تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

صائمہ کا ’’رخت‘‘، ڈے آفٹر ٹومارو اور سماجی آلودگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملیحہ سید

by Editor2 26/09/2018
written by Editor2 26/09/2018
113

گذشتہ کچھ دنوں سے پرانی عادات کی بحالی کی کوشش کر رہی ہوں،جس میں ایک کتاب کا مطالعہ، ایک مووی دیکھنا اور سماجی مسائل پر ہلکا پھلکا لکھنا، جو ہمیشہ میری ڈائری کے پنوں میں محفوظ رہتا ہے۔ کچھ کالم بن جاتے ہیں تو کچھ کاغذوں میں خاموش رہتے ہیں۔ اچھے شاعر دوستوں کی کتابیں موصول ہوتی رہتی ہیں۔جن پر لکھنا ایک قرض ہے جو دوسرے لکھنے والے دوست پر واجب ہوتا ہے ،اس لیے اس محبت بھرے قرض کی ادائیگی ضروری ہے چاہیے دیر سے ہی سہی۔

سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم نے دور دور رہنے والے شاعروں اور ادیبوں کو ایک دوسرے کے نہ صرف قریب کیا بلکہ سوشل میڈیا کو ادبی سرگرمیوں کا ایک بہترین ذریعہ بنا ڈالا ہے۔ انہی شاعر دوستوں میں سے ایک کراچی سے تعلق رکھنے والی خوبصورت شاعرہ صائمہ اسحاق ہیں۔ جن کے اب تک دو شعری مجموعے ’’حاصل‘‘ اور ’’رخت‘‘ منظر عام پر آ چکے ہیں۔ رخت آجکل زیر مطالعہ ہے بلکہ اب اس شعری مجموعہ کا سفر اپنے انجام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انسان کے لالچ، ہوس اور مفادات نے اس کی روح تک کو بھی آلودہ کر دیا ہے۔ معاشرتی آلودگی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جو قدرتی آفات سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

حاصل کے بعد رخت نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔ صائمہ اسحاق کی شاعری معنویت کی فسوں کاری لگتی ہے جو قاری کو اپنے حصار میں لئے رکھتی ہے۔ وہ بھی ان سوالوں کی کھوج میں نکلتا ہے جو صائمہ اٹھاتی ہے۔ رخت پڑھتے ہوئے مجھے اس بات کا احساس قدم قدم پر ہوا ہے کہ صائمہ رومانیت کی روایتی خاتون شاعرہ نہیں ہے وہ اپنے عہد کے حالات سے نا صرف با خبر ہے بلکہ اسے الفاظ کا پیراہن دے کر اپنے حصے کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ وہ ہمارے عہد کی ایک احساس شاعرہ ہے جو غور وفکر اور تدبر پر یقین رکھتی ہے۔ محبت اس کے وجود کا حصہ ہے اور زندگی کو برتنے کا ہنر بھی مگر اسے اس کی غزلوں کا مرکزی موضوع نہیں کہا جا سکتا۔

قاضی دانش صدیقی صائمہ پر لکھے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’صائمہ اسحاق کی شاعری جمالیاتی تنوع کا بر ملا اظہار ہے۔ جوا س بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ شاعر کی سطحِ قرطاس پر بہ اعتبار سخن سازی آپ ایک مجموعی تاثر کی حامل تخلیقات سے مزین قارئین ادب کے لیے ذہنی و فکری بالیدگی کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ میرے قائم کردہ مقدمہ کا حاصل بھی ہے۔‘‘ ’’رخت‘‘ سے منتخب چند اشعار

علاقہ ہے مجھے پروازگی ہے
تبھی تو بال وپر بخشے گئے ہیں

بات کرنے سے لب چٹختے تھے
میں نے پتھر بنا لیا خود کو

ٹپکا رہا ہے ذہن پہ سیال کی روشنی
کشفِ دروں اجال سے آگے کی چیز ہے

فلم دیکھنا اور اپنی پسندیدہ فلم کئی بار دیکھنا میرا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ پسندیدہ ترین موویز میں ایک ہالی ووڈ کی The Day After Tomorrow بھی ہے۔ دو ہزار چار میں ریلیز ہونے والی یہ فلم، اس سوچ پہ بنائی گئی کہ دنیا قدرتی آفات سے کبھی بھی محفوظ نہیں ہو سکتی۔ احتیاطی تدابیر سے اس کے اثرات پر قابو تو پایا جا سکتا ہے مگر مکمل فرار ممکن نہیں۔ اس لیے انسان دنیا کو غیر محفوظ بنانے والے ہتھیار بنانے سے باز رہے۔ Roland Emmerich جرمن فلم ڈائریکٹر ہے جس نے یہ فلم بنائی۔ اس فلم کی کہانی، اسکرین پلے بھی رولینڈنے ہی لکھے ہیں۔ اس کی دیگر مشہور فلموں میں (Godzilla (1998), Independence Day (1996) and The Patriot (2000) شامل ہیں ۔ بطور فلم ناظر کے مجھے ایسی تمام فلمیں پسند ہے جو زندگی کی بقاء کے لیے لڑتے ہوئے لوگوں پر مشتمل ہوں۔ The Day After Tomorrow بھی ایک ایسی ہی فلم ہے۔

وطن عزیز میں آلودگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ،کہیں یہ آلودگی فضاؤں میں شامل ہو کر ہمیں بیمار کر رہی ہے تو کہیں زمین کا حصہ بن کر پانی کو انسان دشمن اور خوارک کو زیریلا بنا رہی ہے۔ انسانی جسم کو کھوکھلا کرتی یہ آلودگی تو ہی ہے مگر انسان کے لالچ، ہوس اور مفادات نے اس کی روح تک کو بھی آلودہ کر دیا ہے۔ کہیں وہ چند روپوں اور جائیداد کی خاطر اپنے ماں جائے کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتا تو کہیں اس کے ماں باپ تک اس کے لالچ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کہیں وہ معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر مرد بنا پھرتا ہے تو کہیں وہ اپنی ماں بہن بیٹی کا سودا کرتا پھرتا ہے۔ انسانوں میں بلا تخصیض جنس دونوں ہی اپنے جیسے انسانوں کے دشمن ہیں اور یوں معاشرتی آلودگی دن بدن بڑھتی جارہی ہے جو قدرتی آفات سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

یہ بھی پڑیھے: بنت حوا کے لیے نیا عمرانی معاہدہ کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملیحہ سید
Facebook Comments Box
خاتون شاعرہشاعرہصائمہ اسحاقمووی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
سندھ اور پیپلز پارٹی‎ —- عبدالسمیع
next post
پانی پر عدل۔ بر صغیر میں امن قائم کرنے کا واحد طریقہ (قسط ۔ ۱) ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.