تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

الطاف، ملالہ اور جماعت اسلامی: پاکستان کے کلٹ —– نبیلہ کامرانی

by دانش ڈیسک 19/06/2018
written by دانش ڈیسک 19/06/2018
78

19 نومبر 1978 کی صبح عام صبحوں سے مختلف تھی، اس روز جم جونز نے اپنے 900 ساتھیوں سمیت خودکشی کی، خودکشی دو مراحل میں تھی پہلے والدین نے اپنے ہاتھوں سے بالٹیوں میں زہر پھلوں کے رس میں گھولا اور اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے پلایا۔ دوسرا مرحلہ والدین کی خودکشی کا تھا، والدین نے ایک دوسرے کو زہر کے انجیکشن لگاے اور کچھ افراد مع جم جونز، فائرنگ سے مرے اس طرح نو سو افراد ایک روز میں پیپلز ٹیمپل میں موت کی نیند سو گئے۔ اس واقعے کو “Jonestown Massacre” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

وہ تمام افراد جو اس روز مرے وہ جم جونز کے پیروکار تھے، جم جونز ایک مذہبی کلٹ (فرقہ ) کا بانی تھا، اس قسم کے کئ گروہ دنیا بھر میں موجود ہیں، یہ عام طور پر خفیہ ہوتے ہیں، ایسے بہت سے گروہ ابھی بھی پاکستان اور بھارت میں موجود ہیں۔

پاکستان میں اس وقت ایک ساتھ کئی ایک کلٹ اپنے ایجنڈے پر کام کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اور انکے پیروکار بھی جم جونز کے پیروکار کی طرح ہی پورے ایمان کے ساتھ اپنے اپنے کلٹ کے لیے جان نثار کرنے کو تیار ہے۔

جب سے میری تحریریں مختلف فورمز پہ شائع ہونا شروع ہوئیں اس وقت سے مجھے مختلف کلٹز کا سامنا ہوا، آج میں آپ سب پڑھنے والوں سے ان کلٹ (فرقہ) کے متعلق اپنا تجربہ شئیر کروں گی۔

جب میں اس دنیا میں آئی وہ وقت الطاف حسین کا تھا، اور میرے انتہائی بچپن میں ہی وہ پاکستان چھوڑ انگلینڈ کے مکین ھوچکے تھے، یعنی جب میں نے بھی انھیں پاکستان میں نہیں دیکھا تو آج میرے بھانجے کا انیس سالہ ہم جماعت میری ایک تحریر کے نیچے کمنٹ میں لکھتا ہے کہ "کچھ بھی کر لیں کہیں سے بغض الطاف تحریر میں آ ہی جاتا ہے۔” جبکہ وہ تحریر آسان اور مشکل شکار کے حوالے سے موجودہ جنسی ہراسانی کے موضوع پہ تھی۔ میرے نزدیک یہ بات حیرت انگیز تھی کہ جب ہماری جنریشن کو الطاف حسین یاد نہیں اوراب جبکہ ایم کیو ایم چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی، تو یہ کل کا بچہ کیسے یہ زبان بول سکتا ہے؟

دوسرے کلٹ کا تعلق ہمارے روشن خیال طبقے سے ہے۔ پاکستانی روشن خیال امریکہ کے معیار کے مطابق سچے پکے conservative  ہیں۔ یعنی یہ طبقہ مکالمے کا قائل ہی نہیں ہے، اور بزدل اس درجے کے ہیں کہ اپنے فیس بک پروفائل بھی جعلی استعمال کرتے ہیں، انکی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ فورم پہ بلاگ کے ذیل میں اپنی راۓ نہیں دیتے، بلکہ کوئی ایک روشن خیال تحریر کو اپنی وال پے لگاتا ہے اور پھر سارے روشن خیال ہوم گراؤنڈ میں کھیلتے ہیں، اس کلٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ جو بھی مذہب و ملت کو گالی دے وہ انکا "جم جونز” بن جاتا ہے، آج کل یہ سب ملالہ یوسف زئی کو اپنی روحانی ماں مانتے ہیں، میری ایک تحریر کا مفہوم یہ تھا، کہ جب مذہب و ملت کو بیچنے والی کو نوبل پرائز مل سکتا ہے تو جسم فروش کو کیوں نہیں؟ اس تحریر پہ اس قدر فساد برپا ہوا کہ وہ فورم سے وہ تحریر ہٹادی گئی۔

حال ہی میں جماعت اسلامی کے حوالے سے میری ایک سادہ سی تحریر جو میرے ذاتی مشاہدے پہ مبنی تھی، شائع ہوئی۔ وہ محض ایک واقعہ تھا، میرے پاس ایسی کئی کہانیاں ہیں، لیکن کیا کہیں کہ آ ئینہ انکو دکھایا تو برا مان گئے۔ جواباً دو تحاریر بھی شائع ہوئیں، مسئلہ یہ ہے کہ محنت مزدوری کے لیے گھر سے نکلنے والی عورت مجبور ہے، کیوں کہ وہ دوہری چکی میں پس رہی ہوتی ہے، لیکن پیسے والے گھروں کی پیٹ بھری خواتین جو شوقیہ بچوں کو گھر پے چھوڑ کے جاتی ہیں یہ انکی ذاتی نوعیت کی تفریح کے علاؤہ کچھ بھی نہیں، اور اگر مذہبی نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو مجھے تو کوئی مثال نہیں ملتی کہ صحابیات گھر گھر دعوت تبلیغ کے لیے جایا کرتی تھیں؟

عزیز قارئین!!!

الطاف حسین، ملالہ، جماعتِ اسلامی اور بے شمار لوگوں کے حوالے سے اور بھی کئی سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سب موضوعات پہ بات کرنا گناہ کبیرہ ہیں، اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ اگر ایک عمرانیات کا طالب علم کلٹ (فرقے) پے ریسرچ کرنے کی کوشش کرے تو کیا اسے کلٹ کے رکن زندہ چھوڑیں گے؟؟ یا انکا جم جونز مجھے زہر کا پیالہ پلا دے گا؟

یہ بھی پڑھیئے: جنسی ہراسانی،جامعہ کراچی کے اساتذہ اور شکاری میڈیا
Facebook Comments Box
Jonestown Massacreالطاف حسینجم جونزجماعت اسلامیسیاستملالہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فسادفی الارض ——– منیر احمد خلیلی
next post
ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے؟ عید پہ اداسی کیوں؟ — بابر عباس

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.