تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

اے وطن! کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں؟ —– نعمان علی خان

by دانش ڈیسک 05/07/2018
written by دانش ڈیسک 05/07/2018
68

لوگ سوچ رہے ہیں کہ خان صاحب نے اقتدار میں آکر ملک پر چڑھے قرضے سے نمٹنے کا یہ منصوبہ کیوں دیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو بیرون اور اندرونِ ملک پاکستانی عوام سے چندہ اکٹھا کر کے ملک کا قرضہ اتار دیں گے۔ لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ "کالا باغ ڈیم” بنانے اور پانی کی قلت کا راز انتخابات کے دنوں میں ہی کیوں اچانک منکشف کیا گیا ہے؟

عوام کو خوشخبری ہو کہ ملک سے عوامی وفاداری کے اظہار کا وقت ایک بار پھر آنے والا ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد، سنہہ نوے کے زمانے کی طرح "قرض اتارو ملک سنوارو” جیسی، ملک سے وفاداری کا ثبوت دینے کا دباوؑ رکھ کر، اندرون اور بیرونِ ملک عوام سے چندا اکٹھا کرنے کی مہم چلائی جائے گی۔ انتخابات کے بعد ڈیمز بنانے کیلئیے عوام سے پیسہ اکٹھا کرنے کی مہم بھی چلائی جائے گی۔

ملک تو بعد میں سنورتا رہے گا اور ڈیم بھی دنیا پھر سے قرضے لے کر بعد میں بنتے رہیں گے لیکن فی الحال عوام سے، وطن سے محبت کے نام پر جو پیسہ اکٹھا کیا جائے گا اس کا مقصد صرف اِتنا ہوگا کہ نئی حکومت کو دسیوں بلئین ڈالرز کے برابر ہارڈ کیش کی فوری ضرورت ہوگی کہ اِس وقت ملک کے فارن ایکسچینج کے ریزروز پہلے ہی فوری ادائیگیوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس پر ہماری جمہوری عبوری حکومت کے جاری اخراجات اور آنےوالے انتخابات کی عیاشی کے اخراجات ہی اتنے زیادہ ہوسکتے ہیں کہ کئی بلئین ڈالرز، ہمارے ریزروز میں سے بعد از انتخابات غائب یا کم پائے جائیں تو بعید از قیاس نہ ہوگا۔

تو کیا یہ سمجھا جائے کہ پنامہ ونامہ اور مختلف پارٹیوں کے درمیان انتخابی جنگ اور اتحاد سب نورا کشتی کا حصہ ہے جس میں یہ طے ہوچکا ہے کہ الیکشن کے بعد حکومت میں آنے والے، بیرونِ ملک جانے والا لوٹ مار کا پیسہ واپس نہیں لائیں گے؟ بلکہ محبِ وطن عوام سے چندہ اکٹھا کرکے وقتی ڈانگ ٹپاوؑ کی پالیسی اپنا کر، ایک نئے لوٹ مار کے عہد کی داغ بیل ڈالی جائیگی؟ جس میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ذلت آمیز شرائط کے ساتھ ساتھ عرب ممالک اور چین و روس سے قرضے لے کر نئے میٹرو منصوبے اور جدید موٹرویز کے میگا پروجیکٹس بنا کر یہ کارنامے اپنے کریڈٹ میں ڈالے جائیں گے؟

ہم محبِ وطن پاکستانی اپنے ملک کیلئیے جان کا نذرانہ بھی دے سکتے ہیں اور اب ہمارے پاس دینے کو بچا بھی بس یہی ہے کہ ہمارے خون کا ایک ایک قطرہ ہماری اقتدار پرست لٹیری مافیا کے بنائے ہوئے برھمنی سماجی نظام نے پہلے ہی نچوڑ لیا ہے۔

"ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں
اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے
تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم
ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے، ہمارا کیا ہے” (فیض)

اگر اِس ملک کو، بھوکے ننگے لاچارعوام سے چندہ اکٹھا کرکے ہی چلانا ہے تو پہلے اِس عوام کے آئین کی شقوں 37/38 میں درج بنیادی ضروریات کے حقوق دلواےََ جائیں۔ اِس عوام سے دھوکے اور جھوٹ کے ذریعئیے اب تک جتنا بھی ٹیکس وصول کیا گیا ہے وہ واپس کیا جائے اور اس ٹیکس کے بدلے جو بنیادی ضروریات عوام کو فراہم کی جانا چاہئیے تھیں اور نہیں کی گئیں ان کا حساب کتاب کیا جائے۔ جتنے بچے، خواتین اور مرد، آئین کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے فقط معمولی علاج معالجہ بھی مہیا نہ کرکے قتل کئیے گئے ان کے مجرموں کا تعین کرکے ان کو سزا دی جائے۔ جتنے شہری آج تک ریاست کی جانب سے تحفظ اور دوسری بنیادی ضروریات مہیا نہ کئِے جانے کے سبب، عزت، دولت اور زندگی لٹا چکے ہیں، ان کے مجرموں کو چارج شیٹ کیا جائے جو ہمارے سسٹم میں دندناتے پھرتے ہیں۔

"تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن
جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا
کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں” (فیض)

عوام کو بتایا جائے کہ کیا اس ملک میں لوٹ مار فقط انہی چند لوگوں نے کی ہے جنہیں الیکشن میں حصہ لینے کیلئیے نا اہل قرار دیا گیا ہے؟ اور اگر صرف یہی نہیں ہیں بلکہ اور بھی ہیں تو پھر تمام ملزمان کے نام سامنے لائے جائیں۔ عوام کو بتایا جائے کہ یہ الیکٹیبلز کے دامن کیا اِس ملک کی لوٹ مار سے اسی قدر صاف ہیں کہ وہ دندناتے ہوئے ہر پارٹی کے پلیٹ فارم سے آنے والے انتخابات میں حصہ لینے کیلئیے آذاد ہیں اور کوئی الیکشن کمیشن، کوئی عدلیہ اور کوئی 62/63 کی سکروٹنی انہیں آئین وقانون کے دائرے میں نہیں لاسکتے؟

عوام کو بتایا جائے کہ اِس ملک میں جمہوریت کے گذشتہ عشروں میں کل کتنی کرپشن ہوئی ہے اور ملک کا کتنا پیسہ اب تک غیر ممالک کے اکاوؑنٹس میں منتقل ہوچکا ہے؟

عوام کو بتایا جائے کہ آخر کب تک اِس ملک کو اِس تباہ کن پالیسی کے تحت چلایا جائے گا کہ عوام تو اپنا خون پسینہ اِس ملک کو بچانے اور سنوارنے کیلئیے دیتے رہیں مگراِس کی آئیڈیالوجی اور اِس کے اقتدار پر قابض مافیائیں، اسے لوٹتی، کھاتی اور نوچتی کھسوٹتی رہیں؟ ارے بھائی کہیں کسی لیول پر کوئی ضمیر، کوئی انسانیت، کوئی غیرتِ وطنی زندہ بھی ہے یا نہیں؟ یا سب کچھ تم لوگوں کیلئیے بس پیسہ ہی ہے؟

"تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے
کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے
کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی
خواب کتنے تری شاہراہوں میں سنگسار ہوے” (فیض)

آنے والی منتخب حکومت اگر خود کو کرپشن اور لوٹ مار سے پاک ظاہر کرنا چاہتی ہے تو اسے عوام کی رگوں سے بچا کھچا خون بھی چندے کے نام پر نچوڑنے کی بجائے قوم کی جو دولت ملک سے باہر لوٹ کی شکل میں بھیجی گئی ہے اسے واپس لا کر، اس کے ذریعئیے ادائیگیوں کا تناسب درست کرنا ہوگا اور نئے ڈیمز بھی اسی برآمد کی گئی دولت سے بنانے ہوں گے۔ اگر آنے والے اتنے ہی کھرے اور ایماندار ہوں گے تو کیا بیرونِ ملک پوشیدہ مبینہ طور پر سیکڑوں ہزاروں بلین ڈالرز میں سے سو بلئین ڈالر بھی واپس نہیں لاسکیں گے؟ اگر نہیں تو تف ہے ایسے الیکٹیبلز پر۔

اور اگرآپ لوگ اتنے ہی نا اہل ہو کہ وہ دولت واپس نہیں لاسکتے اور آپ میں اتنی ہی صلاحیت ہے کہ چندے کے نام پر بس عوام ہی کا خون نچوڑ سکوتو پھر اِس بار ہر عام آدمی کو اس کے ڈونیشن کی مالیت کا شرعی انویسٹمنٹ بانڈ ایشو کریں، جِسے ایک سال بعد حکومت منافعے کے ساتھ واپس کرے۔ اِس صورت میں ایک فاعدہ یہ بھی ہوگا کہ حکومت میں آنے والے الیکٹیبلز کو اپنی پوری صلاحیتیں، قوم کے بہترین مفاد یعنی عوام کے پیسے پر منافع جنریٹ کرنے پر مرکوز کرنا ہونگی بجائے یہ کے وہ قومی خزانے کو باپ کا مال سمجھ کر، اپنے "استحقاق”، خفیہ ڈیلز اورعیاشیوں پر صرف کریں۔

Facebook Comments Box
ترقیسیاست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
 پاکستانی نوسٹرا ڈیمس بابا جوگی کی پیش گوئیاں —— نبیلہ کامرانی
next post
جدید علمِ عمرانیات : عمرانیات کیا ہے؟ حصہ دوم — اسامہ ثالث

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.