تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادبکالم

مصور غم اہل وطن: سعود ساحرکیلئے فاروق عادل کی تحریر

by مجاہد حسین 14/02/2017
written by مجاہد حسین 14/02/2017
124

شہنشاہ ِ موسیقی مہدی حسن اور شہنشاہِ صحافت سید سعود ساحر کے درمیان ایک بڑی مماثلت ہے، ان دونوں بزرگوں کو ان کے شعبوں کی ایسی شخصیات نے خراج تحسین پیش کیاجن کا کوئی ثانی نہیں۔لتا منگیشکر نے مہدی حسن کے بارے میں کہا کہ ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے، پاکستان کے پہلے سیاسی کالم نگار عبدالقادر حسن دور کی کوڑی لائے،کہا:
’’سعود ساحر کے گلے میں کالم بولتے ہیں‘‘۔
جناب عبدالقادر حسن نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا لیکن ایک معمہ اب بھی باقی ہے۔ سرسری نگاہ سے دیکھنے والوں کو جانے دیں لیکن جن لوگوں نے انھیںسفر و حضر،جلوت و خلوت اوررزم وبزم میں قریب و دور سے دیکھا ہے، ان کے سامنے پہاڑ جیسا ایک سوال راہ روکے کھڑا ہے کہ یہ حضرت آخر ہیں کس کینڈے کے بزرگ؟کیوں کہ انھیں صرف صحافی یا کالم نگار کہہ کر گزرجانے سے بات بنے گی اور نہ ان کی شخصیت کا احاطہ ہوپائے گا۔
شاہ صاحب سے میری نیاز مندی کا زمانہ کم و بیش تین دہائی سے بھی زیادہ ہے اور مجھے ان کی شخصیت کے بہت سے رنگوں کے مشاہدے کا اعزاز حاصل ہے لیکن داد دینی چاہئے برادر عزیز فضل الرحمن کے مشاہدے کو جنھوں نے بے تکلفی کے ماحول میں ہونے والی دو چار ملاقاتوں میں اُن کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کی نشان دہی کردی جس کے شریک و شاہد تو بہت سے لوگ ہیں لیکن واضح الفاظ میں بیان انھوں نے کیا لیکن اس سے پہلے ایک منظر دیکھئے،محفل عروج پر ہے اور شاہ صاحب اس میں چہک رہے ہیں، اچانک بات جرتے کرتے وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا:
’’بس یہ آخری جملہ، پھر میں چلوں گا‘‘۔

فاروق عادل

شاہ صاحب جملہ شروع کرتے ہیں بلکہ شروع کیا کرتے ہیں، پچھلے جملے ہی کا تسلسل جاری رکھتے ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کب واپس اپنی نشست پر جلوہ افروز ہوئے اور بات کہاں کی کہاں پہنچ گئی۔دوران گفت گو وہ پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور آخری جملہ کہہ کر روانہ ہوجانے کہ دھمکی دتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو انھوں نے بات ختم کرکے جانے کی اجازت چاہی تھی ،آپ ابھی یہ سوچ ہی رہے ہوتے ہیں کہ شاہ صاحب ایک بار پھر آخری جملے کے بعد خدا حافظ کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور آپ کہتے ہیں رہ جاتے ہیں کہ شاہ صاحب ابھی تو بات شروع ہی ہوئی تھی لیکن شاہ صاحب تو اس دوران سیڑھیاں بھی اترنے لگتے ہیں۔فضل الرحمن نے یہی منظر دیکھے تو ایک روز کہا کہ بس ان مناظر میں تھوڑی سی کمی ہی رہ جاتی ہے کیوں کہ وہ اپنی گفت گو میں یہ نہیں کہتے کہ مومنو! تم نے بہت گریہ کیا،بہت رو لیے،اب آخری بات بھی سن لو۔
میرے اس عزیز نے یہ منظر کشی کرکے شاہ صاحب کی شخصیت کے بہت ہی اہم پہلو کی نشان دہی کی ہے، ویسے تو ہر مسلمان کے دل

