تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

پی ٹی آئی نے کے پی میں کیا کر لیا؟ ۔۔۔۔۔قسط 4۔۔۔۔۔۔ محمد ندیم سرور

by Editor2 18/07/2018
written by Editor2 18/07/2018
84

ترقی بذریعہ تعلیم کا فلسفہ عمران خان کی تمام تقریروں کا محور و مرکز رہا ہے۔ اسی لیے اپنی تقریروں میں بارہا جاپان، سنگاپور، جرمنی اور ریاست مدینہ کی مثالیں دے دے کر عمران خان پاکستانی قوم کو سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ پائیدار ترقی تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور یہ تبھی ممکن ہوسکے گا جب ریاست اپنے وسائل کا بڑا حصہ تعلیم کی فراہمی کےلیے مختص کرے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومت سنبھالتے ہی تعلیم کو اپنا میگا پراجیکٹ بنا کر اس شعبے میں دن رات کام کیا۔ وزیرِ تعلیم، جناب عاطف خان نے نئے نئے ناموں سے نئے نئے سکول بنانے کی بجائے، شروع سے ہی سرکاری سکولوں کی حالتِ زار بہتر بنانے پر اپنی توجہ رکھی تا کہ بچوں کے ڈراپ آئوٹ کو کنٹرول کیا جاسکے۔ اس مقصد کے حصول کےلیے تعلیم کےلیے مختص فنڈ میں تاریخی اضافہ کیا گیا، مختص فنڈ کے استعمال کو یقینی بنانے پر توجہ دی، اساتذہ اور سکولوں میں انفراسٹرکچر کی کمی کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ الف اعلان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سکول انفراسٹرکچر کے لحاظ سے پاکستان کے پہلے دس میں سے نو اضلاع خیبرپختونخواہ کے ہیں۔ ان نو اضلاع کی جغرافیائی پوزیشن دیکھی جائے تو زیادہ تر کا تعلق صوبے کے جنوبی حصے سے ہے جو کہ صوبے کا غریب اور پسماندہ ترین حصہ ہے۔ گویا پی ٹی آئی نے غربت کو کم کرنے کےلیے بہتر سرکاری سکول کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ انشاءاللہ یہ ہتھیار آئندہ نسلوں کو غربت کے آہنی شکنجے اور منحوس چکر سے باہر نکالنے میں انتہائی معاون ثابت ہو گا۔

2013 سے پہلے صوبے کے صرف 215 سرکاری سکولوں میں سولر سسٹم نصب تھا۔ سخت گرمی اور لوڈشیڈنگ میں بچوں کےلیے پڑھنا اور اساتذہ کےلیے پڑھانا کس قدر مشکل ہوتا ہوگا اس کا بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے پانچ سال کے دوران 5773 سکولوں میں سولر سسٹم نصب کئے ہیں جس سے لاکھوں طلباء و طالبات اور ہزاروں اساتذہ مستفیذ ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ 10 ہزار مزید سکولوں کےلیے اس سسٹم کی تنصیب کے کام جاری ہے۔ سرکاری سکولوں میں فرش اور ٹاٹ پر بیٹھنے کا نظام ختم کرکے طلباء و طالبات کےلیے کرسیوں/ڈیسکوں کا انتظام کرنے کی خاطر قریباً 7 ارب روپے فرنیچر کی خریداری کی مد میں خرچ کئے گئے ہیں جس کی بدولت قریباً 15 لاکھ طلباء و طالبات اب کرسیوں/ڈیسکوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

سکولوں میں دستیاب ضروری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بی بی سی کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاوہ کسی بھی صوبے میں نمایاں بہتری ریکارڈ نہیں کی گئی اور ان سب اقدامات کی بدولت سال 2016- 17 میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچے پرائیویٹ سے سرکاری سکولوں میں داخل ہوئے۔

