تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

کیا اعظم خان جیسے جنرل کا مارشل لا ہماری ضرورت نہیں؟ احمد اقبال

by Editor2 17/07/2018
written by Editor2 17/07/2018
92

اس مضمون کا پہلا حصہ  اس لنک پر کلک کریں۔

1۔ نظریاتی اور تصوراتی قسم کی مثالی جمہوریت کا متبادل بلا شبہ کوئی دوسرا نظام نہیں ہو سکتا لیکن کیا آپ دل سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ہر ماشل لا کے بعد رائج کی جانے والی ہر جمہوریت ایسی ہی تھی مثلاً  ’’ایوب خان کی بنیادی جمہوریت، جنرل ضیاء کی مجلس شوریٰ والی جمہوریت یا اس کی موجودہ مسخ شدہ عملی صورت؟۔ آپ کس جمہوریت کے گن گا رہے ہیں؟ وہ جو کتابی ہے، ایک آئیڈیل ہے مگر حقیقت میں یہاں صرف ایک سیاسی نعرہ ہے۔ کیا چین، روس، فرانس، ترکی، کوریا کی ترقی جمہوریت کی مرہون منت ہے یا انقلاب کی۔

2۔ میں اس ملک کے بارے میں کتنا رجائیت پسند ہوں؟ اس کا اندازہ ایک بار پھر میری پوسٹ ’’بستی بسنا کھیل نہیں ہے‘‘ دیکھ لیئجے۔ میں نے اس کو کاک سے اٹھتا دیکھا ہے اور اب پھر خاک ہوتا دیکھ رہا ہوں۔

3۔ میرے لکھنے کی بنیاد صرف ایک نکتے پر ہے۔ اب لا قانونیت اور ناانصافی کے سیلاب کو جس میں آج ہم سب بہہ چکے ہیں صرف سخت ترین سزائوں سے اور طاقت سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ طاقت پولیس کے پاس ہے؟۔ اگر آپ اس سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ قانون کی عملداری لا سکتی ہے تو معاف کیجئے گا آپ کو پاگل خانے میں ہونا چاہئے؟

4۔ کیا ہر جنرل ویسا ہی ہوتا ہے جیسا آپ نے دیکھا۔ یا سنا؟ جنرل تو امریکی صدر آئزن آور بھی تھا۔ جنرل تو فرانس کا صدر ڈیگال بھی تھا مگر ان کو جا نے دیں۔ میں آپ کو ایک پاکستانی سے متعارف کراتا ہوں۔ وہ تھا اعظم خان۔

ہمارے ملک کے اکلوتے فیلڈ مارشل ایوب خان کے تین دست راست تھے جنہوں نے پہلے مارشل لا کے نفاذ میں اس کی مدد کی۔ دوسرا جنرل شیخ اور تیسرا برکی، لیکن اعظم خان ایک چھوٹے مارشل لا کا تجربہ رکھتا تھا جو 1953 میں لاہور تک محدود رہا۔ یہ ایک مذہبی شورش کو دبانے کے لیے تھا جو لوٹ مار، آتشزنی اور خون خرابہ بن گئی تھی جن کو دبایا گیا۔ ان کا اعظم خان کی جان کا دشمن ہونا فطری بات تھی۔

5 سال بعد جب ملک میں مارشل لا نافذ ہوا تو جنرل شیخ وزیر داخلہ، جنرل برکی وزیر صحت اور جنرل اعظم وزیر بحالیات بنے۔ اکثریت نے کبھی ایسی وزارت کا نام نہیں سنا ہو گا۔ در اصل 1947 میں ہندو سکھ یہاں جائیدادیں چھوڑ کے فرار ہوئے۔ دوسری طرف سے مسلمان بھاگے تو طے کیا گیا کہ کافروں کا مال غنیمت مہاجرین میں تقسیم کر کے کچھ کچھ تلافی کی جائے۔ یوں پاکستان میں کرپشن کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔

ایک بات یہ بھی سنئے کہ اس (جنرل اعظم) نے کسی آرمی فارمیشن میں دو واٹر ٹینکر کھڑے دیکھے تو اندر جا کے معلوم کرنا چاہا۔ سنتری نے اسے روک دیا اور اس پر بالکل یقین نہیں کیا کہ میں گورنر ہوں جنرل اعظم، لیکن اعظم نے سنتری کو سزا نہیں شاباش دی اور اس کی پروموشن کر دی۔

کچھ کے نقصانات کے دعوے سچ تھے تو جھوٹے دعویدار بن کر آ گئے۔ ایک لطیفہ مشہور ہوا کہ ’’ہمارا تو تین میل لمبا باغ تھا پودینے کا‘‘ اور آہستہ سے اضافہ کرتے تھے کہ ’’چھ انچ چوڑا‘‘ پھر دلال میدان میں اترے اور وہ پیچھے رہ جانے والی جائیداد کے ’’مصدقہ‘‘ کاغذات بنا کے دینے لگے‘‘۔ ایک ایسی ہی مافیا انڈیا میں بنی ان کے درمیان مفاد باہمی کا سمجھوتا ہو گیا۔ محکمئہ بحالیات کے افسران نے اس بہتی گنگا میں خوب آشنان کیا۔ منظور یا نا منطور کرنے والے تو وہی تھے یہ دھندا 10 سال چلا۔

1۔ اعظم خان نے چارج لینے کے بعد کہا ’’واٹ از آل دس؟ دس سال میں کلیم سیٹل نہیں ہوئے۔ بس ایک سال دیتا ہوں میں پھر محکمہ بند ’’ میں تفصیل میں نہیں جاتا کہ اس نے کتنے چھاپے اورکتنوں کو ڈنڈے مارے‘‘۔

ایک واقعہ چشم دید گواہی کے ساتھ۔ پنڈی میں بحالیات کا دفتر پلازہ سینیما کے ساتھ تھا۔ نوٹس آیا کہ فلاں تاریخ کو وزیر صاحب دورہ کریں گے۔ وزیر صاحب دو دن پہلے سائل بن کے صبح ٹھیک وقت پر ٹپک پڑے۔ پہچانتا کوئی نہیں تھا۔ میرا گواہ دوست کینٹین سے منگوا کے ناشتا کر رہا تھا۔ نظر اٹھا کے دیکھے بغیر اس نے کہا ’’چاچا تھوڑی دیر بعد آنا‘‘۔ وہ آگے بڑھ گیا لیکن صاحب سمیت بیشتر عملہ ابھی پہنچا ہی نہیں تھا وہ واپس چلا گیا اور جب مقررہ تاریخ پردوبارہ وزیر کی شان سے نمودار ہوا تو سارے حاضر اور مستعد۔ پہچان جانے والوں کی پتلونیں گیلی، ڈھیلی مگر اس نے کہا کہ میں ایک بار ضرور معاف کرتا ہوں۔ دوسری بار نشان عبرت بنا دیتا ہوں۔ یوں ایک سال میں کام ختم محکمہ ختم۔

2۔ پھر اس چراغ آلہ دین کے جن سے کہا گیا ’’6 ماہ میں کورنگی کراچی کے 20 ہزار کورٹر بنائو۔ سڑکیں بجلی پانی سب ہونا چاہئے‘‘ اور اس نے کہا ’’جو حکم میرے آقا‘‘ اور 6 ماہ میں بستی آباد ہوگئی، گواہ شاہد ہوں جنہوں نے جنرل صاحب کو حسب عادت وقت بے قوت چھاپے مارتا دیکھا۔ ایک خاکی نیکر اور سولا ہیٹ میں اپنی جیپ ڈرائیو کرتا دیکھا۔