ایک چھوٹا سا عزادار حسینؓ موجود ہوتا ہے لیکن اگر وہ سید بھی ہو تو اس کے بیان میں فصاحت و بلاغت کے ساتھ تاثیر بھی پیدا ہوجاتی ہے ، کچھ ایسا ہی شاہ صاحب کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ نجیب الطرفین سید زادے کی حیثیت سے ان کا بیان مناقب و مصائب ِ اہل بیتؓ تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اس سلسلے کو لمحہ ٔموجود تک پہنچ دیتے ہیں اور سننے والوں کے دلوں کے تار ہی نہیں چھیڑتے بلکہ مرض کی نشان دہی کرنے کے بعد اس گاہے اس کا حل بھی تجویز کردیتے ہیں ۔شا ہ صاحب نے تحریک ختم ِ نبوت کے بارے میں یہ کتاب تالیف کر کے اہلِ بیت سے محبت، عقیدت اور عقیدے سے وابستگی کا حق ہی ادا نہیں کیا بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی ایک نئی اور احسن روایت قائم کر دی ہے۔ اللہ کرے اب وہ اپنے باقی مشاہدات کو بھی اس طرح قلم بند کر ائیں۔
مجھے مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان کی ایک محفل کی یاد آرہی ہے۔ غلام اسحق خان مرحوم نے صدر مملکت کی حیثیت سے دوتین حکومتوں کو برطرف کیا تو میرے ادارے نے سردار صاحب کے انٹرویو کا تقاضا کیا۔خواہش یہ تھی کہ ایک بزرگ اور جہاں دیدہ سیاست داں کی حیثیت سے ان کا تجزیہ قوم کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ مسئلے کی بنیاد تک پہنچا جاسکے۔میں نے برکت و رہنمائی کے لیے شاہ صاحب کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔سردار صاحب کی تشخیص یہ تھی خرابی کی بنیاد پارلیمانی نظام ہے ،اس سے جان چھڑا لی جائے تو راوی چین لکھنے لگے گا۔ دوران گفت گو شاہ صاحب مکمل طور پر خاموش بیٹھے رہے تاکہ ایک جونیئر پورے اعتماد کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری انجام دے سکے جب اٹھنے لگے تو انھوں نے سردار صاحب سے کہا:
’’انٹرویو کی اشاعت میں ابھی وقت ہے، اپنی رائے پر مزید غور کر لیجئے،ضرورت ہوئی تو اس میں مزید ترامیم کر لی جائیں گی‘‘۔
قومی معاملات میں حرف ِنوشتہ کا معاملہ ہویا زبان سے نکلنے والے الفاظ کی بات، شاہ صاحب اپنے فطری لاابالی پن کے باوجود اسی طرح احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے اہل للہ لہو لعب سے بچنے کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔اس پس منظر میں اگر انھیں مصورِغمِ اہلِ وطن کے لقب سے یاد کیا جائے تومیرا خیال میں یہ مناسب رہے گا۔
ہماری صحافتی روایت کاآغاز عہد غلامی میں ہوا جس کے سبب ہمارے اکابر صحافت کو یا تو توپ سے باندھ کراڑا دیا گیا یا پھر انھیں قید و بند کے دوران چکی میں مشقت برداشت کرنی پڑی۔ہماری صحافت پر اس کے اثرات بہت گہرے تھے۔یہی وجہ ہے قیام پاکستان کے بعد کی دہائیوں میں ہمیں افکارو خیالات کے شعبے میں قربانیو ں کی عدیم النظیر داستانیں رقم کرنے والے اکابر تو مل جاتے ہیں لیکن نئے دور کے تقاضوں کے مطابق خبر کی تلاش میں سرگرداں لوگ کم نظر آتے ہیں۔میرے علم کے مطابق شاہ صاحب ان دو چار لوگوں میں سب سے نمایاں ہیں جنھوں نے خبر کی تلاش میں اپنی جان مصیبت میں ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہو تو شاہ صاحب ہمیں خاکروب کے بھیس میں کانفرنس ہال میں گھومتے نظر آتے ہیں یا ستر کی دہائی میں پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ اجلاس کی میز کے نیچے چھپ کر نوٹس لیتے نظر آتے ہیں یا پھرچھینک آنے پر پکڑے جاتے ہیں ۔اب ذرا خیال کیجئے کہ ویسے تو تن آسانی کے دور میں کوئی ایسی زحمت کرے گا ہی نہیں لیکن اگر کوئی دیوانہ ایسا کر ہی بیٹھے تو سوچئے کہ اس کی کیسی در گت بنے گی۔ایسے کارنامے کرنے کے باوجود اگر زندگی کے ہر شعبہ میں انھیں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اپنے پیشے ہی نہیں قومی مقاصد کے ساتھ بھی ان کی پر خلوص وابستگی شک و شبہ سے بالاتر ہے، کاش اس عہد کا صحافی بھی خبر کے لیے اپنی جان اسی طرح جوکھم میں ڈال سکیں۔
