تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرعلمیکالم

احمد شاہ ابدالی، پاکستان اور افغانستان : قسط اول —- ارشد خان

by دانش ڈیسک 23/06/2018
written by دانش ڈیسک 23/06/2018
121

افغانستان سمیت پاک و ہند میں مسلمانوں سب سے قدیم تاریخی شہر ملتان کے اٹھارویں صدی کے پشتوں اشرافیہ کے فرزند احمد شاہ ابدالی پوپلزئی پختونوں کے شاخ سدوزئی سے تعلق رکھتے تھے اور سدو خان نامی شخصیت کو اپنا جد امجد مانتے ہیں جو کہ روایات کے مطابق قندہار میں مقیم تقریباً ١٢٠٠٠ ابدالی خاندانوں کا ایک طاقتور سربراہ تھا اور ١٥٥٨ عیسوی کے اس پاس پیدا ہوا-قندہار میں وہ کہاں سے آۓ اسکے متعلق ظاہر ہے باقی پختون قبیلوں کی طرح مختلف نظریے موجود ہیں لیکن کوئی مستند تاریخ نہیں- – انہوں نے ١٦٢٢ میں ایران کے شاہ عباس کی قندہار کو مغلوں سے واپس چھیننے میں مدد کی جسکے عوض انکو وہاں کا جاگیر اور امیر افغان ملک سدو کا خطاب ملا- ملک سدو کے بیٹوں میں سب سے بااثر اور مشہور خواجہ خضر خان سدوزئی تھے جو کہ انکے جانشیں بنے- خواجہ خضر حیات خان کے اولاد میں جانشینی کے جھگڑوں کے وجہ سے کئی سدوزئی خاندان ملتان آگئے جو کہ مغلوں کے ظہور سے بہت عرصۂ پہلے سے لودھی پشتونوں کے طاقت کا مرکز تھا- ملتان میں آج بھی شاہ حسین خان سدوزئی اور سلطان حیات خان سدوزئی کی قبریں موجود ہیں جن کے اولادوں نے پھر انیسویں صدی کی اوائل میں سکھوں کے پنجاب پر قبضے تک ملتان شہر اور صوبے پر حکمرانی کی- سلطان حیات خان خداداد خان سدوزئی کا بیٹا اور خواجہ خضر خان کا پوتا تھا- احمد خان سدوزئی کے والد زمان خان کا تعلق اسی سدوزئی خاندان سے تھا- احمد شاہ ابدالی کے جاۓ پیدائش کے متعلق انکے اپنے دربار کے سرکاری مورخ محمود الحسینی کی کتاب تاریخ احمد شاہی (١٧٥٣) میں کوئی ذکر نہیں کیونکہ یہ بنیادی طور پر احمد شاہ ابدالی کے تخت نشینی کی روداد ہے البتہ معاصر تاریخ کے واحد دستیاب ذریعے ایرانی تاریخ حسین شاہی (١٧٩٨) صفحہ نمبر ١١ کے مطابق انکی جاۓ پیدائش بوجوہ ملتان ہی ہے کیونکہ اتنا تو معلوم تاریخ سے ثابت ہے کہ احمد خان کے والد زمان خان ١٦٨٢ عیسوی میں قندھار اور ہرات میں ایرانی صفویوں کے جارجین کمانڈر گورگین خان کے ہاتھوں باغی ابدالی اور ہوتکی (غلزئی) قبائل کے قتل عام اور ابدالیوں کے شکست کے بعد ملتان میں اپنے عزیز و اقارب کے کئی سال قیام کے واپس ہرات میں قسمت آزمائی کرنے چلے گیے اور اس شورش کے دور میں کچھ عرصۂ کیلئے خلاف بغاوت کرکے ہرات میں خود مختار گورنر بھی رہے لیکن قندہار کے ہوتکی حکمرانوں اور سلطان عبدللہ کے ساتھ تنازعات میں ١٧٢١ عیسوی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اسی سلسلے میں جوان سال احمد شاہ ابدالی بھی بعد میں اپنے بھائی ذولفقار خان سمیت حسین ہوتک کے ہاتھوں قید ہوۓ- ابدالیوں کے مخالف میرویس ہوتک جنکو افغانستان میں میرویس نیکہ یا میرویس دادا بولتے ہیں ١٧٠٩ میں ایران کے انتہا پسند شیعہ بادشاہت کے خلاف بغاوت کرکے گورگن خان کو قتل کرنے بعد قندہار پر قبضہ کرچکے تھے- ١٩٥٩ میں ڈاکٹر گندا سنگھ کی احمد شاہ ابدالی پرلکھی اس وقت تک کے سب سے مستند تحقیقی کتاب کے مطابق احمد شاہ کو بچپن میں انکی والدہ زرغونہ الکوزئی والد کے انتقال کے بعد بہت نامساعد حالات میں اپنے شوہر کے پایا تخت ہرات کے نئے گورنر حاجی اسمٰعیل خان علی زئی کے پناہ میں لے گئی اور انسے اپنی بیٹی بھی بیاہ دی جنھوں پھر احمد خان کے تربیت پر خصوصی توجہ دی اور پھر بعد میں قندھار میں ہوتکی جیل سےایران کے نادر شاہ کے ذریعے چھڑایا بھی – وہیں سے نادر شاہ کی توجہ حاصل کرنے بعد وہ ترقی کرتے ہوۓ احمد شاہ ابدالی بن کر پختونوں کے عظیم لیڈر اور کسی فرقے یا قوم کے تفریق کے بغیر اس خطے کے مسلمانوں کی تاریخ میں اٹھارویں صدی کے سب سے کامیاب جرنیل بنے جنکی فتوحات بجا پر طور پاکستان اور افغانستان کے آزاد ریاستوں کئی قیام کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
———————————
یاد رہے کہ ہرات تاریخی طور پر ایک ایرانی شہر تھا اور آج بھی باوجود نادر شاہ کے دور میں کئی بااثر ابدالی خاندانوں کے یہاں آباد ہونے کا یہ ثقافتی طور پر ایک تاجک شہر ہے جہاں فارسی بولنے والوں کے بڑی اکثریت ہے- احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت کی بنیاد بنیاد قندھار میں پڑی کیونکہ وہیں پر نادر شاہ نے انکے ابدالی قبیلے کو غلزئی پختونوں کی ہوتکی حکمرانوں کی جگہ دی- جون ١٧٤٧ میں نادر شاہ کے اچانک موت کے بعد قندھار ہی میں منعقد جرگے میں اسے مقامی پشتون عمائدین نے لاہور سے تعلق رکھنے والے احمد شاہ کے ہی پیر و مرشد صابر شاہ کے تجویز پر خاموش طبع، متین لیکن دور اندیش اور با صلاحیت احمد خان کو دردران پادشاہ غازی کے خطاب کے ساتھ احمد شاہ ابدالی کے نام سے اپنا فرما روا بنایا اور اس طرح قندھار عظیم "پاک-افغان” درانی سلطنت کا پایا تخت بنا- جلد ہی موجودہ افغانستان کو اپنے زیر قیادت لانے بعد انہوں نے اور اس طرح احمد شاہ ابدالی شیر شاہ سوری کے بعد خطے کے پہلا حکمران بنا جنہوں نے روایتی طور پر اپس میں برسرپیکار پشتوں قبائل کو ایک عظیم سلطنت بنانے کیلئے ایک مضبوط فوجی قوت کے طور پر اکھٹا کیا۔