3۔ پھر اس نے ایک سال میں لاہور کا ’’قومی ہارس اینڈ کیٹل شو‘‘ شروع کیا جو مارچ میں تین دن چلتا تھا لیکن اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ملٹری اور عوام یکساں جوش و خروش سے شریک ہوتے تھے۔ دیہی عوام اپنے مویشی لاتے تھے، فوجی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے تھے اور شہری داد دیتے تھے۔ ایسی قربت جو مثالی تھی۔ تیسرے دن اس کا اختتام ملٹری کی شاندار پرفارمنس سے ہوتا تھا۔ ایک موٹر سائیکل پر کتنے سوار ہیں، لوگ گنتے تھے۔ 12 اور 16 نکلتے تھے۔ 16 گنتے تو 18۔ ملٹری کے درجن بھر بینڈ کمال کی پرفارمنس دیتے تھے۔ پیرا شوٹ کی مدد سے جہاز سے جمپ لگانے والے اسٹیڈیم کے وسط میں اترتے تھے۔ رات کو مکمل اندھیرے میں ’’ٹے ٹو‘‘ مشعل برداروں کا شو عجیب جادئی لگتا تھا۔

4۔ بالآخر جنرل اعظم کو مشرقی پاکستان کا گورنر بنا کے بھیجا گیا۔ اب دیکھا تو میں نے نہیں بس پڑھا لیکن یہاں بنگالی بہت تھے جو ہم سے نفرت اور تعصب بہت رکھتے تھے۔ میں نے ان سے تصدیق کی کہ کیا واقعی جنرل اعظم نے بنگالیوں کے دل جیت لیے ہیں تو انہوں نے مانا کہ ایسا ہی ہے۔ بہت زیادہ تفصیل تو نہیں معلوم لیکن جب سیلاب آئے تو ڈھاکہ شہر میں پینے کو پانی نہ رہا۔ جنرل اعظم نے سب واٹر ٹینکر ضبط کیے اور پانی کی سپلائی کی خود نگرانی کی۔ لوگوں نے اسے خاکی نیکر پہنے سولا ہیٹ لگائے گھٹنے گھٹنے پانی میں دن رات ہر جگہ کھڑا دیکھا۔

ایک بات یہ بھی سنئے کہ اس نے کسی آرمی فارمیشن میں دو واٹر ٹینکر کھڑے دیکھے تو اند جا کے معلوم کرنا چاہا۔ سنتری نے اسے روک دیا اور اس پر بالکل یقین نہیں کیا کہ میں گورنر ہوں جنرل اعظم۔ اس نے کہا کہ ’’اچھا اپنے کمانڈنگ افسر کو بلاو‘‘۔ سنتری نے گیٹ پر ڈیوٹی چھوڑ کے جانے سے انکار کر دیا۔ جنرل اعظم نے انتظار کیا۔ پھر ایک جیپ اندر جانے لگی تو اعظم نے اسے روکا۔ اس میں کوئی افسر تھا۔ وہ اعظم کو سی او تک لے گیا لیکن اعظم نے سنتری کو سزا نہیں شاباش دی اور اس کی پروموشن کر دی۔

اب ابوب خان کو جنرل اعظم کی یہ مقبولیت اپنے لیے خطرہ نظر آنے لگی۔ جنرل اعظم کو معطل کر کے واپس بلا لیا گیا۔ وہ نہ جانے کہاں تھا۔ ڈھاکہ آنے کے لیے ٹرین میں بیٹھا تو بنگالی ریلوے لائن پر لیٹ گئے اور ’’آجم کھان امارا جان‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ بڑے مظاہرے ہو ئے۔ واللہ اعلم۔ کوئی ویسٹ پاکستانی دل جیت لے بنگالیوں کے ناممکن سی بات تھی لیکن بنگالی دوستوں نے پھر تصدیق کی جب میں نے اسے دیکھا تو وہ لاہور کی مال پر عین فورٹریس اسٹیڈیم کے سامنے پیچھے والی سڑک پر اپنے عام سے گھر کے باغ میں بنیان اور نیکر پہنے پائپ سے پانی دیتا نظر آتا تھا۔ جنرل کے دروازے پر کوئی گارڈ نہیں تھی۔ میں سائیکل پر اپنے آفس جاتے ہوئے اسے روز سلام کرتا تھا اور وہ ہاتھ اٹھا کے جواب دیتا تھا۔ ذرا آگے موڑ پر ہائی کورٹ کے جج انوار ا لحق کی کوٹھی تھی‘‘۔ پھر کینٹ اسٹیشن کے مقابل میرا آفس اس دور میں بھی وہ ہارس اینڈ کیٹل شو میں آیا تو اسٹیڈیم میں بھرے لوگوں نے کھڑے ہو کر اور تالیاں بجا کے استقبال کیا، یہ بھی سناتھا کہ وہ بلا اجازت کہیں آ جا نہیں سکتا۔ اللہ جانے لیکن ایک جنرل کے لیے عوام کی محبت میں نے دیکھی ہے۔