16100 سے زائد سکولوں کی چار دیواری تعمیر کی گئی، 14100 سے زائد سکولوں میں اضافی کلاس رومز تعمیر کئے گئے، 15600 سے زائد سکولوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، 24000 سکولوں میں واش رومز اور 10 ہزار کے لگ بھگ سکولوں میں کھیلوں کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ بچوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلیے 1340 سکولوں میں آئی ٹی لیبس بنائی گئیں جب کہ سرکاری سکولوں میں پہلی جماعت سے انگریزی کو بطور تدریسی زبان کے نافذ کیا گیا تاکہ یہ سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے طلباء کے درمیان تعلیمی فرق کو کم سے کم کیا جائے۔ اس کے علاوہ قریباً 55000 اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کی گئی، برٹش کونسل کے تعاون سے ہزاروں اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔

ان اقدامات کے ساتھ ساتھ جن اضلاع میں مڈل یا ہائی سکولوں کی تعداد کم تھی وہاں کے کچھ پرائمری سکولوں میں شام کے اوقات میں مڈل تک کی کلاسز کا آغاز کیا گیا جس سے 60 سکولوں کے 1800 کے لگ بھگ طلباء و طالبات کو فائدہ ہوا۔ 830 سے زائد نئے سکولوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ، 2400 سے زائد سکولوں کی اپ گریڈیشن کی گئی اور جہاں ضرورت تھی وہاں پوری عمارت کی تعمیرِ نو بھی کی گئی۔ سابقہ سکول پالیسی میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے پرائمری سکول کو دو کمروں سے بڑھا کر 6 کمرے کا کیا گیا اور اسی حساب سے اساتذہ کی تعداد بھی بڑھائی۔

یہ تمام کام اس لیے ممکن ہوسکا کہ عمران خان کا قوم سے وعدہ تھا کہ اس کی حکومت کی پہلی ترجیح انسانوں پر پیسہ خرچ کرنا ہو گی۔ اس جذبے کو لے کر پی ٹی آئی حکومت نے آزاد و خودمختار مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جس سے نہ صرف اساتذہ کی غیرحاظریوں میں کمی آئی بلکہ گھوسٹ اساتذہ کی نشاندہی بھی ہوئی۔ اسی سسٹم کی بدولت سرکاری سکولوں میں سہولیات کی کمی کا درست تخمینہ بھی لگایا گیا۔ مزید براں فنڈز کے بہتر استعمال اور کام کی رفتار میں بہتری کی خاطر 2016 – 17 میں ایک پایلٹ پراجیکٹ کے طور پر صوبہ کے تمام پرائمری اور مڈل سکولوں کو سکول کی سطح پر بجٹ دیا گیا تا کہ اساتذہ اور والدین پر مشتمل کمیٹی اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اس فنڈ کو استعمال کرسکے۔ اس تجربے کے اچھے نتائج کو دیکھتے ہوئے، 2017 – 18 میں اسے مزید 8 اضلاع تک توسیع دی گئی۔ سکولوں میں دستیاب ضروری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بی بی سی کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاوہ کسی بھی صوبے میں نمایاں بہتری ریکارڈ نہیں کی گئی اور ان سب اقدامات کی بدولت سال 2016- 17 میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچے پرائیویٹ سے سرکاری سکولوں میں داخل ہوئے۔
یہ تو تھی پرائمری تعلیم میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی، اس سوال کہ باقی پارٹیوں نے اس سے آدھا بھی کام کیا؟

اس حصے کی قسط نمبر 1 کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

اس حصے کی قسط نمبر 2 کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

اس حصے کی قسط نمبر 3 کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

Facebook Comments Box
featuredKPKPTIبی بی سیپی ٹی آئیتعلیمی نظامکے پی حکومتکے پی کےمحکمہ تعلیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
ہارڈ ٹاک: جمہوریت اور صحافت —— عابد حسین
next post
نجی تعلیمی اداروں کا نکتہ نظر —- محمد آصف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.