تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

نارتھ کراچی کے ایلیٹ اور کمرشل مولانا — نبیلہ کامرانی

by دانش ڈیسک 15/08/2018
written by دانش ڈیسک 15/08/2018
167

کرایہ دار ہونے کے جہاں بے حساب نقصانات ہیں وہاں بہت سے فوائد بھی ہیں، سب سے اچھی بات یہ کہ محلہ داری نبھانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی، جہاں مالک مکان سے نوک جھونک ہوئ وہیں نئے مکان کی تلاش شروع، ہمارے گھر میں ہزاروں کتابیں اور سیکڑوں پودے بھی ہمارے ساتھ ایک مکان سے دوسرے مکاں میں منتقل ہوتے، ابو ان دونوں چیزوں کے لیے خاصے حساس تھے۔ چونکہ وہ کتاب کی اشاعت کا کام بھی کرتے تھے اس وجہ سے ایک ہی کتاب کی ایک سو کاپیاں ہوتیں ، عرب امارات پلٹ مالک مکان سے فساد کے بعد ہمیں ایک گھر دسویں ماہ ہی چھوڑنے کا نوٹس ملا ہڑبڑاہٹ میں ایک گھر ملا جو کراچی کے علاقے سیکٹر 11-بی نارتھ کراچی میں واقع تھا یہ علاقہ نئی کراچی اور سرجانی ٹاؤن جیسے غریب علاقوں سے نزدیک ہے اس لیے ان علاقوں کی نسبت 11-بی والے نسبتاً بہتر ہیں۔ 11- B کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر نو دولتیے آباد ہیں ہمارے بہت سے نو دولتیے رشتہ دار بھی وہاں ہمارے پڑوسی بن گئے، روزانہ ہی کوئی ٹہلتا ہوا نظر آ جاتا ہم نے ان سب کو نارتھ کراچی کے ایلیٹ کا نام دیا، ان دنوں سعودیہ اور عرب عمارات سے لوگوں کے پاکستان واپس بھیجے جانے کا زمانہ تھا۔

پاکستان میں ایک خاص مسلک آڈیو کیسٹ اور لٹریچر کے زریعے پھیلا جا رہا تھا، ہر بات بدعت اور شرک کے ڈبے میں پیک کر کہ دفن کی جا رہی تھی۔ جنازہ ہونے پر اگر آپ فرطِ جذبات میں رو پڑیں تو مرحوم کا بیٹا یا بیٹی اپکو خاموش رہنے کی تلقین کرتے کہتے ہیں کوئی بات نہیں بیٹا یہ قدرتی عمل ہے سب کو ہی مر جانا ہے، it’s a natural process don’t cry !۔ پھر جنازہ بنا کتبے کی قبر میں د با کے گھر آکر بریانی کھانے اور اس کے ذائقہ پہ بات کی جاتی، ” یار خالو کے جنازے میں زیادہ مزے کی تھی اس بار مرچیں تیز ہیں”۔ اس قدر logical لوگوں سے یقینا آپ کسی قسم کی روحانی طاقت، جادو کا توڑ نظر اتارنے کہ حوالے سے بات کا سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن حیرت انگیز طور پر یہ تمام سعودیہ پلٹ لوگ ایک خاص مولانا صاحب کے بہت فین تھے۔

لڑکی کی شادی کے لیے وظیفہ، بچوں کی پیدائش اور تعلیم کیلئے تعویذ، یرقان ہونے پے گلے میں گنڈا، نظر لگنے پہ شیطانوں کے نام والے تعویذ کو بچے پہ مل کہ سات جوتے مار کر جلایا جاتا۔ اس معاملے میں سب کا ایکا اس وقت یہ سب بالکل بھی شرک نہیں ہوتا۔ سارے خاندان میں قبرستان والی مسجد کے مولانا صاحب کی اندھی محبت، انتہا تو یہاں تک کہ مولانا صاحب کا خاص کرتب جو کہ گرم کڑاہی میں تیل پکاتے وقت وہ اپنی ایڈھی اس تیل میں ڈبو کر کمر کے مساج کرتے اور خواتین اپنی کمر کا خوشی خوشی علاج کروانے جایا کرتیں، اور یوں ہم ان کے کرامات کہ ترانے سنتے چھ سال بعد اس محلے سے دوسرے محلے کوچ کر گئے۔

مثل مشہور ہے کہ برا وقت بتا کر نہیں آتا، ہم پے بھی آیا اور بہت دھوم دھام سے آیا۔ ایسے میں کہیں سے کسی ہمدرد نے قبرستان والی مسجد کے مولانا صاحب سے ملاقات کا مشورہ دیا، موصوف ایک سرکاری جامعہ کے پروفیسر ہیں اور کمرشلی اپنا آستانہ عالیہ اپنے سرکاری گھر سے ہی چلا رہے ہیں، تقریباً روز صبح کسی مارننگ شو میں دن میں یونیورسٹی، شام میں آستانہ عالیہ اور پھر دنیا بھر سے آن لائن چندہ مہم۔

جب ہم انکے آستانے میں پہنچے تو انہوں نے قینچی اور کتاب ایک ڈوری سے بندھی ایک خاص طریقہ سے حرکت دی اور کوئ دعا اور تعویذ تھما دیا، گھر آتے ہی موبائل پر میسج نظر آیا کہ مولانا صاحب نے کسی واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا ہے، اس گروپ میں ہر وقت مولانا صاحب اور ان کی اہلیہ مختلف لوگوں کے لیے ذکاوت و خیرات مانگتے، پھر ان لوگوں کی تصاویر بھی شیر ہوتی، میں ایک بچے کی لیگل ایڈ کے لیے کام کر رہی تھی، بچے کی ضمانت منظور ہو گئی تھی لیکن پیسے کا انتظام نہ ہو سکا تھا، مجھے اچانک خیال آیا کیوں نہ مولانا صاحب والے گروپ سے رابطہ کیا جائے، میں نے اس بچے کا مسئلہ اور اسکی والدہ کا اکاؤنٹ نمبر اور موبائل نمبر اس گروپ میں بھیجا، دس منٹ کے بعد میں اس گروپ سے باہر تھی۔ یہ میرے لیے حیرت انگیز تجربہ تھا۔ دو ماہ سے میں لاکھوں روپے چندہ جمع ہوتے دیکھ رہی تھی اور صرف پچاس ہزار کی بات پہ میں باہر بنا کچھ بتائے۔

آج شام ٹی وی پہ فیملی پلاننگ کے اشتہار میں ان مولانا صاحب کو دیکھا تو اپنے نارتھ کراچی کے ایلیٹ اور مولانا صاحب کا آستانہ اچانک یاد آ گئے۔ دونوں کی خاص بات یہ ہے کہ انکی مذہبیت اور انکا مال سب کچھ صرف انکے ہی فائدے کے لیے ہے۔

Facebook Comments Box
سیاسی مولویمولوی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تعلیم و تربیت کے نفسیاتی پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یحییٰ
next post
اوورسیز پاکستانیوں کا ووٹ —— میاں ارشد فاروق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.