70 سال پہلے پاکستان آنے کے بعد میرے خاندان کا ایک فرد ایک بار بھارت نہیں گیا اور میں اتنا ہی پاکستانی ہوں جتنا آرمی چیف مجھے جمہوریت دشمن قرار دے کر مجھ پر آرٹیکل 6 لگانے کے شائق۔

ایسا نہیں ہے کہ سول ملٹری تعلقات میں ہمیشہ دست و گریباں رہے۔ بہت پرانے وقتوں کی بات میں نہیں کرتا جب دوسری جنگ عظیم میں اپنے کرنل فیض احمد فیض ہی کیا بیشتر نامور ادیب ترقی پسند شاعر فوج کے محکمئہ تعلقات عامہ میں تھے۔ پنڈی میں 1960 کے بعد بھی ظہیر بابر تو تھے۔ ان کی بیگم تھیں خدیجہ مستور۔ پھر کراچی میں کرنل (بعد میں بریگیڈئیر) صولت رضا جو ہیڈ کوارٹر 5 کور میں بیٹھتے تھے کیا دوستدار تھے۔ نہ پاس نہ کہیں اندراج۔ دن رات آفس میں اور باہر۔ ادیبوں، اخباری نمائندوں اور صحافی دوستوں میں گھرے گپ شپ کرتے نظر آتے تھے۔ میرا ایک کرایہ دار کپتان کرایہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نے ذکر کیا تو انہوں نے 24 گھنٹے میں مکان خالی کرا دیا ۔ پھرغالباً، کرنل اشفاق حسین آئے تو مزاح نگار لیکن اسی زمانے میں آئی ایس پی آر کے ایک نئے ڈائیریکٹر جنرل بریگیڈئیر ریاض اللہ کراچی آئے۔ (یہ بھی بعد میں میجر جنرل ہوئے)۔ انہوں نے کراچی کے کچھ ادیبوں، صحافیوں کو نیول آفیسرز میس میں لنچ پر بلایا۔ ان میں میرے علاوہ زاہدہ حنا اور ظہور احمد تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مستقبل میں فوج اور عوام کو قریب لایا جائے، انہوں نے گلہ کیا کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم پر کتنے افسانے ناول لکھے گئے، کتنی فلمیں بنائی گئیں لیکن بھارت سے دو جنگوں کے بعد بھی ادیبوں نے اسے موضوع نہیں بنایا۔ ان کی خواہش تھی کہ ہم کھل کے بات کریں۔

سب سے پہلے تو زاہدہ حنا نے کہا کہ ترانے گا کے سرحدی جھڑپ کو جنگ عظیم نہیں بنایا جاسکتا۔ پھر میں نے کہا کہ ہم خاک لکھیں۔ اس کے لیے مشاہدہ چاہئے۔ ہم تو آرمی انسٹالیشن میں داخل نہیں ہو سکتے۔ کسی اور نے کہا کہ میں نے آبدوز کی شکل نہیں دیکھی اور نہ دیکھ سکتا ہوں کہ وہ کام کیسے کرتی ہے اور اندر سے کیسی ہوتی ہے۔ کوئی اور بولا کہ میں نیوی کے ڈیسٹرائر پر قدم نہیں رکھ سکتا جیسے دشمن ہوں۔

