تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینکالممذہبی

کچھ استشراق اور مستشرقین کے بارے میں: حصہ 1 —– راجہ قاسم محمود

by دانش ڈیسک 09/07/2018
written by دانش ڈیسک 09/07/2018
106

شامی مفکر ڈاکٹر مصطفی حسنی سباعی کی لکھی ہوئی استشراق کے بارے میں کتاب، اردو میں "استشراق اور مستشرقین” کے نام سے لاہور سے شائع ہوئی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ نور الحسن نعیمی ازہری صاحب نے کیا ہے جو کہ جامعہ اشرفیہ مبارکپور، جامعہ ازہر اور قاہرہ یونیورسٹی سے فاضل ہیں۔ کتاب کے آغاز میں ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم جو کہ ازہر یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے ہیڈ ہیں نے اپنے تاثرات نقل کیے ہیں اور بتایا ہے کہ عرب دنیا میں عام تصور ہے کہ ڈاکٹر مصطفی حسنی سباعی ان اولین قلم کاروں میں سے ہیں جنہوں نے استشراق پر قلم اٹھایا۔

راجہ قاسم محمود

کتاب کے مترجم اپنے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ مستشرقین کی اکثریت یہودی اور عیسائی پیشواؤں کی تھی اور مغربی سیاست دانوں نے جہاں اسلامی سلطنتوں کو توڑا وہیں مغربی مفکرین اور مستشرقین نے اسلامی تراث کی تحقیقات کے نام پر اسلام کی اعلیٰ اقدار و روایات، تہذیب و ثقافت اور اسلام کی معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی تعلیمات کا چہرہ مسخ کر کے پیش کیا کہ غیر تو غیر کچھ اپنے بھی ان کے دام فریب میں گرفتار ہوگئے ڈاکٹر مصطفی حسنی سباعی کی یہ کتاب مستشرقین کئ ایسی مان مانی تحقیقات کا پردہ فاش کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔ سب سے پہلے ڈاکٹر مصطفی سباعی کا مختصر تعاون جو مترجم نے پیش کیا اس سے ہی کچھ عرض کروں گا ہو سکتا ہے اہم باتیں نظر انداز بھی ہو جائیں۔