یہ بھی پڑھئے: افغانستان کا مکتب آزادی: سمیع اللہ خان

 

ہندوستانی مورخ ڈاکٹر جے مہتا کی کی ٢٠٠٥ میں شائع ہونے کتاب ایڈوانس سٹوڈی اف ماڈرن انڈیا کے صفحہ ٢٤٩ اس کے مطابق بھی احمد شاہ ابدالی کے ہندوستان پر حملوں اور انکے پیچھے پختون قبائل کے اتحاد کی وجوہات "مذہبی” تھیں اور روبہ زوال مغل سلطنت طوائف الملوکی کا شکار تھی اور موجودہ پاکستان جیسے تاریخی طور پر میں مسلمان وطن میں بھی مسلمانوں کی حکمرانی کو سکھ حملہ آوروں اور جنوب مشرقی ہندوستان کے ہندو قوم پرست مرہٹوں سے خطرہ تھا- اسلئے ١٧٤٧ میں جب وہ درہ خیبر کے راستے پشاور آۓ تو خیبر پختونخوا کے عوام نے بغیر کسی مزحمت کے انکی اطاعت قبول کی- ١٧٤٨ میں ایک تاریخی طور پر مغلوں کے مخالف پختونخوا کےقبائل کے لشکر کے ساتھ لاہور پر انکے پہلے حملے کے وجہ بھی لاہور کے عیاش اور مغل ظالم گونر شاہ نواز کے وعدہ خلافی تھی جنہوں نے احمد شاہ کے سفیر اور پیر و مرشد لاہور ہی سے تعلق رکھنے والے صابر شاہ کے منہ میں گرم دھات ڈال کر قتل کروایا- احمد شاہ کے حملہ اور لشکر کے ساتھ قصور (پنجاب) کا پختون حکمران جمال خان مل گیا اور ایک بڑے قتل عام کے بعد لاہور پر قبضہ کے جمال خان کو وہاں کا گورنر بنانے کے بعد سکھوں کے سرکوبی کیلئے امرتسر کی طرف گیا- اور یہی سے پانی احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان پر حملوں کا آغاز ہوا جو آگے جاکر ١٧٦١ میں پانی پت میں عظیم تاریخی لڑائی پر منتنج ہوئی جسکو ہم پاکستان کے سرکاری تاریخ اور بہت حد تک عوامی زبان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے کی آخری فیصلہ کن لڑائی کہتے ہیں، جبکہ سیکولر قوم پرست اور ہندوستانی اسکو بھارت ماں کے دھرتی پر "بیرونی جارحیت” کے کا ایک اور کربناک باب!
————————————————
اگلی قسط میں مستند معاصر تاریخ اور جدید تاریخی تحقیق کے حوالوں سے ان بے بنیاد نظریات اورمبالغہ آمیز پروپیگنڈے کے متعلق گزارشات کرونگا جو کہ دوسرے کئی مسلمان تاریخی شخصیات کی طرح احمد شاہ ابدالی کے متعلق بھونڈے اور گھٹیا فلمی قسم کے بھارتی پروپیگنڈے کے بنیاد پر حسب روایت احساس کمتری یا جعلی نسلی تفاخر کے شکار دیسی لبرل اور بوجوہ انکے ہمنوا نام نہاد قوم پرست تاریخ کے درستگی کے نام جھوٹ بول کرتے ہیں- ان میں بھارتیوں کے علاوہ فرائی ڈے ٹائمز اور ڈیلی ٹائمز میں لکھنے والے وہ سیکولر انتہا پسند اور نام نہاد "پنجابی قوم پرست” بھی شامل ہیں، جنکے خیال میں جنوبی اور مشرقی بھارت سے میں اپنے لوٹ مار اور درندگی کیلئے مشہور مرہٹے اور پنجاب کے تاریخی مساجد کو گھوڑوں کے اصطبل بنانے والے اور مسلمان قصائیوں اور نائیوں کے ہاتھ اور کان کاٹنے والے سکھ تو "دھرتی کے بیٹے” تھے لیکن اسی وطن کو شیر شاہ سوری جیسے عظیم حکمران دیکر صدیوں سے آباد کرنے والے پختون "بیرونی حملہ آور” تھے- اور ان میں وہ خود ساختہ پختون قوم پرست اور افغانی بھی شامل ہیں جو کہ احمد شاہ ابدالی کو انکے وفات کے ایک صدی بعد ١٨٧٩ میں کابل کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے زیر قیادت وجود میں آنے والے موجودہ افغانستان کا بانی کہ کر جعلی نسلی تاریخ کی بنیاد پر "لوے افغانستان” اور "پختونستان” جیسے شیخ چلی کے خواب دیکھتے ہیں جو کہ خیالی یا کاغذی طور پر بھی اس عظیم لیکن بدقسمت خطے کی تباہی کا فارمولا ہے۔

Facebook Comments Box
AbdaliAfghanistanاحمد شاہ ابدالیافغانافغانستانپشتونڈاکٹر گندا سنگھقندھارگورگین خانلوے افغانستاننادر شاہنادر شاہ افغانہوتکی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مجھے اردو سے کوئی محبت نہیں —– احمد اقبال
next post
استنبول ٹریولنگ ٹپس: ظہیر تاج (قسط نمبر1)

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.