تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

پاکستانی سیاست میں رائے عامہ کی واپسی — عامر منیر‎

by دانش ڈیسک 20/08/2018
written by دانش ڈیسک 20/08/2018
78

جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستانی فوج کو انہی پالیسیوں سے دوری اختیار کرنا پڑی جن کی بنیاد میں کارفرما نظریات گزشتہ تیس سال سے قومی یکجہتی کے فروغ کے لئے پھیلائے جاتے رہے تھے۔ یہ عمل اتنے غیر متوقع اور اچانک انداز میں رونما ہوا کہ فوج ہو یا عام شہری، کوئی بھی اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ تیزی سے بدلتی جیو پولیٹیکل صورتحال سے نپٹنے کی کوشش میں ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک خلیج نے جنم لےلیا جو بتدریج بڑھتی چلی گئی۔ چونکہ فوج ہی اس وقت سیاسی عمل کی کارپرداز بھی تھی، اس لئے جیسے جیسے یہ خلیج بڑھتی گئی، سیاسی عمل بتدریج رائے عامہ اور عوامی امنگوں سے بیگانہ ہوتا چلا گیا۔ پاکستانی سیاست کی حرکیات میں رائے عامہ کا کردار marginal ہوتا چلا گیا اور سیاسی عمل کی ایک ایسی صورت نے جنم لیا جس میں اشرافیہ کی باہمی کشمکش کا نام ہی سیاست تھا۔ عوام الناس سیاسی عمل کی پیچیدگیوں اور نزاکتوں سے بےخبر محض جہلاء کا ایک گروہ ٹھہرے اور رائے عامہ کی حیثیت عالمانہ اور مدبرانہ سیاسی مباحث کے درمیان محض ایک غیرضروری بلکہ نقصان دہ counter productive شورغوغا کی سی رہ گئی۔ اپنے سماج اور سماجی حقائق سے لاتعلق، مغرب کے تناظر میں جنم لینے والے سیاسی اور سماجی نظریات کو پاکستان پر کسی نہ کسی طور کھینچ تان کر منطبق کرنے کے عادی ایک گروہ دانشوراں کے نزدیک یہ صورتحال آئیڈیل اور دلپذیر تھی جس میں ان کے ہوائی قلعوں اور خود ان کی دانشورانہ اناؤں کے پنپنے کی لامحدود گنجائش تھی۔ اس کیفیت کو ان دانشوروں نے نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ عوام الناس کو مسلسل باور کرانے میں مشغول رہے کہ حقیقی سیاست یہی ہے۔

صرف فوج کی سپورٹ کسی سیاسی جماعت کو ایک سیاسی قوت بنا سکتی تو مسلم لیگ قاف کبھی نہ ختم ہوتی

آصف زرداری اور بعد ازاں نوازشریف نے بھی اس بیگانگی کے ادراک یا اسے ختم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور کی یہ paradigm shift سیاستدانوں کے لئے ایک ایسا اثاثہ ثابت ہوئی جسے سب نے جی جان سے مرغوب رکھا۔ اپنے اور اپنے اقرباء cronies کے مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لئےنسبتاً کھل کھیلنے کی آزادی فراہم کرنے والا یہ ماحول، جسے دانشوروں کا ایک گروہ بعض اوقات اچھے داموں کے عوض، بعض اوقات محض اپنی ٹیڑھ فکری کے سبب، حقیقی سیاست اور جمہوریت وغیرہ ثابت کرنے کے لئے ہمہ وقت میسر تھا، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف وغیرہم کے لئے کسی نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں تھا۔ جنرل پرویزمشرف کی وردی گزشتہ سترہ سالوں میں سے سات اور دس سالوں کے مابین ایک آئینی امتیاز کی لکیر ضرور کھینچتی ہے، لیکن عملاً 2001 سے 2018 تک ایک ہی جیسی سیاست کا تسلسل مختلف اشکال میں پاکستان پر مسلط رہا۔ ایک ایسی سیاست جس میں عوام الناس کا کردار سوائے پانچ سال بعد ووٹ ڈال آنے کے کچھ نہ تھا، رائے عامہ ایک زندہ اور موثر سیاسی قوت نہ تھی بلکہ جیسا ہم نے آصف علی زرداری کے دور میں جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے معاملے اور نواز شریف کے دور میں پانامہ سکینڈل کے دوران دیکھا، سیاستدان اسے ایک معاندانہ hostile قوت سمجھتے اور ایک دشمن کے طور پر اس سے نپٹنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

2001 سے 2018 تک ایک ہی جیسی سیاست کا تسلسل مختلف اشکال میں پاکستان پر مسلط رہا۔ ایک ایسی سیاست جس میں عوام الناس کا کردار سوائے پانچ سال بعد ووٹ ڈال آنے کے کچھ نہ تھا، رائے عامہ ایک زندہ اور موثر سیاسی قوت نہ تھی بلکہ سیاستدان اسے ایک معاندانہ hostile قوت سمجھتے اور ایک دشمن کے طور پر اس سے نپٹنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