مصطفی حسنی سباعی 1915 میں شام کے شہر حمص میں پیدا ہوئے، آپ کے والد حمص کے بڑے علماء میں شامل ہوتے تھے۔ اس لحاظ آپ کی پرورش ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کی عقل نے شعور کے میدان میں جب قدم میں رکھا تو اس وقت شام سامراجی تسلط میں تھا۔ 1931 میں جب ڈاکٹر صاحب کی عمر 16 سال تھی انھوں نے شام کے مختلف شہروں میں عیسائی تبلیغ کے لیے قائم کردہ مدارس کی بیخ کنی کے لیے خفیہ تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ فرانسیسی سامراج نے آپ کو 16 سال کی عمر میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ مگر عوام کے زبردست مظاہروں نے سامراجیوں کو آپ کو چند ہی دنوں میں رہا کرنے پر مجبور کر دیا۔ 1932 میں ایک دفعہ پھر آپ کو حکومت مخالف تقریر کرنے پر کچھ عرصے کے لیےجیل بھیج دیا گیا۔ 1933 میں آپ نے مصر کی مشہور یونی ورسٹی جامعہ ازہر کے شعبہ فقہ میں داخلہ لیا مگر یہ شعبہ آپ کو راس نہ آیا، آپ جامعہ ازہر کی ایک فیکلٹی "اصول الدین” میں منتقل ہو گئے۔ مصر میں بھی آپ کی جوشیلی تقریروں کا سلسلہ بند نہ ہوا جس کی وجہ سے یہاں بھی گرفتاریوں کا سلسلہ چلتا رہا اور 1941 میں پھر ایک خفیہ تنظیم کے قیام کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور چار ماہ تک قید رہے۔ پے در پے قید کے باوجود آپ کی سیاسی اور سامراج مخالف سرگرمیوں میں کوئی کمی نہ آئی۔ ایک دفعہ پھر سامراج نے آپ کو گرفتار کیا اور لبنان کے قلعہ "راشیا” میں قید کردیا۔ لبنانی جیل کو بھی آپ نے اپنے درس و تدریس کا مرکز بنا لیا۔ 1944 میں حمص میں آپ "ثانویہ” کے استاد ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد آپ دمشق منتقل ہوگئے۔ اپنے مخلص احباب کی جدوجہد سے "المعھد العربی الاسلامی” کی بنیاد ڈالی۔ اور بہت جلد اس کی شام کے دیگر شہروں میں شاخیں قائم ہو گئیں۔ آپ نے سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ فلاح و بہبود اور غربا و مساکین کی امداد کے لیے کئی تنظیموں کی بنیاد ڈالی۔ 1945 میں حمص میں فرانسیسی سامراج کے خلاف مسلح انقلابیوں کی قیادت بھی آپ نے کی اور 1946 کے فرانسیسی انخلا میں آپ کا زبردست کردار ہے۔ 1948 میں جنگ فلسطین میں اخوان المسلمین کے مجاہدین کو مدد فراہم کی۔ جنگ فلسطین میں آپ کو ایک عظیم مجاہد کے روپ میں دیکھا گیا۔ 1949 میں شام ہونے والی انتخابات میں بھاری اکثریت میں رکن پارلیمنٹ بنے ساتھ ہی اسی سال جامعہ ازہر سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے اپنے مقالے میں مستشرقین کی طرف سے احادیث پر کیے گئے اعتراضات کا رد کیا اور ان کا مسکت جواب دیا۔ آپ نے دمشق یونی ورسٹی میں کلیتہ الشریعہ (Faculty of Islamic Law) کی بنیاد ڈالی۔ ١٩٥٦ میں یونیورسٹی کی طرف سے آپ نے یورپ کی مختلف جامعات کا دورہ کیا تاکہ وہاں دی جانے والی اسلامی تعلیمات کے نصاب کی معلومات حاصل کی جا سکے۔ اپنے ایک علمی سفر سے واپسی پر ١٩٥٧ میں آپ ایسی بیماری میں مبتلا ہوئے کہ جس سے آپ کا جسم شل ہو گیا اور سات سال تک تادم مرگ یہ بیماری ساتھ رہی بالاخر ٣ اکتوبر ١٩٦٤ کو ڈاکٹر مصطفی سباعی انتقال کرگئے۔ ڈاکٹر مصطفی حسنی سباعی کا یہ تمام تعارف نور الحسن نعیمی ازہری صاحب نے کتاب کے آغاز میں دیا ہے جس کو میں نے اختصار سے نقل کر دیا ہے۔

استشراق اور اس کی تاریخ، اس کی اچھائیاں اور برائیاں، اغراض و مقاصد اور مستشرقین کی تحقیقی و علمی سرگرمیوں کے بارے ابھی تک مسلم دنیا میں بہت کم لکھا گیا ہے اس کا نقصان یہ ہوا کہ ہم ان کی علمی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے اور کئی لوگ ہم کو ایسے نظر آتے ہیں جنھوں نے مستشرقین پر حد سے زیادہ اعتماد کیا اور ان کے افکار و خیالات میں ان کی چھاپ واضح ہے جس کی سب سے بڑی مثال ڈاکٹر مصطفی حسنی سباعی نے ڈاکٹر طہ حسین کی دی ہے جنہوں نے اپنی کتاب ”الادب الجاھلی“ میں مسلمانوں کے خلاف غالی اور متعصب قسم کے مستشرقین کے افکار و نظریات کی ایک مخلصانہ تائید کے سوا کچھ نہیں ہے۔ دوسرا نام احمد امین کا ہے جن کی کتاب ”فجر الاسلام میں حدیث کی فصل کو مصنف نے مستشرقین کے افکار کا چربہ قرار دیا ہے اسی صف میں ڈاکٹر سباعی نے ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر کو شامل کیا ہے جنہوں نے مستشرقین کے افکار و نظریات کی اشاعت میں بہت جدوجہد کی ہے ان ہی ڈاکٹر علی حسن نے ازہر یونیورسٹی میں سیرت نبوی ﷺ کی تاریخ پر درس کا آغاز کیا تو وہ گولڈ زیہر کی کتاب سے استفادہ کر رہے تھے انھوں نے امام زہری پر وضع حدیث کی تہمت لگائی جس پر ڈاکٹر سباعی کہتے ہیں کہ انھوں نے ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر سے بحث کی اور بتایا کہ سارے علما امام زہری کو ثقہ قرار دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر عبدالقادر اپنی رائے پر قائم رہے۔ امام زہری پر یہ الزامات مشہور مستشرق گولڈ زیہر نے لگائے ڈاکٹر سباعی نے یہ اعتراضات ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر سے لیے اور ان پر اعتراضات کی تحقیق و تفتیش کے لیے مصر کے بڑے بڑے کتب خانوں کا دورہ کیا۔ ڈاکٹر سباعی اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچے کہ گولڈ زیہر نے امام زہری کے متعلق قدیم مورخین کی عبارتوں میں تحریف و تبدل کیا یہ بات جب انھوں نے ڈاکٹر حسن عبدالقادر کے سامنے رکھی تو وہ ماننے کے لیے تیار نہ ہوٸے اور کہا کہ ہو نہیں سکتا کہ گولڈ زیہر جیسا بڑا مصنف ایسی بد دیانتی کا ارتکاب کرے۔ پھر ڈاکٹر سباعی نے اس موضوع پر ازہر یونیورسٹی میں ایک لیکچر دیا اور اس میں ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر جو کہ ڈاکٹر سباعی کے استاد بھی تھے مدعو تھے۔ ڈاکٹر سباعی کہتے ہیں کہ جب انھوں نے گولڈ زیہر کے اعتراضات کے جواب دئیے تو لیکچر کے اختتام پر ڈاکٹر علی حسن عبدالقادر نے ایک حیران کن بات کہی کہ سچ یہ ہے کہ آج سے پہلے وہ امام زہری کو جانتے بھی نہیں تھے۔ یہ واقعی ایک حیرت انگیز مثال ہے مستشرقین سے مرعوبیت کی اور ازہر یونیورسٹی کا ایک پروفیسر ایسی شخصیت پر تنقید کر رہا تھا جو کہ ان سے صیح طرح واقف بھی نہیں تھا۔