جان جوکھم میں ڈالنے پر مجھے چار اپریل کی تاریخی رات یاد آگئی ۔اس رات سارا ملک چین کی نیند سو رہا تھا لیکن ایک شخص ایسا بھی تھا جو اپنی موٹر سائیکل کو پھٹ پھٹاتا ہوا کسی ایسے نوگو ایریا میں جاپہنچاجس پر بڑے بڑے ایوانوں میں گھنٹیاں بج گئیں اور انھیں گرفتار کرلیا گیا۔یوں ان کی رسائی اس خبرتک ہو گئی جسے چھپانے کے لیے اہل اقتدار زمیں آسمان ایک کیے بیٹھے تھے۔اس گرفتار ی کی برکت سے ہمارے اس قیدی نے ساتھ والی کھوٹھری سے وائر لیس پرنشر ہونے والی بات چیت سے پھانسی کے انتظامات کے لیے کیے جانے والے تمام انتظامات کی تفصیل جان کرپاکستان کے پہلے باخبر صحافی کا اعزاز حاصل کرلیا۔
ان بیش بہا خوبیوں کے سبب میں شاہ صاحب کا گرویدہ تو ہوں لیکن ان کی شخصیت میں ایک بات ایسی بھی ہے جس کے سبب میرے سمیت اکثر دوستوں کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ دوستوں نے اکثر دیکھا ہوگا کہ دوران گفت گو ان کے فون کی گھنٹی بج اٹھتی ہے۔شاہ صاحب اسے نظر انداز کردیتے ہیں، فون دوبارہ بجتا ہے تو دوبارہ نظر انداز کرتے ہیں، تیسری بار وہ اسے سن تو لیتے ہیں مگر فون کرنے والے کی بات سنے بغیر اطلاع دیتے ہیں کہ بس ابھی پہنچا ، گاڑی پی ڈبلیو ڈی میں داخل ہوچکی ہے۔گھر کے قریب پہنچ جانے والی گاڑی اگلے آدھے گھنٹے میں بھی منزل پر نہیں پہنچتی تو فون ایک بار پھر بجتا ہے اور شاہ صاحب کوئی بات سنے بغیر اطلاع دیتے ہیں کہ میں تو آہی رہا تھا ،فاروق نے راستے میں روک لیا ہے، اس پر آنٹی غصے میں آکر فاروق کی درگت بنا ڈالتی ہیں اور شاہ صاحب کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ قبلہ شاہ صاحب نے باون برس ہماری نیک بخت آنٹی کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے، کوئی اور ہوتا تو ساری عمر فٹ پاتھ پر گزر جاتی۔اللہ تعالیٰ ہمارے ان دونوں بزرگوں کو تادیر سلامت رکھے اور فریق اوّ ل کو ہدایت عطافرمائے تاکہ آنٹی کے ہاتھوں روز روز ہمارا یہ تماشا نہ بنے۔

ہمارے معاشرے میں شاعر، ادیب اور صحافی جتنا زیادہ سہل انگار ہوگا، اتنی ہی اس کی عظمت کے گن گائے جائیں ،اس کے پس پشت ہمیں حضرات اقبالؒ کی کمک بھی دست یاب ہے جنھوں نے خود کو گفتار کا غازی قرار دے کر کردار کے معاملے میں ہمیںرعایت دے رکھی ہے لیکن ہمارا یہ مصورِ غم گفتار کے ساتھ ساتھ عمل کے میدان کا بھی شہ سوار ہے۔

شاید یہ ۸۰ء کی دہائی کی بات ہے ، ایک افسر اعلیٰ

ہمارے اس مصورِ غم کے مزاج میں

مصورِغمِ اہلِ وطن کی حیثیت

Facebook Comments Box
farooq adilsaud sahirسعود ساحر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
مجاہد حسین

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

previous post
ناقابلِ معافی: فاروق عادل کے قلم سے عطاالحق قاسمی کا تذکرہ
next post
سیاسی پیش گوئیاں: احسان اخوندزادہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.