ہونا کیا ہوتا ہے یہ صرف وہ ہی جانتی ہیں۔ ایک بیٹی کے نصیب کے لیے ماں کیسے پریشان ہوتی ہے یہ بتایا نہیں جا سکتا۔ شوہر دوسری شادی کر لیتے ہیں بیٹی کی پیدائش پر، سوکن لے آتے ہیں یا پھر طلاق کا داغ لگا دیتے ہیں۔

یقیناً ہر بات قبول کی جا سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ظلم کرنے والے شوہر کی ماں کہاں ہوتی ہے۔ سوکن لانے یا طلاق دینے والے شخص کی ماں نے اس کی ایسی تربیت کیوں نہیں کی ہوتی کہ وہ بیٹی کو رحمت سمجھے۔ اپنی بیٹی کے نصیب کے لیے پریشان ماں دوسرے کی بیٹی کے نصیب کیوں خراب کر کے رکھ دیتی ہے۔ خود عورت ذات ہوتے ہوئے وہ دوسری عورت کو چاہئے وہ بہو کے روپ میں ہو یا پوتی کے روپ میں، اسے کیوں قبول نہیں کرتی اور پھر یہاں بھی وہی سرکل وہی پہیہ چل پڑتا ہے۔ آج کی بے بس بیٹی یا بیوی جب کل کی ماں اور ساس بنتی ہے تو وہی سب کرتی ہے جو اس کے اپنے ساتھ ہوا ہوتا ہے۔ پھر ایک بیٹاجب وارث نہ دینے پر بیوی کو طلاق دینے لگتا ہے تو یہ ماں کچھ نہیں بولتی۔ اپنی بہو کو سوتن کے ڈراوے میں رکھتی ہے اور اس سب میں وہ بیٹے کو ہاتھ اٹھانے سے لے کر دوسرے ظلم کی کھلی چھوٹ بھی دے دیتی ہے تا کہ گھر کی حکومت اس کے اپنے ہاتھ رہے۔ یاد رہے یہ وہی عورت ہے جو خود اپنی بیٹی کے لیے پریشان تھی اور خود جب تک بیاہی نہ گئی تھی اس کی والدہ اس کے نصیب کے لیے پریشان تھی۔

میرا سوال صرف یہ ہے کہ ماں باپ کا رشتہ بڑا ہی سچا اور کھرا ہوتا ہے تو پھر اس میں جھوٹے جذبے کیوں شامل ہو جاتے ہیں۔ ماں باپ اپنی اولاد کو لے کر پریشان ہوتے ہوئے زندگی کے اس سرکل میں کیوں شامل ہوتے ہیں، جس کا حصہ کل تک ان کے اپنے والدین بھی تھے اور آج وہ خود اور آنے والے کل میں ان کی اولاد نے بھی ہونا ہے۔ کوئی اس سرکل کو توڑتا کیوں نہیں۔۔۔ کوئی باپ اپنے بچوں کا خیال رکھنے سے پہلے اپنے باپ کا خیال کیوں نہیں رکھتا تا کہ اس کا باپ ایک پرسکون موت مر سکے۔ اس کے لبوں پر یہ شکوہ نہ ہو کہ ایک باپ سات بچوں کر پال کر بے یار و مددگار مر رہا ہے۔ کوئی ماں اپنی بیٹی کے نصیبوں کے لیے پریشان ہونے سے پہلے اپنی بہو اور اپنی پوتی کو قبول کیوں نہیں کرتی تا کہ وہ ایک پرسکون زندگی گزار سکیں۔ سوچیں اور اگر آپ کے بس میں ہے تو اس سرکل کو توڑنے کی کوشش کریں ورنہ خاندانی نظام اور رشتے تو ویسے بھی ٹوٹ رہے ہیں، ایک دن ہم سب صرف بدلے لیتے اور شکوے کرتے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

Facebook Comments Box
اولادرشتہسسرالسوتن کا رشتہماں باپوالدین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
لیاقت علی خان: ایک وزیر اعظم، نیب کا بوٹا جس کے من میں پھوٹا تھا — فاروق عادل
next post
انجمن ترقی پسند مصنفین کا مَلِکیاتی محاکمہ — فتح محمد ملک/جلیل عالی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.