امام ابن شہاب زہری کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے اور آپ نے سعید بن مسیب اور حضرت ابان بن عثمان جیسے جلیل القدر علما ٕ تابعین کے سامنے زانوئے تلمذ بلند کیا، حدیث نبوی ﷺ کی تدوین میں آپ کا کردار بہت اہم رہا ہے آپ کے کچھ جامع حالات زندگی ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ نے اپنی کتاب سیرت نگاری آغاز و ارتقإ میں نقل کیے ہیں اور ڈاکٹر صاحبہ نے بھی گولڈ زیہر اور ولیم میور کے بارٕے میں لکھا ہے کہ انھوں نے آپ پر اعتراضات کیے مگر ڈاکٹر صاحبہ کے نزدیک یہ الزامات بے بنیاد ہیں جن میں سے ایک اموی حکمرانوں سے قریبی تعلق کی بنا پر وضع حدیث کا الزام جس کو کئی مثالوں سے ڈاکٹر نگار نے غلط ثابت کیا ہے۔ دور حاضر کے معروف عالم دین جاوید احمد غامدی صاحب نے امام زہری کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ان کی ثقات پر اعتبار نہیں کیا۔ یہ اسمإ الرجال کی بحث ہے جس کے اصول و قواعد سے میں واقف نہیں مگر اپنی کم علمی کو مد نظر رکھتے ہوئے سمجھتا ہوں کہ اگر امام زہری کی روایات احادیث میں کچھ اگر کمزوری پائی جاتی ہے تو اس کو واضح ہو جانا چاہیے مگر ان کو یوں مکمل طور پر مسترد کر دینا بھی کوئی درست طریقہ نہیں۔

یہ تو مستشرقین کی بابت ایک انتہا پسندانہ عمل تھا جبکہ ایک دوسری انتہا بھی انکی تحقیقات کے بارے میں پائی جاتی ہے وہ ان کے تعصب سے پر نظریات پر بلا امتیازِ حق و باطل حملہ کرنا ہے اور ان کی ہر چیز کو مسترد کر دینا۔ مصنف کہتے ہیں حق یہ ہے مستشرقین نے جہاں بے جا تعصب برتا ہے وہاں کچھ مستشرقین نے نئی تحقیقات کے راستے کھولے ہیں لہذا عدل کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا جانا چاہیے۔

جاری ہے

Facebook Comments Box
ابن شہاب زہریاستشراقالمعھد العربی الاسلامیڈاکٹر مصطفی حسنی سباعیشرقمستشرقمستشرقین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پی ٹی آئی نے کے پی میں کیا کر لیا؟ — قسط 3 —- محمد ندیم سرور
next post
منیر نیازی : جمال کی پر اسراریت کا شاعر — اعجاز الحق اعجاز

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.