2011 میں تحریک انصاف کی یکدم اٹھان میں جنرل شجاع پاشا کا ہاتھ تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ حقیقت اپنی جگہ رہتی ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا میں rooted ہونے نے نوجوان اذہان کو سیاسی عمل میں شراکت participation کا احساس فراہم کیا، سوشل میڈیا پر اپنی جماعت کے لئے اور بعض اوقات خود اپنی جماعت کے خلاف بولتے ہوئے وہ خود کو ایسے passive مہرے نہیں پاتے تھے جو بساط کے کسی خانے میں اگلے الیکشن تک پڑے شاطر کی نگاہ عنایت کے منتظر ہوں، بلکہ خود کو ایک زندہ live اور فعال قوت کی لہر پاتے تھے جو سیاسی عمل کے لمحہ موجودہ کی صورت گری کر رہی ہے۔ یہ participation کا وہ احساس تھا جس نے سیاست میں پہلی دفعہ دلچسپی لینے والے نوجوان ذہنوں کو ایک مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچنا جاری رکھا اور تحریک انصاف بتدریج ایک سیاسی قوت بنتی چلی گئی۔

صرف فوج کی سپورٹ کسی سیاسی جماعت کو ایک سیاسی قوت بنا سکتی تو مسلم لیگ قاف کبھی نہ ختم ہوتی، جس طرح میاں نوازشریف کو عوامی مقبولیت فوج کی حمایت کے سبب نہیں بلکہ اپنی مشہور زمانہ تقریر "میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا” کے بعد حاصل ہوئی تھی، اسی طرح تحریک انصاف کو اصل مقبولیت اسی امر کے سبب ملی کہ یہ واحد جماعت تھی جو اپنے کارکنوں اور سپورٹرز کو سیاسی عمل میں شراکت دار ہونے کا احساس گراس روٹ پر فراہم کرتی تھی۔

عمران خان کی کی تقریر رائے عامہ سے لاتعلق، دانشوروں کے خلا میں معلق جمہوری اور سیاسی آدرشوں کی کوئی لغو اور بےمعنی تکرار نہیں بلکہ ہمارے دلوں کی آواز تھی

رائے عامہ کو سیاسی عمل سے باہر رکھنا ناممکن ہے، دانشوروں کے جتھے کتنی ہی ڈگریوں اور کتابوں سے مسلح کیوں نہ ہوں اور ان کے خلاؤں میں معلق آدرش کتنے ہی نفیس، خوشنما اور مفصل detailed کیوں نہ ہوں، رائے عامہ کے کھردرے، بے ڈھنگے اور بعض اوقات تکلیف دہ حد تک بدصورت وجود کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ تحریک انصاف کی سیاست کا رائے عامہ سے متاثر ہونا اور گاہے اس کے سامنے ہتھیارڈال دینا شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست کا سب سے پرکشش پہلو ہے۔ الیکشن 2018 سے عین پہلے اپنے آدرشوں کے خلاف الیکٹیبلز کی ایک بڑی تعداد کو تحریک انصاف میں داخل کر لینا رائے عامہ سے کھلا اعراض اور مجھ سمیت تحریک انصاف کے بہت سے ہمدردوں کے لئے بہت بڑا دھچکا رہا ہے، اگر یہ پالیسی الیکشن 2018 میں فتح نہ دلواتی تو اسے تحریک انصاف کے آدرشوں کی شکست کہا جا تا۔ لیکن الیکشن میں فتح نے نئے سرے سے ڈھارس بندھائی کہ یہ ایک شکست نہیں، ایک سمجھوتہ، ایک عارضی setback تھا جس کا مداوا ممکن ہے۔ عمران خان کی کی تقریر نے اس ڈھارس میں مزید اضافہ کیا ہے، یہ رائے عامہ سے لاتعلق، دانشوروں کے خلا میں معلق جمہوری اور سیاسی آدرشوں کی کوئی لغو اور بےمعنی تکرار نہیں بلکہ ہمارے دلوں کی آواز تھی، وہ سب کچھ تھا جو عوام سننے کے لئے ترس گئے تھے، اس میں میگا پراجیکٹس کے لالی پاپ نہیں بلکہ حکمرانوں کے تعیشات اور اللوں تللوں، بیرونی قرضہ جات، پانی کے مسئلے اور گلوبل وارمنگ کے مضمرات کا ذکر تھا۔ تعلیم، صحت، زراعت، کرپشن اور نظام عدل کی بات تھی۔ ناقدین ابھی تک ان سیاسی مصلحات پر گلا پھاڑ رہے ہیں جنہیں تحریک انصاف کا سپورٹر ایک ناگزیر سمجھوتے کے طور پر قبول کر چکا اور اب آگے کی طرف دیکھ رہا ہے۔

یہ تقریر اس امر کی غماض تھی کہ رائے عامہ دوبارہ سے سیاسی عمل کا حصہ بن چکی ہے اور امید کا دامن ڈھونڈنے والا عام شہری امید رکھ سکتا ہے کہ اس کی آواز آنے والے پانچ برسوں میں بننے والی پالیسیوں، قوانین اور ملک کی سمت کا تعین کرنے والے فیصلوں کا حصہ ہو گی۔ گو اس خوش امیدی اور خوش گمانی کے دوران یہ حقیقت ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہئےکہ اعمال ہی الفاظ کی اصل حیثیت کا تعین کرتے ہیں اور ہمیں ابھی یہ دیکھنا ہے کہ عمران خان نے جو کچھ کہا ہے، وہ کر بھی پاتے ہیں یا نہیں۔ خدا ہماری امنگوں کا محافظ ہو اور تحریک انصاف کو اپنے وعدوں اور منشور پر پورا اترنے کی استطاعت عطا فرمائے۔ آمین۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تبدیلئ حالات کے چرچے اور تلخ ماضی —– عزیز ابن الحسن
next post
ہجوم سے قوم بننے کے سفر کا آغاز —– سحرش عثمان

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.