تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینسیاسی

عمران خان: توقعات اور خدشات ۔۔۔۔۔ مبارک انجم

by Editor2 28/07/2018
written by Editor2 28/07/2018
114

عمران خان کا اگر کھیل ریکارڈ دیکھا جائے تو اس میں ایک آدھ بال ٹیمپرنگ اور ایک آدھ ہی منشیات سکینڈل ضرور موجود ہے، مگر سیاست میں اسکی بائیس سالہ ریاضت کو دیکھتے ہوئے پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ الیکشن میں کسی بھی طرح کی دھاندلی میں عمران خان کا نہ تو ہاتھ ہے او نہ ہی اسکی خواہش۔ سیاست میں الیکٹیبلز کہلانے والے دوسری پارٹیوں سے درآمد شدہ لوگ آگے لانا اگر چہ ایک متنازعہ عمل کہا جا سکتا ہے، مگر یہ بھی ایک سیاسی رائج طریقوں میں سے ہی ہے۔ الیکشن میں، یوں دھاندلی کرنا کھلے عام اور ڈنکے کی چوٹ پر ریزیلٹ بدلنا،  یہ مقامی امیدواروں کے بس کی بھی بات نہیں ہوتی، وہ دھاندلی ضرور کروا سکتے ہیں، مگر اتنے بڑے پیمانہ پر نہیں کہ تیس تیس ہزار ووٹوں کے فرق ڈلوا لیں اور ریزیلٹ روک کر بدلنا تو کلی طور پر ہی اس مقتدر قوت کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو اس الیکشن گیم کی انتظامیہ ہوتے ہیں۔

یہ بظاہر نگران حکومت اور الیکشن کمیشن ہوتے ہیں مگر حقیقت میں کوئی بھی نگران حکومت یا کوئی غیر عسکری ادارہ کبھی بھی اتنا طاقت ور نہیں ھوتا کہ وہ سیاسی بڑی طاقتوں کے ساتھ گیم کر جائے، تو یقیناً پھر یہ گیم اسٹیبلشمنٹ ہی ساری دنیا میں کھیلتی ہے۔ اس بار بھی اسی مقتدر طاقت نے ڈبل گیم کھیلی ہے۔ ایک طرف تو دھاندلی کے ذریعہ سے ہارنا پسندیدہ فرد کو ایوانوں میں پہنچنے سے روک دیا گیا اور دوسری طرف اسی دھاندلی کے ذریعہ سے عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بھی لگام دے دی گئی۔

اگر ان الیکشن میں دھاندلی نہ کی جاتی تو بھی یہ عین ممکن بلکہ طے تھا کہ عمران خان کی پارٹی الیکشن میں کافی مناسب کامیابی حاصل کرے گی اور یقیناً کرتی بھی۔ اگر بہت ہی فرق پڑتا تو بھی دس بیس سیٹوں سے زیادہ کا نہیں پڑ سکتا تھا اور یہ دس بیس سیٹیں بھی ن لیگ ہی کی نہ ہوتیں بلکہ مختلف پارٹیوں کی ہوتیں اور عمران خان پھر بھی دوسری پارٹیوں سے مل کر ایک مستحکم حکومت بنا لیتے اور کسی بھی طرح سے متنازعہ بھی نہ ہوتے اور پھر اپنی کارکردگی دکھا کر آنے والے وقت میں مزید پسندیدگی پا سکتے تھے مگر ایک مستحکم حکومت شائد اس مقتدر قوت کو بھی منظور نہیں ہے اور نہ ہی عمران خان کی اتنی مقبولیت کہ وہ پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو جیسے مقبول لیڈر بن سکیں۔

اس لئے مقتدر ظاقتوں نے سب کے ساتھ گیم کھیلا اور من مانے نتائج بھی حاصل کر لئے۔ اب ایک طرف تو دینی طبقات بھی احتجاجی تحریک میں ھونگے اور ساتھ ہی دوسرے لبرلز طبقات بھی شامل ھونگے اور مشکلات پیدا ہونگی۔ نئی حکومت کے لئے جن سے نپٹنا اسٹیبلشمنٹ اور فوج کی مدد کےبغیر عمران خان کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ اس طرح عمران خان ہمیشہ ہی اس طاقت کا محتاج رہے گا۔

ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ جو زیادہ گھمبیر ہے، یہ تو طے ہے کہ عمران خان کے چاہنے والے بھی بہت زیادہ ہیں اور اسے ایک مناسب تعداد میں تبدیلی کے لئے بہت جذباتی جنریشن کی پوری سپورٹ و حمائیت بھی حاصل ہے جو اسکی حکومت بننے کے حق کو عین درست سمجھتے ہیں اور اس پر کسی طرح کا بھی کوئی اعتراض یا احتجاج بالکل برداشت نہیں کرینگے اور اسے الیکشن جیت کر حکومت سے روکے جانے پر لازماً بھڑک اٹھیں گے۔

دوسری طرف تمام دینی جماعتوں کے لوگ اپنے قائدین کے لئے پہلے ہی بہت زیادہ جذباتی ہیں اوپر سے الیکشن کمیشن نے ریزلٹ میں ردو بدل کر کے انکو شدید غصہ بھی دلایا ہے اور اس پر بھی مزید دوبارہ گنتی کی درخواستیں رد کر کے احتجاج پر بھی مجبور کر رکھا ہے، ساتھ ہی دینی جماعتوں کے کارکن کے ذہن میں یہ بھی پہلے سے بٹھایا جاچکا ہے کہ عمران خان عالمی اسٹیبلشمنٹ اور یہودی و قادیانی ملک دشمن و اسلام دشمن لابی کا نمائندہ ہے۔ ان سب کے جھگڑے اور سڑکوں پر نکلنے سے حالات اتنے زیادہ مخدوش ہو سکتے ہیں کہ فوج کو  مداخلت کا موقع مل سکتا ہے، ایسی ساری صورتحال کو سمجھنا خود عمران خان کے لئے بھی ضروری ہے اور اسکا مناسب حل نکالنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ عمران خان اس ساری صورت حال کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں۔ یہ انکے لئے الیکشن جیتنے سے زیادہ بڑا امتحان ہے۔ دعا ہے کہ رب تعالی اس ملک پاکستان کو مزید کسی آزمائش سے دوچار نہ کرے اور حالات ملک و ملت کی بہتری والا رخ ہی اختیار کریں۔ آمین

Facebook Comments Box
اسٹیبلشمنٹالیکشنالیکشن میں دھاندلیتوقعات و خدشاتدھاندلیسیاسی پارٹفعمران خان ’’توقعات اور خدشات‘‘ ۔۔۔۔۔ مبارک انجمکھیلکھیل ریکارڈمقبولیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
جمہوریت کا اونٹ اور دھاندلی کا کوہان —– شاہد اعوان
next post
دیر میں جماعت اسلامی کی شکست کے اسباب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضیاء الرحمان

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.