بہترین سفاری سوٹ میں ملبوس خوش مزاج ریاض اللہ نے مسکراتے ہوئے سنا اور ان کے حوصلہ افزا رویے کی وجہ سے بحث میں وہ بھی کہا گیا جو آج ناقابل برداشت ہو اور بولنے والے کا پتا نہ چلے کہ اسے جن بھوت لے گئے یا چور ڈاکو۔ بعض سوالات کے جواب انہوں نے لنچ کے بعد آف دی ریکارڈ بھی دئیے۔

قصہ مختصر، انہوں نے وعدہ کیا کہ ادیبوں کو اسپیشل پاس جاری ہوں گے جس سے وہ ہر ملٹری یونٹ جہاز، بحری جہاز پر کسی بھی وقت بلا روک ٹوک آ جا سکیں گے۔ انہوں نے ہماری یہ تجویز بھی مان لی کہ ہر کینٹ ایریا میں کلچرل اور ڈراما ٹروپ شو کریں آرمی ایسے میلے کرے جس میں سویلین بھی شریک ہوں۔ ان کے درمیان مقابلے ہوں اور بھی بہت کچھ تھا جس سے امید پیدا ہو چلی تھی کہا اب سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی نہیں رہے گی۔ بدقسمتی سے بریگیڈئیر ریاض اللہ بہت کم عرصہ زندہ رہے۔ میجر جنرل بننے کے بعد کینسر کے موذی مرض میں ان کی وفات ہو گئی۔ اگر وہ زندہ رہتے تو امید کی جا سکتی تھی کہ اس ملک کے عوام اور فوج پہلے کی طرح مل جائیں گے۔ میں ایک خبر بھی دوں کہ بھارت نے چھائونیاں کم کرنے کا ایک پروگرام بنایا ہے۔ فوجی اور شہری کیوں ساتھ نہیں رہ سکتے؟۔ دونوں ایک ہی ملک کے باسی ہیں ایک دوسرے کی طاقت ہیں۔

لیکن آج صورتحال کیا ہے۔ ایک سویلین کتنا بھی معزز کیوں نہ ہو شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی کے کاغذات گیٹ پر جمع کرائے بغیر اندر داخل نہیں ہو سکتا خواہ وہ ثابت کر دے کہ میں یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہوں۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبئہ صحافت کے سربراہ کو ملیر کینٹ میں نہیں جانے دیا گیا جس پر اخبارات نے احتجاج بھی کیا۔ پہلے میں اپنے بچپن کے دوست سے ملنے آفیسرز کالونی واہ کینٹ چلا جاتا تھا۔ پھر ایک بار مجھے کہا گیا کہ حسن ابدال والے گیٹ سے جائو۔ اس کے بعد تو حد ہوگئی۔ مجھ سے کہا گیا کہ اپنے دوست کو باہر بلا کے مل لو۔ آخر کیا حاصل سیکیورٹی کے نام پر عوام کی اس تذلیل سے۔ پہلے بھی تو یہی عوام تھے۔ میرے بچے 14 اگست کو ٹینکوں پر اور 7 ستمبر کو ماری پور میں جہازوں پر کھیلتے رہے۔ 70 سال پہلے پاکستان آنے کے بعد میرے خاندان کا ایک فرد ایک بار بھارت نہیں گیا اور میں اتنا ہی پاکستانی ہوں جتنا آرمی چیف مجھے جمہوریت دشمن قرار دے کر مجھ پر آرٹیکل 6 لگانے کے شائق۔ دیکھ لیں کہ میں نے آرمی کی اچھائی کا حوالہ دیا ہے تو اس امید میں کہ آرمی میں کتنی اچھائی بھی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سب اچھا ہے جو ہورہا ہے
آگے آنے والی جمہوریت سے توقعات کی بات تو میں بھی یہیں اور آپ بھی 25 جولائی 1919 کی تاریخ آنے دیں۔ پھر میں پوچھوں گا ہم کہاں کھڑے ہیں۔

Facebook Comments Box
آمریتجمہوریتجمہوریت یا مارشل لامارشل لا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
نواز شریف سول بالادستی کی جنگ کیوں نہیں جیت سکتے — اظہار الحق
next post
قومیں جمہوری نظام سے نہیں، احتساب سے بنتی ہیں —- شہزاد حسین

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.